ساتواں رنگ : ایک تعارف :- عبدالعزیز ملک


ساتواں رنگ : ایک تعارف
مصنف : ڈاکٹر نذر عابد

تحریر: عبدالعزیز ملک
لیکچرار شعبہ ارود ،
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ، فیصل آباد

ڈاکٹر نذر عابد، عصرِ حاضر کے ناقدین میں نمایاں نام ہے ۔ ان کے مضامین اکثر اوقات ملک کے علمی و ادبی جرائد کے صفحات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔وہ اس وقت ہزارہ یونی ورسٹی ،مانسہرہ میں اردو ادبیات کی تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں،یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں ان کے پیشے کی جھلک نمایاں ہوئی ہے۔

’’ ساتواں رنگ ‘‘ ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے جو ۲۰۱۷ء میں مثال پبلشرز،فیصل آباد سے منظرِ عام پر آیا ہے۔مذکورہ مجموعہ مضامین کی انفرادیت یہ ہے کہ اس میں متنوع موضوعات کوتخلیقی اسلوب میں قلم بند کیا گیا ہے جس سے مضامین کی نہ صرف قرأت سہل ہوئی ہے بلکہ خیال کی ترسیل میں بھی سرعت پیدا ہوئی ہے۔ عہدِ حاضر کے ناقدین میںیہ خصوصیت خال خال ہی ملتی ہے ورنہ تو بھاری بھر کم اصطلاحات اورجناتی الفاظ کے استعمال سے قاری کے ذہن پر اتنا دباؤ ڈال دیا جاتا ہے کہ تفہیم کا عمل ناممکنات کی ذیل میں شمار ہونے لگتا ہے لیکن ڈاکٹر نذر عابد کے ہاں ایسا نہیں ہے۔ ان کے مضامین کو پڑھنا شروع کریں تو آپ پڑھتے چلے جاتے ہیں ۔
’’ساتواں رنگ‘‘ چھ ابواب پر مشتمل ہے ۔پہلا باب’’مجاز تا حقیقت‘‘ کے عنوان سے کتاب میں شامل ہے اس میں علم بیان، علمِ معانی اورعلمِ بدیع کی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ان کے خیال میں یہ وہ علوم ہیں جن پر دسترس حاصل کرنے کے بعد ادیب ایک معنی کو نہ صرف متعدد طریقوں سے ادا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے بلکہ اس کے کلام میں فصاحت و بلاغت کا عنصر بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ متعدد مثالیں پیش کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں :
’’۔۔۔علومِ شعریہ کے یہ تینوں شعبے یعنی علمِ معانی ،علمِ بیان اور علمِ بدیع باہم کس قدر مربوط اور منسلک ہیں اور شعر کی تخلیق و تفہیم کے لیے ان علو م کے قواعدو ضوابط کو جاننا اور برتنا کس قدر اہمیت کا حامل ہے یعنی ’’بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر‘‘
دوسرا باب’’ارژنگ‘‘ کے عنوان سے کتاب میں شامل ہوا ہے، اس باب میں وہ بیسویں صد ی کے دو اہم شعرا کے کلام کے محاکمے و موازنے اور استخراج نتائج کی ذکاوت سے بہرہ ور دکھائی دیتے ہیں ۔ان دو شعرا میں اقبال اور فیض احمد فیض کے نام شامل ہیں۔ڈاکٹر نذر عابد نے اقبال کے کلام میں منظر نگاری کی خوبی جس احسن انداز سے نمایاں کی ہے اس سے ان کی ناقدانہ صلاحیتوں کا انداازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔اقبال کی شاعری میں منظر نگاری کے رنگا رنگ نمونوں کو مثالوں کی مدد سے واضح کیا گیا ہے۔بقول نذر عابد اقبال کبھی مظاہرِ قدرت میں پائی جانے والی ہم آہنگی اور توازن و تناسب کو اپنے شعری سانچوں میں ڈھالتے ہیں تو کبھی اپنی قلبی و روحاانی واردات اور اپنے خیالات و نظریات کی پس منظری فضا بندی کے لیے منظر نگاری کو شاعرانہ ہنر مندی سے استعمال کرتے ہیں۔اقبال کے آخری دور کی شاعری میں یہ عنصر کم ہو گیا تھا جس کی وجہ ان کی شاعری میں فکرو فلسفہ کا غلبہ ہو جانا ہے۔جس طرح کامیابی سے انھوں نے اقبال کی شاعری میں منظر نگاری کی خوبی کو نمایاں کیا ہے اسی طرح انھوں نے فیض کی شاعری میں امیجری کے عنصر کو واضح کیا ہے ان کا خیال ہے:
’’فیض کے ہاں پائی جانے والی امیجری کا تحلیل و تجزیہ کرتے ہوئے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کے تخلیق کردہ شعری پیکروں میں ایک طرف اعلیٰ سطح کے تخیل کی رنگ آمیزی موجود ہے تو دوسری طرف ان کے جذبہ و احساس کی شدت ان لفظی تمثالوں میں حرکت و حرارت بھر دیتی ہے۔ان کے ہاں ابھرنے والی شعری تمثالوں پر ان کے داخلی مزاج کی عکس ریزی غالب رہتی ہے۔‘‘
فیض کی تمثال نگاری کو واضح کرنے کے لیے انھوں نے ان کی نظموں سے متعدد شعری مثالیں پیش کیں ہیں اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ان کی شاعری میں رجائی رویہ ان کے شعری پیکروں میں جا بجا جھلکتا نظر آتا ہے۔ یوں ان کی شاعری میں ایسا منظر نامہ تشکیل پذیر ہوتا ہے جو زندگی کی ارفع و اعلیٰ اقدار کا حامل ہے۔
