شعری مجموعہ : پتھروں کا شہر – مظہر رحمٰن :- ڈاکٹر صفیہ بانو ۔اے شیخ

ڈاکٹر صفیہ بانو

پتھروں کا شہر (شعری مجموعہ )
(شاعر : مظہر رحمٰن )

تبصرہ: ڈاکٹر صفیہ بانو ۔اے شیخ
( احمدآباد ۔ گجرات )

ہندوستان ایک وسیع ملک ہے اس کا ہر شہر اپنی خاص خوبیوں کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے ان میں شہر احمدآباد بھی ہے جو آج World Heritage City Ahmadabad کے نام جانا جاتا ہے یہ ایک تاریخی شہر ہے یہاں گجراتی زبان کے علاوہ دیگر زبانیں بولنے ،لکھنے اور پڑھنے والے لوگ موجود ہیں اردو زبان کے حوالے سے اس شہر میں شاعری کا چرچہ ہمیشہ رواں دواں رہا ہے اور اس کی چمک کو شاعروں نے آج بھی برقرار رکھنے کی کوشش جاری رکھی ہیں ۔

پٹھان محمد رحمٰن ہے جو 9 اکتوبر 1959ء پیدا ہوئے ۔پٹھان محمد رحمن نام اور وہ اپنے قلمی نام مظہر ؔ رحمن سے جانے جاتے ہے حالانکہ وہ پہلے بے چینؔ نامی تخلص سے لکھا کرتے تھے ۔فی الحال کسی کے مشورئے اظہار پر وہ اپنے نئے تخلص مظہرؔ رحمن سے لکھنا جاری و ساری رکھا ہے ان کے اب تک دو شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں (۱)آنکھوں کی بستی (۲) پکارتا ہے دھواں ۔یہ ان کا تیسرا شعری مجموعہ ’’ پتھروں کا شہر ‘‘ کے نام سے حال ہی میں شائع ہوا۔پتھروں کا شہر کتاب کا فرنٹ کور بڑا ہی خوبصورت ہے جس میں عمارتوں کی دھندلی سی تصویر میں ایک حسین عورت کی آنکھ سے نکلتے آنسو کی تصویر دکھائی پڑتی ہے ۔دراصل شاعر نے اپنی شاعری میں حسن اور بغاوت دونوں کو سمو لیا ہے ۔صفحہ ۱) پر شعری مجموعے کا نام اور شاعر کا نام درج ہے وہیں صفحہ ۲) پر کافی ساری تفصیل دی گئی ہے جیسا کہ کتاب کا نام ، شاعر کا نام ، قلمی نام ، ولادت ، والدین کے نام ، تعلیم ، دیگر تصانیف ، سن اشاعت : مارچ ۲۰۱۸ء وغیرہ وغیرہ صفحہ ۳) پر انتساب لکھا ہے جس کو انھوں نے ان شعراء اور ادیبوں کے نام کیا ہے جوبے لوث ادب کی خدمت کرتے رہے ۔ نیچے ایک شعر یوں لکھا ہے :
؂ بہت ساتے رہے سب میں بن گیا پتھر
پتہ چلا ہی نہیں کب میں بن گیا پتھر
صفحہ ۴) پر پیش لفظ لکھا ہے جس کو بذات خود مظہر رحمٰن نے تحریر کیا ہے وہ اپنے جذبات کو عام زبان میں زیادہ کہنا پسند کرتے ہے اسی جذبات کو انہوں نے بہت سیدھا سادہ اور آسان زبان میں لکھا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مانوعام بول چال کی زبان میں کسی سے گفتگو فرمارہے ہوں :
’’ہر شاعر کا زندگی اور معاشرہ کو دیکھنے سمجھنے اور پرکھنے کا اپنا انداز ہوتا ہے ۔ کوئی رنگینئ تخیل
روایتی تہذیب و ادب کا رنگ اپناتا ہے تو کوئی تجربہ ، مشاہدہ ، حقیقت پسندی کو بنیاد بناتا
بناتا ہے ۔ میری شاعر ی کا تانا بانا سماجی ، سیاسی ، اقتصادی اور تہذیبی مسائل کے اردگرد
گھوم کر قلم بند کرنے کی کوشش ہے ۔ میری شاعری کمشیل فلموں کی طرح سطحی دل لگی کا
مسالہ نہیں بلکہ آرٹ فلموں کی طرح سماج کی عکاسی کرتی ہے ۔‘‘ (ص ۔ ۵ تا ۶ )
پیش لفظ صفحہ ۴ سے شروع ہو کر صفحہ ۸) پر ختم ہوجاتا ہے اس کے بعد شاعری شروع ہوجاتی ہے ۔ شاعر ی شاعر کا وہ کلام ہوتا ہے جو اس کے سلگتے جذبات کو تخیل کے کُوزے نکال کر لفظوں کا جامہ پہنا کر اپنی بات دنیا کے سامنے رکھنے کو راضی کراتا رہتا ہے جیسا کہ مظہرؔ رحمن نے لکھا ہے :
؂ تو لامکاں ہے تو مجھ کو بھی لامکاں نہ بنا
زمیں پہ رہنے دے مجھ کوتو آسماں نہ بنا
؂ بدلتے رہتا ہے موسم کا اب مزاج یہاں
تو گھاس پھوس کے چھپر کا آشیاں نہ بنا (۲۶)
