بلبل BulBul ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹرعزیزاحمدعرسی

Bulbul
آواز کا ایک حسین بہتا دریا
بلبل BulBul
اقبال کی شاعری کا ایک علامتی پرندہ

ڈاکٹرعزیزاحمدعرسی ، ورنگل

میں یہ نہیں جانتا کہ بلبل خوبصورت پرندہ ہے یا نہیں لیکن یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اِس کی آوازبلبل کے سار ے وجود کو خوبصورت بنادیتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی فرد کی خوبصورتی کا معیار اس کی کسی ایک ہی خصوصیت سے لگایا جاتا ہے ۔ویسے بلبل صرف خوبصورت آواز رکھنے والا پرندہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ ظاہری اعتبار سے بھی بہت خوبصورت پرندہ ہے لیکن اس کی آواز ۔۔ کیا کہا جائے کہ اس میں حسن کا ایک دریا رواں ہے اور اس کی آواز کا دریا جدھر سے گزرتا ہے اس علاقے کی پوری کیفیت کو بدل کرماحول میں رنگینی پیدا کردیتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح اُڑتے ہوئے پرندے انسان کے لئے صرف آنکھوں کے سکون کا ذریعہ ہیں اسی طرح گاتے ہوئے پرند ے بھی انسان کی سماعتوں کی قرار کا اہم سبب ہیں۔ اسی لئے جب کبھی بلبل کی خوبصورت آواز کانوں سے ٹکراتی ہے تو دل چاہتا ہے کہ آواز کی لہروں کے ان راستوں کو رنگینیوں سے بھر دوں تاکہ نہ صرف میں بلکہ یہ دنیا آواز کے سحر کا صحیح لطف اٹھا کر زندگی میں سکون پیدا کرسکے۔یہ ایک عام حقیقت ہے کہ نہ صرف بلبل بلکہ کسی بھی پرندے کو اگر دیکھنا چاہتے ہو اس کی حرکات و سکنات سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہو اس کے گانے میں کھو کر ذات کا عرفان حاصل کرنا چاہتے ہو تو خاموشی اختیار کرو کہ یہی خاموشی ہمیں زندگی کے معنی سکھلا دے گی اور ہماری زندگی با معنی ہونے لگے گی۔
بلبل درمیانہ سائز کی چڑیا ہے جوگھریلو چڑیا (Passer domesticus) کے خاندان Passeriformes کے قبیلے Pycnonotidae سے تعلق رکھتی ہے۔ اس پرندے کا رنگ گہرا یا ہلکا زیتونی ہوتا ہے ، اس کی بعض انواع کالا رنگ بھی رکھتی ہیں ان پر کالے رنگ کا تاج جیسا Crestپایا جاتا ہے۔ اس کا بطنی حصہ ہلکا ہوتا ہے،بلبل کی بعض انواع زرد رنگ بھی رکھتی ہیں جن کا سر کالے رنگ کا ہوتا ہے ۔ اس پرندے کا پنکھچھوٹے ہوتے ہیں ،اس کی گردن بھی چھوٹی ہوتی ہے۔یہ ہندوستان کے علاوہ نیپال، ملائشیا، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، بھوٹان، سری لنکا وغیرہ میں کثرت سے پائی جاتی ہے۔۔ جیسے کہ بتایا گیا ہے یہ چڑیا اپنی مترنم آواز کی بنا پر کافی شہرت رکھتی ہے۔اردو فارسی شاعری میں اس کی آواز اپنی ایک منفرد شناخت رکھتی ہے۔اس پرندے کو عربی ،ہندی ، پنجابی میں’’ بلبل ‘‘ اور فارسی میں ’’خرما بلبلاں‘‘ یا صرف بلبل بھی کہا جاتا ہے۔ ویسے انواع کے اعتبار سے ان کا نام بھی بدلتا رہتا ہے جیسے جارحانہ فطرت رکھنے والی Red Vented Bulbul کا نام فارسی میں ’’خرما بلبل زیر دم سرخ‘‘ ہےRed whiskered bulbul کو تیلگو میںpigli pitta Turaha کہا جاتا ہے ۔
