کالم : بزمِ درویش – حقیقی احتساب :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

کالم : بزمِ درویش
حقیقی احتساب

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:

جب سے تحریک انصاف کی حکومت بر سرِ اقتدار آئی ہے میڈیا کے نام نہادشاہسوار بے لاگ احتساب کے پٹاخے چھوڑرہے ہیں بلکہ اب تو یہ منطق پروان چڑھتی نظر آرہی ہے ‘ دانشور حضرات دن رات احتساب کی جگا لی میں مصروف نظر آتے ہیں جبکہ خا موش غیر جانبدار عوام حکومت کی قلا بازیاں بغور دیکھ رہی ہے کہ احتساب واقعی بے لاگ غیر جانبدار اور منصفانہ ہے

کیونکہ عوام اچھی طرح الیکشن کے چند دن پہلے کے لوٹوں کے ریوڑ کے ریوڑ کی بھاگ دوڑ سے واقف ہے جو پچھلی حکومت کے آستانے سے اٹھ کر آنے والی حکومت کے چوبارے پر کبوتروں کی طرح آکر بیٹھ گئے تھے ‘ اوپر سے عمران خان صاحب کا تاریخی جملہ کہ جو بھی تحریک انصاف میں آجا تا ہے ڈرائی کلین ہو جاتا ہے احتساب کا عمل اُسی صورت میں شفاف اور قبول ہو گا جب نون لیگ کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی اور حکومتی ارکان بھی احتساب کے کٹہرے میں کھڑے نظر آئیں گے کچھ دانشور جو عرصہ دراز سے اِس بات کی جگالی کر تے آرہے ہیں کہ فلاں لیڈر کااگر احتساب ہوا تو ملکی سلامتی خطرے میں پڑ جا ئے گی یا تحریک انصاف کے لوگوں کا یہ کہنا کہ عمران خان صاحب احتساب سے بالاتر ہیں یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے وطنِ عزیز میں ستر سالوں سے جو احتسا ب کے نام پر ڈرامہ بازی ہو رہی ہے اب با شعور عوام اُسے قبول نہیں کریں گے کیونکہ گزشتہ ہر دور میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ملک کے بعض با اثر خاندان ہر نو ع کی مراعات کے حق دار اورہر قانون سے بالا ہیں عوام بارہا اِس تما شے کو دیکھ چکے ہیں کہ جیسے ہی کسی بڑے لیڈر پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو ملک میں اُس لیڈر کے حما یتی زلزلہ بر پا کر دیتے ہیں ‘ نواز شریف مریم نواز نون لیگ کا احتساب ہو رہا ہے بجا لیکن اگر دوسرے کرپٹ لوگوں کا احتساب نہیں ہو گا اسے جانبداری کے زمرے میں ڈالاجائے گااِس بات میں کوئی وزن نہیں ہے کہ فلاں کے احتساب سے وفاق کی ساعت کو خطرات لاحق ہو جائیں گے اِیسی سوچ رکھنے والوں کی خدمت میں عرض ہے کہ بڑے بڑے قیصر و کسریٰ کا دور ختم ہوا پھر بھی نظامِ دنیا اِسی طرح چل رہا ہے ہمالیہ جیسے دیو ہیکل انسان تاریخ کے قدموں تلے کچلے گئے لیکن گردشِ زمانہ میں کو ئی سستی واقع نہ ہوئی آج کا دور بلاشبہ میڈیا کی آزادی اور عوام کے شعور کا دور ہے ‘ ماضی میں اگر آپ اپنی مرضی کا احتساب کر کے چند دانشوروں کو خرید کر رائے عامہ کو اپنی مر ضی کے مطابق ڈھال لیتے تھے تو آج وہ دور نہیں ہے آجکل ہر پارٹی میں بو لنے والے لوگ موجود ہیں پھر میڈیا جو لفظوں کی جادوگری اور الفاظ کی چابک دستی سے غلط رائے کو پنیپنے نہیں دیں گے موجودہ حکومت کو ایک بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ جتنے ووٹ اُس کی حمایت میں پڑے ہیں اُس سے دوگنے اُس کی مخالف پارٹیوں کو بھی پڑتے ہیں‘ کروڑوں ووٹ جو آپ کی مخالفت میں پڑے ہیں وہ خورد بینیں لگا کر حکومت کے ہر عمل کی نگرانی کر رہے ہیں دوسرا آپ نے بہت تقریریں بہت باتیں دعوے کر لیے باتوں سے لوگوں کے پیٹ نہیں بھرتے باتوں سے لوگوں کے کام نہیں ہو تے اگر باتوں سے عوام کے مسائل حل ہو تے ہیں تو پھر تو ہر مسجد سے ایک سے بڑھ کر ایک خطیب اور ہر تھیٹر میں ایک سے ایک بڑھ کر بولنے والا یا کالجوں یونیورسٹیوں میں الفاظ کے شکا ری جادوگر بیٹھے ہیں لیکن اُن