کالم : بزمِ درویش – جسم فروش :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

کالم : بزمِ درویش
جسم فروش

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:

میرے سامنے بیٹھی جوان عورت گیلی لکڑی کی طرح سلگ رہی تھی ‘سر آپ ہم جیسی عورتوں سے نفرت تو بہت کر تے ہیں حقارت سے ہمارا ذکر کر تے ہیں کہ جسم فروش عورتیں نام نہاد مہذب معاشرے کے منہ پر کلنک کا ٹیکہ ہیں ۔ جسم فروشی کے اڈے معاشرے میں بے حیائی فحاشی پھیلانے کے ذمہ دار ہیں ۔

نہیں سر آپ سچائی سے منہ موڑ رہے ہیں آپ حقیقت جاننے کی کوشش نہیں کر رہے ۔ میں نے خا وند کی وفات کے بعد معاشرے کے ہر طبقے کے سامنے جاکر مدد مانگی باعزت نوکری کے لیے در در کی خاک چھا نی ‘شادی ہالوں ‘کو ڑے کے ڈھیروں سے مردار کھانے اکٹھے کئے لیکن پھر بھی مہذب معاشرے نے مجھے جینے نہیں دیا ‘آپ سمجھتے ہیں کہ جسم فروشی لذت آمیز آسان کام ہے جناب ایسی بات نہیں ہے ‘شرابی کبابی غلیظ گندے انسان جن کے پاس آپ ایک لمحے کے لیے بھی بیٹھنا گوارا نہ کریں ہمارا واسطہ اُن پاگل جنونیوں وحشی درندوں سے پڑتا ہے جودرندوں کی طرح ہما ری عزت اور جسم کو نو چتے ہیں ‘تشدد مزاج کے حامل افراد ما ر پیٹ کر تے ہیں ‘ زبردستی نشہ آور اشیاء شراب پلاتے ہیں ‘ اپنے ما ضی کی بکواسیات ‘گالیوں کے قصے سناتے ہیں ہم پیٹ کی آگ بجھانے اور تن کو چھپانے کے لیے یہ سب سہتی ہیں ‘ ہم ہر رات گناہ کی سولی پر لٹکتیں ہیں ہر روز ہمارے جسموں اور عزتوں کا قیمہ بنایا جا تا ہے ‘ ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے جسم فروشی کے ان اڈوں پر سینکڑوں عورتیں بھیڑ بکریوں کی طرح رکھی جاتی ہیں ‘ طریقہ واردات یہاں کا انتہائی کرب ناک ہے جب بھی کو ئی درندہ اپنی جنسی تسکین کے لیے ان اڈوں کی طرف رُخ کر تا ہے تو وہ جاکر اپنی مرضی کا جانور حاصل کرتا ہے ‘گاہک آکر بیٹھ جاتا ہے ہم بھیڑ بکریاں قطار میں آکر باری باری اُس کے سامنے سے گزرتی ہیں وہ ایک ایک کو سر سے پاؤں تک خونی جنسی نظروں سے دیکھتا ہے ہم کنیزوں کی طرح اُس سے ہاتھ ملا کر آگے چلتی جاتی ہیں اب وہ اِن بھیڑ بکریوں میں سے اپنی مرضی کی علیحدہ کرتا جاتا ہے اب الگ کی گئی لڑکیوں کو پھر حکم دیا جاتاہے کہ وہ پھر قطار بنا کر درندے کے سامنے سے گزریں اُس سے ہاتھ ملائیں اب وہ مزید چھانٹی کرلیتا ہے اب جب چند لڑکیاں اُس کے سامنے رہ جاتی ہیں تو وہ اُن کو اچھی طرح دیکھ کر سونگھ کر ٹٹول کر اپنی مرضی کی لڑکی سلیکٹ کر کے اعلان کرتا ہے کہ آج کی عیاشی اور گناہ کے لیے یہ مجھے پسند ہے اب جو مسترد کر دی جاتی ہیں وہ خون کے آنسو پی کر خاموش ہو جاتی ہیں کہ اُن کی دیہا ڑی مرگئی ۔ اب اُس درندگی کی تسکین کے لیے کہا جاتا ہے صاحب کے لیے سٹیج تیار کیا جائے پھر چند پھول بکھیر کر گناہ کی سٹیج تیار کی جاتی ہے یہ سارا عمل کراہت آمیز سزا دینے والا ہوتا ہے جس سے چند روپوں کے لیے ہمیں گزرنا پڑتا ہے ‘ گناہ کا یہ کھیل صدیوں سے دنیا کے چپے چپے پر کھیلا جاتا رہا ہے انہی درندوں میں کبھی کبھا ر کو ئی رحم دل انسا ن بھی آجاتا ہے اُسے کو ئی لڑکی اگر پسند آجائے تو وہ اُس کو اِس جہنم سے نکال لے جاتا ہے لیکن ایسا برسوں بعد ہی ہوتا ہے ایسا ہی ایک نیک انسان کسی وقتی حادثے کی وجہ سے وہا ں آیا میری اُس سے ملاقات ہوئی یا خدا کو