طفلِ مرکوز تعلیم اور عظیم مفکر روسو :- محمد قمر سلیم

محمد قمر سلیم

طفلِ مرکوز تعلیم اور عظیم مفکر روسو
(Child Centered Education and Great Philosopher Rousseau)

محمد قمر سلیم
ایسوسی ایٹ پروفیسر
انجمنِ اسلام اکبر پیر بھائی کالج آف ایجوکیشن
واشی ، نوی ممبئی

اٹھارھویں صدی میں فرانس کے حالات بہت زیادہ خراب تھے۔ اس زمانے میں ہر طرف افرا تفری کا عالم تھا ۔ انسان انسان کے وجود کو ختم کرنے پر تلا ہوا تھا۔ذہن کند ہو چکے تھے اور ظالم ظلم میں سبقت حاصل کرنے کی دوڑ میں لگے ہوئے تھے۔ بد عنوانی، سماجی گراوٹ ، تعلیمی نظام کی پستی ، عورتوں کی عزت کے ساتھ کھلواڑ اس وقت کی خصوصیات بن گئی تھیں۔

حکومت میں بیٹھے ہوئے آقا طاقت کے نشے میں اتنے مدہوش تھے کہ اپنے آپ کو خدا سمجھ بیٹھے تھے۔ ان حالات میں اگر سب سے زیادہ کسی پر مضر اثرات پڑے تو وہ قوم کے نو نہال تھے۔ جین جیکس روسو ایک ایسا مفکر تھا جس کی تحریروں نے فرانس میں انقلاب پیدا کر دیا وہ اپنی تحریروں کی بنا پر مسیحا بن کر ابھرا۔ شروع میں تو لوگ اسے پاگل دیوانہ کہتے تھے لیکن آہستہ آہستہ اس کی تحریریں لوگوں کے لیے روح افزا بن گئیں۔
روسو جنیوا میں ۲۸ جون ۱۷۱۲ کو پیدا ہوا تھا۔پیدا ہوتے ہی اس کی ماں کا سایہ اس کے سر سے اٹھ گیا تھا۔ اس کے باپ اور سوتیلی ماں نے اس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔جس کے نتیجے میں وہ آوارہ لڑکو ں کی طرح زندگی گزارنے لگا اور در در بھٹکنے لگا۔وہ جہاں جاتا اسے ہر طرف حالات خراب ہی نظر آتے۔ فرانس میں اس وقت ہر طرف جھوٹ کا بول بالا تھا۔ ظالم کی ستائش ہوتی تھی اور مظلوم کو دبایا جاتا تھا۔امیروں کی باتیں پتھر کی لکیرہوتی تھیں۔ چور ڈاکو ، مکار و بدکار لوگ سڑکوں پر گھومتے تھے اور شریف انسان منھ چھپائے پھرتا تھا۔ حکومت کے آقاؤں کے یہاں مظلوم کی شنوائی نہیں ہوتی تھی کیوں کہ بادشاہ سے لیکر ملازم تک بد عنوان تھا۔ روسو یہ سب کچھ برداشت نہیں کر سکا اور اس نے اپنی تحریروں سے بغاوت کابگل بجا دیا اور اپنی تحریروں کے ذریعے مردہ سماج میں روح پھونکنے کی کوشش کی۔وہ ان کوششوں میں اتنا آگے بڑھ گیا کہ اس نے سماج کو ہی ایک لازمی برائی قرار دے دیا اور لوگوں کو فطرت کی طرف لوٹنے کی تلقین کرنے لگا۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ سماج لازمی طور پر برا ہے کیوں کہ سماج کی بنا پر ہی آدمی انسان یا حیوان کہلاتا ہے۔ ضرورت ہے سماج میں اصلاح کی۔ اس عظیم مفکر کی وفات ۲ جولائی ۱۷۷۸ ارمینون ولے ، فرانس میں ہو ئی۔ روسو کی تحریروں کا ہی نتیجہ ہے کہ ۱۸۷۹ میں فرانس کا عظیم انقلاب، جسے ہم فرینچ ریولیوشن (French Revolution) کے نام سے جانتے ہیں، رونما ہوا۔
