کالم : بزمِ درویش – تقریر کا غبارہ :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

کالم : بزمِ درویش
تقریر کا غبارہ

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:

سب کے چہروں پر فتح کے دیپ جھلملا رہے تھے آنکھوں میں مستقبل کے سہانے خواب سجائے ٹی وی سکرین پر نظریں گاڑے ہوئے تھے جس پر چند لمحوں بعد عمران خان تقریر کرنیوالے تھے ‘ تقریر میں ابھی شاید کچھ دیر تھی اِس لیے وہ بار بار ایک دوسرے کو فاتحانہ نظروں سے دیکھتے ‘بار بار فاتحانہ مکے خوشی سے ہوا میں لہرا رہے تھے کہ اُن کا مسیحا چند لمحوں میں آکر پاکستان کی تقدیر بدل دے گا-

غربت ‘کر پشن ‘ لوٹ مار ‘ نا انصافی ‘ ظلم و جبرکی چکی میں پسے ہو ئے عوام کو جلتے سلگتے صحرا سے نکال کر ہرے بھرے پاکستان میں لے آئے گا اللہ کر ے ایسا ہی ہو ۔ میں اپنے دوست کے ساتھ ریسٹورنٹ میں آیا ہوا تھا ۔ پاکستان تحریک انصاف تاریخی فتح سمیٹ چکی تھی ‘ عمران خان اقتدار کی دلہن کا گھونگھٹ اٹھا نے کو بیتاب تھا ‘ اقتدار کی راہداریوں میں پلنے والے حشرات الارض عمران کے جوتوں کو بوسے دے رہے تھے ‘ دربار ی دانشوروں نے بارات کی طرح دلہے عمران خان کو گھیرا ہوا تھا اور وطن عزیزکے چپے چپے پر عمران خان کے دیوانے فتح و کامرانی کے بھنگڑے ڈال رہے تھے ‘ ہوٹل میں بھی صفائی کے عملے سے لے کر مینجر تک ٹی وی سکرین پر نظریں جمائے اپنے محبوب لیڈر کی تقریر سننے کو بے چین تھے ‘ لوگوں کی بے چینی بے قراری دیکھ کر میرے دل سے بھی دعا نکل رہی تھی کہ کا ش عمران خان وہ حقیقی مسیحا بن سکے جس کی راہ عوام پچھلے ستر سالوں سے دیکھ رہی ہے ‘ کاش عمران خان کے الفاظ ہوا میں تحلیل نہ ہوں ‘ الفاظ حقیقت کا جامہ پہن سکیں عمران خان درباری دانشوروں اور نسل در نسل اقتدار کی راہداریوں میں گھو منے والے کر پٹ سیاستدانوں سے جان چھڑا کر حقیقی ایماندار ٹیم کا انتخاب کرکے اِس ملک کے غریب عوام کا مسیحا بن سکے ۔ میرا دوست بھی دوسروں کی طرح تقریر سننے کے لیے بہت پر جوش تھا اُس نے بھی اُٹھ کر ٹی وی سکرین کے قریب جانے کی کو شش کی تو میں نے اُسے روک دیا اور کہا عمران خان جو تقریر کر نے جا رہے ہیں میں ابھی سے تمہیں وہ سنا دیتا ہوں ۔ میری اِس بات پر اُس نے حیران اور بے یقینی کی نظروں سے میری طرف دیکھا اور بولا سر کیسے ابھی تو خان صاحب نے تقریر کی ہی نہیں تو آپ کو کیسے پتہ چل گیا کہ وہ کیا تقریر کر نے والے ہیں میں مسکرایا اور جوس کا گلاس اٹھا یا ٹھنڈے شیریں جوس کا گھونٹ حلق سے اتارا آگے جھک کر کہا ہاں ابھی جو عمران خان صاحب تقریر کر نے والے ہیں میں بتا سکتا ہوں اُس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں خو ف کا ایک سایہ سا لہرا گیا ‘ سر کیا آپ قوت مکا شفہ وجدان یا روحانی طاقت کے زور پر یہ بتا ئیں گے تو میں نے نفی میں سر ہلا یا اور کہا نہیں ایسی کو ئی با ت نہیں اور نہ ہی میں اِیسی پراسرار روحانی قوتیں رکھتا ہوں کہ آنے والے واقعات کو بتا سکوں اب میرا دوست پریشان ہو کر کر سی پر پہلو بدلنے لگا اُس کے چہرے پر حیرت اور پریشانی کے سائے ہلکورے رہے تھے اب میں نے اُس کی پریشانی کو دور کرنے کا فیصلہ کیا اور بولنا شروع کیا کہ اِس وقت درباری عمران خان کو الفاظ کی تراش خراش جملوں کی ساخت اور اثر آفرینی کے بارے میں بتا رہے ہوں گے ‘ آنے والی اصلاحات انقلابی اقدامات اور قومی پالیسیوں کے بارے میں گوش گزار کر رہے ہونگے ‘ تقریر میں محبوب خدا نبی کریم ﷺ کے رول ماڈل اور قائد اعظم کی قائدانہ صلاحیتیں اور اقبال کے افکار سے روشنی لینے کی باتیں ‘وطن عزیز میں ما ضی کے حکمرانوں کی لو ٹ مار ‘کرپشن ‘قرضوں کا بو جھ ‘بھارت سے تجا رتی تعلقات ‘ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اُسے مذاکرات سے حل کرنا ‘ افغانستان اور ایران مسلم برادر ملک ہیں اُن کے ساتھ تعلقات کو اور بہتر بنانا چین ہمارا