کتاب : تعبیر و تفہیم – مصنف : عبدالعزیز ملک :- مبصر:ڈاکٹر سکندر حیات میکن


کتاب : تعبیر و تفہیم

مصنف : عبدالعزیز ملک

مبصر:ڈاکٹر سکندر حیات میکن

چند برس پہلے کی بات ہے کہ سر گودھا یونیور سٹی سے ایم اے اُردو کر کے فارغ التحصیل ہونے والے ایک مؤدب طالبِ علم عبدالعزیز ملک نے اتنا جلدی اپنا مقام پیدا کر لیا ہے کہ اس کی محنت کوداد نہ دینا نا انصافی ہوگی ۔عبدالعزیزملک چند برسوں سے جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ اردو سے منسلک ہیں ۔ ملک کے علمی و ادبی رسائل میں ان کی تحریریں بڑے تواتر کے ساتھ شائع ہوتی رہتی ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل ان کی تصنیف ’’اردوافسانے میں جادوئی حقیقت نگاری‘‘ نظر نوازہوئی،پڑھ کر خوشی ہوئی ۔ عبدالعزیز ملک اچھے محقق اور شفیق استاد ہیں ۔ ’’تعبیر وتفہیم‘‘ کے عنوان سے ان کے مضامین کا ایک مجموعہ حال ہی میں مثال پبلشرز فیصل آباد سے شائع ہوا ہے۔اس مجموعۂ مضامین کے تمام مضامین پہلے مختلف علمی و ادبی رسائل میں چھپ کر داد وصول کر چکے ہیں ۔

