محفوظات برائے ‘تحقیق و تنقید’ زمرہ

PostHeaderIcon تحریکِ آزادی اور اُردو ادب : – حارث حمزہ لون

حارث حمزہ لون

تحریکِ آزادی اور اُردو ادب

حارث حمزہ لون
ریسرچ اسکالر۔ شعبہ اُردو
دیوی اہلیہ وشودھیالیہ اندور (ایم۔پی )

انیسویں صدی میں عالمی سطح پر زندگی کے تقریباً تمام شعبوں میں تغیر و تبدل اپنے عروج پر تھا خاص طور پر سیاسی اور جغرافیائی منظر نامے میں بدلاؤ سماجی ، معاشرتی اور تہذیبی کیلئے زبردست محرک ثابت ہوا ۔ اس صورتحال میں یورپ اور اشیاء کے بہت سارے ممالک دوسرے ممالک کے زیر تسلط آگے ۔ ایسے میں بر صغیر ہندو پاک برطانوی راج کے زیرنگین مسلسل کئی صدیوں تک درد و پکار ، آہ و سسکیوں اور ظلم و جبر کی چکی میں پستا رہا ۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon اقبال اور ٹیگور میں یکسانیت : – محمد ریحان

محمد ریحان

اقبال اور ٹیگور میں یکسانیت

محمد ریحان
ریسرچ اسکالر، جامعہ ملیہ اسلامیہ

ہندوستان کی ادبی روایت بہت مضبوط اور توانا رہی ہے۔ادبیات عالم میں ہندوستانی ادب کو بڑی رشک اور عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہاہے۔ یہاں کی ادبی سر زمین کافی زرخیز اور ہری بھری رہی ہے۔اس طرح کی مثال خال خال ہی ملتی ہے کہ ایک ہی ملک کے اندرایک ہی عہد میں بیک وقت دو مختلف زبانوں کے عالمی سطح کے دو شاعر پیدا ہوئے ہوں۔ یہ شرف ہندوستان کو حاصل ہے ۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon حمایت اللہ : دکنی لب و لہجہ کا نامور شاعر : – ڈاکٹر عظمت اللہ

حمایت اللہ

حمایت اللہ 
دکنی لب و لہجہ کا نامور شاعر

ڈاکٹر عظمت اللہ
اسسٹنٹ پروفیسراردو
ناگرجنا گورنمنٹ ڈگری کالج ۔ نلگنڈہ

محمد حمایت اللہ ۲۵/ دسمبر ۱۹۳۲ ؁ء کو ایک متوسط گھر انے میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد کا نام غلام مرتضٰی تھا جو حیدرآباد کی فو ج میں کیپٹن کے عہدہ پر فائز تھے ۔ ان کی ابتدائی تعلیم سینٹ پیٹرک اسکول، حیدرآباد میں ہوئی ۔ کم عمر ہی میں والد کا انتقال ہوگیا جس کی وجہ سے تعلیم جاری نہ رکھ سکے ۔
حمایت اللہ صاحب کی شادی ۱۹۷۴ ؁ء میں اردو کی استاد مشہور مزاح نگار ڈاکٹر رشید مو سو ی سے ہوئی۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon سماجی زندگی پر صوفیائے کرام کے اثرات : – پروفیسر سید محمود قادری


سماجی زندگی پر صوفیائے کرام کے اثرات

پروفیسرابوالفضل سید محمود قادری
سابق صدر شعبہ اردو
عثمانیہ یونیورسٹی پی جی کالج حیدرآباد

نوٹ : پروفیسر سید محمود قادری مرحوم کا یہ مضمون ڈاکٹر محمد عطا اللہ خان کی کتاب مقالات محمود قادری سے لیا گیا ہے۔

اسلام میں تصوف مذہبی زندگی کا وہ طریقہ ہے جس میں عبادت دریافت کے ساتھ ساتھ تزکیۂ نفس اور روح پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ اس طریق یا منہاج کی غرض و غایت بجز اس کے کچھ اور نہیں کہ روحانی کیف و حسرت حاصل ہو۔ تصوف اور اس کے متعلقات پر ایک عام اعتراض یہہ کیا جاتا ہے کہ اس نے بے عملی کو فروغ دیا اور رہبانیت کی جانب انسانی فکر کو مبذول کیا ہے۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon مجازؔ کی شاعری ۔ ایک مطالعہ : – چودھری امتیاز احمد

