آہ ! مضطرؔ مجاز : اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے :- ڈاکٹر عزیز سہیل

مضطر مجاز

آہ ! مضطر ؔ مجاز
اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے
ممتاز شاعر،مترجم،نثر نگار ،صحافی اور ماہر اقبالیات

ڈاکٹر عزیز سہیل ،حیدرآباد
09110759869

حیدرآباد دکن میں جن شاعروں اپنے فن کی بدولت ایک منفرد پہچان بنائی ہے ان میں ایک معتبر نام جناب مضطرؔ مجاز صاحب کا ہے۔ وہ نہ صرف ایک ممتاز شاعر تھے بلکہ انہوں نے غالبؔ اور اقبالؔ کی بیشترفارسی نظموں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے انہوں نے بحیثیت ادبی صحافی روزنامہ منصف میں اپنی طویل خدمات انجام دی ہیں وہ ماہر اقبالیات بھی کہلائے جاتے تھے۔

اکثر جنوبی ہند میں اقبال،غالب اور امجد حیدرآبادی پر منعقد ہونے والے سمیناروں میں متخصص (اسپیشلسٹ )کے طور پر مدعو کیئے جاتے تھے ‘مجھے بھی ان کے ساتھ اقبال اور امجد حیدرآبادی کے موضوع پر منعقدہ سمیناروں میں شرکت کرنے اور ان کے ساتھ ظہیر آباد سے حیدرآباد سفر کا موقع بھی ملاتھا۔ انتقال سے دو دن قبل بھی میری ان سے فون پر بات ہوئی تھی اور وہ دفتر منصف پر موجود تھے ،جب بھی بات ہوتی حسن سلوک سے پیش آتے‘ سکون سے بات سنتے اور اطمنا ن سے جواب دیتے اور ان کا انداز بے تکلفانہ ہوتا۔آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ان کی یادیں ہمارے ساتھ ہیں۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ مرحوم کی ملی خدمات کے عوض انکی مغفرت فرمائیں اور ان کو جنت الفردو س میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ آمین
ان کے انتقال پر ایک خصوصی تحریر پیش خدمت ہے ۔
سید غلام حسین رضوی مضطرؔ مجاز کا آبائی وطن قصبہ پنڈارول،ضلع بلند شہر اترپردیش ہے،وہ 13فروری 1935 ء کو عثمان پورہ حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے ان کے والد کا نام سید زوار حسین تھا۔مضطرؔ مجاز کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئی انہوں نے اردو کے ساتھ فارسی بھی سیکھی ،فوقانوی سطح کی تعلیم چنچل گوڑہ ہائی اسکول حیدرآباد سے مکمل کی ،انہوں نے 1951ء میںآصفیہ ہائی اسکول حیدرآباد سے میٹرک کا امتحان کامیاب کیا۔1953ء میں چادر گھاٹ کالج سے انٹرمیڈیٹ کامیاب کیا اس کے بعد1955ء میں عثمانیہ یونیورسٹی سے بی کام کی ڈگری لی،ان کی تعلیم و تربیت میں ان کے والد کی خصوصی دلچسپی رہی۔ شعر وادب کا ذوق بھی انہی کے زیر اثر پیدا ہوا ،مضطر مجاز کو یکساں طور پر اردو،فارسی ،انگریزی اور تلگو پر عبور حاصل تھا ۔ان کی ملازمت کا آغاز 1957ء میں بحیثیت آڈیٹر محکمہ بلدیہ سے ہوا، 1961ء ایکسٹنشن آفیسر کی حیثیت سے انہوں نے ۱۴ماہ چنتا پلی ،دیور کنڈہ ،نلگنڈہ میں خدمات انجام دی ،1965ء میں سب رجسٹرار آف کو پرآیٹیو سوسائیٹز کے عہدے پر عادل آباد پر تقرر عمل میں آیا،دوران ملازمت ان کا تبادلہ حضور نگر ،نلگنڈہ پر ہوا وہاں سے1971ء میں تبادلہ پر حیدرآباد آئے۔حیدرآباد آنے کے بعد ان کی ترقی عمل میں آئی اور وہ ڈپٹی رجسٹرار آف کو پرآیٹیو سوسائیٹز اور اس کے بعد اسپیشل کیڈر ڈپٹی رجسٹرار آف کو پرآیٹیو سوسائیٹز کے عہدے پر ترقی حاصل کی ،1993ء میں 58 سال عمر کی تکمیل پر اپنے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔انہوں نے دوران ملازمت صاف اور شفاف خدمات انجام دی ان کا سلوک اپنے ماتحتین سے بہت اچھا تھا وہ ایک اصول پسند اور ذمہ دار شخصیت تھے ۔ 1963ء میں ان کی شادی خواجہ غلاحسن الدین کی دختر فریدہ عتیق النساء سے ہوئی جن کے بطن سے چارلڑکے اور ایک لڑکی پید اہوئے ہوئے۔ابتداء میں مضطر مجاز فرحت نگر میں ایک کرائے کے مکان میں مقیم رہے 1996ء میں سعیدآباد میں اپنے ذاتی مکان میں منتقل ہوئے جہاں سے 19اکٹوبر2018بروز جمعہ رات 9 بجے وہ اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔اللہ مرحوم ان کی مغفرت فرمائے ۔مضطر مجاز نے اپنی اہلیہ کے ساتھ2003ء میں حج بیت اللہ کے عظیم فریضہ کو انجام دیاتھا۔
