کالم : بزمِ درویش – عوام بھی انسان ہیں :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

کالم : بزمِ درویش
عوام بھی انسان ہیں

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:

آخر وجہ کیا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان مسائل کی دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے اگر آپ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ کا بغور مطالعہ کریں تو ہر دور میں حکمرانوں نے سیاست ‘معاشرت ‘معیشت ‘عدل و انصاف ‘کر پشن سے پاک کرنے کے ان گنت اقدامات کئے لیکن جب ہم نتائج پر نظر دوڑتے ہیں تو نتیجہ صفر ہی نظر آتا ہے ‘

سیاست کے سدھار کے لیے ایبڈو کا قانون بنایا گیا لیکن سچ تو یہ ہے سیاست خدمت میں ڈھلنے کی بجائے سیاسی کرپشن کا کینسر جڑوں تک اتر تا گیا ‘معیشت کی ڈوبتی ناؤ کو کنا رے لگا نے کی لیے نیشنلائیزیشن کے غبارے میں ہوا بھر ی گئی لیکن یہ غبارا بھی چند گز اُڑنے کے بعد پھٹ گیا ‘ فیو ڈل شکنجے سے پستے ہوئے عوام کو نکالنے کے لیے عور ت کے تقدس کو اسلامی رنگ میں رنگنے کے لیے کئی قوانین بنا ئے گئے لیکن نہ تو عوام جاگیرداروں کے شکنجے سے آزاد ہو ئے اور نہ ہی عورت صدیوں سے نام نہاد غیرت میں پھنسے جال سے آزاد ہو سکی ‘ چادر چار دیواری کی مرض المو تی سے کو ن واقف نہیں ہے ‘ نظم و نسق کے نظام کو عادلانہ اور چست بنا نے کے لیے جتنے بھی قوانین اور کو ششیں ہوئیں ان کے نتا ئج بھی عوام کے سامنے ہیں ‘ پو لیس کے نظام کی دہا ئیاں کو ن نہیں دیتا چند سال پہلے میری گپ شپ صوبے کے آئی جی پو لیس سے ہو رہی تھی تو میں نے اُن سے پو چھا شہر لا ہور میں اسی سے زائد تھا نے ہیں اور پنجاب میں کئی اضلا ع اِن میں سے کتنے ایس ایچ او صاحب اور ڈی پی اوز حضرات دیانت دار ایماندار ہیں تو انہیوں نے اقرار کیا کہ دو چار کے علا وہ سب ہی بے ایمانی کی لت میں لپٹے نظر آتے ہیں ‘ نظام عدل جو کسی بھی ملک میں ریڑھ کی ہڈی کا مقام رکھتا ہے جس کے بل بو تے پر قومیں عروج کے زینے چڑھتی ہیں لیکن جس طرح لاکھوں کیس التواء میں اور کا لے کوٹ والے وکیل صاحبان کی بد معاشیاں ہم آئے روز دیکھتے ہیں اِس دکھتی رگ سے کون واقف نہیں ہے ‘ جج صاحبان انہی وکیلوں کی کو کھ سے جنم لیتے ہیں جب تک کا لے کو ٹ والے ضمیر کے فیصلے نہیں کریں گے ‘ لشکر لے کر جج پر اپنی مرضی کا فیصلہ کر نے کے لیے چڑھائی بند نہیں کریں گے جج صاحبان انصاف کو کیسے یقینی بنائیں گے ہر نئی حکومت نے خلفا ء راشدین کے دور کی باتیں کیں اسلامی فلاحی معا شرے کا خواب ضرور دکھا یا لیکن جب بھی نتا ئج دیکھتے ہیں تو صرف باتیں ہی باتیں ‘ مثبت تبدیلی ہمیں نظر نہیں آتی ‘ مثبت نتیجہ نہ آنے کی وجہ بصیرت کافقدان تھا ‘عزم کی کمزوری ‘ اخلاص اور سچے جذبے کی کمی ‘ خلا فت راشدہ کی باتیں توکر نا لیکن حقیقی معنوں میں اُن راہنما اصولوں کو لاگو نہیں کر تے ہیں ‘ ایک اور مسئلہ ہے کہ ہما رے زیا دہ تر حکمران خاندانی دولت کی چکا چوند میں پلتے ہیں جو پیدا ہی منہ میں سونے کا چمچہ لے کر ہوا ہو اُس نے غریب کی غربت کو کیسے محسوس کر نا ہے ‘ مسند اقتدار قسمت والوں کا مقدر بنتی ہے ‘ کروڑوں انسانوں میں چند ایک ہی مسند اقتدار پر جلو ہ افروز ہو تے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ زندگی گزر ہی جا تی ہے بادشاہ کی بھی اور گد اگر کی بھی ‘قافلہ شب و روز اور وقت کی کروٹیں ہمالیہ جیسے قد آور حکمرانوں کو کھا جاتی ہیں زندگی سکھ کی سیج پر ہو یا دکھ کی چتا پر وقت نے اِسے کھا جانا ہے اِس حیات چند روزہ کے بعد مٹی کے نیچے ‘پھر پچھتا وے اور کرب کی چتا ہوتی ہے اور احساس تنہائی لیکن بے رحم وقت کبھی مڑ کر واپس نہیں آیا ‘جب مو ت ہی