محفوظات برائے ‘جہانِ تقاریب’ زمرہ

PostHeaderIcon نوبل ہال حیدرآباد میں چوتھی عیدمیلاپ تقریب کا شانداراہتمام :- محسن خان

عیدمیلاپ

نوبل ہال حیدرآباد میں چوتھی عیدمیلاپ تقریب کا شانداراہتمام
سماجی جہدکاروں‘پروفیسرس‘ وکلا اور ریسرچ اسکالرس کی شرکت

رپورٹ: محسن خان (ریسرچ اسکالر‘شعبہ ترجمہ مانو)
موبائیل:9397994441
(ای میل:)

حیدرآباد۔بی جے پی اور آر ایس ایس اس خوش خیالی میں مبتلا ہے کہ انہیں اب مسلمانوں اور بچھڑے طبقات کے ووٹوں کی ضرورت نہیں ہے اوریوپی انتخابات میں مسلم امیدواروں کوٹکٹ نہ دے کر صرف اور صرف ہندو ووٹرس حاصل کرکے بڑی کامیابی حاصل ہونے کے بعد وہ اپنے اقتدار کے نشے میں مغرور ہوگئی ہے۔حالیہ گاؤرکشھا کے نام پر اخلاق‘پہلول خان اوردوسرے لوگوں کی ہلاکت افسوسناک ہے جس سے سیکولرملک کی امیج کو بین الاقوامی سطح پرنقصان ہورہا ہے۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon ایک یادگار ادبی سفر : – عزہ معین


ایک یادگار ادبی سفر

عزہ معین

مجھے کئی مرتبہ ادبی سفر کرنے کا اتفاق ہوا ہے. ہر سفر کی اپنی انفرادیت ہوتی ہے.لیکن ہر سفر خاص بھی ہو جائے ایسا کم ہی ہوتا ہے.میرے اب تک کے ادبی سفروں میں ایک دو ہی ایسے سفر ہوئے ہیں جو خاص ہو گئے اور یادوں کے البم میں ہمیشہ کے لئے قید ہو گئے. ان کی خوشبو مجھے آج بھی محسوس ہوتی ہے.
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon ایک روزہ قومی کانفرنس : اردو بحیثیت سرکاری زبان :- ڈاکٹرتہمینہ عباس


شعبۂ اردو جامعہ کراچی کے زیرِ اہتمام
ایک روزہ قومی کانفرنس: اردو بحیثیت سرکاری زبان

رپورٹ:ڈاکٹر تہمینہ عباس

4 مئی 20177ء بروز جمعرات ،جامعہ کراچی کے شعبہ اردو نے ایک روزہ قومی کانفرنس کا انعقاد کیا جس کا موضو ع ’’ اردو بحیثیت سرکاری زبان ‘‘ تھا۔اس کانفرنس کی صدارت کے فرائض مشہور شاعر اور صدر نشین ادارہ فروغ قومی زبان (مقتدرہ قومی زبان) جناب افتخار عارف نے کی۔ اس کانفرنس کے مہمان خصوصی جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل خان شیخ الجامعہ جامعہ کراچی اور مہمان اعزازی جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد احمد قادری رئیس کلیہ سماجی علوم تھے ۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon محمدنذیراحمد اورنسیم سلطانہ کی تصانیف کا رسم اجرا -: محسن خان

’’الیکٹرانک میڈیا میں اردو زبان وادب کا فروغ‘‘اور محمدنذیر احمد کی کتاب’’اردوافسانو ں میں اساطیری عناصر کا تنقیدی جائزہ‘‘ کاپروفیسر مظفر شہ میری اورد دیگرمہمانوں کے ہاتھوں رسم اجراء عمل میں آیا۔
جناب محمدنذیر احمد اور ڈاکٹر نسیم سلطانہ کی تصانیف کا رسم اجرا