فارسی زبان میں اس چڑیا پر کافی نظمیں لکھی گئیں ہیں بالخصوص دیوان حافظ میں اس پرندے سے متعلق کئی اشارات ملتے ہیں اسی لئے بعض احباب نے اس کا نام ’’ دولیاز حافظی ‘‘ رکھ دیا۔ان کے دیوان کا سر ورق بھی اسی گل و بلبل کے نقوش سے مزین ہے۔ ایک زمانہ تھا جب اردو فارسی شعرا ’’رگ گُل سے بلبل کے پر باندھتے تھے‘‘ لیکن آج شاعری کا مزاج بدل گیا ہے اور یہ تمام تشبیات داستان پارینہ بن کر رہ گئی ہیں۔
اردو شاعری میں خصوصاً اقبال ؔ نے اس پرندے کو ایک علامت کے طور پربڑی خوبصورتی سے استعمال کیا ہے۔ جیسے
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی
ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
نوا پیرا ہو، ائے بلبل کے ہو تیرے ترنم سے
کبوتر کے تنِ نازک میں شاہیں سا جگر پیدا
ایک جگہ وہ یوں لکھتے ہیں کہ
ع جس کے دم سے دہلی و لاہور ہم پہلو ہوئے
آہ! ائے اقبالؔ وہ بلبل بھی اب خاموش ہے
علامہ اقبال نے بلبل پرندے کا ذکر اپنی شاعری میں کئی جگہ کیا ہے ، اس مضمون میں ان سب کا احاطہ ممکن نہیں لیکن اقبال ؔ کی بچوں کے لئے لکھی گئی نظم کے دو ایک متفرق اشعارلکھ دیتا ہوں ۔۔جس میں انہوں نے بلبل کویاسیت کا پیکر لیکن نالہ بلبل کو پُرتاثیر ظاہر کیا ہے۔
ٹہنی کے کسی شجر کی تنہا
بلبل تھا کوئی اداس بیٹھا
سن کے بلبل کی آہ و زاری
جگنو کوئی پاس ہی سے بولا
ایک اور جگہ وہ لکھتے ہیں
نالہ ہے بلبل شوریدہ تیرا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی
اور ۔۔نظم شکوہ میں اقبالؔ یوں رقم طراز ہیں کہ
نالے بلبلْ کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہمنوا میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں
میں اقبال کا اس خصوص میں ایک معرکۃ لآرا شعر لکھ کر آگے بڑھتا ہوں :
پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس
صدیقؓ کے لئے ہے خدا کا رسولؐ بس
بلبل کی کئی انواع ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے دنیا میں اس پرندے کی زائد از 119 انواع پائی جاتی ہیں اور بعض سائنس دانوں کے مطابق اس کی 140انواع پائی جاتی ہیں۔ ہندوستان میں عام طور پر پائی جانے والی بلبل Lanius boulboul کہلاتی ہے اس کے علاوہ ہندوستان میں Pycnonotus jocosus بھی بکثرت پائی جاتی ہے ،یہاں دلچسپی کی خاطر ایک بات کی وضاحت کرنا چاہوں گا کہ بلبل کو عام طور پر انگریزی میں Nightingaleکہا جاتا ہے جو غلط ہے Nightingale کو اردو فارسی میں’’ عندلیب ‘‘ کہا جاتا ہے جس کا حیوانی نام Luscinia megarhynchos ہے ،لیکن اس بات میں سچائی ہے کہ عندلیب ، بلبل ہی کی علاحدہ نوع ہے۔ عندلیب بھی اپنی آواز کی موسیقیت اور لحن کے اعتبار سے اہمیت اور شہرت رکھتی ہے۔لیکن اس کی آواز میں ہلکی سی یاسیت ہوتی ہے اسی لئے اردو شعراء نے اس چڑیا یعنی عندلیب کو اپنے اشعار میں اس طرح باندھاہے۔
آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں تو ہائے گل پکار میں چلاؤں ہائے دل
