رپورتاژ :محسن خان
موبائیل:09397994441

فاروق طاہر کی کتاب’’ طلبہ کے تین دشمن ‘‘
ڈاکٹراسلم پرویز وائس چانسلر مانو کے ہاتھوں رسم اجرا

ڈاکٹراسلم پرویز ‘پروفیسر وہاب قیصر‘ پروفیسرفاطمہ پروین‘
ڈاکٹرعابد معزاور ڈاکٹراسلام الدین مجاہد کے خطابات

سرور علم ہے کیفِ شراب سے بہتر
کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر

وقت گذرنے کے ساتھ اردوزبان جوکئی شعبوں پرمحیطہ ہواکرتی تھی آج وہ سکڑ کر شعر وسخن تک ہی محدود ہوکر رہ گئی۔ آخر اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے۔جب ہم اس اسباب وعلل کا جواز تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کے ذمہ دارہم خود نظرآتے ہیں کیونکہ ہم نے مذہب اسلام میں جواعلیٰ وارفع تعلیم بالخصوص علم کے حوالے سے ہمیں بتلائی گئی تھیں ہم نے اسے روگردانی کی ۔ جس کی وجہ سے آج ملت اسلامیہ تعلیمی طورپرپسماندگی کا شکار ہوکر رہ گئی ہے مگران ناگفتہ بہ حالت میں بھی ایسے کچھ جری حضرات ہمیں نظرآتے ہیں جواردوکوصرف شعروسخن کے تناظرمیں دیکھنانہیں چاہتے بلکہ اس کو ایک علمی زبان کے طورپرفروغ دینا چاہتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اس کامظاہرہ بھی کرتے ہیں۔
لوگوں کو شکایت رہتی کہ اردوادب کو صرف شاعری ااورافسانوں تک محدود کردیاگیاہے اور اس کے علاوہ اردوادب میں کچھ نہیں لکھاجارہا ہے۔ وہی پرانے قصے کہانیاں ‘ وہی غزلوں میں عشق وعاشقی کی باتیں‘ شاعری میں محبت کے قصے اورافسانوں میں لیلیٰ مجنوں کی کہانیاں اس کے علاوہ اردوادب میں کچھ باقی نہیں رہا ہے ۔ایسے لوگوں کی سوچ محدود ہے اور وہ مایوسی کا شکار ہیں کیونکہ آج بھی اردو ادب میں بہت اچھی کتابیں لکھی جارہی ہیں۔ عصری مضامین‘سائنس وٹکنالوجی‘صنعتی معلومات ‘شخصیت سازی اور دیگراہم علوم پراردو کے ادیب اپنا قلم اٹھارہے ہیں۔ایسے ہی ایک نوجوا ن ممتاز ومعروف ماہرتعلیم وادیب فاروق طاہر ہیں ۔فاروق طاہر کے مضامین پابندی سے اخبارات کی زینت بنتے ہیں۔ آپ کے بعض مضامین اتنے طویل ہوتے ہیں کہ اخبار کا ایک ایک صفحہ اس معلوماتی مضمون سے بھرجاتا ہے اورقارئین بالخصوص طلبہ اس سے بہت کچھ سیکھتے ہیں اورپابندی سے آپ کے مضامین کامطالعہ کرتے ہیں۔ آپ کے تقریباً تمام مضامین شخصیت سازی‘ استاد وطلبہ کی اہمیت‘تعلیم اور زندگی سے جڑی ضروریات پرہوتے ہیں ۔ وہ اپنے مضامین میں نہ صرف مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ ان کاحل بھی بتاتے ہیں۔ فاروق طاہر اپنے قلم کے ذریعہ نوجوانوں میں جوش وولولہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ طلبہ تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک ذمہ دارشہری اورملت وقوم کا درد رکھنے والے انسان بنے۔ وہ چاہتے ہیں کہ نوجوان اپنے پیروں پرکھڑے ہوکر اپنے خاندان وملک کی خدمت کرے۔ آپ نے اپنے ان اہم ومعلوماتی مضامین کو کتابیں شکل دی جس کا نام انہوں نے ’’طلبہ کے تین دشمن رکھا‘‘۔کتاب کے رسم اجراء کی تقریب 30ڈسمبر بروز ہفتہ بمقام سالارجنگ آڈیٹوریم میں رکھی گئی تھی۔ جس میں وائس چانسلرمولانا آزادقومی اردویونیورسٹی اسلم پرویز نے کتاب کا رسم اجراء انجام دیا۔ صدارت پروفیسر وہاب قیصر (ڈائرکٹوریٹ آف ٹرانسلیشن اینڈ پبلکیشنز‘مانو)نے کی۔ مہمانان خصوصی ڈاکٹرعابد معز(کنسلننٹ اردومرکز برائے فروغ علوم‘مانو)‘ اور پروفیسرفاطمہ پروین(سابقہ صدر شعبہ اردو ووائس پرنسپل آرٹس کالج جامعہ) تھیں ۔ شرکائے گفتگو ڈاکٹراسلام مجاہد(اسوسی ایٹ پروفیسر وصدرشعبہ سیاسیات اردوآرٹس ایوننگ کالج) اورسیدخالد حسین قیصری (صدر آل انڈیا آئیڈیل ٹیچراسوسی ایشن‘تلنگانہ) تھے۔
پروگرام کا آغاز اللہ کی تعریف حمد سے ہوا ۔معروف نعت خون ای ٹی وی اردو اسد خان نے حمد پڑھنے کا شرف حاصل کیا۔ افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے ندیم اختر زیدی نے فاروق طاہر کی شخصیت پرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ ان کی ابتدائی تعلیم اردومیں اوراعلیٰ تعلیم انگریزی میں ہوئی۔انہوں نے MSCکے بعد بی ایڈ پھرایم ایڈ کیا۔ایم اے(اردو)اورایم اے(انگریزی)کے بعدایم فل بھی کیا۔ نفسیاتی علوم پرمتعدد کورسیس وڈپلوما کے بعدایل ایل بی کی ڈگری عثمانیہ سے حاصل کی۔فاروق طاہر کا ادبی سفرشاعری سے ہوا لیکن بعدمیں انہوں نے نفسیاتی مضامین کی طرف توجہ اپنی مبذول کی۔آپ کے مضامین ہندوستانی اخبارات کے علاوہ پاکستان میں بھی شائع ہوچکے ہیں۔ ندیم اختر زیدی نے تعارف میں مزید کہاکہ ڈاکٹرطاہر کو ان کی ادبی خدمات پرسرکاری وغیرسرکاری کئی ایوارڈس سے نوازاجاچکاہے۔’’طلبہ کے تین دشمن‘‘ان کے مضامین کا مجموعہ ہے جوانہوں نے طلبہ‘اساتذہ اور والدین کی رہبری کے لئے تحریر کئے گئے ہیں۔مصنف کی یہ تیسری کتاب ہے۔
بعدازاں اسلام الدین مجاہد(اسوسی ایٹ پروفیسر وصدرشعبہ سیاسیات اردوآرٹس ایوننگ کالج) نے قرآ ن وحدیث کے حوالے سے مسلمانوں کی تعلیمی‘معاشی بالخصوص اخلاقی پسماندگی کا ذکر کیا اورکہاکہ جب تک ہم قرآن وحدیث سے وابستہ رہیں گے ہمیں کوئی نہیں مٹاسکتا۔اسلام مجاہدین نے کہاکہ نفسیات پراردوادب میں مضامین وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسٹیج پرایک اور ادبی شخصیت جو طنز ومزاح اور طب پراپنے مضامین کے تعلق سے دنیا بھرمیں شہرت رکھتی ہیں انہیں اس موقع پرخطاب کے لئے دعوت دی گئی۔ ڈاکٹرعابد معز(کنسلننٹ اردومرکز برائے فروغ علوم‘مانو) نے نفسیات کے حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ بچہ اپنی ابتدائی عمر کے پانچ سال میں کئی زبانیں سیکھ سکتا ہے بشرطیکہ اس کی صحیح تربیت وترہنمائی کی جائے۔ مصنف کئی ڈگریاں رکھتے ہیں اور کئی زبانوں پرعبوررکھتے ہیں جس کے لئے وہ قابل مبارک باد ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کئی زبانیں سیکھنے کا بہت فائدہ ہوتا ہے اگرہم کسی دوسرے علاقہ میں جاکر وہاں کے دکاندار سے اس کی مادری زبان میں یا مقامی زبان میں بات کریں گے تو وہ خوش ہوکر ہم کوکم دام میں چیزیں فروخت کرے گا اورتعلقات بنانے میں بھی زبان مدد کرے گی۔انہوں نے کہاکہ آج یہ بات بالکل اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان ہوکر رہے گئی تو ہم پربھی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی زبان کی حفاظت کریں۔انہوں نے کہاکہ تقریرکرنا آسان ہے لیکن لکھنے کے لئے بہت پڑھنا پڑتا ہے اور فاروق طاہر کی تحریروں کودیکھ کرلگتا ہے کہ انہوں نے اس میدان میں کافی محنت کی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم اردوکوسائنسی علوم سے جوڑنے کے لئے کوششیں کررہے ہیں۔ وائس چانسلر جناب اسلم پرویز اردو کوسائنس وٹکنالوجی سے جوڑنے کے لئے ہرممکن کوشش کررہے ہیں۔ سائنس کانگریس اورسماجی علوم کانگریس کے ذریعہ دنیا بھر کے ماہرین کوایک جگہ جمع کرکے ان کے خیالات ونظریات کومعلو م کرتے ہوئے اردو کو ایک نئی جان بخشنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ استاد ہی قوموں کی تعمیر کرتے ہیں ۔اساتذہ کے ڈرانے سے بچہ منجمدہوجاتا ہے اوراس کی تخلیقی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔ انہوں نے طلبہ‘والدین اورااساتذہ پرزوردیا کہ وہ اس کتاب کامطالعہ کریں۔ انہوں نے کریسنٹ ایجوکیشنل سوسائٹی کوبھی اس اہم کتاب کو پبلیش کرنے پرمبارکباد دی۔
ڈاکٹرفاطمہ پروین( سابق صدرشعبہ اردو ووائس پرنسپل آرٹس کالج عثمانیہ یونیورسٹی) نے سائنس رسالہ کوپابندی سے شائع کرنے اورسائنس سے اردوکوجوڑنے پروائس چانسلراسلم پرویز کومبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اچھا نام رکھنے کاحکم دیاگیا ہے کیونکہ نام سے کی مناسبت سے بچے میں صفت پیدا ہوتی ہے۔فاروق کے معنی ہے فرق کرنے والا حق وباطل کے درمیان ۔ اسی نام کی مناسبت سے فاروق طاہر اچھائی اور برائی کا فرق نہ صرف محسوس کرتے ہیں بلکہ دنیا کوبھی برے کاموں سے روکتے ہیں ۔انہوں نے والدین پرزوردیا کہ وہ گھرکاماحول پرسکون رکھیں اور بچوں کی حوصلہ افزائی اورتعاون کریں۔
اس کے بعد مصنف ’’طلبہ کے تین دشمن‘‘فاروق طاہر نے کہاکہ اونچائی کا سفرہمیشہ تکلیف دے ہوتا ہے۔ انسان کوبڑا مقام حاصل کرنے کے لئے کافی محنت کرنی پڑتی ہے۔ وہ رات تمام لکھتے ہیں اورپڑھتے ہیں اور بعض اوقات صبح تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔
جب کتابوں سے میری بات نہیں ہوتی ہے
تب میری رات میری رات نہیں ہوتی ہے.
