سچی محبت :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

سچی محبت

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:

اُس کی بے چینی بے قراری نقطہ عروج پر تھی ‘وہ بار بار میرے پاس آنے اور مُجھ سے بات کر نے کی کوشش کر رہا تھا ۔ کبھی وہ اضطرابی حالت میں اِدھر اُدھر چلنا شروع کر دیتا ‘ایک دو بار بینچ پر بیٹھابھی لیکن فوری اُٹھ گیا اُس کو کسی پل قرار نہ تھا باربار میری طرف لپک رہا تھا

میں حسبِ معمول اپنے آفس میں ایک ملاقاتی سے اُس کی کارمیں بیٹھا بات کر رہا تھاکہ یہ بوڑھا شخص جس کی عمر ستر سال سے زیا دہ تھی ‘کار کے پاس آکر گاڑی کے شیشے پر ہاتھ سے دستک دیتا میں اُسے اشارے سے انتظار کا کہتا لیکن وہ چند منٹوں بعد ہی پھر آکر شیشے پر ہاتھ مارتا اطراف میں کچھ اور لوگ بھی ملنے آئے ہو ئے تھے اِن میں سے چند لوگوں نے اُسے اخلا قی اقدار سمجھانے کی کو شش کی تو اُس نے سمجھانے والوں سے الجھنا شروع کر دیا ۔ اب اُس کی تکرار لڑائی جھگڑے کی طرف جا رہی تھی ‘ میں نے جب دیکھا کہ اب بات اخلاقیات سے نکل کربڑے جھگڑے کی طرف جا نے لگی ہے تو فوری طور پر گاڑی سے اُترا ‘ تیزی سے بوڑھے شخص کی طرف بڑھا جو کسی کی بھی بات سننے کے موڈ میں نہیں تھا اُس کی پشت میری طرف تھی میں نے قریب جاکر آہستگی سے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تا کہ وہ میری طرف متوجہ ہو سکے اُس نے مُڑ کر میری طرف دیکھا اُسے توقع نہیں تھی میں اُس کے پاس آؤں گا اِس لیے شرمندہ ہو کر بو لا جنا ب میں آپ سے ملنے کی کو شش کر رہا ہوں لیکن یہ بندے مجھے آپ تک آنے سے روک رہے ہیں اُس کی بے قراری چہرے کی وحشت اندرونی غم اور پریشانی کی عکا سی کر رہی تھی وہ کسی مشکل میں تھا ۔ میں نے حالات کو تلخی سے بچانے کے لیے اُس کا محبت سے ہاتھ پکڑا اور جا کر بینچ پر اُس کے ساتھ بیٹھ گیا ‘پانی منگوایا ‘ٹھنڈے پانی کا گلا س اُس کے ہاتھ میں دیا محبت بھر ی نظروں سے دیکھا اور کہا آپ آرام سے پانی پی کر مجھے بتا ئیں میں آپ کی کیا مدد کرسکتا ہوں ‘میرے شفیق روئیے سے اُس کی وحشت میں کمی آنا شروع ہو گئی اُس کے بکھرے اعصاب نارمل ہو نا شروع ہو گئے ‘چہر ے پر ویرانی کی جگہ سکون کا رنگ چھلکنے لگا میں نے محبت سے اُس کا ہا تھ پکڑا ‘ مٹھا س بھرے لہجے میں کہا آپ ریلیکس ہو جائیں اب میں کسی سے نہیں ملوں گا جب تک آپ کی با ت نہیں سن لیتا ۔ آپ سب سے پہلے با قی لوگ بعد میں ‘ کسی کی جرات ہے جو آپ سے بد تمیزی کرے میں آپ کے ساتھ ہوں آپ حکم کریں میں کیا کروں ‘ میرے حو صلہ دینے اور حلیم روئیے سے اُس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی وہ پہلے تو مجھے امید بھری التجائی نظروں سے دیکھتا رہا پھر رونے لگا ‘ میں نے اُسے حوصلہ دینے کے لیے اُسے گلے سے لگا یا تو وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا ‘ میں شفقت سے اُس کی کمر پر ہا تھ پھیرتا رہا میں اُسے رونے کا مو قع دے رہا تھا تاکہ اُس کا غم ہلکا ہو سکے ‘ اسی دوران اُس نے گلو گیر لہجے میں کہا پرو فیسر صاحب وہ مر گئی تو میں بھی زندہ نہیں رہوں گا ‘ میری زندگی اُس کے بغیر ادھوری ہے میری زندگی کی سانسیں اُس کی زندگی سے منسلک ہیں وہ نہیں تو میں بھی نہیں ۔ میں اُس سے بے پناہ محبت بلکہ عشق کر تا ہوں وہ میرے جینے کی وجہ ہے میری زندگی کے سارے رنگ ذائقے خو شبوئیں اُسی کے وجود سے ہیں اگر وہ نہ رہی تو میری زندگی بلیک ہو جائے گی ‘میں بر باد ہوجاؤں گا میری جنت جہنم میں بدل جائے گی ‘آپ پلیز میری مدد کر یں آپ کو خدا کا واسطہ ‘آپ کو اُس کا واسطہ جس سے آپ پیا ر کر تے ہیں اب پھر اُس نے پھو ٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا ‘ شدت غم سے اُس کے جسم پر لرزا طاری تھا وہ شدت غم اوراندرونی کرب سے اُس کا جسم کانپ رہا تھا ‘ اُس کا پورا جسم سراپا التجا تھا جب اُس کا رونا رکا تو میں نے دھیرے سے پو چھا آپ کس سے محبت کرتے ہیں اور اُس نے آپ سے کیا بے وفائی کی یا آپ کو چھو ڑدیا کون ہے تو بوڑھا شخص بو لا وہ میری شریک حیات میری بیوی ہے ‘ اب میں نے پو چھا آپ کی شادی کو کتنا عرصہ گزر چکا ہے تو وہ بولا پچاس سال ہو گئے ہیں ہما ری شادی کو‘ یہ میرے لیے جھٹکا تھا کہ پچاس سالہ رفاقت کے بعد بھی محبت پہلے دن کی طرح قائم دائم تھی ‘ میں خو شگوار حیرت میں داخل ہو چکا تھا سر میری بیوی تین سال سے فالج زدہ ہو کر بستر کا حصہ بن گئی ہے ‘ میں مالی طور پر خوشحال ہوں دنیا جہاں کا علا ج کر ا چکا ہوں لیکن صحت کی دیوی ہم سے روٹھ چکی ہے ‘ ڈاکٹروں سے ما یوس ہو کر میں نے بابوں کی چوکھٹوں پر ماتھا رگڑنا شروع کیا اِس بھاگ دوڑ میں آ پ کے در پر آگیا ہوں ‘ اب بو ڑھے شخص نے لجاجت بھرے لہجے میں مجھے کہا میرا گھر قریب ہی ہے آپ پلیز میرے ساتھ جا کر اُسے دیکھ لیں اب اُس نے میری ٹھو ڑی پکڑ کر پا ؤں پکڑنے کی کو شش کی ‘ اُس کی حالت خراب ہو نے لگی لہٰذا میں اُس کی کا رمیں بیٹھ کر اُس کے گھر کی طرف جانے لگا راستے میں بو ڑھے شخص نے بتا نا شروع کیا کہ میں ایک سخت ضدی جھگڑالو صفت انسان تھا ‘ غرور تکبر خو د پسندی مجھ میں کوٹ کوٹ کر بھر ی تھی ‘ شادی کے بعد عورت کو پا ؤں کی جو تی سمجھ کر بیوی پر بھی ظالمانہ حکو مت شروع کر دی تھی ‘ میری بیوی نے اپنی بے پناہ سچی محبت کرداراور مثبت روئیے سے مجھے تبدیل کیا ‘ میرے غرور کو محبت میں بدلا‘ میں شروع سے ہی امیر آدمی ہوں میرے گھر میں نو کروں کی بھر ما ر تھی لیکن میری بیوی نے مذہبی فریضے کے طور پر ہمیشہ میرے سارے کام اپنے ہاتھ سے کئے ‘ میرے کپڑے