اولیا اللہ : فاتحِ ہند :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

اولیا اللہ :
فاتحِ ہند

تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:

اہل دنیا افغانی سپہ سالارشہاب الدین غوری کو ترائن کے میدان میں فاتح ہندوستان قراردیتے ہیں ‘جس نے تنہاجذبہ ایمانی سے معمور ہو کر فخر ہندوستان پرتھوی راج اوراُس کے حواری سرداروں کوشکست دی کیونکہ پرتھوی راج نے سارے ہندوستان کے راجاؤں کو اِس بنیاد پر اکٹھا کیا تھا کہ یہ اسلام اور ہندوؤں کے دیوتاؤں کی فیصلہ کن جنگ ہے –

‘ہندوقوم میں برتری کااحساس جگا کر کہ مسلمانوں کو عبرت ناک شکست دے کرثابت کریں گے کہ ہندوؤں کے دیوتا طاقتور ہیں جن کے سامنے کو ئی نہیں ٹھہر سکتالیکن پرتھوی راج کایہ خواب تعبیرکاجامہ نہ پہن سکا‘ متعصب سے متعصب ہندو تذکرہ نگاربھی یہ حقیقت مانتاہے کہ پرتھوی راج کو شکست سلطان الہند شاہِ خواجہ کی نافرمانی کی وجہ سے ملی اگر پرتھوی راج اپنی مرحومہ ماں کی نصیحت پر عمل کر لیتا اور شاہ اجمیرکو تنگ نہ کرتاتوشاید بچ جاتا ‘طاقت کے نشے میں پر تھوی راج نے جب درویش کو پکڑنے اور علاقہ چھوڑجانے کا حکم دیاتو وہ درویش کے رنگ جلال کی نظر ہوگیا کہ ہم نے پرتھوی راج کو پکڑکر لشکر اسلام کے حوالے کیا‘ ظاہری طورپر تو شہاب الدین غو ری اِس عظیم فتح کے بعد مفتوحہ علاقوں کا انتظام اپنے وفادارغلام اور داماد قطب الدین ایبک کے سپرد کر کے واپس چلا گیا‘ سید حسن مشہدی کواجمیر کا داروغہ مقررکیا جو پرہیزگاراور پارسابزرگ تھا جس کو شاہ اجمیرسے بہت زیادہ انس اور محبت تھی جو لوگ اہل اسلام پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ اسلام بزورتلوارپھیلا وہ بھی اگر جانبداری کی عینک اتار کر سرزمین ہند میں اسلام کے پھیلنے کے اسباب کا مطالعہ کریں تو واضح طور پر نظر آتا ہے کہ محبوب خدا سرتاج الانبیاء تاجدار کائنات ﷺ کے حکم پر حضرت خواجہ معین الدین ؒ اپنے مٹھی بھر ساتھیوں کے ساتھ اجمیرمیں جب ڈیرہ جماتے ہیں تو سرزمین ہند بت پرستی اور طاغوتی طاقتوں کے شکنجے میں بری طرح جکڑی ہو ئی تھی ‘ شہا ب الدین غوری پرتھوی راج سے شکست کھا کر میدان جنگ سے بھاگ چکا تھاپھر تاریخ اسلام کے عظیم بزرگ حضرت خوا جہ جی ؒ کے حکم پر دوبارہ پرتھوی راج سے مقابلہ کر کے فتح حاصل کرتا ہے ‘ شہاب الدین نے فتح کے بعد قطب الدین ایبک کو سلطنت ہند کا تاج دیا جس نے فتوحات کرکے عدل و انصاف قائم کیا لیکن نو رِ اسلام دلوں میں اتارنے کا شرف حضرت خواجہ جیؒ کو جاتاہے ‘ حضرت خوا جہ جی ؒ اپنا وطن رشتہ دار چھوڑکراِس بت خانہ میں واردہوئے تھے شاہِ چشت نے اپنے کردار اور مسیحائی سے صدیوں پرانی زمین میں اسلام کے شجرکوبویا‘ تاریخی حقائق کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ راجپوت شاہِ اجمیر ؒ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے اورجوزیوراسلام سے آراستہ نہ ہو ئے اُن کے دلوں پر بھی شاہِ اجمیرؒ کی حکومت تھی ‘ غیر مسلم بھی جب کسی مصیبت میں مبتلا ہو