قدیمی اورحقیقی دوست ہے اُس کی دوستی پر فخر کر نا اور چین کے ساتھ تعلقات اور بہتر بنانا اور خاص طور پر سعودی عرب کی ماضی کی خدمات کو سراہتے ہو ئے شاندار تعلقات کو قائم رکھنا اور آئندہ بھی جا ری و ساری رکھنا ‘ بھارت کے ساتھ ہم جنگ نہیں چاہتے تمام مسائل کا حل مذاکرات سے کر نے پر زور دینا ‘ اقوام عالم سے بہتر تعلقات کے ساتھ امریکہ کے ساتھ حقیقی برابری کے تعلقات پر زور دینا ‘ امریکہ کے ساتھ ماضی کے شاندار تعلقات کا حوالہ دینا اور مستقبل میں امریکہ سے حقیقی دوستانہ تعلقات کا حوالہ دینا ‘ پھر قرضوں کے بو جھ تلے دبے پاکستان کو قرضوں کی دلدل سے نکالنے کے لیے بیرون ملک میں مقیم پا کستانی کو ترغیب دینا کہ اب پاکستان میں حقیقی شاندار صبح طلو ع ہو چکی ہے اب پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کا روں کے لیے شاندار منصفانہ گراونڈ تیار ہو چکی ہے وہ آئیں اور سرمایہ کاری کریں ۔ پھر ماضی کے حکمرانوں کی شاہ خر چیوں کا تذکر ہ اور اپنی سادگی کا ڈھنڈورا ‘ خلفا ء راشدین کی طرح ہم سادگی کو اپنا ئیں گے ‘ تمام قوانین قرآن و سنت کی روشنی میں ڈھالنے کا وعدہ ‘ پھر میرے دل میں مخالف سیاستدانوں کے لیے کو ئی بغض حسد نہیں ہے ‘ میرا دل صاف ہے آئیں ملکر اِس ملک کی تعمیر نو میں بھر پور مثبت کردار ادا کریں ‘ ملکی ترقی اور اپنے اقتدار کی مضبو طی کے لیے میں کسی بھی مخالف کے گھر تک جانے کو تیار ہوں ‘ میں نے اپنے تمام مخالفین کو معاف کیا میرا دل اب صاف ہے ‘ ٹیکس اصلاحات پر روشنی ڈال کر کس طرح نظام ٹیکس کو ٹھیک کیا جائے گا ‘ تھا نے عدالتی کلچر کو انصاف کی بنیادوں پر کھڑا کیا جا ئے گا اور پھر آخر میں عوام سے بھرپور تعاون مانگا جائے گا آپ گزشتہ ستر سالوں سے تاریخی تقریروں کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھیں تو آپ بھی آسانی سے سمجھ جائیں گے کہ عمران خان صاحب کیا تقریر کر نے جا رہے ہیں میں نے بچپن سے عوام کو دیکھا ہے جو ریڈیوسے کان لگا تے ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر نظریں جما ئے ہر آنے والے حکمران کی تقریر آسمانی الفاظ سمجھ کر سنتے ہیں ‘ ہر نیا حکمران مخصوص شیروانیوں میں ملبوس رٹی رٹائی تقریریں کرتا آرہا ہے اور عوام ان تقریروں کو سہا نے مستقبل کی تعبیروں سے جوڑتے نظر آتے ہیں غربت اورمسائل کی سولی پر لٹکے عوام ستر سالوں سے نئے حکمرانوں کی تاریخ ساز تقریریں سن کر بے جان ہوچکے ہیں ‘ اُن کی آنکھوں کے سہانے خواب بُجھ چکے ہیں آنکھوں کی لو کم ہو چکی ہے سما عتیں کمزور ہو چکی ہیں اب تبدیلی کے علمبردار عمران خان تقریر کر نے جا رہے ہیں تو اُسے اِس حقیقت سے باخبر رہنا چاہیے کہ اُس نے مستقبل کے دریچوں سے جھا نکتی جس روشنی کا خواب عوام کو دکھایا ہے اگر وہ اُس خوا ب کو پورا کر نے میں ناکام رہا تو تقریروں سے تصویریں بنانے والے خوابوں سے تعبیریں ترا شنے والے یہ بے بس لا چار غریب عوام لا تعلقی کی ایسی گہری نیند سوئیں گے کہ جسے تم پھر کبھی کو ئی وعدہ اور خواب دکھا کر اٹھا نہیں پا ؤ گے عمران خان کے پاس مو قع ہے کہ وہ اب درباری دانشوروں اور نسل در نسل کو چہ سیاست میں لوٹ مار مچانے والے کرپٹ سیاستدانوں سے جان چھڑا کر حقیقی ایمان دار ٹیم چن کر خود کو تاریخ میں امر کر لے ‘ اِسی دوران عمران خان کی تقریر شروع ہو گئی ‘ عمران خان نے بھی وہی تقریر کر ڈالی جو ستر سالوں سے حکمران کر تے آرہے ہیں عمران خان نے پھر تقریر کے غبارے میں خو ب ہوا بھر کر اُسے فلک میں چھوڑ دیا ہے عوام آنکھوں میں سہانے خواب سجا ئے تقریر کے غبا رے کو بغور دیکھ رہے ہیں اب یا تو یہ غبا رہ چند مہینوں میں پھٹ جا ئے گا اور عوام کی آنکھوں میں مایوسی کی کر چیاں کانٹے بن کر چبھیں گیں یا پھر تقریر حقیقت کا روپ دھا رکر فلک پر روشن ستارے کا روپ دھا ر کر صدیوں تک آنے والے لوگوں کو روشنی کی سوغات دیتی رہی گی ۔