کبھی کبھی انسان کے جذبات کو بہت شدید ٹھیس پہنچتی ہے اورکبھی توایسے سخت مصیبت زدہ یا مشکل حالات سے گزرتا ہے تب وہ ڈر و خوف کے سائے سے نکل پتھر کا مجسمہ بن کر رہ جاتا ہے ۔کتاب کا نام پتھروں کا شہر ‘ نام شاعر نے کچھ خاص رکھا ہے کیونکہ ان کی شاعری میں ہر دوسرا شعر پتھر سے ٹکراتا ہے یعنی مظہرؔ رحمن نے اپنی زندگی میں اتنی تکلیفوں کا سامنا کیا کہ اب ان کے جذبات پتھر وں کو ساتھ لے کر نکلتے ہیں ملاحظہ ان کے یہ اشعار :
؂ بہت مذاق اڑاتی ہے میری حالت پر
اب ہاتھ جوڑتا ہے جب میں بن گیا پتھر (ص ۔ ۲۴)
؂ برسائے گئے ہم پہ بھی سوالات کے پتھر
ہم نے بھی دئیے جم کے جوابات کے پتھر (ص ۔ ۲۹)
؂ ایسا دیکھا ہے پتھروں کا شہر
جہاں ہر سمت ہیں چلتے پتھر (ص ۔ ۱۲۱ )
شاعر کسی ایک تخیل تک محدود نہیں رہتا ۔جیسا کہ مظہرؔ رحمٰن نے صرف اپنے تکلیفی جذبات کو بیان کیا ہے ایسا نہیں ہے بلکہ وہ حسن کی رومانی اور رنگینی کی فضا میں سانس لینے کی کوشش کرتے ہے:
؂ نام پتہ کچھ بھی تو نہیں میں جانتا ہوں
بس ان روشن آنکھوں کو پہچانتا ہوں ( ص ۔ ۱۰۴ )
؂ وہ ایک چہرہ حسیں کتنا ہے میں دِکھلا نہیں سکتا
کشش کتنی ہے دل میں اس کی میں سمجھا نہیں سکتا ( ص ۔ ۱۰۶)
آج کا عام انسان ہو یا شاعر وہ دہری زندگی جینے پر مجبور ہوچکا ہے ایک طرف زندگی سے جڑے مسئلے مسائل ،دھوکا ، فریب ، مکاری ، رشوت خوری ، دغابازی،جھوٹ جو شاید زندگی کے ختم ہونے کے ساتھ ہی دفن ہوجائے گے تو دوسری جانب جن حالات میں جی رہے ویسے ہی جذبات کو عیاں کرنا بعض اوقات ناگوار لگتا ہے لیکن مظہرؔ رحمن نے اپنے جذباتوں کر ترجیح دیتے ہوئے وہ سارے مسائل کو ایسے بیان کیا جیسے عام شخص اپنی روگردانی بیان کرتا ہے :
؂ وہ شاعری میں غضب کا کمال کرتا ہے
حرام کھا کے بھی ذکرِ حلال کرتا ہے ( ص ۔ ۱۵)
؂ ایک مرد کو مردانگی رونے نہیں دیتی
اور اولجھنیں بھی چین سے سونے نہیں دیتی (ص ۔ ۴۸ )
؂ یوں سینکڑوں انساں سرِ بازار ملیں گے
سب اپنی ہی الجھن میں گرفتار ملیں گے ( ص ۔ ۳۵ )
؂ بھوت جنات نہ حیوان سے ڈر لگتا ہے
اب تو انسان کو انسان سے ڈر لگتا ہے
پہلے کہتے تھے شیطان سے ڈر لگتا ہے
اب مسلماں کو مسلمان سے ڈر لگتا ہے ( ص ۔ ۵۳ )
؂ حیا شرم آنکھوں سے خالی ہوئی
نئی نسل گویا موالی ہوئی ( ص ۔ ۷۶ )
؂ لاکھ چھُپاؤں چہرہ سب کچھ بولتا ہے
گھر میں جاؤں تو گھر جیب ٹٹولتا ہے ( ص ۔ ۸۷ )
؂ ایک تو اپنے گھر کا مسئلہ
پھر دیوار و در کا مسئلہ ( ص ۔ ۱۳۹ )
مظہر ؔ رحمٰن کی شاعری عصری مسائل کاآئینہ ہے اسلئے وہ اپنی بات تجربات کی بِنا پر بے باکانہ انداز میں کہتے دیتے ہے حالانکہ عمدہ شاعری کہنے کا شعور کم رکھتے ہے لیکن ان کا باغیانہ انداز ان کی پہچان بنی ۔ عام لوگوں کو ان کی شاعری میں اپنا کرب دکھائی اور سنائی دیتا ہے۔
بقول اختر حسین اختر ؔ :
’’ مظہر ؔ رحمٰن کا یہ تیسرا شعری مجموعہ ہے اس کے باوجود اُن کے یہاں شعری بالیدگی اور پختگی کا فقدان صاف جھلکتاہے۔ ان کی شاعری میں ان کے دلی جذبات احساسات اور تجربات کے نقوش اپنی گہری چھاپ رکھتے ہیں قارئین شعریت سے لطف اندوز ہوں یا نہ ہوں مگر ان کے باغیانہ تیور والے خیالات سے ضرورلطف اندوز ہوں گے ۔ ‘‘
مظہر ؔ رحمٰن کی شاعری عام قارئین کے جذباتوں سے میل کھاتی ہے ۔ ان کی شاعری انوکھے رنگ کے جذباتوں کی کڑی ہے ۔ان کا یہی باغیانہ اور بے باکانہ انداز ان کی منفرد شخصیت کوبناتا ہے امید کرتی ہوں کہ ان کی یہ کتاب قارئین کو پسند آئے ۔