سب کا مقدر ہے تو کیوں جب آپ کو حکمرانی کا موقع ملتا ہے تو آپ اپنی زندگیوں میں عیش و رنگ بھرنے کے لیے دوسروں کی زندگیاں بے رنگ اور طیش میں مبتلا کر تے ہیں ‘ اپنی خواب گاہوں کو رنگیں کر نے کے لیے عوام کو دن رات سنگین کر تے ہیں ‘ اپنے نشاط کدوں کو پر لطف بنا نے کے لیے غریبوں کے کچے گھروں کو غمکدے بنا تے ہیں ‘ حکمرانوں اور عوام کے درمیان فاصلہ زمین آسمان سے بھی زیا دہ ہے جو ہر گزرتی حکومت کے ساتھ بڑھتا چلا جا تا ہے ‘ اقتدار کی راہداریوں میں جھو لنے والے صاحبان اقتدار پہ بھول جاتے ہیں کہ عوام بھی اُنہی کی طرح احساسات ‘ خیالات اور خواب رکھتے ہیں اِن کا بھی دل کرتا ہے زندگی بھر پور طور پر گزارنے کو ‘ اِن کی رگوں میں بھی خون ہی دوڑتا ہے اِن کا دل بھی دھڑکتا ہے اِن کے جذبات کے آبگینے بھی ذرہ سی ٹھیس سے ٹوٹ جا تے ہیں یہ بھی ارمانوں سے بھر پور ہو تے ہیں جو دن رات مچلتے ہیں اِن کے دل و دماغ بھی آرزؤں سے آباد ہوتے ہیں بچپن سے منہ میں سونے کا نوالہ لے کر پیدا ہو نے والے حکمرانوں کبھی بھی نہیں سوچھتے کہ جن کے ووٹوں سے وہ کر سی اقتدار پر درباریوں کے ساتھ براجمان ہیں وہ عوام بھی جاگتی آنکھوں میں اپنے اور اپنی آنے والی نسل کے لیے سہانے خواب سجاتے ہیں ارباب حکومت نے کبھی سوچا کہ اُس باپ کا کلیجہ کس طرح گرم سلاخ میں پرویا جاتا ہو گا جب اُس کا لخت جگر سو روپے کے کھلو نے یا بر گر کا مطالبہ کر نا ہو گا ‘ ماں کے دل کے کتنے ٹکڑے ہو تے ہو نگے جب و ہ عید کے دن بچوں کو نہ عیدی دے سکتی ہے اور نہ ہی نئے کپڑے پہنا سکتی ہو اُن ماں با پ پر کتنے آرے چلتے ہو نگے جو بچوں کو ایک غبا را ‘ایک چاکلیٹ نہ لے کر دے سکتے ہونگے ‘ بے چارگی کے اُن لمحوں میں ماں باپ کی آنکھوں میں کتنے ساون برستے ہو نگے ‘ ویرانیاں رگوں میں دوڑتی ہو نگی کیونکہ ہر باپ کا بیٹا سف ثانی اور ہر ماں کا کالا کلو ٹا بیٹا روشن چاند ہوتا ہے اور بچپن میں ہر بچہ شہزادہ ہو تا ہے ‘ غربت کے دریا میں غر ق لو گ زندگی کے کچے دھا گے کو کس طرح قائم رکھ پا رہے ہیں ‘ کاش حکمرانوں کو اِس کا احساس ہو تا نہ جب ایک غریب بیٹا ماں باپ کا مہنگا علا ج تو درکار پرہیزی غذا بھی فراہم کر نے میں قاصر ہے ‘ حکمران جب غریب مٹاؤ کے نعرے لگا تے ہیں تو وہ بھول جاتے ہیں کہ بے روزگار نوجوان اپنے گھر والوں کی ضرورتیں پو ری نہ کر تے وقت کس طرح آنکھوں میں آنسوؤں کو روکتاہو گا ہما رے حکمران جب دن میں تین تین لباس پہن کر جلسے جلوس کرتے ہیں تو بھول جا تے ہیں کہ پاکستان میں اکثریت عوام کو عید کے دن بھی نیا لباس میسر نہیں ہو ‘ تا ارباب اقتدار قالینوں کے بغیر زمین پرپا ؤں نہیں دھرتے کیا وہ جانتے ہیں وطن عزیز میں غربت کی وجہ سے کتنی معصوم بیٹیوں کے سرو ں میں چاندی اُگ آتی ہے جو سرخ عروسی جوڑے کے خواب سجائے ہی بڑھاپے میں داخل ہو جاتی ہیں ‘ ارباب اقتدار لوگوں میں منفرد آنے کے لیے مخصوص مہنگی گھڑیاں ‘جوتے‘ کپڑے اورگاڑیاں استعمال کر تے ہیں اور پھر فخر سے بتاتے ہیں کہ یہ دنیا میں صرف چند لوگوں کے پاس ہیں اور یہ غریب عوام کو کرب دینے کے لیے مہنگی انگو ٹھیاں گھڑیاں لباس جوتے خرید لیتے ہیں ذاتی تسکین کے لیے دولت کی ایسی نمائش کرتے ہیں ‘ لعنت ہو اس شوق پر ‘ پھٹکار پڑے اِیسے ذوق پر ‘ یہ دولت کا خمار نہیں تو اور کیا ہے ایسے حکمرا نوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ عوام بھی انسان ہیں یہ بھی اُس خدا کی مخلوق ہیں جس نے اُنہیں پیدا کیا اگر حکمرانوں نے ماضی سے سبق نہ لیا تو یقیناً ماضی کی طرح کائنات کا اکلوتا وارث حرکت میں آکر اِن کو بھی فرعون نمرود کی طرح نشان عبرت بنا کر تاریخ کے کو ڑے دان میں پھینک کر اوپر گمنامی کا پردہ ڈال دے گا ۔