مجازؔ لکھنوی

مجازؔ کی شاعری ۔ ایک مطالعہ

چودھری امتیاز احمد
شعبۂ اردو الہ آباد یونیورسٹی

مجازؔ 19اکتوبر1911ء میں ضلع بارہ بنکی کے مشہور قصبہ ردولی کے خواجہ محل میں پیدا ہوئے۔ مجازؔ ابتدائی تعلیم کے بعد 18سال کی عمر میں آگرہ آگئے تھے۔ انھوں نے 1929ء میں سینٹ جانس کالج آگرہ میں ایف ایس سی میں داخلہ لیا۔ آگرہ میں ان کا قیام ان کی ادبی زندگی کے لئے بہت اہم ثابت ہوا۔ فانیؔ کا پڑوس نصیب ہوا۔ جذبیؔ کے ہم جماعت تھے۔ آل احمد سرور بھی اس زمانے میں اسی کالج میں زیر تعلیم تھے جو مجازؔ اور جذبی سے ایک سال سینئر تھے۔ میکش اکبر آبادی سے بھی گہری مراسم تھے۔ حامد حسین قادری مرحوم نے وہاں انجمن ترقی اردو کی شاخ قائم کر رکھی تھی۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon زبیر رضوی کی یاد میں : – محمد ریحان

زبیر رضوی

زبیر رضوی کی یاد میں
وہ موسم جاچکا جس میں پرندے چہچہاتے تھے

محمد ریحان
جامعہ ملیہ اسلامیہ

پچھلے دو سالوں میں بڑی بڑی ہستیاں ہم سے اچانک اور ہمیشہ کے لئے جدا ہو گئیں۔ موت سے کوئی شکایت نہیں اور ہو بھی نہیں سکتی ۔یہ دنیا کا سب سے بڑا سچ ہے۔کیا مومن اور کیا کافر سبھی اس سچائی کو تسلیم کرنے پر مجبور اور بے بس ہیں کہ جو بھی یہاں آتا ہے اسے ایک دن جانا ہی ہوتا ہے۔ آنے جانے کا سلسلہ تا قیامت جاری رہے گا۔لیکن کسی کے ہمارے درمیان سے اچانک بچھڑ جانے کااتنا ملال کیوں ہوتا ہے۔کچھ انسان در اصل سایہ دار درخت کی مانند ہوتے ہیں۔ ایک سایہ دار درخت کی اہمیت ایک راہ گیرجانتا ہے۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon مطالعہ کبیرؔ : ’’پیغمبران سخن‘‘ کے حوالے سے : – عبدالحفیظ خان


مطالعہ کبیرؔ : ’’پیغمبران سخن‘‘ کے حوالے سے

عبدالحفیظ خان
ریسرچ اسکالر ۔ دہلی یونیورسٹی

’’کبیربانی‘‘ اور بالخصوص اس کے دیباچے میں کبیرؔ اور ان کے کلام کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ جس کا مطالعہ کرتے ہوئے سب سے پہلے سردار کے اس نظریہ سے ہمارا سامنا ہوتا ہے:۱؂
’’بڑی شاعری کی یہ عجیب وغریب خصوصیت ہے کہ وہ اکثروبیشتر اپنے خالق سے بے نیاز ہو جاتی پھر اس کے وجود سے شاعر کا وجود پہچانا جاتا ہے۔کیوں کہ اس کی زندگی کے حالات گذرے ہوئے زمانے کے دھندلکے میں کھو جاتے ہیں اور واقعات افسانے کا لباس پہن لیتے ہیں‘‘۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon پروین شاکر: چراغ بجھتے رہے اور خواب جلاتی رہی : – عزہ معین