لیکن فارسی زبان میں بلبل، ہزار داستاں اور عندلیب کو ایک ہی معنی میں لیا جاتا ہے۔اس کو ہزار داستان کہنے کے پیچھے راز اس کی آواز ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ہزار علاحدہ سُر رکھتی ہے۔موسیقیت سے دلچسپی رکھنے والے جانتے ہیں کہ ہندوستانی سازندوں کا ایک مشہور آلہ ساز ’’بلبل ترنگ‘‘ ہے جس جو بلبل کی آواز کی لہروں سے اخذ کرکے بنایا گیا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ دنیا بھر میں luscinia Lanius ایک ایسی بلبل ہے جس کی آواز سب سے زیادہ سریلی ہوتی ہے اور اسٹیریو ٹائپ (Stereotype)ہوتی ہے۔پرندے جب مستی کے عالم میں گانے لگتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سارا ماحول اس کے ساتھ گنگنا رہا ہے اور سارے عالم پر مستی چھانے لگی ہے۔ بلبل کی آواز میں بھی قدرت نے یہی کیفیت دی ہے ۔ اس کا گانا دو قسم کا ہوتا ہے ایک سادہ اور مسلسل آواز کی لہریں پہنچاتا ہو اور دوسرا پیچیدہ اور دو اقسام کی’’ رِتھم ‘‘سے آراستہ۔ دوسرے لفظوں میں بلبل کی آواز اسٹیریو ٹائپ (Stereotype) ہوتی ہے یعنی بہت حد تک خانوں میں بٹی ہوئی ہوتی ہے جس کی الفاظ میں تشریح نسبتاً مشکل ہے۔سہولت کی خاطر اس کو’’ میکانکی تکرار ‘‘ کہا جاسکتا ہے۔
جس طرح ’’طیور فردوس ‘‘ یعنی جنت کے پرندے (Birds of Paradise) اپنی خوبصورتی میں طاق ہیں اور وہ جس طرح قدرت کا ایک حسیں شہکار بن کر کئی مفروضات کے کچے گھروندے توڑ کر خدا کو خالق بتاتے ہیں اُسی طرح بلبل یا اس جیسے کئی پرندے اپنی سحر انگیز آواز سے خدا کی خلاقی کا خوبصورت مظہر بن کر سونچنے والے انسانوں کو مزید سوچنے کا موقعہ فراہم کرتے ہیں تاکہ مخلوق خدا کی ذات پر ایمان لے آئے۔ ویسے اس پرندے کی مختلف انواع کے درمیان ایک متضاد کیفیت بھی ملاحظہ کیجئے کہ ہر بلبل سریلا نہیں ہوتا، کہا جاتا ہے کہ Brown Eared Bulbul پرندوں کی دنیا کا ایک ایسا پرندہ ہے جس کی آواز جس میں مٹھاس یا سریلا پن قطعی نہیں پایا جاتا بلکہ عجیب کراہیت پائی جاتی ہے۔یہ بھی قدرت کا عجیب معاملہ ہے کہ اس پرندوں کی کچھ انواع کو ترنم کی دنیا کا لا فانی مغنّی بنادیا اور اس کی دوسری ا نوع کو ایسی کریہہ آواز دی جو سننے کے قابل نہیںیہ خدا کی عجیب مصلحت ہے وہ جس کو چاہتا ہے تو عزت دیتا ہے اور نہ چاہے تو جاندارکسی ایک صفت میں وقار سے محروم کردیتا ہے۔
بلبل(Bulbul) ایک عام پرندہ ہے جس کی شناخت اس کے جسم پر پائے جانے والے لال رنگ سے کی جاسکتی ہے۔عام طور پر یہ جنگلاتی علاقوں میں پائی جاتی ہے لیکن ان کی بیشتر انواع ایسے علاقوں میں بھی دیکھی جاتی ہیں جہاں انسانوں کی بستیاں ہیں۔سر پر Crestرکھنے والے اس پرندے کی دُم لمبی ہوتی ہے۔ اس چڑیا کو بہ آسانی سدھایا جاسکتا ہے اسی لئے انسان اکثر ممالک میں اس چڑیا کو پنجرے میں قید کرکے اس کی دلنشین آواز سے لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔پنجرے سے نکل جائے تو پھر یہ چڑیا گھر بناتی ہے جس کا اپنا گھونسلہ نہایت بے ترتیبی میں ترتیب کی بہترین مثال ہوتا ہے ۔یہ اپنے گھونسلے کو نہایت خوبصورتی اور مہارت سے بناتی ہے ۔پیالی (Cup)کی شکل کا یہ گھونسلہ گھاس پھوس سے بنایا جاتا ہے اور تقریباً 20سنٹی میٹر قطر رکھتا ہے لیکن دیکھنے میں دیدہ زیب ہوتا ہے،ہر چڑیا کا گھونسلہ علاحدہ شکل اور ساخت رکھتا ہے لیکن ہر گھونسلہ اپنے وجود میں جنت کا وہ حصہ ہے جسے کسی نا معلوم چڑیا نے بنایا ہے۔