مُجھ پر ترس آیا میں اُس گناہ کی وادی سے نکل آئی ‘نیک انسان چند مہینے ہی میرے ساتھ شادی شدہ زندگی گزار کر اِس جہاں فانی سے کوچ کرگیا لیکن جاتے جاتے وہ میرے لیے اتنا کچھ کرگیا کہ میں اب با عزت سادگی سے زندگی گزار سکتی تھی ‘ خدا نے مجھے جب تو بہ کا موقع دیا تو میں نے تو بہ کرلی اور پھر کبھی بھولے سے بھی مُڑ کر اُس گناہ آلو دہ زندگی کی طرف نہیں دیکھا ‘ اب جو اُس ذلت آمیز زندگی کو چھوڑ ا سکون کا سانس لیا جب گنا ہ سے پاک زندگی گزارنی شروع کی تو شدت سے احساس ہوا کہ میرے جیسی ہزاروں لڑکیاں گناہ کے اُس جہنم میں جل رہی ہیں ‘ تو میں نے کو شش کی کہ اُن جسم فروشی کے اڈوں کو ختم کر نے کی کو شش کروں ۔ اب جو میں نے یہ کو شش کی تو شدید مزاحمت کا سامنا کر نا پڑاجس تھا نیدار سیاستدان یا معاشرے کے طاقتور امیر شخص کے پاس گئی اُس نے حیرانی سے مجھے دیکھا کہ یہ کیا کہہ رہی ہے ‘ سر ہما رے ملک کے چپے چپے پر پھیلے جسم فروشی کے ان اڈوں کی تفصیل ہمارے پو لیس اور ایجنسیوں کے پاس مکمل طور پر موجود ہیں ‘ یہ تھانیدار اِن اڈوں کے مالکان سے بھتہ وصول کر تے ہیں بلکہ یہ اڈے ہوٹل جہاں پر دھندہ ہوتا ہے اِن تھانیداروں کی سرپرستی میں ہوتا ہے بلکہ یہ اڈے تھانیداروں کی سرپرستی کے بغیر چل ہی نہیں سکتے بلکہ اِن کی عیاشی کا سامان بھی یہیں موجود ہوتا ہے کسی امیر آدمی کو پکڑوا کر اڈا مالکان اور پولیس خوب دولت کی پیاس بجھا تے ہیں ‘ سر میں اور میری چند دوستوں نے ایک گروپ بنایا ہم وطن عزیز کے بڑے کالم نگاروں سیاستدانوں مخبر حضرات تک گئیں کہ آپ اپنا اپنا رول ادا کریں تاکہ یہ بھیڑوں بکریوں کی طرح لڑکیاں باعزت زندگی گزار سکیں ‘ مخیر حضرات سے کہا کہ آپ اِن لڑکیوں کے باعزت روزگار کا بندوبست کریں سیاستدانوں سے کہا آپ اپنی حکومت کی ترجیحی لسٹ میں اِن بھیڑ بکریوں کو شامل کریں ۔ ہم نے مالی مدد یا اِن کی اصلاح کے لیے جہاں بھی گئیں ہمیں حقارت سے دیکھا گیا ہماری تحقیر کی گئی ‘ فون لے کر بعد میں ہمیں فحش گفتگو اور دعوت گناہ کی ترغیب دی گئی ۔ سر اب میں آپ کے پاس کسی مدد کے لیے نہیں آئی بلکہ صرف اِس لیے آئی ہوں کہ آپ جب جانتے ہیں کہ جسم فروشی کے اڈوں سے حکومت جب واقف ہوتی ہے تو وہ معاشرے کے اِس ناسور کو ٹھیک کرنے میں اپنا رول کیوں ادانہیں کر تی ۔ سرآپ کے پاس آنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ آپ آواز اٹھائیں کہ آنے والے الیکشن میں کوئی جماعت ہمیں اپنے منشور میں شامل کرے ہماری اصلاح کا بھی بیڑا اٹھائے ‘ حوا کی یہ بیٹیاں دن رات تلوار کی دھار پر زخمی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ سر اگر معاشرے اور حکومت نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو ہر موڑ پر ہر شہر میں بنت حوا اسی طرح سر عام بکتی رہے گی ۔ جنسی درندے اِن کی بوٹیاں نو چتے رہیں گے ‘ سر گناہ کو دیکھ کر چشم پوشی کرنا بھی گناہ ہے اگر آپ یہ نہیں کرسکتے تو اِن کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں کیونکہ آپ نے اِن کی اصلاح کی حقیقی کوشش نہیں کی ‘درد میں لپٹی وہ عورت تو اپنی داستان الم سنا کر چلی گئی لیکن میرے لیے سوچ کی بہت ساری لکیریں چھوڑ گئی اِس دعا کے ساتھ کہ خدائے لا زوال کب ایسا مسیحا لائے گا جو دھرتی کو اِس بوجھ سے آزاد کرے گا ۔