پروین شاکر
چراغ بجھتے رہے اور خواب جلاتی رہی

عزہ معین ،سنبھل

ادب کی پرکھ رکھنے والے عظیم شعراء ومصنفین نے ثابت کیا ہے کہ شاعر تلامیذ الرحمن ہوتا ہے ۔شاعری خداداد صلاحیت ہوتی ہے ۔ ذات کا عرفان حاصل ہونے پر ہی شاعر کو عروج وزوال ، واقعات و حادثات اور سسکتی جوانیوں کی عکاسی کرنے کا فن آتا ہے ۔ معاشرے کی زندگی کا فلسفیانہ مطالعہ اور ذات سے وابستگی کی تعبیر و تفہیم ادب کا خاص پہلو ہے جس کا بیان شاعری اور دیگر تخالیق میں قلم کے ذریعے کیا جانا ہی ادب کہلاتا ہے ۔قلم کار کا گہرا شعور اور احساس اسے سماج میں ہورہے واقعات کی طرف عام افراد سے زیادہ متوجہ کرتا ہے اور ایک ذمہ دار شاعر اپنا فرض ادا کرتے ہوئے روایت کی پاسداری اور سوئے ہوئے اذ ہان کو جگانے کا کام کرتا ہے ۔شاعر کی نوک قلم سے وہی کچھ بیان ہوتا ہے جس کا اس کی زندگی پر اثر پڑا ہو ۔جس سے وہ متاثر ہوا ہو ۔پھر چاہے وہ واقعات اس سے وابستہ نہ ہوں لیکن کسی نہ کسی طور سے اس پر یا اس کے ذہن پر اثر ضرور ڈالتے ہیں ۔شاعر واقعات کی مکمل رپورٹ بڑے پر اثر انداز میں قاری کے گوش گزار کر دیتا ہے۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon عہدِ قطب شاہیہ میں دکنی زبان و ادب کا ارتقاء : – پروفیسرابوالفضل سید محمود قادری


عہدِ قطب شاہیہ میں دکنی زبان و ادب کا ارتقاء

پروفیسرابوالفضل سید محمود قادری
سابق صدر شعبہ اردو
عثمانیہ یونیورسٹی پی جی کالج حیدرآباد

کسی بھی ملک کی تہذیبی اور ثقافتی ترقی میں اس خطہ کی زبان اور ادب کا اہم رول رہتا ہے۔ زبان و ادب جس حد تک معیاری ہوں گے، تہذیب اور ثقافت کے معیارات بھی اسی درجہ بلند ہوں گے۔ یوں تو دکنی زبان کی تشکیل گیارہویں صدی ہجری میں ہوچکی تھی ۔ لیکن اِس نئی زبان نے بہت جلد اپنے اطراف و اکناف کے بہت سارے علاقوں کو مسخر کر لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنے ادبی دور میں داخل ہوگئی۔ اس مرحلہ پر یہہ زبان صوفی بزرگوں اور مذہبی رہنماؤں کی سرپرستی میں پروان چڑھتی رہی، جنہوں نے اس کو اپنے اور عوام کے درمیان ایک وسیلہ کی زبان بنایا ۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon علاّمہ اقبالؔ کا نظریہ تعلیم : – ڈاکٹر سید اسرارالحق سبیلیؔ

نظریہ تعلیم
علاّمہ اقبالؔ کا نظریہ تعلیم

ڈاکٹر سید اسرارالحق سبیلیؔ

09346651710

ڈاکٹر سرمحمد اقبالؔ (۱۸۷۷۔۱۹۳۸ء)شاعر مشرق ، مفکّر اور فلسفی شاعر کی حیثیت سے دنیا ئے ادب میں مشہور ہیں، اقبالؔ نے اپنی فکر و فلسفہ میں تعلیم و تربیت کو خاص طور سے شامل کیا ہے، انہوں نے تعلیم کی فنیّ اور عملی صورتوں پر غور کیا، مسائل تعلیم کو اپنی توجہ کا مر کز بنا یا اور اسے اپنے فلسفۂ حیات میں مناسب جگہ دی ہے، اقبال نے اپنے عہد کے نظام تعلیم کا گہر ائی سے مطالعہ کیا ، اور اس پر تنقیدی نظرسے جا ئز ہ لیا ہے، انہوں نے مد رسہ ، طلبہ، اسا تذہ اور نصاب تعلیم پر اظہار خیال کیا ہے-
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon دکن کے ممتاز محقق پروفیسر محمد علی اثرؔ : – ڈاکٹرعزیز سہیل

