کالم : بزمِ درویش – جانور لٹیرے :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

کالم : بزمِ درویش
جانور لٹیرے

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:

ٹی وی پر چلنے والی خبر میرے لیے ایسے ہی تھی جیسے میرے زخم پر کو ئی مُکے مار رہا ہو‘ خبر کی تفصیلات جیسے جیسے آگے بڑھ رہی تھیں مجھے لگ رہا تھا کو ئی میری سانس روک رہا ہے انسان جو اشرف المخلوقات ہے جو خالق کائنات کا نائب ہے جس کی تخلیق پر فرشتوں نے بڑے اعتراض کئے تھے‘

جو نیکی پر آئے تو فرشتے رشک کریں بو ڑھا آسمان پلک جھپکنا بھو ل جا ئے ‘عقل انگلی دانتوں تلے دبا لے ‘ ہم مسلمان جو سرتاج الانبیاء ‘نسل انسانی کے سب سے بڑے انسان ‘وجہ تخلیق کائنات ‘ نبی کریم ﷺ کے امتی ہونے کا دعویٰ کر تے ہیں جو آقا کریم ﷺ کی شان میں گستاخی ہو نے پر جان ہتھیلی پر رکھ کر سڑکوں پر سیلاب کی طرح نکل آتے ہیں ہم جو امت محمدی ﷺ کے دعوے دار ہیں کہ ہم کر ہ ارض کی سب سے اعلیٰ قوم ہیں ہم ہی خدا اور اُس کے آخری نبی ﷺ کے ماننے والے ہیں ‘ مغربی اقوام اور کر ہ ارض پر پھیلے غیر مسلم ہما ری نظر میں جانوروں سے بد تر ہیں ‘ جنہیں اخلا قیات انسانیت چھو کر نہیں گزری ‘ جن کا مقصد کھا نا پینا سیکس کر نا اور مر جانا ہے ہم جو جانوروں اور غیر مسلموں میں کو ئی فرق نہیں سمجھتے بلکہ غیر مسلموں کو جانوروں سے بھی بری مخلوق سمجھتے ہیں ‘ ہم جو دعوے دار ہیں کہ انسان کو ہزاروں برس کی جہالت کی غلامی سے آزاد کر نے کا شرف صرف ہمیں حاصل ہے ‘ انسان کو انسانیت سے روشناس ہم نے ہی کر ایا ہے ‘ ہم جو نام نہاد خو د سری اور بر تری کے زعم میں مبتلا ہیں جو دوسروں کو ناپاک سمجھتے ہیں لیکن ٹی وی پر چلنے والی خبر کو جس نے بھی دیکھا شرم سے سر جھکا لیا عرق ندامت میں غرق ہو گیا ‘ شہنشاہِ دو عالم ﷺ کیا سوچتے ہونگے کہ یہ میری اُمت ہے جو جانوروں سے بھی بدتر حرکتیں کتنے آرام سے کر رہی ہے ‘ ایسی حرکتیں کر نے سے پہلے ہم یہ بھی نہیں سوچتے کہ کس منہ سے روزِ محشر محبوبِ خدا اورخالقِ کائنات کو منہ دکھا ئیں گے ‘جہالت ‘ گنا ہ ‘ سیا ہ کا ری ‘ بد اعمالی کا آخری درجہ کہ عید کے روز کسی کے گھر میں قصائی کا لبا دہ اوڑھ کر جانا گھر والوں کو رسیوں سے باندھ کر گھر کے زیورات ساری نقدی لوٹ کر عید کے جانوروں کا گوشت بھی جاتے ہو ئے ساتھ لے جانا جس نے بھی یہ خبر سنی دلخراش آہ کے ساتھ آنکھ جھپکنا بھو ل گیا کہ بکرا عید جو ہما رے بنیادی عقائد کا اہم جُز ہے کو ئی مذہبی تہوار کے دن یہ حرکت بھی کر سکتا ہے ‘ انسان اخلا قی اور ذہنی طو ر پر اِس حد تک گر سکتا ہے کو ئی سوچ بھی نہیں سکتا ‘ آجکل پاکستان کے بسنے والوں کا اگر آپ مشاہدہ کریں تو سوائے شرمندگی کے کچھ بھی نظر نہیں آتا ‘ مسجدوں سے جو تے چرانا ‘ پنکھے لاؤڈ سپیکر اتار لینا ‘ مسجد کی چٹا ئیاں چوری کر لینی ‘ مسجد میں ضرورت مندوں کا بھیس بنا کر یتیم ظاہر کر کے گھر والوں کی بیماری کے ڈرامے کر کے اللہ کے گھر میں کھڑے ہو کر چندے کی اپیل کرنا ایک مسجد سے دوسری مسجدیہ پیشہ ور گدا گر کتنے سالوں سے عام مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں ۔ مساجد میں پڑھانے والے جاہل مو لوی حضرات کے قوم لوط جیسے سیاہ کارنامے کہ قلم بھی لکھتے ہو ئے کانپ جائے ‘ اساتذہ کا طالب علموں سے جنسی حرکات کہ روح کانپ اٹھے ۔ اسلام سے دوری کا تھور ہما ری ہڈیوں کو بانجھ بنا چکا ہے ‘ جہالت بد کاری جرم گنا ہ کی ایسی لت اِس قوم کو پڑ چکی ہے کہ اچھا ئی اور برائی کی تمیز ہی ختم ہو چکی ہے ‘ ابھی میں بکرا عید کے سلسلے میں گاؤں گیا تو چند یتیم غریب بیوہ عورتیں بچے روتے سسکتے بلکتے ملے اُن کی داستان غم سن کر کلیجہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ۔ چند لو گ گاؤں آتے ہیں آکر اعلان کر تے ہیں کہ غریب مسکین لوگوں کو ہر ماہ مفت راشن دیا جائے گا جو مفت راشن لینا چاہتے ہیں وہ اپنے شناختی کارڈ اور پانچ سو روپے کے ساتھ آئیں تا کہ اُن کے راشن کارڈ بنا ئے جا سکیں اب غریبوں مسکینوں یتیموں نے لوگوں سے ادھار مانگ کر اپنے شنا ختی کا رڈ کی فوٹو کاپیاں اور پانچ سو روپے ان کو جمع کروا دیے اب تین ماہ گزر چکے ہیں اُن لوگوں کا کوئی اتا پتہ نہیں وہ کون لو گ تھے ‘ کدھر سے آئے ‘ غریبوں کے پیسے ہڑپ کر کے بھا گ گئے ہیں چوری ڈکیتی پہلے بھی تھی لیکن پہلے کے چور اِس بات کا خیال کر تے تھے کہ کس کو لو ٹنا ہے وہ بھی امیروں کو لو ٹ کر اکثر غریبوں کی مدد کر دیتے تھے لیکن آج کا انسان اَس حد تک گر جائے گا ‘ ہما رے معاشرے کا بانجھ پن اِس حد تک بڑھ گیاہے کہ معا شرے کے سب سے کمزور طبقے غریبوں یتیموں کو لو ٹنا شروع کر دیا ہے آپ اگر آجکل انسانی رویوں کا مشاہدہ کر یں تو جانوروں سے بھی بد تر ہو چکے ہیں جو لوگ اپنی زندگی کی بقا کی دلدل میں دھنسے ہو ئے ہیں جن کی سانسوں کی ڈوری کچے دھاگے کی طرح کسی بھی وقت ٹو ٹ سکتی ہے جو پیٹ کی آگ بجھا نے کے لیے کو ڑے کے ڈھیروں سے گلی سڑی اشیاء اٹھا کر سانسوں کی مہلت لیتے ہیں اُن بیچاروں کو ہم نے لو ٹنا شروع کر دیا ہے آپ کسی بھی ہسپتال چلے جائیں ‘گراؤنڈوں سڑکوں پر بے چارے لوگ بے یارومددگار پڑے ہیں لوگ رات کو اُن کو لوٹ لیتے ہیں اورتو اور خانہ کعبہ اور روضہ رسول ﷺ پر چور آپ کو موبائل اور نقدی سے محروم کر دیتے ہیں ‘ آپ کسی بزرگ کے مزار پر چلے جائیں آپ نے دعا کے لیے ہا تھ اٹھا ئے نہیں آپ نے عقیدت و احترام میں جیسے ہی اپنی آنکھیں بند کیں آپ اِدھر سے غافل ہو ئے نہیں کہ ادھر لٹیروں نے آپ کو لو ٹا نہیں ‘ آپ بزرگوں سے فیض لینے جا تے ہیں لٹیرے آپ کولوٹ کر خالی دامن کر دیتے ہیں کوئی عورت بچی اگر کسی دفتر یا سکول میں نو کری کرلیتی ہے تو اُس کو عزت بچانا مشکل ہو جاتاہے با س یا مالک انتہائی غلیظ حرکتوں پر اتر آتا ہے طرح طرح سے اُسے تنگ کرتا ہے بلکہ چند نوجوان بچیوں نے کہا کہ جہاں بھی نوکری کرنے جائیں تو وہ پہلے سے ہی پوچھتے ہیں کہ آپ لنچ ڈنر پر جائیں گی لیٹ سیٹنگ کریں گی اگر کو ئی اِن باتوں سے انکار کرے تو نوکری نہیں دی جاتی ۔ ہمارا بانجھ ‘ گلا سڑا معاشرہ انسانوں کی بجائے جانور پیدا کر رہا ہے ‘ ہم ری مسجدوں پر جاہل مولویوں کا قبضہ ہے جو انسان کی کردار سازی پر دھیان دینے کی بجائے دوسرے فرقوں پر دن رات کفر کے گولے داغتے ہیں ‘ جاہل مولوی انسانیت کا درس نہیں دیتے ‘ انسان سے محبت رواداری پیار قربانی اخوت خدمت خلق کا درس نہیں دیتے ‘ انہی جاہل مولویوں نے نفرت کی ایسی پنیری کا شت کی تھی جو ہم آج تک دہشت گردی کی شکل میں جھیل رہے ہیں ‘ کاش معاشرے کے سمجھ دار لوگ پڑھے لکھے دانشور رول ماڈل مذہبی راہنما کر دار سازی پر دھیان دیں ‘ میڈیا پر قابض دانشور دن رات کر پٹ سیاستدانوں کی مدح سرائی کی بجائے پر امن صالح معاشرے کی تشکیل پر زور لگا ئیں ‘ آج کا انسان نفسیانی مریض بن چکا ہے جو اچھائی اور مذہبی رنگ سے دور ہے انسان کے بانجھ پن کی وجہ اللہ سے دوری ہے ‘ روح اور دل کو اُس کی حقیقی غذا نہیں مل رہی ‘ روح اور دل کی حقیقی غذا اللہ کا ذکر ہے ‘ حق تعالی کا ذکر کر نے سے قلب و روح انوار الٰہی سے منور ہو تے ہیں اِن انوار کی وجہ سے انسان حقیقی سکون اور طمانیت سے واقف ہو تا ہے کردار سازی اگر کی جاتی ہے تو کوچہ تصوف میں ‘ خدا کے یہ عاشق خدا سے پیار کے بعد خدا کی مخلو ق سے حقیقی پیار کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو رحم دل اور خدمت خلق سے معمو ر انسان تیار کرتے ہیں یہ فرقہ بازی سے آزاد صرف انسان سے پیار کرتے ہیں یہ نفرت نہیں بانٹتے بلکہ امن محبت اخوت کی خو شبو بانٹتے ہیں اگر ہم اپنے معا شرے کو صالح معاشرہ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں کو چہ تصوف کی طرف صوفیا کرام کی حقیقی تعلیمات کو فروغ دینا ہو گا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ اورملک ان جانور اور لٹیروں سے پاک ہو تو ہمیں صالح انسان تیار کر نے ہو نگے ہمیں امن محبت پیار اخوت کی پنیری کا شت کرنی ہوگی اور یہ پنیری کو چہ تصوف میں شریعت محمدی ﷺ کے سائے تلے ہی پروان چڑھ سکتی ہے ۔