اردوافسانو ں میں اساطیری عناصر کا تنقیدی جائزہ
مصنف: محمد نذیر احمد

الیکٹرانک میڈیا میں اردو زبان وادب کا فروغ
مصنفہ: ڈاکٹر نسیم سلطانہ

رپورٹ:محسن خان
ریسرچ اسکالر مانو حیدرآباد

عصر حاضر میں اردو کے فرغ کے سلسلے میں شہر حیدر آباد کو عالمی سطح پر اولیت حاصل ہے یہاں اردو کی پہلی یونیورسٹی ’’جامعہ عثمانیہ‘‘ قائم ہے ساتھ ہی اردو کی مرکزی یونیورسٹی ’’مولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ‘‘قائم ہے جہا ں اعلی تحقیقی کام ہور ہا اس کے علاوہ یونیورسٹی آف حیدرآباد جو سنٹرل یونیورسٹی ہے وہاں بھی اردو کا شعبہ قائم ہے اسی شعبہ سے فارغ ڈاکٹرنسیم سلطانہ اور عثمانیہ یونیورسٹی سے وابستہ جناب نذیرصاحب کی تصانیف کا رسم اجراء 22اپریل بروز ہفتہ’’ میڈیا پلس ‘‘اڈیٹوریم‘ گن فاونڈری حیدرآباد میں انجام پایا ۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon قومی سمینار: راجندرسنگھ بیدی اورعصمت چغتائی – – – رافد اُویس بٹ

عصمت چغتائی
شعبۂ اردو، یونی ورسٹی آف حیدرآباد کی جانب سے
دو روزہ قومی سمینار

’’ راجندر سنگھ بیدی اور عصمت چغتائی:ترقی پسند تحریک کے تناظر میں‘‘
”RAJINDER SINGH BEDI AND ISMAT CHUGHTAI :
IN PERESPECTIVE OF PROGRESSIVE WRITERS MOVEMENT”

رپورتاژنگار: رافد اُویس بٹ
ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو، یونی ورسٹی آف حیدرآباد

شعبۂ اردو،یونی ورسٹی آف حیدرآباد کی جانب سے مورخہ ۸؍اور ۹؍ فروری ۲۰۱۷ء کو اردو فکشن کے دواہم ستون راجندر سنگھ بیدی اورعصمت چغتائی پر دوروزہ قومی سمینار بعنوان’’راجندرسنگھ بیدی اورعصمت چغتائی: ترقی پسند تحریک کے تناظر میں‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ پہلے روز،افتتاحی اجلاس کے بعد دو تکنیکی اجلاس ہوئے، جن میں عصمت پر ۱۰؍ مقالے پڑھے گئے۔افتتاحی اجلاس میں پروفیسر پنچانن موہنتی، ڈین اسکول آف ہیومانٹیز، یونی ورسٹی آف حیدرآباد نے مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے سمینار کی کوآرڈینیٹر ڈاکٹرعرشیہ جبین صاحبہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ منعقدہ سمینارعصمت اور بیدی کی تخلیقات کو نئے تناظر میں دیکھنے اور پرکھنے کی بہترین کوشش ہے۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon نامورافسانہ نگارحنیف باوا کا افسانہ شناسی پرخصوصی لیکچر-ابنِ عاصی


گورنمنٹ پوسٹ گریجو ایٹ کالج جھنگ میں
نامور افسانہ نگار حنیف باوا کا ،افسانہ شناسی،
پر خصوصی لیکچر