تعبیر و تفہیم ‘‘ مختلف نوعیت کے اکیس مضامین پر مشتمل ہے ۔ پہلا بیپسی سدھوا کے مشہور ناول ’’جنگل والا صاحب‘‘ کے فکری تجزیے پر مشتمل ہے۔ عبدالعزیزملک اس مضمون میں ناول کے تمام پہلوؤ ں کو زیرِ بحث لائے ہیں ۔ گارشیا مارکیز کی تخلیقات، موضوعات اور اسلوب کا مطالعہ بھی ایک الگ مضمون کے طور پر پیش کیا ہے۔ فرانسیسی مارکسسٹ تھیوری میں قابلِ قدر اضافہ کرنے والے ’’لوسی ایں گولڈ مان‘‘ کے مختلف نظریات کو بھی متعارف کروایا ہے۔
’’کشور ناہید کی تحریروں میں تانیثی رحجان‘‘ اس مجموعۂ مضامین کا ایک اہم مقالہ ہے۔ عبدالعزیز مل نے کشور ناہید کی تحریروں میں نسائی جذبات اور احساسات کی دلکشی کو منفرد انداز میں واضح کیا ہے۔ کشور ناہید کے خاتون سدھار اور سماج سدھار آدرش کو اس مضمون میں مختلف شعری مثالوں سے پیش کیا گیا ہے ۔ بوطیقا کے تناظر میں ارسطو کے تصورِ تنقید کی توضیح بھی ایک مضمون میں شامل ہے۔ نامور افسانہ نگار نیر مسعود کو بطور’’ افسانہ نگار ‘‘کے ایک مضمون کا حصہ بنایا ہے۔ عبدالعزیز ملک نے نیر مسعود کے افسانوں میں ثقافتی وجوداور تہذیبی زوال کے منظم نقوش کو ان کی افسانہ نگاری کا کمال قرار دیا ہے۔ نیر مسعود کی نمایاں خوبی کے ضمن میں لکھتے ہیں:
’’نیر مسعود کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ تعینات سے گریز کرتے ہیں ۔ طے شدہ یا بتائی ہوئی حقیقتوں کو پس پشت ڈال کر سچ کی دریافت کا عمل بھی ان کی افسانوی دنیا کا وطیرہ قرار پاتا ہے ۔ علاوہ ازیں نیر مسعود جس طرح کا موضوع ہو اس طرح کا اسلوب اختیار کرتے ہیں ۔ اس سبب ان کے ہاں اسلوب کی نقالی کا احساس تک نہیں ہوتا‘‘
تاریخ و ثقافت اور مذہب کے موضوعات کو خصوصی طور پر پیش کرنے والے افسانہ نگار اسد محمد خان کے افسانوں کا بھی ایک مضمون اس مجموعۂ مضامین میں شامل ہے۔ مضمون نگار نے اسد محمد خان کے افسانوں پر ان کے اندر استعمال ہونے والی مختلف تکنیکوں کابھی تذکرہ کیا ہے۔ اسی طرح عبداللہ حسین کے ناول ’’قید ‘‘کو استعاراتی ناول کے طور پر پیش کیا ہے۔عبدالعزیز ملک نے اس ناول میں معاشرتی اور سماجی پہلوؤں کے استعاراتی انداز کو نمایاں کیا ہے۔ اپنے عہد کے سیاسی و سماجی شعور سے واقفیت رکھنے والے افسانہ نگار انتظار حسین کی ہمہ جہت شخصیت کے ادبی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ ان کایہ مضمون خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔
آزادی سے قبل اُردو ناول کے تناظر میں تانیثیت پسندی کے عنوان سے ایک منفرد تحقیقی مقالہ ہے جس میں تانیثیت کا تاریخی و تہذیبی پس منظر پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اردو ناول میں تانیثی عناصر کی بھی نشان دہی کی گئی ہے۔رومانویت کے علمبردار منیر نیازی کو ’’عصری حسیت کے شاعر‘‘کے طور پر ایک مضمون میں پیش کیا گیا ہے۔احمد ندیم قاسمی کے افسانے ’’کپاس کا پھول‘‘ اور منشا یاد کے ’’تماشا‘‘ پر فرداً فرداً لکھے گئے تجزیے فکری رنگ میں ڈوبے ہوئے ہیں۔احمد ندیم تونسوی کی جدید افسانہ نگاری پر بھی ایک تعارفی مضمون شاملِ کتاب ہے۔
قدیم ہندوستان کی ادبی روایت:عہد بہ عہد جائزہ‘‘اس کتاب کا اہم مقالہ ہے جس میں قدیم ہندوستان میں ادبی فروغ و ارتقاء ایک زمانی ترتیب سے جائزہ لیا گیا ہے۔یہ مضمون قاری کو نئے موضوعات سے شنا سا کرواتا ہے۔قدیم ہندوستانی ادب کی اہمیت کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’قدیم ہندوستان کی جس ادبی روایت کا آغاز’’رگ وید‘‘ سے ہوا تھا وہ عہد بہ عہد سفر کرتے ہوئے جدیددور میں داخل ہوتی ہے اوراب اس پر فارسی زبان و ادب کے اثرات مرتب ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔اب فارسی زبان کے متعدد قصے مسلمانوں کی آمد سے یہاں کی ادبی روایت کا حصہ بنتے ہیں۔اس میں علاؤ الدین خلجی،شہنشاہ اکبر،شاہ جہان،جہانگیر اور اورنگ زی کا عہد خاص اہمیت کا حامل ہے‘‘
انور سدید کے ایک افسانے ’’نیلی رگیں‘‘کا خوب تجزیاتی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔کثیر الجہت ادبی شخصیت ڈاکٹر انور سدید کی ادبی خدمات پر بھی مفصل انداز میں روشنی ڈاالی گئی ہے۔عبدالعزیز ملک نے ڈاکٹر انور سدید کے علمی و ادبی اورتخلیقی کاموں کی اہمیت بھی واضح کی ہے۔ساحر لدھیانوی کی ایک نظم’’پرچھائیاں‘‘ کا نوآبادیاتی مطالعہ بھی ایک مضمون میں پیش کیا گیا ہے۔ سامراجی رویوں اور نوآبادیاتی نظام کی کج رویوں اور بے اعتدالیوں کے خلاف اپنی شاعری میں نعرہ مستانہ بلند کرنے والے ساحر کے ہاں نو آبادیات کے خلاف واضح ردِ عمل موجود ہے۔ساحر کے آدرش کے بارے میں یوں رقمطراز ہیں:
’’ساحر کا آدرش ہے کہ عوام کو ہر قسم کے جبر اور ظلم سے نجات دلاکر انھیں اس کی عظمت اور خوشحالی لوٹائی جائے۔ اگر یہ کہا جائے کہ’’ پر چھائیاں‘‘ساحر کی ایک ایسی نظم ہے جو روحانی و ذہنی تسکین کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ قاری کی زندگی کی حقیقتوں سے روشناس کرواتی دکھائی دیتی ہے تو غلط نہ ہوگا‘‘
عبدالعزیز ملک نے ڈاکٹر سلیم آغا قزلباش کے افسانوی مجموعے’’صبح ہونے تک‘‘ کے افسانوں کا موضوعاتی مطالعہ پیش کیا ہے۔سلیم آغا قزلباش کی افسانوی کائنات کو ایک خاص پہلو سے واضح کیا ہے،جس میں انھوں نے سلیم آغا کے افسانوں میں جدید علوم ،نئے فنون اور مغربی ادبیات وغیرہ جیسے موضوعات کا انکشاف کیا ہے۔مضمون نگار ہر مقالے کا ایک خاص نچوڑ بھی پیش کرتا ہے مثلاً سلیم آغا قزلباش کے افسانوں میں موضوعاتی مطالعے سے جو منطقی نتیجہ نکالا ہے وہ کچھ یوں ہے:
’’ڈاکٹر سلیم آغا قزلباش کے اس افسانوی مجموعے کے موضوعاتی مطالعے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ انھیں اپنے پیش رو افسانہ نگاروں کی نسبت جدید علوم،نئے فنون اور مغربی ادبیات سے بہتر واقفیت ہے۔زندگی کا براہِ راست مشاہدہ اور اس کے نتیجے میں نظر کے زاویوں میں وسعت ان کے افسانوں میں جھلکتی ہے۔‘‘
مایوسی کے سامنے عزم اور حوصلے کی دیوار بن کر کھڑے ہونے والے سوبھو گیان چندانی کے اجلے آدرشوں اور سنہری خوابوں کو متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ ان کے مختلف کارناموں اور شخصی پہلوؤں کو روشناس کیا ہے۔یہ مضمون سوبھو گیان چندانی کی شخصی زندگی کا عکاس ہے۔اس مضمون سے قارئین ایک اہم علمی و ادبی انسان سے متعارف ہوتے ہیں۔
’’ تعبیر و تفہیم ‘‘سے واضح ہوتا ہے کہ عبدالعزیز ملک کا مطالعہ سطحی نہیں بلکہ گہرا ہے۔وہ فن پارے کے باطنی گوہر کو ہر صورت میں تلاش کرکے رہتے ہیں۔فن پارے کی فکری و معنوی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔مختلف موضوعات پر انھوں نے ایک جلد میں نادر مضامین کو جس عمدگی سے پیش کیا ہے اس کے لیے وہ قابلِ ستائش ہیں ۔ ان کے تحقیقی و تنقیدی مضامین ادبی شخصیات ،ادبی اصناف اور ادب کے مختلف رحجانات کے عکاس ہیں۔ مضمون نگار کی افسانوی
ادب پر گرفت خاصی مضبوط نظر آتی ہے۔’’تعبیر و تفہیم‘‘ ایک منفرد مجموعۂ مضامین ہے جو عبدالعزیز ملک کے وسیع مطالعے کا مظہر ہے۔

↓