تے تو شاہِ اجمیر کے در پر آکر دعا کی درخواست کرتے اور شاہ اجمیر ؒ تبسم جاں فزا ء سے اُن کے لیے دعا کر تے اوریہ رسم ہندوؤں میںآج بھی موجود ہے ‘ سرزمین ہندوستان پر آج بھی اگر کو ئی ہندو مصیبت پریشانی میں گرفتارہوتاہے تو شاہ اجمیرؒ کے در پر دامنِ مرادپھیلانے آتاہے اِس کا مشاہدہ راقم کو چند سال پہلے درگاہِ اجمیرؒ میں ہوا جب ہزاروں ہندو شاہِ اجمیر ؒ کے در پر گردن جھکائے نظر آئے‘ میرے پو چھنے پر اُن کا جواب تھا یہاں سکون ملتا ہے دعائیں قبول ہوتی ہیں ‘آپ ؒ کی زندگی میں جب ہندو حاجت کے لیے حاضر ہو تے توآپ ؒ کے ساتھ اعتراض کر تے کہ انہوں نے تو ہمیشہ آپ ؒ کی مخالفت کی ہے تو آپ ؒ تبسم دلنوازسے فرماتے میں شاہِ مدینہ تاجدار کائنات ﷺ کا غلام ہوں جو کفار پر بھی مہربان تھے جس طرح سورج کی کرنیں مومن کافر کا فرق نہیں کرتیں بارش کے قطرے ہندو مسلم کی تقسیم نہیں کر تے میں کیسے کروں ‘ اسلام جبر و تشدد سے لوگوں کو مسلمان بنانے پر زور نہیں دیتا بلکہ اسلام تو امن و آتشی اورمحبت کاپیغام دیتا ہے ‘یہ شاہ چشت ؒ کا شیریں لہجہ اور کردار تھا کہ صدیوں سے بت پرستی میں غرق راجپوت وادی اسلام میں داخل ہو تے گئے اگر خواجہ جیؒ قطب الدین کو اشارہ بھی کردیتے تو ہندوؤں کو گاجر مو لی کی طرح کاٹ دیا جاتالیکن نہیں مسیحا ہند نے ہندوؤں کے خیموں پر خراش تک نہ آنے دی آپ ؒ نے تلواروں کی بجائے اپنے کردارسے یہ جنگ جیتی ‘ یہ مسلمانوں کا حسن عمل تھا ورنہ صدیاں یہاں حکومت کر نے کے بعد یہاں ایک بھی ہندو نہ بچتا اسلامی حکو مت کے بعد دلوں کے مسیحا نے لوگوں کی کردار سازی کی بھر پور کو شش کی اور انسان کی باطنی بیماریوں کی طرف توجہ دی آپ کی بارگاہ میں اعلی ذات کے ہندو اور حقیر اچھوت دونوں برابر تھے ‘ہزاروں سال سے ذات پات میں تقسیم ہندوستان تہذیب کی مرہم پٹی کی ‘آپ ہی وہ پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے کو چہ بت پرستی میں ایک ایسی سیڑھی قائم کی جس کے ذریعے نہ صرف عام لوگ زیور اسلام سے آراستہ ہو ئے بلکہ اِن میں سے بہت سارے روحانیت اور معرفت کے اعلیٰ مقام تک پہنچے آپ ؒ کے یہاں آنے سے چاروں طرف اسلام کا بول بالا ہو نے لگا ‘اجمیر جیسے بت پرستی کے گڑھ میں اذان حق کی صدائیں بلند ہو نے لگیں آپ کی مساعی سے پو رے ہندوستان میں اسلامی حکومت قائم ہو ئی ‘شاہ چشت ؒ کا یہ کام معمولی نو عیت کا نہیں اور نہ ہی یہ کام کوئی عام انسان کر سکتا ہے آپ ؒ چند ساتھیوں کے ساتھ کو چہ بت پرستی میں آئے جو دین اسلام کے دشمن تھے یہاں پر آپ ؒ کا مددگار ایک انسان بھی نہیں تھا لیکن آپ نے حق تعالیٰ کے بھروسے پر یہاں اسلام کی اشاعت کے بیج بو ئے جو آگے چل کر شجر سایہ دار بنے ‘ آپ ؒ کے پیش نظرصرف اجمیر نہیں تھا بلکہ پورا ہندوستان تھا اِس دوران کئی بار آپ ؒ کی جان کو بھی خطرہ تھا لیکن آپ ؒ نے ہمت نہیں ہاری ‘دہلی میں اپنے ہونہار مرید قطب الدین بختیار کاکی کی ڈیوٹی لگائی آپ ؒ کی خدمات دیکھ کر واضح طو ر پر نظر آتا ہے کہ آپ ؒ کس دل گردے ہمت کے مالک تھے ۔ کردارسازی اشاعت اسلام کی کو شش صرف مردوں تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ عورتوں میں تبلیغ کے لیے اپنی صاحبزادی حا فظہ جمال کی بھی خو ب تربیت کی جس بعد وہ درجہ کمال کو پہنچی پھر انہوں نے عورتو ں میں شاندارتبلیغ کی اور اِس کام کو زندگی کا نصیب العین بنا یا ہزاروں عورتوں نے آپ ؒ کی ہستی کے کردار سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا پھر خواجہ جی نے اپنے تربیت یافتہ خلفاء کو ہندوستان کے گو شے گوشے میں پھیلادیا جن کی کو ششوں سے کفر خانہ ہند کا کو نہ کو نہ تاریکیوں سے نکل کر نو ر اسلام سے جگمگا نے لگا ‘ آپ ؒ اور آپ ؒ کے رفقاء نے جگہ جگہ پر مساجد اور مدرسے قائم کئے جہاں مسلمانوں کی پنیری کاشت ہوئی جو بعد میں زرخیز فصل کے روپ میں چاروں اطراف پھیل کر اشاعت اسلام کر نے لگے ۔ صاحب سیر الاولیا نے آپ ؒ کے با رے میں کیا خوب کہاہے کہ اِس سے بڑھ کر اور کرامت کیا ہو گی کہ جو لوگ شاہ اجمیر ؒ سے وابستہ ہو ئے وہ خو د بھی دین کے ایسے بادشاہ ہو ئے کہ بندگانِ خدا کی مدد کی ‘ انہیں دنیاکے فریب اورکفر پرستی سے نکال کر اسلام میں داخل کیا ‘ اِس با دشاہِ دین کی عظمت کا نقارہ قیامت تک اِسی طرح بجتا رہے گا اور ان کی محبت کے طفیل خلق اللہ فردوس بریں میں داخل ہو گی‘ شاہِ چشت ؒ کے چراغ سے چراغ جلتا چلا گیا آپ ؒ کے ہاتھوں لاکھوں مسلمان ہو ئے اُن کے بعد مسلمان ہو تے چلے گئے اِس طرح یہ ثواب قیامت تک شاہِ چشت ؒ کو ملتارہیگا‘ ہندوستان میں اسلام پھیلنے کی وجہ آپ ؒ کا طرز عمل اور محبت تھی ‘آپ ؒ نے زندگی میں ہزاروں دشمنوں کو بھی معاف کیا ایک دن آپ ؒ جلوہ افروز تھے کہ خادم نے کسی اجنبی کے آنے کی اطلاع دی آپ ؒ نے آنے کی اجازت دی وہ شخص آتے ہی آپ ؒ کی شان میں قصیدے پڑھنے لگا کہ میری عرصہ دراز سے خواہش تھی کہ آپ ؒ کا دیدار کر سکوں قدم چھو سکوں ‘ آپ ؒ کا چہرہ دیکھ سکوں جب وہ خو ب با تیں کر چکا تو درویش بے مثال بو لے اب تم جس کام سے آئے وہ کرو ‘ فضول با توں سے پرہیز کر و اور میری جھوٹی تعریفیں نہ کرو‘ جو کام کرنے آئے ہو وہ کرو ‘ آپ ؒ کی بات سن کر آنے والے شخص کے جسم پر لرزا طاری ہوگیا تھر تھر کانپنے لگا جیب سے خنجر نکال کر زمین پر پھینک دیا اور شہنشاہ کے قدموں سے لپٹ گیا غریب نواز میں لالچ میںآگیا تھا ایک مالدار ہندو نے بڑی رقم کا لالچ دے کر مجھے آپ ؒ کو ہلاک کرنے بھیجا تھا آپ ؒ عظیم انسان ہیں‘ مجھے قتل کردیں میں زندہ رہنے کے قابل نہیں دلوں کے راجہ نے اُس شخص کو اور جس نے اسے بھیجا تھا دونوں کو معاف کر دیا ‘ وہ شخص ندامت سے رورہا تھا اور کلمہ حق کی درخواست کر رہا تھا آپ ؒ نے معاف کیا مسلمان کیا روحانی تربیت کی ‘وہ شخص نیک پارسا بزرگ بناکئی حج کئے دوران حج ہی خالق حقیقی سے جاملا اور نگاہِ درویش کے طفیل خاک مکہ میں تہہ نشیں ہوا دونوں جہانوں میں بامراد ہوا ۔ ایسے ہی ہزاروں بت پرست حقیقی فاتح ہند کی جنبش چشم سے کفر سے نورِ اسلام میں داخل ہو ئے ۔