صراط مستقیم – – – – ڈاکٹرمحی الدین حبیبی


صراط مستقیم

ڈاکٹرمحی الدین حبیبی
حیدرآباد ۔ دکن
موبائل : 08978155985

’’ہذا صراطی مستقیم‘‘ یہ وہ فرمانِ خداوندی ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے اس وقت جاری ہوا جب آپؐ نے ’’صراطِ مستقیم‘‘ کی تفہیم کے لیے، سمجھانے کے لیے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا: یوں سمجھ لو کہ یہ لکیر اللہ کا ٹھہرایا ہوا راستہ یعنی صراطِ مستقیم ہے۔ اس کے بعد اس لکیر کے دونوں جانب بہت سی تیڑھی ترچھی لکیریں کھینچ دیں اور فرمایا کہ یہ طرح طرح کے راستے ، خودساختہ ہیں اور اُن میں کوئی راستہ نہیں ، جس کی طرف بلانے والا ایک شیطان موجود نہ ہو۔ اس حدیث کی روایت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کی ہے۔ صحیحین ، نسائی، احمد)

’’صراط مستقیم‘‘ دراصل وہ شاہراہِ مستقیم ہے جو ہمیں دینِ اسلام کی منزلِ مقصود تک رہبری و رہنمائی کرتی ہے۔ ابتدائے آفرینش ہی سے ’’صراط مستقیم‘‘ کا آوازہ گونج رہا ہے ، ازل ہی سے ’’راہِ مستقیم‘‘ کی بازیافت کی سعئ جمیلہ ہوتی آئی ہے، آغازِ کائنات ہی سے صراطِ مستقیم کی بات چل رہی ہے وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الاَْسْمَاءَ کُلَّہَا کے تحت حق سبحانہ و تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو ’’صراط مستقیم‘‘ سے آگاہ کردیا تھا، لیکن اس ’’مسجود ملائک‘‘ ہی کو ابلیس نے بھٹکا دیا اور ’’شجر ممنوعہ‘‘ کی طرف کشاں کشاں لے گیا۔ جو کچھ ہونا تھا ہوا۔ ارحم الراحمین غافر الذنوب اور قابل التوب کے الطافِ بیکراں اور احسانِ بے پایاں کے قربان جائیں کہ بابا آدم کی توبہ قبول فرمائی اور حکم دیا کہ کرۂ ارض کا خلیفہ بن کر بھیج رہا ہوں، نائب بناکر بھیج رہا ہوں، خلافت و نیابت عطا کررہا ہوں۔ جاؤ کارِ جہاں سنبھال لو! آدم سے یہ کہہ دیا گیا کہ تم نے جان لیا کہ ابلیس تمہارا دشمن ہے، اس نے قیامت تک مہلت مانگی ہے کہ اپنے طاغوتی ٹولے کے ساتھ، اپنی ذرّیتِ ابلیسی کے ساتھ نسل انسانی کو گمراہ کرنے کی قسم کھائی ہے، لیکن اپنے عجز کا بھی اظہار کیا، مجبوری بھی ظاہر کردی کہ مخلص بندوں کو بھٹکانے کی اُس میں ’’طاقت‘‘ نہ ہوگی اور اُن کے سامنے ابلیس بے بس ہوگا، اس لیے خاص طور پر ہدایت دی گئی کہ فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ (طاغوتی قوتوں کی تکفیر کرو) اور خطوات الشیطان سے کنارہ کش ہوجاؤ!! لیکن مالک کون و مکان ارض و سماء نے یہ بھی فرمایا کہ جب بھی مرے پاس سے کوئی ہدایت بہ شکل ’’صراط مستقیم‘‘ آئے تو اس پر خود بھی گامزن رہنا اور اپنی نسل کی بھی رہبری کرنا کہ وہ اَنَّ ہٰذا صِراطِی مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ اسی طرح جب نوح علیہ السلام کی قوم نے روگردانی کی تو انہیں اپنی قوم سے کہنا پڑا کہ ’’عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَبِّیْ وَ اٰتٰنِیْ رَحْمَۃً مِنْ عِنْدِہٖ‘‘ (اپنے رب کی جانب سے دلیل پر قائم ہوں اور اس نے اپنے پاس سے رحمت عطا کی) پھر اپنی قوم کو ’’صراط مستقیم‘‘ کی طرف لے جانے والی کشتی میں سوار ہونے کی دعوتِ حق دی ۔ ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی قوم اور اولاد کے لیے اسی ’’صراط مستقیم‘‘ کی یقین و ایمان کی دولت بانٹیں اور دعائیں مانگیں کہ بت پرستی (صراط منحنی) سے لوگ چھٹکارا پائیں اور کہا فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ (پھر جو شخص میری راہِ (مستقیم) پر چلے گا وہ تو میرا ہی ہے۔) اسی انداز سے حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کی: ’’یَا بُنَیّٰ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی لَکُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ (البقرۃ) (اے مرے بیٹو! اللہ تعالیٰ نے اس دین کو تمہارے لیے منتخب فرمایا ، سو تم سوائے اسلام کے کسی حالت پر جان نہ دینا۔) اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عطاکردہ تختیوں (الواح) پر بھی یہی ’’صراط العزیز الحمید‘‘ بہ صورتِ مواعظِ حسنہ ’’کُلّ شَئٍ مَوْعِظَۃ‘‘ کے الفاظ کے ساتھ تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلامنے تو گہوارہ ہی سے ’’صراط مستقیم‘‘ کی دعوت دینی شروع کردی تھی اور فرمایا تھا: ’’اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ۔‘‘ (یقیناًمیرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے، پس اس کی عبادت کرو ، بس یہی ہے صراط مستقیم۔‘‘ بالآخر رحمۃ للعالمین سید المرسلین اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تکمیل دین متین کی نویدِ مسرت پہنچاتے ہوئے وصیت فرمائی کہ ’’وَ اَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ذٰلِکُمْ بِہُ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے، جو کہ مستقیم ہے، سو اس راہ پر چلو اور دوسرے راستوں پر مت چلو کہ وہ راستے تم کو اللہ کی راہ یعنی ’صراط مستقیم‘ سے جدا کردیں گے۔) اس بات کا تم کو تاکیدی حکم دیا گیا ہے تاکہ تم احتیاط کرو۔) اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ راہِ راست پر چلنے والوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور فضل میں شامل کریں گے سَیُدْخِلُہُمْ فِیْ رَحْمَۃٍ مِنْہُ وَ فَضْلٍ وَّ یَہْدِیْہِمْ اِلَیْہِ صِرَاطٌ مُسْتَقِیْمٌ ۔ (النساء)
معلوم ہوا کہ صراط مستقیم کا پیام الٰہی اُس کے منتخب برگزیدہ بندوں کی وساطت سے انسانوں کی فلاح و صلاح کے لیے متواتر وقفہ وقفہ سے ہر قوم و ملک کے لیے آتا رہا ہے، کیوں کہ کہ خالق کائنات اپنے اس شاہکار کو ضلالت و گمراہی میں ضائع کرنا نہیں چاہتا کہ وہ مقام و مرتبہ کے لحاظ سے ’’خلیفۃ فی الارض‘‘، اکرام و اعزاز کے اعتبار سے ’’اشرف المخلوقات‘‘، تخلیق کی رو سے ’’احسن تقویم‘‘ کے سانچہ میں ڈھالا گیا ہے اور ستر ماؤں سے زیادہ رؤف و رحیم مالک کے حسن ظن پر صدقے جائیں کہ جب ابلیس لعین نے یہ کہا کہ میں صراط مستقیم کے آسا پاس ہی تاک میں بیٹھوں گا تاکہ ہر سمت سے حملہ آور ہوسکوں تو حق سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: ’’اِنَّ عِبَادِی لَیْسَ لَکَ عَلَیْہِمْ سُلْطَانٌ اِلَّا مَنِ اتَّبِعَکَ مِنَ الْغٰوِیْنَ۔‘‘ یقیناًتو میرے بندوں کو اپنے اوپر غالب پائے گا سوائے ان کے جو تیری شیطانیت کے نرغہ میں آگئے۔‘‘ (الحجر)