روسو نے نہ صرف اس وقت کے سیاسی حالات کی مخالفت کی بلکہ دنیا کو ایک نیا سیاسی اور تعلیمی نظام دیا ۔ اس نے اپنے تعلیمی نظام میں سب سے زیادہ اہمیت ’بچے ‘ کو دی۔اس کے مطابق بچہ اس دنیا کی تمام کارروائیوں کا محور ہے۔ اللّہ تعلیٰ نے جو کچھ بھی پیدا کیا ہے بچہ اس کا اہم ستون یا مرکز ہے اس لیے جو کچھ بھی کیا جائے وہ بچے کی شخصیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کرنا چاہیے۔وہ کہتا تھا کہ بچے کی اچھی پرورش سماج میں نہیں ہو سکتی کیوں کہ سماج ایک برائی ہے اس لیے لوگوں کو فطرت کی طرف لوٹ جانا چاہئے۔ اسی لیے اس نے ’گو بیک ٹو نیچر‘ (Go back to Nature)کا نعرہ لگایا۔روسو کا کہنا تھا کہ اللّہ تعلیٰ نے اس دنیا کو بنایا ہے اس نے ہی انسان کو پیدا کیا اور بچہ اپنے ساتھ اس ہی کی صفات لیکر آتا ہے اور وہ بہت پاک صاف ہو تا ہے لیکن جیسے جیسے وہ سماج کے دائرے میں آتا ہے برائیاں اس میں گھر کرنا شروع کر دیتی ہیں۔بنیادی طورپر انسان فطرت کے بہت قریب ہے اس لیے اسے فطرت کے آغوش میں رہ کر ہی پرورش پانا چاہیے اور فطرت کے مطابق ہی زندگی گزارنا چاہیے-
بچے کی تعلیم سے متعلق روسو کا اہم پہلو ہے بچے کی انفرادیت۔ روسو کہتا ہے انفرادی طور پر ہر بچہ ایک دوسرے سے الگ ہوتا ہے کیوں کہ اللّہ تعلی نے ہر بچے کو الگ الگ صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے تو پھر ہم کیوں فطرت کے خلاف جاتے ہیں۔بچے کو وہی کرنے دینا چاہیے جس میں وہ دلچسپی لیتا ہے اور جس طرف اس کا رجحان ہے ۔ ہمیں اپنی مرضی اس پر نہیں تھوپنا چاہیے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ والدین بچے کی ولادت کے ساتھ ہی بڑے بڑے منصوبے بنا نا شروع کر دیتے ہیں۔ آج ماں باپ اپنے بچے کو ڈاکٹر ، انجینیر بنانے کے تانے بانے بننے لگتے ہیں بنا یہ دیکھے اور سمجھے کہ ان کے بچے میں اتنی صلاحیت ہے بھی یا نہیں لیکن وہ ہر قیمت پر یعنی پیسہ اور رسوخ کی بناپر اسے ڈاکٹر یا انجینیر بناتے ہیں جس کے نتیجے میں بدعنوانی کو تقویت ملتی ہے اور ہونہار اور با صلاحیت بچے محروم رہ جاتے ہیں ۔
اس کے مطابق علم کا جمع کرنا یا اطلاع دینا تعلیم نہیں ہے۔ تعلیم وہی ہے جسے بچہ خود دلچسپی کے ساتھ سیکھے اور کرے۔ تعلیم کا مطلب ہے بچے کی خدا داد صلاحیتوں کی بھر پور نشوو نما کرنا ۔ استاد کو بچے کو اسباق پڑھنا نے سے زیادہ بچے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بچے سے یہ کبھی نہیں کہنا چاہیے کہ تم ایسا کرو یا نہ کرو بلکہ بچے کو ماحول میں رہ کر تعلیم دینا چاہیے ۔ اسے ہر چیز کا تجربہ کرنا چاہیے۔ اگر وہ آگ کو بھی چھونا چاہے تو روکنا نہیں چاہیے بلکہ اسے اس کا تجربہ کرنا چاہیے جب وہ تجربہ کرے گا تب ہی اسے آگ کی حقیقت معلوم ہوگی اور اسے معلوم ہو جائے گا کہ آگ سے جل جاتے ہیں اس لیے وہ دوبارہ آگ کو نہیں چھوئے گا۔ اس نے بچے کی تعلیم میں فطری پہلوؤں کو زیادہ اہمیت دی۔ اس کا ماننا تھاکہ فطرت کے نظام میں کمی ہو ہی نہیں سکتی یا فطرت کی کوئی بات غلط ہو ہی نہیں سکتی اسی طرح اس کی پیدا کی ہو ئی چیزوں میں خرابی نہیں ہو سکتی ۔ اس میں خرابی انسان کی مداخلت سے ہوتی ہے اسی بات کو وہ بچے پر بھی لاگو کرتا ہے۔ بچہ دنیا میں برائیوں سے پاک آتا ہے لیکن سماج اس کے اندر برائیاں پیدا کر دیتا ہے۔ اس لیے وہ کہتا کہ بچے کی تعلیم میں استاد کا رول محدود ہونا چاہیے ۔ اسے اس کی رہمنائی کرنا چاہیے مداخلت نہیں۔