کے الفاظ سے عوام کے مسائل کا مداوا نہیں ہوتا اب تو عمل اور حقیقی شفاف احتساب ہوگا تو ہی عوام کو تسلی ہو گی کیونکہ باتیں تو پانی کے بلبلے ہو تی ہیں جو چند لمحوں میں ہی پا نی بن جاتی ہیں موجودہ حکومت کو اپنوں غیروں کی تمیز کئے بغیر کڑا اور بے رحم احتساب کرنا چاہیے اِس چیز سے قطع نظر کہ کس کے احتساب سے کیا ہو گا وطن عزیز کے اربوں روپے ڈکارنے والے چاہے جس پارٹی سے بھی منسوب ہوں اُن کا کڑا احتساب ہو نا چاہیے ‘ ستر سالوں سے بہروپئے سیاستدانوں اور معاشرے کے با اثر لوگوں نے بھیس بدل بدل کر ملک کو جو لوٹا ہے اُن سے پائی پائی وصول کرنی چاہیے یہ ملک اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے اِس کی بنیادوں میں لاکھوں آزادی کے پروانوں کا خون شامل ہے اِس ملک کی بنیادیں بہت مضبوط ہیں اگر وزیر اعظم صاحب بلا خوف وخطر احتساب کریں گے تو انہیں کامیابی ہو گی لیکن اگر اُن کے اپنے نو رتنوں میں کرپٹ لوگ بیٹھے ہوں گے یا بینکوں کے بنک ڈکارنے والے کچن کیبنٹ میں شامل ہو نگے تو عوام دیکھ رہے ہیں اور کائنات کا اکلوتا وارث بھی جس نے کائنات کی تخلیق ہی اِس اصول پر کی ہے کہ اِس دنیا میں جو مثبت کام کرتا ہے اسے واپس بھی مثبت ہی ملتا ہے او ر جو جھوٹ فراڈ دھوکہ دہی کر تا ہے اُس کے گلے میں ہار بھی جھوٹ فراڈ کا ہی آئے گا اگر آپ کی نیت ٹھیک ہے تو قدرت بھی آپ کا ساتھ دے گی اور اگر آپ نے خلوصِ نیت سے احتساب کا عمل نہ کیا تو وقت بہت بے رحم ہے جو آپ سے پہلے بھی بڑوں بڑوں کو چاٹ گیاتو آپ کیا چیز ہیں شفاف احتساب کے لیے سب سے پہلے اپنی ذات پیش کر نا بہت ضرور ی ہے ‘ موجودہ حکومت مدینہ کی ریاست کی بہت بات کرتی ہے ‘ مدینہ کی ریاست تو بہت دور کی بات مرادِ رسول جناب حضرت عمر بن خطابؓ کا دورِ حکومت ہی پڑھ لیں تو ان کے لیے مشعل راہ ہوگا جب انہوں نے شکایت پر مصر کے گورنر کو پاس بلا کر شدید تنبیہ کی جس کے بیٹے نے محض گھوڑا آگے نکلنے پر غلام زادے کو کوڑے مارے تھے تو حضرت عمر بن خطابؓ نے عیا ض بن غنم ( گورنر مصر ) کا عہدہ اُس سے واپس لے کر اُس کے ہاتھ میں ڈنڈا پکڑا دیا اور کہا جاؤ جا کر بیت المال کے جانوروں کو چراؤ اور تاریخی جملہ بھی کہا ۔ ’’تم نے کب لوگوں کو غلام سمجھنا شروع کردیا جب کہ اِن کی ماؤں نے اِنہیں آزاد جناہے ‘‘ پھر اُسے چرواہا بنا دیا کہ تم حکومت چلا نے کے قابل نہیں بلکہ ریوڑ چرانے کے قابل ہو اور آپؓ کے ہی دورِ حکومت میں آپؓ نے والی عسان جبلہ بن اہم کو دورانِ طواف ایک بدو کو تھپڑ مارنے پر وہی سزا دی تو وہ بولا آپؓ بادشاہوں سے غلاموں کا قصاص لیتے ہیں تو عمرؓ کی پر جلال آواز گونجی اسلام نے تم دونوں کو برابر کر دیا ہے یہ برابری سب کو ماننی پڑے گی یا دائرہ اسلام سے نکلنا ہو گا یہی عمر فارو ق ؓ تھے جنہیں خطبہ جمعہ کے دوران ایک بدو کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ مالِ غنیمت میں ہمیں جو کپڑا ملا ہے آپؓ کو بھی اتنا ہی ملا ہے آپؓ کا قد لمبا ہے اِس لیے آپؓ کا کرتہ تو نہیں بن سکتا تو آپؓ کا کر تہ کیسے بن گیا تو تاریخ انسان کے عظیم ترین حکمران کہتے ہیں میں نے اپنے کر تے میں اپنے بیٹے کا کپڑا بھی استعمال کیا ۔ یہ کردار ہے اِس ہمالیہ جیسے انسان کاجو چھیاسی لاکھ مربع میل کا حکمران تھا جس نے دورانِ قحط خود پر نرم روٹی اور روغن حرام قرار دیا کہ جب تک ساری امت نہیں کھائے گی عمرؓ بھی نہیں کھا ئے گا آپؓ کے لباس پر بارہ بارہ پیوند لگے ہوتے تھے اور آپؓ مسجد نبوی ﷺ کے کچے فرش پر سوتے تھے جب تک آپ خودکو احتساب کے لیے پیش نہیں کریں گے حقیقی شفاف احتساب نہیں ہوگا ۔