کتاب کا تیسرا باب’’ کوچۂ غزل ‘‘ کا عنوان لیے ہوئے ہے۔اس میں متعدد شعرا کی غزلوں کی مختلف جہات کو نمایاں کیا گیا ہے ،ان میں مرزا اسد اللہ خان غالب ،عرفان صدیقی،جلیل عالی ،نذیر تبسم ، ڈاکٹر ارشاد شاکر ،ڈاکٹر محمد صفیان صفی اورمظفر ممتاز کے نام شامل ہیں ۔ مذکورہ شعرا کی غزلوں پر تنقیدی رائے دیتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے عرق ریزی سے کام لیا ہے اور اپنی رائے کے ثبوت میں جابجا ان شعرا کے کلام سے مثالیں پیش کی ہیں ۔
چوتھا باب’’زاویہ نگاہ‘‘ کے نام سے کتاب میں شامل ہے جس میں شخصیات اور ادبی رجحانات کو تنقید اور تحقیق کا موضوع بنایا گیا ہے۔جدید اردو ادب میں ترقی پسند رجحانات اور اردو ادب پر عالمگیریت کے اثرات کے حوالے سے لکھے گئے مضامین خاص اہمیت کے حامل ہیں ۔عالمگیریت کے بڑھتے ہوئے رجحانات میں اردو زبان کے مستقبل ،اس کی ترویج و ترقی اورزبان کے محفوظ کیے جانے کے عمل میں جو تغیر رونما ہوا ہے اس سلسلے میں اس مضمون میں سادہ اور آسان انداز سے خیالات کوتحریر میں لایا گیا ہے۔اردو زبان کی خاصیت ہے کہ اس نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذرائع کو اپنانے اور اس میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو قبول کرنے میں پس و پیش سے کام نہیں لیا اسی لیے اردو کے آن لائن کتب خانوں اور بلاگس کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو اس کے روشن مستقبل کی غمازی ہے ۔اس کے علاوہ اس باب میں فیض احمد فیض ، مشتاق احمد یوسفی ،ڈاکٹر وزیر آغا ،انور مسعود ،ڈاکٹر صابر کلوروی ،ڈاکٹر ارشاد شاکر اعوان اور نیاز سواتی کی تخلیقات پر مضامین شامل ہیں ۔
پانچواں باب’’گوشۂ کتاب‘‘ سے موسوم ہے جس میں غلام احمد شاد کے شعری مجموعے ’’محبت مری سرشت میں ہے‘‘پر سیر حاصل تبصرہ کرتے ہوئے اسے محبت مزاج شاعری قرار دیا ہے۔ شوکت مہدی کے شعری مجموعے’’خواب زار‘‘ پر رائے دیتے ہوئے اسے خوابوں بھری شاعری کا نام دیا ہے،اسی طرح ناصر علی سید کو وہ فریب دیتی شاموں کا شاعر کہتے ہیں ۔ڈاکٹر طارق ہاشمی کی کتاب ’’اردوغزل نئی تشکیل‘‘ کے علاوہ ’’نوادراتِ منٹو‘‘اختر رضا سلیمی کے ناول’’جاگے ہیں خواب میں ‘‘ ،خاور چودھری کی کتاب ’’ اردو دوہے کا ارتقائی سفر‘‘،اویس قرنی کی کتاب’’پربتوں کے اس پار‘‘اور ’’اوراق کے پینتیس سالہ نمبر ‘‘ کا تعارف بھی اس باب کا حصہ بنا ہے۔
کتاب کا آخری باب’’یاد دریچہ ‘‘ کا عنوان لیے ہوئے ہے۔ اس میں انھوں نے دوستوں پر تاثراتی تحریریں قلم بند کی ہیں جنھیں خاکے کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔صابر کلوروی اردو تحقیق میں معروف نام ہے جو پشاور یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے صدر بھی رہے ان پر ’’شہر میں اک چراغ تھا ۔۔۔‘‘ کے عنوان سے جذباتی اور محبت سے لبریز تحریر موجود ہے جس میں انھوں نے صابر کلوروی کی شخصیت اور علمی و اادبی کارناموں سے خوب متعارف کرایا ہے۔ڈاکٹر ظہور احمد اعوان کا خاکہ ’’کنارِ آب چھاؤں میں جلتا چراغ ‘‘ کے عنوان سے ضبطِ تحریر میں لایا گیا ہے۔اسی طرح ماجد سرحدی ،ملک حق نوازاورسید علی اطہر زیدی کے خاکے بھی اس کتاب کا حصہ بنے ہیں ۔ اس میں وہ شخصیات شامل ہیں جن سے ڈاکٹر نذر عابدنے زندگی کے مختلف اوقات میں کسبِ فیض کیا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے اساتذہ سے محبت اوراحترام کا رشتہ رکھتے ہیں ۔
’’ ساتواں رنگ ‘‘ ڈاکٹر نذر عابد کی تحریروں کی ایسی کتاب ہے جس میں سادہ ،عام فہم اور رواں اسلوب کو اختیار کرتے ہوئے انھوں نے معروضیت کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور نہ چبائے ہوئے نوالوں کو دوبارہ چبانے کی کوشش کی ہے ۔وہ اپنا خاص نقطہ نظر رکھتے ہیں اور دوسروں کے خیالات اور نقطہ ہائے نظر پر ملکیت جمانے کے عادی نہیں ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ وہ واضح اور صاف انداز میں اپنی رائے دیتے چلے جاتے ہیں ،ایساکم ناقدین کے ہاں نظر آتا ہے ۔ امید ہے کہ ان کے تنقیدی مضامین کا یہ مجموعہ جلد اردو تنقید پر اپنے اثرات مرتب کرے گا ۔
——
Abdul Aziz Malik

ڈاکٹر عزیز ملک