صد افسوس! عصر حاضر میں انسان کی کیا صورتِ حال ہے؟ کج روی و بدعملی، بدکرداری و خودفریبی، ظلم و جبر، قتل و غارت گری، جنگ و جدل، گمراہی و روگردانی، جاہلیت و انانیت ، نسلیت و عصبیت ، گروہ بندی ، فرقہ واریت ، اضطراب و بے چینی انسان کا مقدر بن گئی ہے، جب کہ ہمارا حال بہ قول علامہ اقبال امتی باعثِ رسوائی پیغمبرؐ ہیں
حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق ہمیں راہِ مستقیم و راہِ کج رو ، صحیح و غلط، صدق و کذب، نور و ظلمات ، خیر و شر، علم و عمل، امانت و خیانت ، اتحاد و اختلاف ، امن و جنگ ، طہارت و نجاست، نفع و ضرر ، ترقی و تنزل ، پرہیزگاری و ریاکاری، عرفان و بحران، رضا و بغاوت ، حق و باطل اور صراط مستقیم و صراط منحنی میں بین اور واضح فرق کو سمجھا دیا ہے۔ اسی منشائے الٰہی اور مقصدِ عظیم کے تحت سرورِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنی فرمان کو عام کرنے میں پورے تیرہ سال عقیدہ کی اصلاح کے لیے صرف فرمائے، تاکہ ایمان و یقین کی بنیادیں مستحکم ہوں اور زبان و دل ، میں یکجہتی پیدا ہو اور اقرار باللسان اور تصدیق بالقلب کے حامل بنیں اور ’’فکر مستقیم‘‘ کی راہ ہموار ہو، جو ایک مضبوط اخلاقی نظام کے بغیر قائم ہوسکتی اور جو ’’سرچشمہ عمل‘‘ بھی ہوتی ہے۔ ایک نکتہ قرآنی یوں بھی واضح ہوتا ہے کہ قرآن میں ’’صراط مستقیم کا لفظ کوئی تیس بار وارد ہوا ہے اور زیادہ تر مکہ میں نازل ہونے والی سورتوں میں شاملِ قرآن ہے، جس کا مقصدِ خاص ہم کو قرآنی اصطلاحات میں ’’سبل السلام‘‘ (سلامتی کا راست)، سبل النور (نور کا راستہ) ، قصد السبیل (نیکی کا راستہ)، سبیل اللہ (اللہ کا راست) اور طریق مستقیم کی طرف دعوت دینا ہے، تاکہ ’’خیر امت‘‘ کے پیرو اللہ اور رسول کے فرمانبردار ’’اصحاب الصراط السوی و الہدی کے القاب سے نوازے جائیں۔ یہ اللہ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ ہماری ہدایت اور رہبری کا حسن انتظام فرمایا اور مسلسل ہدایت اور رہبری کے ذریعہ ہم کو توحید و رسالت کے اتباع پر مکلف کیا۔ پھر خاتم النبیین اشرف المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے اپنے پیامکی کاملیت پر مہر ’’ختمِ نبوت‘‘ ثبت فرمادی۔ دستورِ حیات کو ’’قرآن حکیم‘‘ کی شکل میں محفوظ کردیا، جو ایک ’’خزینۂ رشد و ہدایت‘‘ کی حیثیت میں ہمیں صراط مستقیم کی طرف ہدایت کرتا ہے ۔ یَہْدِیْ اِلی الْحَقِّ وَ اِلٰی طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔
یہاں اس بات پر بھی غور ہو کہ محض پندرہ صدیوں پہلے سرزمین عرب میں موجود جہاد ، گمراہی اور کج روی کے لیے یہی انسانوں کو دعوت نہیں دی گئی تھی، جیسا کہ ہم دیکھ آئے ہیں ابتدائے آفرینش ہی سے ہر گمراہی کے لیے ہر وقت ، ہر قوم میں رہبری کی گئی ۔ یہ دعوتِ حق اب اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام کے تحت جس طرح پچھلی صدیوں میں قائم تھی آج بھی اپنی کاملیت ، رضائے الٰہی اور اتمامِ نعمت کے اعتبار سے اس نئے عہد ہزار سالہ میں ہو کہ آئندہ کی صدیاں تا قیامت قائم و دائم ہیں کہ ہر وقت ، ہر آن، ہر لمحہ ’’صراطِ مستقیم‘‘ انسانی گروہوں کے لیے رہنما و رہبر ہوگا، حق و صداقت کی طرف دعوت التامہ ، منشائے الٰہی کے مطابق دیتا رہے گا اور یہ نویدِ علم و عرفان انسانی مسائل کے بحران کا حل ڈھونڈتی رہے گی:
چشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے
رفعتِ شانِ رفعنا لک ذکرک دیکھے