دھونا بو ٹ پالش کر نا میری ہر بات کا خیال رکھنا اور روزانہ صبح سات بجے ناشتہ بنا کر ٹیبل پر میرا انتظا ر کر نا وہ میرے کسی کام کے لیے نوکر کو ہاتھ بھی نہ لگا نے دیتی ‘ شادی کے پچاس سالوں میں میری خو شی کے لیے وہ کبھی میکے نہیں گئی ‘ اگر کبھی بازار یا کسی جگہ گئی تو میرے گھر آنے سے پہلے وہ گھر آجاتی ‘ مو سم کو ئی بھی ہو سردی گر می آندھی طوفان سیلاب بارش زلزے میں اُس کی ترجیح میں رہا ‘ شدید بیما ری کی حالت میں بھی وہ صبح سویرے اُٹھ کر میرا ناشتہ بناتی پھر میز پر میرے آنے کا انتظار کر تی ‘ زندگی سے بھر پو ر خو شگوار مسکراہٹ سے میرا انتظار کر تی ‘ واپسی پر مجھے پھر کھا نے کا پو چھتی ‘پچاس سالوں میں ایک دن بھی ایسا نہیں آیا جب اُس نے اپنی ڈیو ٹی چھو ڑی ہو‘ اسطرح اُس نے اپنی سچی محبت سے مجھے بدل دیا مجھے جیت لیا پھر ہماری زندگی بہت خو بصورت گزرنے لگی ‘ اِسی دوران ہم گھر پہنچ کر بیوی کے کمرے میں داخل ہوئے جہاں پر فالج زدہ عورت بے جان بے نور چہرے اور آنکھوں کے ساتھ موجود تھی ‘ تین سال پہلے اِس کو فالج ہوا جسم تختہ بن گیا ‘ وقت کے ساتھ جسم میں جزوی حرکت شروع ہو ئی لیکن فالج دماغ کو چاٹ گیا اِس کی یاداشت چلی گئی ۔ اب یہ کسی کو بھی نہیں پہچانتی ہم سب اِس کے لیے اجنبی ہیں وہ عورت نیم پتھرائی اجنبی نظروں سے ہمیں دیکھ رہی تھی ‘ فالج نے اُس کی قوت گویائی بھی چھین لی تھی جب وہ آپ کو پہچانتی ہی نہیں اُس کی نظر میں گھر کا نوکر اور آپ برابر ہیں تو پھر بھی آپ کیوں اُس کی خدمت اور محبت کر رہے ہیں تو وہ بولا یاد داشت اُس کی ختم ہوئی ہے میری نہیں وہ مجھے نہیں جا نتی لیکن میں تو اُسے جانتا ہوں وہ کون ہے اُس کی میری زندگی میں کیا اہمیت ہے ‘ اُس نے پچاس سالوں میں میری زندگی کو جو جنت بنا ئے رکھااُس کی ویلیو میں جانتا ہوں یہ سچی محبت ہے نا اِس کاتعلق یاداشت سے نہیں ہوتا نہ ہی دل و دماغ سے ہو تا ہے یہ تو رگوں میں دوڑتے خون میں شامل ہوتی ہے یہ دل کی دھڑکن میں دھڑکتی ہے ہر سانس کو مہکاتی ہے سانسوں کی ڈوری اِس محبت سے چلتی ہے میں نے مریضہ کو دیکھا دم کیا پڑھنے کو بتا یا حوصلہ افزا باتیں کیں ‘محبت کی دیوی کو سلام کیا جس نے اپنے بھر پو ر مثبت روئیے سے غرور کے پتلے کو پیکر محبت کاچلتا پھرتا اشتہار بنا دیا ۔ میں جب واپس آنے لگا تو پو چھا آپ نے مجھے متا ثر کیا جو بیوی کو اِس حالت میں نہیں چھوڑا تو بو ڑھا شخص بو لا کیا اگر میں اِس طرح بیمار ہوتا تو وہ مجھے چھو ڑ دیتی نہیں بلکہ میرا بھر پور ساتھ دیتی اور پروفیسر صاحب یہ جو سچی محبت ہو تی ہے یہ دل میں اپنی جگہ بنالیتی ہے جو آخری دھڑکن تک قائم رہتی ہے شدت محبت سے بوڑھے کی آنکھوں میں پانی تیرنے لگا اور میری آنکھوں سے بھی پانی کی لکیریں بہنے لگیں ۔