رپورٹ:ابنِ عاصی

گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج جھنگ کے شعبہ اردو نے نامور افسانہ نگارحنیف باوا کو اپنے ہاں ،افسانہ شناسی، پر لیکچر کے لیے مدعو کیا۔جس میں ایم اے اردو پارٹ ون اور ٹوکے طلبا ء طالبات اور اساتذہ نے ذوق و شوق سے شرکت کی ۔نظامت کے فرائض نوجوان شاعر پروفیسر عصمت اللہ خان سیال نے انجام دئیے۔سٹیج پر پروفیسر ڈاکٹر صادق حسین گوہر(صدر شعبہ اردو)،پروفیسر ڈاکٹر عمران ظفر،پروفیسر ڈاکٹر مختار حر،پروفیسرغلام شبیر اسد،پروفیسر نثار احمد مگھیانہ اور ابنِ عاصی موجو دتھے۔جب کہ حنیف باوا کاتعارف پروفیسر غلام شبیر اسد اور ابنِ عاصی نے پیش کیا۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon رپورتاژ: قومی سمینار- اردوادب اورقومی یکجہتی – – – ڈاکٹرعزیزسہیل

 


رپورتاژ:ایک روزہ قومی سمینار
اردوادب اورقومی یکجہتی

از: ڈاکٹرعزیزسہیل
لیکچرا ر ایم وی ایس ڈگری کالج محبوب نگر

ضلع نظام آباد ابتداء ہی سے تاریخی تہذیبی ،ادبی و مذہبی مرکز رہا ہے ۔تلنگانہ میں حیدرآباد کے بعد نظام آبادشعر و ادب کی سرگرمیوں کا مرکز اور گہوارہ رہا ہے ۔ ضلع نظام آباد میں شہرنظام آبادکے علاوہ بودھن اور شکر نگربھی اردو ادب کے اہم مراکز رہے ہیں۔ بودھن کے نواح میںآصف سابع میر عثمان علی خان نے 1921ء میں ایشیاء کی سب سے بڑی شکر فیکٹری قائم کی تھی اس فیکٹری کے تحت 15,000 ایکڑ اراضی پر گنے کی کاشت ہوتی تھی ۔ فیکٹری ضلع نظام آبادکے عوام کیلئے روزگار کا ایک بڑا ذریعہ تھی۔اس دوران اردو کی کئی اہم شخصیات یہاں آباد تھیں جنہوں نے اردو کی فروغ کیلئے ادبی انجمنیں قائم کی تھی۔ بودھن میں اردو کا بہت اچھا ماحول پایا جاتا ہے۔ اردو کے اس ماحول میں عبدالرحمن داودی نے یوجی سی کے اشتراک سے اردو ادب اور قومی یکجہتی کے موضوع ایک تاریخ ساز سمینار کا انعقاد عمل میں لایا۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon رپورتاژ: امجد حیدرآبادی شخصیت اورفنِ رباعی – – – – ڈاکٹرعزیزسہیل

رپورتاژ:امجد حیدرآبادی شخصیت اور فنِ رباعی
زیر اہتمام ادارہ ادب اسلامی ہندتلنگانہ و اڈیشہ

ڈاکٹرعزیزسہیل
لیکچرار ایم وی ایس ڈگری کالج محبوب نگر

ادراہ ادب اسلامی ہند اپنے قیام سے ہی صالح ادب کے فروغ کیلئے مسلسل جدوجہد کرتی آرہی ہے۔ادارہ ادب اسلامی گزشتہ نصف صدی سے ادب میں توازن کو بروئے کار لانے ، فنی آداب اور تہذیبی اقدار کے درمیان مکمل ارتباط قائم کرنے کیلئے ملک کے تعمیری رجحانات رکھنے والے تمام اہل قلم کو متحرک کر رہی ہے۔اس کڑی کے طور پر ادارہ ادب اسلامی ہند تلنگانہ نے ریاستی سطح پر ایک سمینار’’امجد حیدرآبادی شخصیت اور فن رباعی ‘‘،ادبی اجلاس و مشاعرہ کا ظہیرآباد کے اسلامک سنٹر پر اہتمام عمل میں لایا۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon رپورتاژ: قومی سمینار-غیرافسانوی ادب اور خواتین – – – ڈاکٹرعزیزسہیل