بلبل ایسے علاقے میں گھونسلہ بنانا پسند نہیں کرتی جہاں درخت بکثرت پائے جاتے ہیں بلکہ یہ اُن علاقوں میں درختوں کی گھنی شاخوں پر گزارا کرلیتی ہے۔بلبل کی ’’مادہ‘‘ اور ’’نر‘‘ کو ان کے رنگ کی بنیاد پر پہچاننا مشکل ہے۔ بلبل زوج احدی یعنی Monogamous پرندہ ہے جو اپنی زندگی ایک ہی مادہ کے ساتھ بسر کرتا ہے۔ بہت کم بلبل کثیر زوجی دیکھے گئے ہیں۔جون تا سپٹمبر کے مہینو ں میں مادہ پرندہ اپنے گھونسلے میں تین یا چار انڈے دیتی ہے جو ہلکے گلابی رنگ کے ہوتے ہیں اور ان پر لال رنگ کے دھبے پائے جاتے ہیں،ان انڈوں کی حفاظت دونوں مل کر کرتے ہیں ،مادہ بلبل انڈے سیتی ہے جس کی مدت عام طور پر دس تا چودہ دن ہوتی ہے اس اثنا میں نر بلبل مادہ کو کھلاتا پلاتا ہے اور اس کے ناز نخرے برداشت کرتا ہے یہ اللہ کا عجیب انتظام ہے جو ہر ذی جان میں الگ الگ نوعیت سے موجود ہوتا ہے ۔ جب انڈوں سے بچے نکل آنے کے بعد دونوں مل کر ان کی پرورش کرتے ہیں انہیں کھلاتیہیں پلاتے ہیں اور انہیں زندگی گزارنے کے گُر بتاتے ہیں عام طور پر یہ بچے دو ہفتوں میں اپنی غذا خود حاصل کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں اور آزادانہ اُڑان بھرنے لگتے ہیں ۔ یہ پرندہ عام طور پر پھل پھلاری اور بیریز (Berries) پر گزارا کرتی ہے ،یہ کیڑوں (Worms)کو بھی اپنی غذا بناتی ہے بلکہ اپنے بچوں کو زیادہ تر کیڑے مکوڑے ہی فراہم کرتے ہی جیسے کارٹر پلرس، Maggots، ٹڈے وغیرہ۔ لیکن عام طور پر نرم پھلوں جیسے سیب کے گودے وغیرہ کو زیادہ پسند کرتی ہے۔ یہ چڑیا بیجوں کے انتشار کا کام بھی کرتی ہے تاکہ قدرت میں قدرتی طور پر بیج پھیل جائیں اور پودوں کی نسلیں آگے بڑھنے لگیں۔اس چڑیا کی لمبائی چھ انچ سے لے کر ایک فٹ تک ہوتی ہے۔
نہ صرف بلبل بلکہ تقریباً سبھی پرندے دنیا کی ہر زبان کی شاعری کا خوبصورت اورحسین تصور ہوتے ہیں جن کا تذکرہ لکھنے اور پڑھنے والے کے دلوں میں مسرت کے نئے باب کو کھولتا ہے اور ان میں خوشیوں کا پیارا پیارااحساس پیدا کرتا ہے۔ اردو شعراء نے گل و بلبل کے مضامین کو بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے جیسے
یہ آرزو تھی تجھے گُل کے روبرو کرتے
ہم اور بلبل بے تاب گفتگو کرتے
میر تقی میرؔ نے کہا تھا کہ
جس چمن زار کا ہے تو گلِ تر
بلبل اس گلستاں کے ہم بھی ہیں
اورغالب ؔ کہتے ہیں
کہتاہے کون نالہء بلبل کو بے اثر
پردے میں گل کے لاکھ جگر چاک ہوگئے
اگر ہم فارسی شاعری کا طائرانہ جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ اس میں شعرائے اکرام نے ’’گُل و بلبل‘‘ کو بڑی اہمیت دی اور ان پر ایسے ایسے مضامین ایجاد کئے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔اردو فارسی شاعری میں یہ پرندے بالخصوص بلبل محبت کی علامت ہے جو موسم کے لحاظ سے اپنی معنویت بدلتے جاتے ہیں۔شاید یہی وجہہ ہوگی کہ فارسی شاعری میں کہ نہ صرف بلبل بلکہ بلبل کے انڈوں کا بھی جوشیلے انداز میں ذکر کیا جاتا ہے کیونکہ محبت کی راہوں کے یہ ابتدائی رہرو ہیں اور ان کی تکریم اس لئے ضروری ہے کہ آگے چل کر یہی تو بلبل بننے والے ہیں۔
– – – – – – – –
Dr.Aziz Ahmed Ursi

Photo Dr Azeez Ahmed Ursi, Warangal