کتاب : اوج شرف – مصنف : مولانا محمد مقصود عمران : مبصر :- عبد اللہ سلمان ریاض

کتاب : اوج شرف – مصنف : مولانا محمد مقصود عمران : مبصر :- عبد اللہ سلمان ریاض


اوج شرف ۔ ایک مطالعہ

مصنف : مولانا محمد مقصود عمران رشادی

مبصر : عبد اللہ سلمان ریاض
Mob: 9341378921

زیر تبصرہ کتاب ’’ اوجِ شرف ‘‘ حضرت حکیم الملت امیر شریعت کرناٹک مفتی اشرف سعودی کے علمی و ادبی کارناموں پر مشتمل دو جلدوں میں ایک ایسی جامع و مانع کتاب ہے جس میں حضرت امیر شریعت کے مستقل کالم، مقالے، مضامین اور وہ اداریے جو آپ نے وقتاً فوقتاً ماہنامہ ’’سلسبیل ‘‘ بنگلورکے لئے تحریرکئے تھے جمع کئے گئے ہیں، ساتھ ہی کتاب میں آپ کی نعتیں ، غزلیں،نظمیں اور دوسری جلدمیں کچھ خطبات شامل ہیں۔

کتاب کو صاحب ترتیب نے تین برجوں میں تقسیم کیا ہے ۔’’برج صریر‘ ‘ کے تحت آپ کے مستقل کالم، مقالے ، مضامین اور اداریے شامل ہیں۔ جب کہ ’’برج سخن‘‘ کے تحت نعوت، غزلیں اور نظمیں شامل ہیں۔اور دوسری جلد میں’’برج کلام ‘‘ کے تحت آپ کے خطبات کو جمع کیا گیا ہے۔
کتاب کے شروع میں ’’سوغات ‘‘ کے عنوان سے ایک پیش لفظ ہے ، جس میں مرتب کتاب نے حضرت مفتی صاحب کی شخصیت کا مختصر مگر جامع تعارف کرایا ہے۔اس کے بعد حضرت کی نثری تخلیقات پر بطور تمہید مولانا مقصود عمران رشادی کا حضرت مفتی صاحب کی نثرنگاری پر ایک جامع اور اہم مضمون ہے۔مولانا محترم حضرت کی نثر نگاری کے تعلق سے لکھتے ہیں: ’’حضرت مولانا مفتی اشرف سعودی صاحب قبلہ کی نثر بھی نظر کو خیرہ کرتی ہے۔ جہاں آپ شاعرانہ جہت میں کامران ہیں وہیں نثر نگاری میں بھی اپنا منفرد مقام رکھتے ہیں‘‘ اسی مضمون میںآگے لکھتے ہیں کہ : ’’ آپ نے مختلف موضوعات پر مضامین قلمبند کئے ہیں جن کی علمی حیثیت تو بلند ہے ہی، زبان و بیان کے حسن کی بنا ء پر بھی نثر نگاری کے بہترین نمونہ کہے جاسکے ہیں‘‘۔
بہر کیف حضرت مفتی صاحب کو نثر و نظم دونوں پر یکساں عبور تھا۔آپ کی زبان و بیان پر قدرت کے قائل بڑے بڑے علماء ادب رہے ہیں۔ دینی ، فقہی ، علمی صلاحیت و بصیرت کے ساتھ ساتھ آپ کا اُردو زبان و ادب سے بھی گہرا تعلق رہا ہے ۔
مستقل کالم کے تحت ’’جامِ حیات‘‘ کے عنوان سے تین قسطیں درس قرآن کی ہیں۔ اور’’جامِ کوثر‘‘ کے عنوان سے تین قسطیں درس حدیث کی ہیں۔مقالے میں آپ نے اعداد قرآنی کے تحت آٹھ قسطیں تحریر کی ہیں۔یہ مضمون دیکھ کر آپ کے قرآنی علوم سے دلچسپی اور منفرد بصیرت و آگاہی اور اجتہاد و تحقیق کا پتا چلتا ہے۔اس مضمون کے متعلق مفتی صاحب خودلکھتے ہیں:’’ قرآن مجید میں ایک سے لے کر پچاس ہزار تک مختلف اعداد مختلف مواقع پر آئے ہیں، نیز ثمن، سدس، خمس، ربع ، ثلث، ثلثان اور نصف کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ فرادی، مثنی، ثلاث اور رباع بھی مذکور ہیں۔ راقم الحروف کو خیال ہوا کہ ان اعدادِ قر آنی کو ترتیب سے جمع کیا جائے اور متعلقہ آیات کو سامنے رکھتے ہوئے مختصر توضیحی نوٹ لکھے جائیں، امید ہے کہ قرآن کے طالب علموں کے لئے یہ سلسلہ دلچسپ ثابت ہوگا۔‘‘