روسو کو بچہ اتنا عزیز تھا کہ اس نے ایک فرضی لڑکے کا نام ’ایملی‘ (EMILE) رکھ دیا اور اسی نام سے کتاب لکھ دی۔اس کے مقابلے میں ایک فرضی لڑکی کا نام سوفی(SOPHY) رکھ دیا۔اس کتاب میں اس نے بچوں کی پرورش کے بارے تفصیل سے لکھا ہے۔اور نوزائدہ سے لیکر سنِ بلوغت پے پہنچنے تک بچوں کو چار ادوار میں بانٹ دیا۔
پہلا دور نوزائدہ کا ہے یعنی پیدائش سے پانچ سال تک، اس عمر میں ماں باپ کی ذمے داری ہے کہ بچے کو تمام سہولیات فراہم کی جائیں ۔اسے آرام دہ کپڑے پہنائے جائیں۔ اس کے اوپر کوئی پابندی نہ لگائی جائے یعنی اس میں کسی بھی عادت کو فروغ نہ دیا جائے لیکن آج کے ماں باپ کے سامنے سب سے زیادہ فکر کی بات تعلیم کی ہے۔ بچہ پیدا ہوتا ہے اور وہ اسکول کی تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے نازک کندھوں پے بھاری بھاری بستوں کا بو جھ ڈال دیا جاتا ہے جبکہ اس کے نازک کندھے اس کو اٹھانے کے لایق نہیں ہیں۔ اسے اسکول اوربستوں کے بندھن میں نہیں باندھنا چاہیے ۔ اور اس پورے عمل میں ہم بچوں کا بچپن چھین لیتے ہیں ۔
دوسرا دور بچپن کا ہے جو پانچ سے بارہ سال تک رہتا ہے۔ اس کے مطابق یہ دور خواہشات کا دور ہے۔اس سے کسی خواہش کی وجہ نہیں پوچھنا چاہیے کیوں کہ وہ وجوہات سے غافل رہتا ہے اور اسے غفلت میں ہی رہنے دینا چاہیے ۔ عام طور سے دیکھا گیا ہے کہ اس عمر میں بچے اپنی ہی دنیا میں رہتے ہیں وہ جو بھی کام کرتے ہیں ا س کی وجہ انھیں خود نہیں معلوم ہوتی ہے بس اچھا لگتا ہے اور انھیں تسکین ملتی ہے اور وہ اس میں خوش رہتے ہیں۔ دیکھا یہ گیا کہ ماں باپ اس عمر میں بھی ان سے اسکول میں ہونے والی کارکردگی کے بارے میں ہی سوالات کرتے ہیں وہ یہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتے کہ ان کے دل میں کیا ہے اور ان کی خواہشات کیا ہیں بلکہ اپنی خواہشات کو ان پر لادنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں۔ روسو نے اسی وجہ سے باضا بطہ تعلیمی نظام کی مخالفت کی ۔ اس نے کہا ہم بچوں کو وہ باتیں بتاتے ہیں جو بڑوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ دور تو ایسا ہے کہ بچے کو ذہنی اور جسمانی آزادی کے ساتھ پرورش پانا چاہیے۔ ہمیں اسے اچھے برے کی پہچان نہیں کرانا چاہیے، اسے کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا ہے اس پر ہی چھوڑ دینا چاہیے کیوں کہ فطرتاً بچہ اچھا ہوتا ہے اس لیے وہ اچھا ہی کرے گا۔ اپنی اچھی صفات کی بنا پر ہی وہ آگے اپنی زندگی گزارے گا۔یہ حقیقت ہے کہ آج ہم بچپن میں ہی بچے سے اس کی آزادی چھین لیتے ہیں اور اسے ہم اپنی خواہشات اور اپنے طریقوں کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے مجبور کرتے ہیں