پروفیسر محمد علی اثرؔ

دکن کے ممتاز محقق پروفیسر محمد علی اثرؔ

ڈاکٹرعزیز سہیل
لیکچرار ایم وی ایس گورنمنٹ ڈگری کالج محبوب نگر

حیدرآباد دکن کی سرزمین سے ایسے نامور شخصیات پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے اردوادب میں اپنے تخلیقی کارناموں کی بناپرشہرت حاصل کی ہے اوراردو کے سرمایہ میں بے انتہا اضافہ کیا ہے۔ ان نامور شخصیات میں ایک نام جامعہ عثمانیہ کے فرزند پر وفیسر محمد علی اثرؔ کا بھی ہے۔جنہوں اردو شعر وادب میں وہ کارہائے نمایاں خدمات انجام دے ہیں جس کی بدولت اردو دنیا ان کو صدیوں تک یاد رکھے گی۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon اقبال اور سید قطب کی ادبی خدمات ۔ ایک جائزہ : – فیاض احمد وانی

فیاض احمد وانی

اقبال اور سید قطب کی ادبی خدمات ۔ ایک جائزہ

فیاض احمد وانی
ریسرچ اسکالر
رابطہ: اقبا ل انسٹی ٹیو ٹ آف کلچر اینڈ فلاسفی کشمیر یونیورسٹی
فو ن نمبر 9858319484 0

فکری وادبی دنیا میں وقتاً فوقتاً ایسے مفکرین اور عبقری شخصیات پیدا ہوئیں جن کی وساطت سے اعلیٰ فکری وادبی ماحول پروان چڑھتا رہا۔ ادباء اور مفکرین کے افکار وخیالات سے ہی ادبی دنیا اپنے پروں کو پھیلاتی ہے ۔ اردو ادب اور عربی ادب کے درمیان گہراتعلق پایا جاتا ہے۔ اردو ادب کے اکثر شعراء ،ادباء اور مفکرین عربی ادب سے کافی متاثر رہے ہیں۔ اسی طرح دور جدید میں عربی شعراء وادباء بعض اردو شعراء سے متاثر نظر آتے ہیں۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon اعلی تعلیمی نظام اور لڑکیوں کا استحصال : حقیقت یا فسانہ – عزہ معین

عزہ معین

اعلی تعلیمی نظام اور لڑکیوں کا استحصال
حقیقت یا فسانہ

عزہ معین ۔سنبھل

نوٹ : گزشتہ دنوں جناب شموئل احمد کا ایک افسانہ ‘‘ لنگی ’’ سوشیل میڈیا پر کافی مقبول ہوا ۔ اس افسانے پر مباحث ہوے ۔ افسانہ نگار نے جامعات میں خواتین ریسرچ اسکالرز کا جو استحصال ہوتا ہے اسے بے باکی سے بیان کیا ہے مگر افسانہ پڑھنے کے بعد ایک غلط تاثر یا پیغام یہ بھی پہنچنے لگا کہ کیا جامعات میں تمام خواتین اسکالرز کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے؟ کیا تمام اسکالرز اسی زمرے میں شامل ہیں؟اب تک جن خواتین نے ڈاکٹریٹ حاصل کی ہے کیا انہیں بھی ان ہی مراحل سے گزرنا پڑا ؟ عزہ معین‘ صاحبہ عصر حاضر کی ریسرچ اسکالر ہیں ۔اس افسانے کی دہشت سے یہ اور ان جیسی کئی اسکالرز شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ آیا ہمیں ریسرچ کرنا چاہیے یا نہیں ؟ ان تمام سوالات کو عزہ معین صاحبہ نے اپنے مضمون میں ائھاے ہیں ۔ ملاحظہ کریں۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon اردو زبان و ادب کی ترقی ارو جدید ادب ڈاٹ کوم : – قریشی زیتون بانو