منارۂ نور۔۔۔۔
رپورتاژ:قومی سمینار’’غیر افسانوی ادب اور خواتین ‘‘
ین ٹی آر ڈگری وپی جی کالج محبوب نگر

ڈاکٹرعزیزسہیل
لیکچرارایم وی ایس گورنمنٹ ڈگری کالج
محبوب نگر۔ تلنگانہ

محبوب نگر علاقہ تلنگانہ کا ایک پسماندہ ضلع ہے لیکن اردو زبان و ادب کے فروغ اور تصوف کے اعتبار سے زرخیز علاقہ کہا جاسکتا ہے۔یہاں اردوذریعہ تعلیم کا آغاز 1925ء سے قبل ہوچکا تھا۔اردوذریعہ تعلیم کاآغاز خود ہی اردوزبان و ادب کا فروغ کا آغاز تھا چنانچہ ایک مختصرسے عرصہ میں یہاں ادبی ماحول تشکیل پایا۔ جس کیلئے حضرت ازلؔ اور حضرت حلمیؔ استاد شُعراء کا نمایاں کردار رہا۔یہاں جناب ہاشم علی اخترسابق وائس چانسلر جامعہ عثمانیہ و علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے تعلیم پائی اور میٹرک کی تکمیل کی۔ابتداء میں یہاں کے ادبی ماحول کے فروغ میں احمدعبد اللہ المسدوسی،سالم مسدوسی،سید حکیم امیر الدین قادری نے ‘انجمن اصلاح معاشرہ’ کے تحت ادبی سرگرمیاں انجام دی۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon رپورتاژ: سمینار- مولانا ابوالکلام آزاد کا اردو صحافت میں حصہ – – – – محسن خان

seminar-photo
رپورتاژ
مولانا آزاد میموریل سوسائٹی کے زیر اہتمام سمینار
مولانا ابوالکلام آزاد کا اردو صحافت میں حصہ

محسن خان
ای میل:

سرزمین دکن حیدرآبادکا ہمیشہ سے ہی اردوا دب کے فروغ میں نمایاں کردار رہا ہے ۔ ابتداء سے دکن کے حکمرانوں نے اردو ادب اور ادبی شخصیات کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ آصف سابع میر عثمان علی خان کواردو سے خوب دلچسپی تھیں۔انہوں نے اردودنیا کے مشہور ومعروف ادبی شخصیتوں کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں اعلی ملازمتوں پر فائز کیا۔ عثمانیہ یونیورسٹی اور دائرۃ المعارف کے قیام کا مقصد لوگوں میں علم کی اہمیت کوعام کرنا اور تحقیقی کام انجام دیناتھا۔ جس کے لئے دنیابھر سے مشہور لوگوں کویہاں لاکر ادبی کام تفویض کیا گیا ۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon ایم ڈی کراچی واٹر بورڈ مصباح الدین فرید کی تقریب پذیرائی ۔ ۔ ۔ ۔ سید عارف مصطفیٰ

syed-arif پذیرائی
نفاز قومی زبان تحریک اور بزم شعر و سخن کے زیراہتمام
ایم ڈی کراچی واٹر بورڈ مصباح الدین فرید کی تقریب پذیرائی

رپورٹ: سید عارف مصطفیٰ

ایم ڈی کراچی واٹر بورڈ مصباح الدین فرید کے اعزاز میں نفاز قومی زبان تحریک اور بزم شعر و سخن کے زیراہتمام اکادمی ادبیات کے ہال میں ایک تقریب پذیرائی منعقد کی گئی جو انکی جانب سے اپنے ادارے میں اردو کے نفاذ کے فیصلے پہ اظہار ستائش کے لیئے ترتیب دی گئی تھی اور جس میں انہیں ‘ نشان سپاس و اعتراف بخدمت اردو ‘ دیا گیا – اس پروقار تقریب کی صدارت معروف شاعر اور دانشور جناب سحر انصاری نے کی جبکہ مہمان اعزازی نامور شاعر شاداب احسانی اور ماہر تعلیم و دانشور پروفیسر ہارون الرشید تھے- پروگرام میں شرکاء کی حاضری بھرپور رہی اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراداورنامور اہل علم و صاحبان فکرو نظر کی بڑی تعداد نے شرکت کی
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon ڈاکٹرتوفیق انصاری احمد کو اسپیس اُردو اکیڈیمی آف امریکہ کا ’’ورلڈ ادبی ایوارڈ‘‘