تیسرا دور لڑکپن کا ہے جو بارہ سے پندرہ سال تک رہتا ہے۔ اس کے مطابق یہ دور وجوہات کا دور ہے یعنی وہ ہر بات کی وجہ جاننا چاہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بات کی کھوج میں لگ جاتا ہے اور اس کی وجہ معلوم کرکے ہی دم لیتا ہے۔ اس دور میں بچہ اپنے خود کے اصول بناتا ہے۔ یہ دیکھا بھی گیا ہے کہ عام طور سے بچے ماں باپ کی باتوں سے زیادہ اپنے ہم جولی اور ساتھیوں کی باتوں کی طرف زیادہ دھیان دیتے ہیں جبکہ والدین کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ ان کی خواہشات کے پابند ہو جائیں اس کشمکش میں بچے سنِ بلوغت تک پہنچتے پہنچتے باغی ہو جاتے اوپھر وہ وہی کام کرتے ہیں جو انھیں پسند ہوتا اور وہ اپنے والدین کی مرضی کے خلاف ہی کام کرتے ہیں۔ویسے نفسیات کا بھی اصول ہے کہ انسان کے اندر بہت سی فطری باتیں ہوتی ہیں جو وہ پرورش کے ساتھ ساتھ کرتا رہتا ہے اگر ہم اس کو ان فطری باتوں کو کرنے سے روکتے ہیں تو وقتی طورپر تو ہم کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں کسی بھی شکل میں بچوں کی فطرت باہر نکل کر آتی ہے۔یہ وہ دور ہے جس میں ماں باپ کو بچے کے ساتھ بہت محبت اور شفقت سے پیش آنا چاہیے۔ان کی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے ۔کچھ ایسی خواہشات ، جو ان کے لیے مضر ہوں ، خوش اسلوبی کے ساتھ ان کو پورا کرنا چاہیے نہ کہ ان سے ضد کرکے۔
چوتھا دور نوجوانی کا دور ہوتا ہے جو پندرہ سے بیس سال تک رہتا ہے ۔ روسو کے مطابق یہ دور اخلاقیات کا دور ہوتا ہے یعنی اس دور تک پہنچتے پہنچتے وہ اچھے برے کے فرق کو سمجھنے لگتا ہے۔ وہ سماج میں لوگوں کے ساتھ رہنا پسند کرتا ہے اور زندگی کو ایک نئے انداز سے دیکھتا ہے۔ روسو کی تعلٰیمات سے کہیں کہیں ہمیں یہ ضرور لگتا ہے کہ خیالوں کی دنیا میں تھا۔ لیکن اگر بچے کے نفسیتاتی پہلو پر نظر ڈالیں تو ہر بات صحیح لگتی ہے ۔ آج کے دور میں ،اور اس سے پہلے بھی ،بچے کا اپنی زندگی پر کوئی اختیا ر نہیں ہے وہ وہی کرتا ہے جو اس کے والدین چاہتے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ روسو نے عورتوں کی تعلیم پر زیادہ زور نہیں دیا۔ وہ کہتا تھا عورت کو امورِ خانہ داری میں باصلاحیت ہونا چاہیے اور امورِ خانہ داری کی ہی تعلیم لڑکیوں کو دینا چاہیے۔ وہ ماننتا تھا کہ ماں جتنی اچھی طرح اپنے بچے کی پرورش کرے گی اتنا ہی سماج اچھا ہوگا اس لیے عورت کو بچے کی پرورش سے متعلق تمام پہلووٗں کا علم ہونا چاہیے ۔ اس نے گھریلو تعلیم کی حد سے زیادہ عورت کی تعلیم کی وکالت نہیں کی اس کی شاید ایک وجہ اس کی حقیقی ماں کا نہ ہونا اور سوتیلی ماں کا برتاؤ ہو سکتی ہے ۔
ہم روسو کے تمام خیالات کے حامی تو نہیں ہیں لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے بچے کو اہم مقام دیا اور فطری طو رپر اس کی صلاحیتوں کی مطابق ہی اس کی پرورش کرنا چاہیے۔والدین کو یا سماج کو اس پر اپنی مرضی اور خیالات نہیں تھوپنا چاہیے۔اور یہ سچ بھی ہے کہ آج ہم نے اپنے وقار کی خاطر اپنے بچوں کو داؤ پر لگا دیا ہے ۔ ہم ان کی خواہشات اور صلاحیتوں کے خلاف جاکر اپنی خواہشات کی تکمیل کرتے ہیں۔
—–
Mohammad Qamar Saleem
فلیٹ نمبر۔۳، پلاٹ نمبر ۔۳۳، سیکٹر ۔۳
واشی ، نوی ممبئی۔۴۰۰۷۰۳
موبائل۔09322645061

۳ thoughts on “طفلِ مرکوز تعلیم اور عظیم مفکر روسو :- محمد قمر سلیم”

Comments are closed.