قریشی زیتون بانو

اردو زبان و ادب کی ترقی ارو جدید ادب ڈاٹ کوم

قریشی زیتون بانو
جز وقتی لکچرر ٗ مہاراشٹرا اودے گری کالج ٗ
اودگیر۔ضلع لاتور413517
Mob:09766276437

ادب بنیا دی طور پر عوام میں تخلیق پاتا ہے ٗ عوام کے لیے تخلیق پاتا ہے اور عوام کے لیے ہوتا ہے۔ علمی تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اہلِ قلم ہر زمانے میں ذہن ساز رہے ہیں ۔ذہن سازی کے اس عمل میں سائینس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت اور افادیت سے انکار ممکن نہیں ٗ کیو نکہ موجودہ دور الیکٹرونک کا دور ہے ۔جس نے سائنس ٗ ادب ٗ سماج ٗ سیاست ٗ تعلیم ٗ تجارت ٗ معیشت اور طب کی دنیا میں انقلاب بر پا کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon بیسویں صدی عیسوی کے اہم ادبی رجحانات : – عبدالحفیظ خان

بیسویں صدی عیسوی کے اہم ادبی رجحانات

عبدالحفیظ خان
ریسرچ اسکالر شعبہ اردو، دلی یونیورسٹی
09555248828

ہمارے لیے اس عہد یااس صدی کی ادبی رجحانات کا جائزہ لینے سے قبل اس عہد کی سیاسی،سماجی اور تہذیبی پس منظر کا جائزہ لینا ناگزیر بن جاتا ہے جن میں یہ مخصوص رجحان پروان چڑھ رہا تھا۔ساتھ ہی ہمیں اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ یہ رجحانات اچانک معرض وجود میں نہیں آتے بلکہ ان کے بننے اور پروان چڑھنے میں ایک طویل عرصہ درکار ہے لہٰذا جب ہم ہندوستانی تاریخ کو ذرا پیچھے جا کر دیکھتے ہیں توہمیں ایک اہم سنگ میل نظر آتا ہے اور وہ ہے ۱۸۵۷ء ۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon خلیل الرحمن اعظمی ادب کے آئینے میں : – چوہدری امتیازاحمد

خلیل الرحمن اعظمی ادب کے آئینے میں

چوہدری امتیازاحمد
ریسرچ اسکالرشعبہ اردو الٰہ آباد یونیورسٹی
موبائل : 09797549196

اردو شعر وادب میں خلیل الرحمن اعظمی کا نام بھی سر فہرست ہے ،خلیل الرحمن اعظمی ایک جدید غزل گو شاعر ہیں جو ابتداء میں ترقی پسند تحریک سے تعلق رکھتے تھے لیکن بعد میں جدیدیت سے جڑ گئے ۔ خلیل الرحمن اعظمی مشرقی یوپی کے ایک ممتاز علمی و دینی گھرانے کے چشم وچراغ تھے۔ان کی پرورش وپرداخت گہرے مذہبی ماحول میں ہوئی تھی۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon انسان اور سماج : – محمد ریحان

محمد ریحان

انسان اور سماج
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

محمد ریحان ‘ ریسرچ اسکالر
جامعہ ملیہ اسلامیہ

انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ تنہا نہیں رہ سکتا.یہ اس کی فطرت کا تقاضہ ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان رہے.انسان کے اندر انسانی خصائص اور خصلتیں سماج کے اندر رہ کر ہی پیدا ہوتی ہیں.تقریبا تمام ماہرین سماجیات کا ماننا ہے کہ انسان اور سماج کے بیچ ایک گہرا رشتہ ہے.انسان سماج کے بغیر نا مکمل ہے. اس کی شخصیت کی تعمیر لوگوں کے درمیان رہ کر ہی ہوتی ہے.سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سماج اور معاشرہ میں رہ کر پیدا ہوتی ہے. اسی طرح سماج کے وجود کے لئے انسان کا ہونا ضروری ہے.
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon جامعات میں اردوو تحقیق کی صورت حال : – محمد سلیمان حجام