اسی طرح ایک اورمضمون ’’ قرآن مجید اور امام بخاریؒ ‘ ‘ دیکھنے سے مفتی صاحب کی ذہانت و فراست اور ان کا ندرت خیال اور خلاقیت کا واضح نمونہ ہے۔مضامین کے تحت چھ مضامین لکھے گئے ہیں جس میں سارے مضامین اچھوتے اور نئے ہیں اس میں ایک مضمون ’’ علم ریاضی اور شمس و قمر کی رفتار‘‘ بہت اہم ہے۔اداریے کے تحت ایک سے تیرہ (۱۳) اداریے ہیں جو بہت ہی جامع اور وقت اور حالات کے موافق لکھے گئے ہیں۔
’’برج سخن‘‘ صنف شاعری پر مشتمل ہے ابتداء میں ’’حضرت مفتی صاحب کی شاعرانہ جہات ‘‘ کے عنوان سے مولانا محمد مقصود عمران رشادی کا ایک جامع مضمون ہے جس میں انھوں نے آپ کی شاعری کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔اس میں کل چار نعتیں، ۲۴غزلیں،۱۹نظمیں شامل ہیں۔
حضرت مفتی صاحب کی شاعری دیگر شعرا کے مقابلے میں منفرد، یکتا و یگانہ ہے ۔ آپ بھیڑ سے الگ اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔ آپ کی شخصیت کے ایک وصف میں انفرادیت ہر جگہ دکھائی دیتی ہے ، وہ چاہے شاعری ہو یا نثر نگاری یا پھر خطابت و کتابت۔مفتی صاحب کی نعتوں میں صرف عشق نبوی ہی نہیں بلکہ علم و عمل کی کارفرمائی بھی اپنا جلوہ بکھیرتی نظر آتی ہے۔کہتے ہیں:
آتش عشق نبی میں جل کے سکھ پانے کا نام
زندگی ہے آپ پر قربان ہوجانے کا نام
تیرگی ہے بولہب کے کفر پھیلانے کا نام
روشنی ! سرکار کے تشریف لے آنے کا نام
مفتی صاحب نے نعت و نظم نگاری کے ساتھ ساتھ اُردو شاعری کی آبرو یعنی صنف غزل کو بھی موضوعِ سخن بنایا ہے۔مفتی صاحب کی نظموں میں تازہ کاری و پرکاری کے جوہر ہر طرف سے دکھائی دیتے ہیں اور الفاظ و معانی کے موتی ان کی نظموں میں اس طرح پروئے گئے ہیں گویا وہ انہیں کی نظموں کے لئے خاص ہوں۔مفتی صاحب نے پابند نظموں کے علاوہ آزاد نظمیں بھی کہی ہیں۔ مفتی صاحب قادر الکلام ، خوش فکر و خوش خیال شاعرتھے۔ انھیں علم عروض پرمکمل گرفت اور فن شاعری پر مکمل عبور تھا۔وہ اپنے افکار کو الفاظ کا بہترین جامہ پہناناجانتے تھے۔اسی وجہ سے ان کے کلام میں ان کی فن کاری جلوہ گر ہے۔
ان کی نظموں میں باقیات : ایک جہاں، ، ہفت اقلیم کے مسافر،جشن صد سالہ: دارالعلوم دیوبند،ہدیہ سپاس، اظہار مسرت، پائل اور کچھ ترانے بڑے اہم ہیں۔نظم ’’بڑا آدمی‘‘ بہت ہی عمدہ شاہکارہے۔اس نظم میں بڑا آدمی اپنے علاوہ ہر چیز کو غلط ہی کہتا ہے ۔اس کے نزدیک دنیا کی ہر چیز غلط ہے صرف اس کی ذات، اس کا فن، اس کاا ندازِ فکر ٹھیک ہے باقی ساری دنیا غلط ہے۔