مضطرؔ مجاز کی مزاج اور شخصیت سے متعلق ڈاکٹر مقبول احمد مقبول نے لکھا ہے کہ
’’مضظرؔ مجاز کے مزاج و شخصیت کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنی شخصیت کو غیر اہم سمجھتے ہیں نہ انہیں نمود کی تمنا ہے نہ شہرت کی خواہش وہ اپنی ذات کے نہاں خانے میں مگن مضامیں نو کے انبار ضرور لگارہے ہیں مگر اپنے خر من کے خوشہ چینوں کو خبر کرنے کی فکر انھیں کبھی نہیں رہی دراصل ان کے مزاج میں خلوت نشینی و عزلت گزینی ہے انہیں بزم آرائیوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔(ڈاکٹر مقبول احمد مقبول،مضطر مجاز شخصیت اور فن ,،ص17)
مضطر مجاز بحیثیت صحافی روزنامہ منصف حیدرآباد سے وابستہ رہے وہ 1997ء روزنامہ منصف کے نئے دورکے آغاز سے ہی ادبی صفحہ’’ آئینہ ادب ‘‘کے مدیر کی خدمت انجام دی کم و پیش انہوں نے 21سال تک ادبی صحافی کی خدمت انجام دی انتقال سے دو دن قبل بھی وہ منصف کے دفتر پر موجود تھے اور 18اکٹوبر کا شمارہ بھی ترتیب دیا تھا۔
مضطر مجاز کو بچپن سے ہی شعر و شاعری سے دلچسپی رہی انہوں نے بچپن میں ہی اقبال اور غالب کو خوب پڑھا ۔1970ء کے دہے میں انہوں نے شاعری کا آغاز کیا ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’موسم سنگ ‘‘کے نام سے1979ء میں منظر عام پر آیا،1984ء میں ان کی غزلوں کا دوسر’’ا مجموعہ اک سخن ور‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا1992ء میں انہوں نے اپنی طویل نظم’’ شہر بقا‘‘ کے عنوان سے لکھی تھی ۔مضطر مجاز کی طنزیہ شاعری پر ڈاکٹر راہی فدائی نے کیا خوب لکھا ہے ملاحظہ فرمائیں’’جناب مضطر مجاز صاحب طنزیہ اسلوب کے اہم شاعر ہیں یہ اسلوب آپ کو یوں ہی حاصل نہیں ہوا بلکہ ایک طویل و مسلسل مشق و مزادلت کے بعد حاصل ہوا ہے جس کا اعتراف خود آپ کوبھی ہے۔
میرے فن نے کیا جو طے اب تک
وہ سفر سیکڑوں برس کا ہے
طنزیہ شاعری کی سطحیں ہیں ان میں سے اعلی سطح پر مضطر مجاز فائز ہیں اعلی سطح وہی ہے جس میں طنز کا ہدف تیر نیم کش سے زخمی ہونے کے باوجود تیرانداز سے خفانہ ہو بلکہ غالب کا یہ شعر گنگنا تارہے کہ
کتنے شیریں ہیں تیرے لب کے رقیب
گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
(مضطر مجاز کی شاعری کا طنزیہ اسلوب،مدرکات،ص۷۷)
مضطر مجاز نے بحیثیت شاعر خوب نام کمایا۔ ان کا کلام میعاری ہے بلاشبہ ان کے کلام میں نئے نئے قوافی اور ردیف کے ذریعہ خیال کی نیرنگی کوشاعری میں برتنے کا خوب صورت سلیقہ دکھائی دیتا ہے ،ان کااپنا ایک منفرد اسلوب‘ مخصوص لہجہ اور متنوع رنگ ہے‘ان کا بیش ترکلام عصر حاضر کے موضوعات کااحاطہ کرتا ہے۔
مضطر مجاز کے فن پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر بیگ احسا س نے لکھا ہے ’’مضطر مجاز شاعر،مترجم،نثر نگار،ادبی صحافی ہیں انہوں نے صالح اقدار کا ہمیشہ پاس ولحاظ رکھا اور جوبھی لکھا سوچ سمجھ کر لکھا ،کتابوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے لیے نہیں لکھا وہ اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں انہوں نے تشہیر سے ہمیشہ احتراز کیا انہوں نے ہمعصروں کی قدر کی اور نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی وہ جو بھی لکھتے ہیں روشن سیاہی سے لکھتے ہیں ‘‘