انہوں نے اس موقع پراپنی بہن کویاد کرتے ہوئے کہاکہ ان کا ہمیشہ سے تعاون رہا ہے۔ دس سال ہوگیا ہے ان کا انتقال ہوکر اورمیں اپنی کتاب ان کے نام معنون کرتا ہوں۔انہوں نے کہاکہ ہم مسائل میں جکڑے نہ رہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ جنگل میں بندرکوپکڑنے کیلئے اخروٹ کو پنچرہ میں رکھ دیاجاتا ہے اوربندر جب اخروٹ پکڑکرہاتھ نکالنا چاہتا ہے تووہ ہاتھ میں اخروٹ ہونے کی وجہ سے ہاتھ باہر نکال نہیں پاتا اگر وہ اخروٹ پھینک دے تو ہاتھ آسانی سے نکل جاتا ہے اور وہ آزاد ہوسکتا ہے۔ اسی طرح ہم بھی مسائل میں اپنے آپ کوپھنساکررکھتے ہیں اور وہیں رک جاتے ہیں۔ ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہئے اورآگے بڑھنا چاہئے اورمسائل سے ہاتھ چھڑالینا چاہئے۔انہوں نے طلبہ سے خواہش کی کہ وہ اگرمگر کی چکر میں نہ پڑے اور اپنی تمام ترتوانائیاں صرف اور صرف تعلیم حاصل پرصرف کریں ۔قرآن وسنت کی تعلیمات پرعمل پیرا ہوں اوردنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کی بھی فکرکریں۔انہوں نے اس موقع پراسلم پرویز چائس چانسلر کوماہنامہ سائنس کے 25سال ہونے پرمبارک باد پیش کی اور ڈاکٹرعابدمعز کابھی شکریہ جنہوں نے اس محفل کوسجانے میں تعاون کیااورنظام آباد سے تشریف لائے خالد حسین قیصری کابھی شکریہ ادا کیا۔انہوں نے وائس چانسلراسلم پرویز کواردو کاامیرکارواں قراردیا۔انہوں نے گذارش کی کہ کتاب میں اگرکوئی غلطی ہوتواس سے آگاہ کرے تاکہ اگلے ایڈیشن میں تصحیح کرکے اسے دوبارہ شائع کیاجاسکے۔
اس پروقار رسم اجراء تقریب سے مولانا آزاد نیشنل اردویونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اسلم پرویز نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں صرف قرآن کا طالب علم ہوں۔ دہلی سے تعلق رکھتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ بچپن میں وہ والد کے ساتھ ہوٹل میں جاتے تھے وہاں بہت کچھ سیکھنے ملتاتھا۔ دہلی کا ادبی ماحول تھا ۔لوگ ادبی گفتگو کرتے تھے لیکن اب منظرنامہ بدل گیا۔ دہلی اب پہلی جیسی دہلی نہیں رہی ہے۔گھروں میں بڑی بڑی الماریوں میں کتابیں ہوتی تھیں۔انہوں نے کہاکہ جولوگ کہتے ہیں کہ قرآن عربی میں ہے اسے نہیں سمجھ سکتے ہیں وہ بالکل غلط ہے۔ قرآن عربی زبان میں ہونے کے باوجود عرب ممالک کے حالات بہت خراب ہیں۔ انہوں نے کہاکہ قرآن کا رشتہ دل سے ہے زبان سے نہیں۔اس حوالے سے انہوں نے یہ شعر پیش کیا ؂
تیرے ضمیر پہ جب تک نہ ہونزول کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف
وائس چانسلر اسلم پرویز نے کہاکہ ایک خراب استاد سے تیس سال تک کی نسلیں خراب ہوں گی۔انہوں نے اس موقع پرحاضرین کومخاطب ہوتے کہاکہ کتاب کی رسم اجراء تقریب میں کئی اساتذہ شریک ہیں میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ ایک استاد کی وجہ سے کوئی بچہ ترقی کرتا ہے تو اس کے لئے یہ ثواب جاریہ ہے۔ استاد کا پیشہ بہت مقدس ہے۔ جہاں یہ ثواب جاریہ ہے وہیں یہ گناہ جاریہ بھی ہے۔ اگرکوئی طالب علم اپنے استاد کی وجہ سے پڑھائی روک دیتا ہے اور اس کی زندگی خراب ہوجاتی ہے تواستاد کے لئے یہ گناہ کا سبب ہوگا۔ اورزندگی بھروہ جتنی برائیو ں میں ملوث ہوگا اس گناہ کاذمہ دار یہ استاد ہی ہوگا۔انہوں نے کہاکہ گھرمیں آنے والی بہوؤں کی عزت کروکیونکہ وہ بھی کسی کی بیٹی ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم حرام کاموں پرلاکھوں روپئے خرچ کررہے ہیں اورحلال کام سے دور رہے ہیں۔ انہوں نے افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ حیدرآباد شہر میں کروڑروپیوں کی شادیاں دھوم دھام سے ہورہی ہے اوراسراف ہورہا ہے وہیں مولانا آزاد نیشنل اردویونیورسٹی میں جہاں مس کی فیس لڑکیوں کے لئے1300روپئے ہے ۔ایک لڑکی مجبوری کی حالت میں 650روپئے دے کرصرف ایک وقت کاکھاناکھارہی ہے اوردوسری وقت بھوکی رہ رہی ہے‘ یہ ہمارے لئے افسوس کا مقام ہے۔انہوں نے کہاکہ آج جومقام پرہیں وہ اساتذہ کی بدولت ہیں۔انہوں نے سب سے اپیل کی کہ وہ قرآن ترجمہ سے پڑھیں ۔
اس کے بعد کتاب ’’طلبہ کے تین دشمن‘‘ کی رسم اجراء عمل میں آئی اور تمام مہمانوں کوکرسپانڈنٹ کریسنٹ ایجوکشنل سوسائٹی شمس جمیلہ نے مومنٹوپیش کیا۔ وہاب قیصر نے اس موقع پر کہاکہ ہمارے معاشرے میں چند ایک حضرات ایسے بھی ملتے ہیں جو بیک وقت کئی شعبوں سے ڈگریاں حاصل کرے ہوتے ہیں مگرجب ان سے متعلقہ ڈگری سے متعلق سوال کیاجاتا تو وہ اپنا پہلوجھاڑلیتے ہیں اورکہتے ہیں کہ ہم نے توشوقیہ طورپرڈگریاں حاصل کی ہیں۔اسی طرح کہ ایک واقعہ کا ذکرکرتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ مولانا آزاد نیشنل اردویونیورسٹی میں جب وہ کنٹرولر آف ایگزامینیشن کے عہدہ پرفائز تھے انہیں نظم ونسق عامہ(پبلک ایڈمنسٹریشن) کے پرچہ سوالات بنانے کے لئے ماہرین کی ضرورت تھی توانہوں نے ایک موصوف کوجوان ہی کے شعبے میں کام کرتے تھے اور جو بیک وقت کئی ڈگریز کے حامل تھے ۔ان ڈگریوں میں ایک عدد وہ پبلک ایڈمنسٹریشن(نظم ونسق عامہ) کی ڈگری بھی رکھتے تھے ان سے جب سوالات کاپرچہ بنانے کے لئے کہاگیا تووہ روزکل کل کہہ کر ٹالتے رہے اوربالآخر کہاکہ انہوں نے صرف شوقیہ طورپر ڈگری حاصل ہے کہ انہیں پبلک ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے شعبہ کاپرچہ سوالات بنانانہیں آتا۔اس واقعہ سے میں بہت افسر دہ ہوگیاتھا۔ لیکن جب میں فاروق طاہر کودیکھتا ہوں تومجھے بڑی خوشی ہوتی ہے کہ اتنی ڈگریاں رکھنے کے باوجود یہ ہرشعبے سے انصاف کرتے نظرآتے ہیں۔ یہ جہاں اردوزبان پرعبوررکھتے ہیں اسی طرح انگریزی اور دیگر شعبوں میں جس میں انہوں نے ڈگریاں حاصل کی ہیں اس میں مہارت رکھتے ہیں اور پوری دیانتدااری سے اس کا حق ادا کررہے ہیں۔ اس سے ان کی قابلیت کااندازہ لگایاجاسکتاہے۔وہاب قیصر کے صدارتی خطاب کے بعد ناظم اجلاس اسلم فرشوری نے مانوکے پبلک ایڈمنسٹریشن شعبہ کے جس موصوف کا ذکروہاب قیصر نے کیا کہا وہ ان کو شخصی طورپرجانتے ہیں اوراسلم فرشوری نے مزید یہ انکشاف بھی کیاکہ ان کے ویزٹنگ کارڈ پر ڈگریاں ہی ڈگریاں نظرآتے ہیں اورنام کومعلوم کرنے کیلئے ڈگریوں میں اسے ڈھونڈناپڑتاہے۔
اسلم فرشوری نے نہایت نپے تلے اانداز میں نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ انہوں نے موقع ومحل کی مناسبت سے مختلف لطائف پیش کرتے ہوئے محفل کوزعفران زاربنادیا۔اس موقع پرسالار جنگ آڈیٹوریم تنگ دامنی کا شکوہ کررہاتھا۔پروگرام کا انتظام وانصرام نہایت خوش اسلوبی سے ترتیب دیاگیاتھا۔ ادبی محافل کی روایات کی طرح پروگرام کا آغاز بھی دیئے گئے وقت سے کچھ دیرتاخیر سے شرو ع ہوا۔ڈاکٹراسلام الدین مجاہد کے علاوہ کسی اورمقرر نے کتاب پرتاثرات پیش نہیں کئے۔فاروق طاہر ایک مقبول استاد ہیں اورٹیچریونینوں سے جڑے ہوئے ہیں اس موقع پرطلبہ‘اسکالرس‘اساتذہ اورٹیچرس یونین کے ممبرس اوردیگراردو ادب سے وابستہ شخصیات نے رسم اجرا ء تقریب میں شرکت کی چونکہ آڈیٹوریم چھوٹا تھا توکئی لوگوں کوبیٹھنے جگہ نہیں ملی اور قریب تین گھنٹے چلے اس شاندارپروگرام کو کئی لوگوں کوکھڑے ہوکرسنناپڑا۔بہت ہی خوبصورتی طریقہ سے اس محفل کوسجایاگیاتھا۔
اس رسم اجراء تقریب میں ڈاکٹرم .ق سلیم‘سہیل خان(اورنگ آباد)‘اقبال راہی(یادگیر۔کرناٹک)‘ سردارسلیم‘ظفرمحی الدین‘ ڈاکٹرجہانگیر احساس‘ ڈاکٹرنکہت آراشاہین‘ نویداخترزیدی‘ عبدالمجیدنور‘خواجہ معراج الدین‘محمداسحاق‘مولاناشاکرنوری‘نرجس گلنار‘مسعوداحمد‘محمدسلیم‘ عبدالمناف‘ زاہد دانش‘ محمدقاسم‘ حمید الدین‘اشفاق راشد‘ رحمت اللہ‘ محمداقبال‘ احمدخان‘علیم الدین‘ اظہرعلی‘ احمدخان‘ مصطفی علی سروری(مانو)‘محمدعمر(لیکچرر)‘ضمیراحمد‘ محمد رحمن پاشاہ ‘منیر الدین کے علاوہ اساتذہ برادری ‘طلباء وطالبات ومحبان اردو کی بڑی تعداد شریک رہی۔ آخر میں ھدی بک ڈسٹری بیوٹر کے روح رواں جناب عبدالباسط نے اسلم پرویز وائس چانسلر کاشکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس محفل میں شرکت کرتے ہوئے سب کی حوصلہ افزائی کی اورعابدمعزکابھی شکریہ کہ کس طرح وہ ہمیشہ سب کا تعاون کرتے ہیں انہوں نے بعدمیں فرداً فرداً تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اورحاضرین محفل سے ہدیہ تشکر پیش کرتے ہوئے اس محفل کے اختتام کااعلان کیا۔اس موقع پراساتذہ انجمنوں کی جانب سے صاحب کی کتاب کی شال پوشی وگلپوشی کی گئی۔
——
تصویری جھلکیاں

متعلقہ موضوعات