کتاب کی پہلی جلد کا آخری عنوان ’’سپاس و تبریک‘‘ ہے جس میں حضرت امیر شریعت پر تین منظوم سپاس و تبریک شامل ہیں اور تینوں شہر کے مشہور و معروف شاعروں کی جانب سے ہیں۔’’ نذر حکیم الامت ‘‘ جسے راز امتیازنے لکھاہے۔ دوسرا ’’پیکر دین و دانش‘‘ ممتاز شاعر و محقق ڈاکٹر راہی فدائی صاحب نے تحریر کیا ہے جب کہ آخری منظوم مرقع ’’پیکر علم و عمل‘‘ کے عنوان سے حضرت منیر احمد جامی مدیر ادبی ایڈیشن روز نامہ سیاست نے نظم کیاہے۔ یہ تینوں منظوم سپاس نامے حضرت امیر شریعت کی زندگی کا عکس پیش کرتے ہیں۔
دوسری جلددو حصوں پر مشتمل ہے۔پہلا حصہ ’’برج کلام‘‘ کے عنوان سے ہے جس میں حضرت امیر شریعت کے خطبات کو جمع کیا گیا ہے۔اس میں کل ۲۳/خطبات شامل ہیں۔ خطبات سے پہلے ’’حسن خطابت ‘‘ کے عنوان سے مولانا محمد مقصود عمران رشادی کا آپ کے خطبات پر ایک جامع مضمون ہے۔حضرت کے خطبات سے متعلق مرتب کتاب رقم طراز ہیں: ’’ حضرت امیر شریعت ، فن خطابت کی ہمہ گیر خوبیوں کے مالک ہیں۔ عربی زبان پر آپ کو کامل دست رس حاصل ہے، تو فارسی زبان شعرو ادب سے گہرا شغف گویا آپ کا فطری جوہر ہے۔ مزید برآں، ان تمام لسانی مہارتوں کے ساتھ ساتھ جو قابل قدر وصف آپ کو ودیعت ہوا، وہ ہے اُردو زبان کا نکھرا ستھرا ذوق۔ ایک اور انتہائی قابل قدر بات یہ ہے کہ آپ نہ صرف تحریر بلکہ تقریر میں بھی فصاحت و بلاغت کے اسی بلند معیار پر متمکن نظر آتے ہیں، جو غالباً آپ کا اہم امتیاز ہے۔‘‘ (نمونے کے لئے کتاب کا مطالعہ کریں)
آخر میں’’انہی کے فیض سے…‘‘ کے عنوان سے آپ کا تعلیمی شجرہ ڈاکٹر راہی فدائی نے ترتیب دیا ہے اور اس کے بعد ابنائے قدیم سبیل الرشاد کے طلباء کی جانب سے ’’سپاس و تبریک ‘‘ ہے ۔ اورکتاب کے اختتام پر تشکرو امتنان کے تحت ’’سخن ہائے گفتنی ‘‘ کے عنوان سے مولانا محمد مقصود عمران رشادی نے ان احباب و دوستوں کا شکریہ اداکیا ہے جنھوں نے کسی بھی طرح سے اس کتاب میں ان کا تعاون کیا ہے۔
اس کتاب کے مرتب نوجوان فاضل دارالعلوم سبیل الرشاد مولانا محمد مقصود عمران رشادی صاحب ہیں ۔آپ بہترین خوش الحان حافظ و قاری ہیں اور مسلسل تقریباً سولہ سالوں سے امریکہ قرآن کریم سنانے اوردرس قرآن کریم دینے کے لئے جارہے ہیں۔آپ کے عمدہ قرآن کریم پڑھنے کی وجہ سے آ پ کا تقرر بہ حیثیت امام جامع مسجد سٹی مارکیٹ میں دارالعلوم سبیل الرشاد سے فراغت سے ایک سال پہلے ہی ہوگیا تھا۔آپ دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم میں بھی مہارت رکھتے ہیں اور ابھی حال ہی میں آپ نے ’’حضرت امیر شریعت مفتی اشرف سعودی کی ادبی شخصیت اورحیات و خدمات ‘‘ پراپنا مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی اعلیٰ ڈگری حاصل کرچکے ہیں۔ آپ کرناٹک کے مختلف اداروں کے رکن اور سرپرست ہیں ۔ آپ جامع العلوم کے مہتمم اور اس کے تحت چلنے والے تمام شعبوں کے نگرانِ اعلیٰ و سربراہ بھی ہیں۔اسی طرح آپ ایم ایم آئی تعلیمی ادارہ کے رکن بھی ہیں۔آج کل آپ جامع العلوم یونیورسٹی کی تعمیر و تنظیم میں لگے ہوئے ہیں ۔ آپ چاہتے ہیں کہ مسلم قوم کے پاس ایسے ادارے اور یونیورسٹیز ہوں جن سے آنے والے وقت میں ہمارے بچوں کا مستقبل تابناک ہو ۔ ان تمام ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ چوں کہ آپ ایک بہترین مقرر شیریں بیان اور سلجھے ہوئے خطیب بھی ہیں اس لئے سی ایم اے کے تحت عید گاہ چامراج پیٹ کے آپ امام و خطیب عیدین بھی ہیں ۔آپ ایک جہاں دیدہ شخصیت کے مالک بھی ہیں آپ نے کئی ملکو ں کے اسفار کئے اور وہاں کی تہذیب و کلچر کوبہت قریب سے دیکھاہے ۔ آپ نے امریکہ کا پہلا سفر ہندوستانی حکومت کی طرف سے خیر سگالی وفد کے ساتھ کیا تھا۔
آپ نے اس کتاب کو بہت ہی خیر و خوبی سے مرتب کیا ہے ۔ اس میں آپ کے حسن ترتیب و تزئین اور اعلیٰ ادبی ذوق و شوق کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ آپ نے حضرت مفتی صاحبؒ کی نفاست طبع اور ان کے اعلیٰ ذوق کا بھر پور خیال رکھاہے اور یہ کیوں نہ ہو جب کہ آپ نے خود بھی حضرت امیر شریعت والا نفیس و اعلیٰ ذوق پایا ہے ۔اس کتاب کے مطالعہ سے حضرت مفتی صاحب کی شخصیت و فن اور ان کی علمی وادبی گہرائی وگیرائی کاجہاں عکس صاف نظر آتا ہے وہیں اس بات کا بھی شعور ہوتا ہے کہ آپ کا اپنے استاذ محترم سے کتنا گہرا تعلق رہا ہے اور ان کی ایک ایک بات کو آپ نے کتنی دلچسپی سے قلم بند کیا ہے۔ آپ خود بھی اچھے قلم کار ہیں۔آپ کی علمی و ادبی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے مولانا ریاض الرحمن رشادی صاحبؒ نے جامع العلوم کے تحت نکلنے والے سہ ماہی مجلہ ’’جامع العلوم بنگلور‘‘ کا آپ کو مدیربنادیاتب سے آج تک آپ اس رسالہ کو بڑی پابندی سے خیر و خوبی کے ساتھ نکال رہے ہیں اور اپنے ادبی و علمی ذوق و شوق کو پروان چڑھارہے ہیں۔
مجھے امید ہے کہ اس کتاب کی اشاعت کے بعد آپ ماہرِ حضرت امیر شریعت مفتی اشرف سعودی کی حیثیت سے یاد کئے جائیں گے اور حضرت امیر شریعت پر کسی بھی طرح کا کوئی بھی کام اس کتاب کو نظر انداز کر کے نہیں کیا جاسکے گا۔کیو ں کہ آپ نے جہاں اس کتاب کو مرتب کیا ہے وہیں آپ نے حضرت کی شخصیت پر ڈاکٹریت بھی حاصل کرچکے ہیں اس لئے اب ہم بلا تکلف آپ کو حضرت مولانا ڈاکٹر مقصود عمران رشادی بھی لکھ سکتے ہیں۔آپ قابل مبارک باد ہیں جوآپ نے اپنے استاذ محترم کے بکھرے آبگینوں کو موتیوں کی لڑی میں پروکر ہم قارئین تک پہنچادیا ہے۔اس کتاب کو آئی ایم اے پبلشرز (پرائیویٹ) لمٹیڈ، نئی دہلی نے بہترین سرورق مضبوط بائنڈنگ اور خوبصورت دیدہ زیب پیپر پر شائع کیا ہے۔اور آئی۔ ایم۔ اے کونسل کی جانب سے یہ کتاب تمام شائقین کے لئے بطور ہدیہ مفت ہے۔امید کی جانی چاہئے کہ یہ کتاب قارئین اور حضرت مفتی صاحب کے مریدین و متوسلین اور چاہنے والوں کے لئے ایک در نایاب ثابت ہوگی اور شوق کے ہاتھوں لی جائے گی۔
——
Mob: 9341378921, E-mail:
26, Haines Road, 1st Floor, Egyptian Block, Bangalore -560051
—–

مولانا محمد مقصود عمران
عبد اللہ سلمان