عصرِحاضر میں
جامعات میں اردوو تحقیق کی صورت حال

محمد سلیمان حجام
ریسرچ فیلو،پنجابی یونیورسٹی ،پٹیالہ

اردو زبان و ادب کی تعمیر و ترقی کے سلسلے میں اس وقت ملک کے طول و عرض میں آئے دن ریاستی ،ملکی اوربین الاقوامی سطح پر کانفرنس،سیمیناراور تربیتی کورس منعقد کئے جاتے ہیں۔جن میں مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے کہنہ مشق محققین،ناقدین، تخلیق کار اور ذی شعور شخصیات شرکت کرکے اپنے تجربات ،تاثرات اور تجاویز پیش کرتے ہیں۔ اردوتحقیق کے سلسلے میں تقریباًان سبھی تاثرات میں ایک ہی بات مشترکہ ہوتی ہے کہ عصرِ حاضر جوسائنس اور تکنالوجی کا دور کہلاتا ہے –
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ لاجونتی ایک تجزیاتی مطالعہ : – گلشن جہاں

گلشن جہاں

راجندر سنگھ بیدی کا شاہکار افسانہ
لاجونتی ایک تجزیاتی مطالعہ

گلشن جہاں ۔ سنبھل

افسانہ اردو نثر کی سب کی سب سے مقبول ترین صنف ہے جس کو انگریزی زبان میں Short story کہا جاتا ہے۔افسانے سے مراد ایسی نثری کہانی سے ہے،جس میں کسی شخص کی زندگی کا ایک اہم اور دلچسپ پہلو پیش کیا جائے،جس میں ابتداء،ارتقاء او ر خاتمہ ہو۔لیکن افسانے کا فن اتنا آسان نہیں ہے کچھ معیارات ہیں جو افسانے کی کامیابی کی راہ ہموار کرتے ہیں ،افسانہ مختصر لیکن جامع اور مربوط پلاٹ کے تحت تخلیق کیا جا نا چاہئے۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon ’’ گدھے کی سرگذشت ‘‘ ایک طنزیہ ومزاحیہ ناول : – فیاض حمیدؔ

فیاض حمیدؔ

’’ گدھے کی سرگذشت ‘‘ایک طنزیہ ومزاحیہ ناول

فیاض حمیدؔ – ریسرچ سکالر
ڈاکٹر ہری سنگھ گور سنڑل یونیورسٹی – ایم۔پی
– 08602147215

اردو ادب میں ناول نے صحیح معنوں میں بیسویں صدی میں اپنی حیثیت مستحکم کی لیکن اس کے ابتدائی نقوش انیسویں صدی میں ہی سامنے آچکے تھے ۔طنز ومزاح کے میدان میں انیسویں صدی کا دور اصل میں ’’اُودھ پنچ ‘‘ کا تھا۔لیکن اس کے طنزومزاح کی نوعیت زیادہ تر صحافتی اور سطحی تھی ۔اس صدی کے کچھ ممتاز ادیبوں نے ناول بھی لکھے اور طنز ومزاح سے بھی کام لیا ۔جن میں ڈپٹی نذیر احمد ،رتن ناتھ سر شار ،منشی سجاد حسین اور نواب محمد آزاد وغیرہ شامل ہیں۔
مزید پڑھیں »

سوشل میڈیا



تلاش
آپ کی رائے؟

جہان اردو کا کونسا/کونسے ورژن آپ ملاحظہ فرماتے ہیں؟

  • نوٹ :ایک سے زائد جواب دینے کی گنجائش ہے

View Results

Loading ... Loading ...
اردو آمیز- طریقہ کار
اگر آپ کو جہان اردو کا نستعلیق میں مشاہدہ کرنا ہو یا اپنے کمپیوٹر پر اردو میں ٹائپ کرنا چاہتے ہیں؟ہاں؟! تو یہاں سے نستعلیق فونٹ اور کی بورڈ ( کلیدی تختہ ) ڈاؤن لوڈ کریں ِ

Windows XP اور Windows 7 اردو آمیز کرنے کا طریقہ کار
موبائل ایپ – Apps
Download from Amazon App Store
Scan the QR-Code to download Android App
Scan the QR-Code to download iPhone App
محفوظات
مقبول ترین مضامین
نیوز لیٹر
نئے مضامین آنے پر مطلع ہونا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں!تو اس فارم کو پُر کریں۔
محفوظات
↓