jahan-e-urdu اسپیس

ڈاکٹرتوفیق انصاری احمد کو
اسپیس اُردو اکیڈیمی آف امریکہ کا ’’ورلڈ ادبی ایوارڈ‘‘

اُردو مسکن میں
’’اورادِ اِرادت‘‘ اور ’’دشتِ تمنا‘‘ کی رونمائی اور عالمی مشاعرہ کا انعقاد

(پریس نوٹ) جناب غلام آصف صمدانی سرپرست اعلیٰ اُردو اکیڈیمی جدہ کی صدارت میں استاد سخن شمالی امریکہ ڈاکٹر توفیق انصاری احمد کو ان کے دو انوکھے شعری مجموعوں پر اسپیس اُردو اکیڈیمی آف امریکہ (حیدرآباد سنٹر )کی جانب سے 29؍ اکٹوبر 2016ء کو ’’ورلڈ ادبی ایوارڈ ‘‘مسٹر یوسف قادری مصنف ورلڈ بگ بک نے اُردو دنیا کی سرکردہ شخصیات کی موجودگی میں عطا کیا اور تمام مہمانوں کا پھولوں کے گلدستوں سے استقبال کیا اور سامعین میں پروگرام کے دیدہ زیب ساونیئر کوتقسیم کیا گیا ۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon بزم علم و ادب حیدرآباد کے زیر اہتمام’’ علمبردار اُردو ایوارڈ ‘‘تقریب

awards
بزم علم و ادب حیدرآباد کے زیر اہتمام’’ علمبردار اُردو ایوارڈ ‘‘تقریب

رپورتاژ: ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی
صدر شعبہ اردو گری راج کالج- نظام آباد

حیدرآباد کو شہر اردو بھی کہا جاتا ہے۔ اور یہ شہر ساری دنیا میں اردو کے اہم مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہاں اردو کے بین الاقوامی سطح کے مقبول اخبار‘رسائل‘ اردو ٹیلی ویژن چینل‘اردو کی مرکزی جامعہ اور اردو کے کئی ادارے ‘ادبی انجمنیں وغیرہ ہیں جو فروغ اردو کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اردو کی ادبی انجمنیں اردو مشاعروں اور ادبی اجلاسوں کے انعقاد کے علاوہ اردو کے لئے اپنی بے لوث خدمات انجام دینے والے ادیبوں اور شعراء کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں مختلف ادبی ایوارڈز دیتے ہوئے ان کے کام کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ حیدرآباد کی ایک ایسی ہی ادبی تنظیم ’’ بزم علم و ادب‘‘ ہے۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon شاتا واہنا یونیورسٹی کریم نگرمیں قومی سمینارکاانعقاد – – – ڈاکٹرمحمد اسلم فاروقی

sem-image شاتا
شاتا واہنا یونیورسٹی کریم نگر تلنگانہ
’’اردو کی نثری اصناف‘‘ قومی سمینارکاانعقاد

رپورتاژ: ڈاکٹرمحمد اسلم فاروقی
صدر شعبہ اردو گری راج کالج ۔نظام آباد تلنگانہ اسٹیٹ

ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اکیسویں صدی کے پہلی دہائی میں شہروں کے علاوہ اضلاع اور علاقائی سطح پر یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں آیا ہے۔ تلنگانہ میں شہر حیدرآباد میں جامعہ عثمانیہ ‘مولانا آزاد ‘سنٹرل یونیورسٹی‘امبیڈکر یونیورسٹی‘نلسار یونیورسٹی وغیرہ قائم ہیں۔ لیکن اب اضلاع کریم نگر‘نظام آباد‘نلگنڈہ اور محبوب نگر میں بھی ریاستی یونیورسٹیاں قائم ہوگئی ہیں اور وہاں کے شعبہ جات اپنی کارکردگی کے سبب مشہور ہورہے ہیں۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon شام ظرافت کی کہانی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سید عارف مصطفیٰ

Bazm_e_Zarafat  ظرافت

شام ظرافت کی کہانی
کچھ میری ۔۔۔ کچھ تصویروں کی زبانی

سید عارف مصطفیٰ
فون : 8261098 -0313
ای میل :

ابھی 2 ماہ پہلے ہی کی بات ہے کہ جب میں نے شاہد محمود شاہد کے ساتھ مل کر بزم ظرافت قائم کی تھی ، شاہد محمود اک ناقابل اصلاح نوجوان ہے کہ اس دور میں بھی وضعداریاں اور دلداریاں نبھاتا ہے ۔۔۔ اسکی چند بہت بری عادتوں میں پہلی تو اس کی ملنساری ہے دوسری بری عادت مزاح پسندی و بذلہ سنجی ہے مزید خرابی یہ کہ دلنواز اور دلدار دوست ہے ،،، بزم کے قیام کے بعد اسکا پہلا پروگرام جلد کرنے کی سوجھی اور یہ طے پایا کہ آرٹس کونسل کراچی میں اسکی لائبریری کمیٹی کے تعاون سے شام ظرافت منعقد کی جائے پھر ایک مجلس منتظمہ قائم کی گئی کہ جس میں شیخ طارق جمیل ، آفتاب قریشی ، نفیس احمد خان ، منور علی قریشی ، عقیل عباس جعفری ، امان اللہ پنجوانی ، سعید احمد سعید کو شامل کیا گیا اور اس پروگرام کے سلسلے میں مجھے اپنے دیرینہ دوست سید جاوید رضاء کے مشورے اور تعاون بھی میسر آیا جسے مدنظر رکھتے ہوئے اس شام ظرافت کا مہمان خصوصی انہی کو بنایا گیا جبکہ صدارت سابق سینیٹر عبدالحسیب خان نے کرنی تھی لیکن پروگرام والے دن وہ شروع ہی میں آکر چلے گئے کیونکہ انکو کسی اچانک اہم میٹنگ کے لیئے گورنر سندھ نے بلالیا تھا –
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon ’ھدف‘کا تیسراعالمی مشاعرہ ’جشنِ مزاح‘ بیادِ سلیمان خطیب

mushaiera - سلیمان

’’ھدف ‘‘کا تیسرا عالمی مشاعرہ
’’جشنِ مزاح ‘‘بیادِ سلیمان خطیب

رپورتاژ: محمداصغر الدین (نائب صدر ھدف)

سلیمان خطیب حسنِ فطرت کا سفیر بن کر’’دیہی دانش کو‘‘ ادبِ کے ایوانوں میں پہنچادیا۔ کیوڑے کا بن مزاح کی دستاویز ، ’’میگنا کارٹا ‘‘بن گئی جو روح کو کھل کرقہقہہ لگانے کی آزادی بانٹتی ہے۔ادبی تحریکات کے ہنگام میں آج بھی مزاح کے ممبر پرخطیب کا خطبہ چلتا ہے۔جس موضوع پر خطیب کا قلم چلتا ہے حسنِ فطرت ساتھ ہوجاتی ہے۔ جیسے ’’کوّا لہرا کے چھت پہ گاتا ہے۔ مرغی آنگن میں پر سکھاتی ہے۔ توّا رہ رہ کے مسکراتا ہے۔ پھر اللہ کی رحمت بن کر مہمان آتاہے‘‘۔خطیب کے شعر کیا ہیں۔ دکھی دلوں کے درد میں ڈھلے شعری نغمات ‘‘۔ ان خیالات کا اظہار ناظم مشاعرہ نعیم جاوید نے مشاعرے کے اولین مرحلے پرکیا۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon ادارہ الانصارحیدرآباد کا سہ روزہ جشن ادب – ’گنج شائگاں‘ کی رسم اجراء