(مضطر مجاز شخصیت اور فن ,ڈاکٹر مقبول احمد مقبول،ص VIIٰ)
مضطر مجاز ایک سادہ مزاج اور مخلص شخصیت کے مالک ہیں انہوں نے کم و بیش 50سالوں تک شاعری کی زلفیں سنواری ہے ان کے تین شعری مجموعہ موسم رنگ،اک سخن ور ،طلسم مجازساتھ ہی ایک طویل نظم شہر بقاء شائع ہوچکی ہیں،تراجم میں طلوع مشرق،ارمغان حجاز،جاوید نامہ،پیام مشرق،بندگی نامہ، نقش ہائے رنگ رنگ شامل ہیں۔ان کے تراجم میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے کے وہ اقبال اور غالب کے رنگ میں دکھائی دیتی ہے اس کی وجہ انہوں نے اقبال اور غالب کے کلام کو ان ہی خطوط پر اردو کے قالب میں ڈھالا ہے جس کے پیچھے ان کی محنت شاقی شامل ہے ۔
ناہید سلطانہ اپنی کتاب میں مضطر مجاز کی بحیثیت شاعر خصوصیات کوبیان کرتے ہوئے لکھا ہے ’’ مضطر مجاز نہ صرف شاعر کی حیثیت سے مقبول ہیں بلکہ مترجم،مبصر، اور نقاد کی حیثیت سے بھی اردو ادب میں جانے جاتے ہیں یہ مشاعروں میں بھی شریک رہتے ہیں نہ صرف قومی سطح کے مشاعروں میں بلکہ عالمی سطح کے مشاعروں میں بھی مضطر مجاز نے کلام پرداد تحسین حاصل کی ہے مضطر مجاز کی شاعری میں محدود متنوع موضوعات نہیں ملتے ہیں کبھی یہ نعت گو بن جاتے ہیں تو کبھی منقبت کہتے ہیں کبھی ان کے یہاں گل وبلبل عشق و عاشقی کے موضوعات ملتے ہیں تو کبھی نصیحت آمیز موضوعات،ان کی شاعری کی خصوصیات میں نادر علامتیں ،خوبصورت تلمیحات کا استعمال ہے‘‘(علی ظہیر شخص اور شاعر ،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس،ص29)
مضطر مجاز بحیثیت مترجم کے اپنی ایک انفرادیت رکھتے ہیں انہوں نے اقبال کی بیشتر فارسی نظموں کا ترجمہ کیا ہے 1975ء میں انہوں نے ’’طلوع مشرق ‘‘کا منظوم ترجمہ انجام دیا ساتھ ہی 1977ء میں ’’ارمغان حجاز ‘‘کا اردو میں ترجمہ کیا، 1981ء میں انہوں نے’ ’جاوید نامہ ‘‘کا ترجمہ کیا اور 1996ء میں اقبال کی مشہور نظم ’’طلوع مشرق‘‘ کا منظوم ترجمہ انجام دیا جس پر اتر پردیش اردو اکیڈیمی نے انہیں ایوارڈ سے نواز ہے۔
مضطر مجاز نے بیشتر کتابوں پر تنقیدی تبصرے کئے ہیں جو روزنامہ سیاسیت ،منصف اور دیگر ادبی رسائل میں شائع ہوئے ہیں تبصروں کے علاوہ انہوں نے رپورتاژ،مقدمے ،پیش لفظ اور مضامین بھی لکھے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ان کے تعارفی خاکے بھی بڑی اہمیت کے حامل ہیں انہوں نے اداریے بھی لکھے ہیں ۔مضطر مجاز کو ملک کی مختلف اردو اکیڈیمیوں نے ایواڈ و اعزازت سے نوازہ ہے،سال2014میں میں مضطر مجاز کو ادب و ثقافت میں نمایاں خدمات انجام دینے پر غالب اکیڈیمی کی جانب سے غالب ایوارڈ عطا کیا گیا۔
واضح رہے کہ 2004ء میں مقبول احمد مقبول نے ’’مضطر مجاز شخصیت اور فن ‘‘کے موضوع پر یونیورسٹی آف حیدرآباد سے پی ایچ ڈی کی ہے ۔
مضطر مجاز کے چند اشعار جن سے ان کی کلام کی خوبصورتی اور ان کے کلام کی انفرادیت کا احساس ہوتا ہے ملاحظہ ہوں ؂
ذرہ سہی سنبھال قلم،آفتاب لکھ
قطرے کی آنکھ کے لیے دریا کا خواب لکھ
دیمک کتاب شب کے سب اوراق کھاچکی
لوح جبین گل پہ سحر کا نصاب لکھ

تصویر تری کھینچ کے خود اپنے لہو سے
اندھوں کی سجائی ہوئی بستی میں کھڑا ہوں

سنا رہا ہوں سمندر لغاتِ شبنم میں
زبانِ ذرہ میں صحرا کی بات کرتاہوں
کتابِ قطر ہ کے اوراق چاٹنے والوں
میں کاوشِ دل دریا کی بات کرتا ہوں

تفصیل میں نہ جا کہ پیمبر تو میں نہ تھا
مضطر ! مری قمیض تھی اک روزپھٹ گئی
—–