jashn e adab ٹیپو

ٹیپوسلطان کے دورحکومت کے ادبی کارناموں پرمزید تحقیق کی ضرورت

محمد علی مہکری کے کلیات قصائد ’’گنج شائگاں‘‘ کی رسم اجراء
الحاج قمر الاسلام اور ممتاز دانشوروں کا خطاب

حیدرآباد ؍مئی (پریس ریلیز) ادارہ الانصار کے ایک پریس ریلیز کے مطابق اردو مسکن خواجہ شوق ہال میں سہ روزہ جشن ادب کے دوسرے دن 8؍مئی کی شام حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کے گورنر فلک شکوہ محمد علی مہکری آصف خانہ زاد کے کلیات قصائد ’’گنج شائگاں‘‘ کی رسم اجراء ڈاکٹر قمرالاسلام وزیر بلدی نظم و نسق واقلیتی بہبود کرناٹک اور جناب سید عمر جلیل پرنسپل سکریٹری حکومت تلنگانہ نے مشترکہ طور پر انجام دی۔ الحاج قمر الاسلام نے حضرت محمد علی مہکری کے کلیات قصائد کے مرتب ڈاکٹر راہی فدائی اور ناشر الانصار پبلی کیشنزجناب اسد ثنائی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ٹیپو سلطان کے دور حکومت کی سماجی اور ادبی تاریخ اور دکنی زبان کے شہ پاروں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon ہندوستانی ادب میں نئے رجحانات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر قطب سرشار

trends  رجحانات

ڈاکٹرقطب سرشار

ہندوستانی ادب میں نئے رجحانات

رپورٹ: ڈاکٹر قطب سرشار
موظف لکچرر، محبوب نگر، تلنگانہ
موبائل : 09703771012
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ –

ادبی و علمی اجتماعات میں ’’سمینار‘‘ کی اپنی خاص اہمیت اور افادیت ہوتی ہے۔ چاہے وہ جامعات کی چہاردیواری کے اندر ہویا غیر جامعاتی فضاء میں کسی بھی ماحول میں سمینار کی افادیت اور نتائج یکساں ہوتے ہیں۔ سمینار میں جو گفتگو اور بحث و تمحیص کا ماحول بنتا ہے وہ معلومات آفریں ہوتا ہے، اس سے ذہن کی کئی گرہیں کھلتی ہیں اور گونا گوں فکری ابعاد کا تعارف بھی ہوجاتا ہے۔ سمیناروں کے معیار اور وقعت کا انحصار بہر حال موضوع کے حسن انتخاب پر ہوتا ہے اور یہ حسن انتخاب ہی تھا جس نے کرناٹک اردو اکیڈیمی بنگلور کے کل ہند سہ روزہ سمینار کو وقیع تر اور منفرد بنادیا۔ اس سمینار کا موضوع تھا ’’ہندوستانی ادب میں نئے رجحانات‘‘ اس موضوع میں اس درجہ وسعت اور جامعیت تھی کہ اس پر گفتگو کے نتیجے میں اردو ادب کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی کم و بیش تمام تر زبانوں کے عصری ادب کی رفتار اور صورت حال کا بھر پور انداز میں احاطہ ہوگیا۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon حالی اورشبلی اردوادب کے دو روشن دماغ – – – تلنگانہ یونیورسٹی میں اردوسمینار

telengana

حالی اور شبلی اردو ادب کے دو روشن دماغ

شعبہ اردو تلنگانہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام دوروزہ قومی اردو سمینار
ڈاکٹرسید تقی عابدی اورپروفیسر مظفرعلی شہہ میری کا خطاب

نظام آباد : حالی اور شبلی ہندوستان ہی کے نہیں بلکہ عالمی سطح کے دو روشن دماغ ہیں۔سرسید کے ان رفقائے کاروں نے انیسویں صدی میں خواب غفلت میں ڈوبی قوم کو اپنی تحریروں سے جگایا اور اپنے شعری و ادبی کارناموں سے نہ صرف اپنے دور کو بلکہ آنے والے زمانے میں بھی لوگوں کو سماجی اور تہذیبی مسائل کے حل کی راہ دکھائی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حالی اور شبلی کی فکر کو عام کیا جائے اور عہد حاضر کی تہذیبی وسماجی زندگی میں ان کے افکار اور کارناموں سے روشنی حاصل کی جائے۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon حیدرآباد میں اردو نثرکی ترقی وترویج بیسویں صدی کے تناظر میں ۔ ۔ محمد محبوب

اردو نثر

حیدرآباد میں اردو نثر کی ترقی و ترویج بیسویں صدی کے تناظر میں
گورنمنٹ ڈگری کالج ظہیر آباد میں منعقدہ ایک روزہ قومی اُردو سمینار

رپورتاژ: محمد محبوب ‘ریسرچ اسکالر
یونیورسٹی آف حیدرآباد

جس طرح ہند وستان کے نقشہ میں ادبی علمی اور تہذیبی اعتبا ر سے دہلی اور لکھنو کو منفرد طرہ امتیاز حاصل ہے اور یہ دونوں شہر اردو ادب کی تاریخ میں دبستانِ دہلی اور دبستانِ لکھنوکے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ اسی طر ح تلنگانہ کے نقشہ میں’ حیدرآباد‘ کو بھی علمی ‘ ادبی ‘ تہذیبی اور فروغ اردو کے اعتبار سے ایک منفرد مقام حاصل ہے ۔ بہت کم شہر علمی وادبی طور پر اتنے ما لا مال ہو تے ہیں کہ ان کے آگے با دشاہوں کے خزانے بھی ہیچ معلوم ہو تے ہیں۔شہرحیدر آباد جسے’ اردو کے شہر‘ کے نام سے بھی جانا جاتاہے۔ ابتداء ہی سے حیدرآباد کی سرزمین اردو ادب کے لئے بہت زرخیز ثا بت ہوئی ہے۔ اسی سرزمین نے کئی ایسے نامور افسانہ نگار ‘ شاعر اور صحافی پیدا کئے جنہوں نے سا ری دنیا میں اپنا اور اپنے وطن کا نام روشن کیا ۔
مزید پڑھیں »

سوشل میڈیا



تلاش
آپ کی رائے؟

جہان اردو کا کونسا/کونسے ورژن آپ ملاحظہ فرماتے ہیں؟

  • نوٹ :ایک سے زائد جواب دینے کی گنجائش ہے

View Results

Loading ... Loading ...
اردو آمیز- طریقہ کار
اگر آپ کو جہان اردو کا نستعلیق میں مشاہدہ کرنا ہو یا اپنے کمپیوٹر پر اردو میں ٹائپ کرنا چاہتے ہیں؟ہاں؟! تو یہاں سے نستعلیق فونٹ اور کی بورڈ ( کلیدی تختہ ) ڈاؤن لوڈ کریں ِ

Windows XP اور Windows 7 اردو آمیز کرنے کا طریقہ کار
موبائل ایپ – Apps
Download from Amazon App Store
Scan the QR-Code to download Android App
Scan the QR-Code to download iPhone App
محفوظات
مقبول ترین مضامین
نیوز لیٹر
نئے مضامین آنے پر مطلع ہونا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں!تو اس فارم کو پُر کریں۔
محفوظات
↓