کالم : بزمِ درویش – تاریخ کے شاہسوار :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

تاریخ کے شاہسوار

کالم : بزمِ درویش
تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:

بزمِ جہاں کی پیدائش ‘مینا کاری ‘رنگ و نور سے سجائے پھولوں پھلوں کے خو ش رنگ ذائقوں خو شبوؤں سے مہکانے کے بعد خالقِ کائنات نے گلشنِ جہاں میں حضرت آدم ؑ کو اتارا آپ ؑ کے قدم دھرتی ماں سے چھونے کے بعد نسلِ انسانی کی افزائش کا نہ ختم ہو نے والا سلسلہ عظیم شروع ہو گیا ‘

آج ہر گزرتے لمحے کے ساتھ دنیا کے چپے چپے پر افزائش نسل کا عمل جاری و ساری ہے ‘ آج اربوں انسان اِس سنگ و خشت کے جہاں میں آباد ہیں اِن انسانوں میں اکثریت ایسے انسان ہیں جن کے دنیا میںآنے اور جانے کا ساتھ والے گھر کو بھی پتا نہیں چلتا انسان گاجر مولی کی طرح پردہ جہاں پر ابھرتے ہیں لیکن کو ئی بھی تاثر دئیے بغیر پیوند خاک ہو جاتے ہیں ‘ تاریخ انسانی کے مختلف ادوار میں بے شمار لوگ اور تہذیبیں پو ری چکا چوند سے چمکیں لیکن گر دش ایام نے اُنہیں اِسطرح نگلا کہ آج انہیں کو ئی جاننے والا بھی نہیں ہے قافلہ شب روز نے نا جانے کتنی تہذیبوں کو ریگستانوں میں بدل ڈالا ‘ کتنی سلطنتیں بے نام ہوگئیں ‘ کتنے خانوادے مٹی کے ذرات بن کر بکھر گئے ‘ کیسے کیسے نامور گمنامی کے تاریک غار میں اُتر گئے ‘ صدیوں کی شان و شوکت لمحوں میں نشانِ عبرت بن گئی‘ ہما لیہ جیسے لوگ مٹی کی چادر اوڑھ گئے ‘ وقت اور شب و روز کی کروٹوں نے کے ٹو جیسے لوگ ذرات بناکر ہو امیں اڑا دئیے ‘ آبِ بقا ء پینے والے کوچہ گمنامی کے اندھیروں میں گم ہوگئے ‘ اپنے نام کے خطبے پڑھانے والوں کو کوئی دفنانے والا نہ ملا نہ کوئی فاتحہ خواں‘ شہر ت کے آسمان پر آفتاب کی طرح کرنیں بکھیرنے والوں کو مرنے کے بعد قبر پر مٹی کا ایک دیا بھی نصیب نہ ہوا ‘ جن کے محلوں کے سبزاہ زاروں میں رنگین آنچل لہراتے تھے پھلوں پھولوں کے باغات آباد تھے جن کے ناموں پر شہر آباد ہو ئے آج اُن کی قبروں پر ویرانی کے سائے رقص کر تے ہیں جن کے چلنے سے زمانے چلتے تھے جن کی دھڑکن کے ساتھ کروڑوں لوگوں کے دل مچلتے تھے آج اُن کی مرقدوں پر ویرانی کے ڈیرے ہیں ‘ جن کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ہزاروں لو گ گھنٹوں انتظار کر تے تھے آج وہ کسی فقیر کی آہٹ کو ترستے ہیں جن کے ما تھوں پر ایک شکن لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتی تھی آج اُن کی ہڈیوں کا چورہ بن گیا کسی نے مڑ کر نہ دیکھا جن کے دم سے نبض کائنات تھم جاتی تھی آج اُن کی قبریں چمگادڑوں کی آما جگاہیں ہیں جن کی ایک جھلک کے بعد دیکھنے والے سمجھتے تھے کہ انہوں نے زمین و آسمان کے سارے خزانے سمیٹ لئے ہیں آج لوگوں کو اُن کے نام تک یاد نہیں ہیں ‘ جن کو پا نے کے لیے لاکھوں لوگ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ لیتے تھے مسندِ اقتدار اُن کے قدموں میں پلک جھپکنے میں ڈھیر کر دیتے تھے آج ان کی قبروں پر کو ئی فاتحہ خو ان نہیں ہے جو سمجھتے تھے کہ زمانہ اُن کے دم قدم سے ہے اگر وہ ہیں تو نبضِ کائنات چل رہی ہے اور اگر وہ نہ رہے تو گردشِ افلاک رک جائے گی لیکن زمانہ گردشِ ایام اُسی طرح جاری و ساری ہے ‘ نبضِ کائنات پو ری آب و تاب سے چمک دمک رہی ہے غرض دنیا کے ہر خطے میں ایک سے بڑھ کر ایک انسان اپنے وقت میں پو ری آن با ن شان سے آیا اور چلا گیا دنیا کی با ت چھو ڑیں آپ صرف برصغیر پاک و ہند پر ہی نظر ڈالیں مسلمانوں نے یہاں ایک ہزار سال تک حکومت کی ‘ غوریوں سے لے کر مغلوں تک ‘غزنوی ‘لو دھی خاندان غلاماں اور خاندان سوری ایک سے بڑھ کر ایک سلطان اپنے وقت پر مسندِ اقتدار پر آیا ‘ زمانے کو گرفت میں لے کر خو د کو منوانے کی پوری کو شش کی لیکن گردشِ ایام کے ساتھ ساتھ ماضی کے سیاہ غار میں اترتا چلا گیا ‘ یہ سارے باد شاہان وقت بڑے سلطان تھے لیکن کیاآج وہ عوام کے دلوں میں تاریخ کے اوراق میں زندہ ہیں نہیں بلکل نہیں ‘ لو حِ تاریخ بہت بے رحم سنگدل بے مروت ہے یہ ہمیشہ انہی لوگوں کی احسان مند ہوتی ہے جنہوں نے خدا اورسرور کونین ﷺ سے حقیقی محبت کے بعد خدا کی مخلوق سے حقیقی بے لوث پیار کیا ‘ تاریخ کے تذکروں میں وہی لو گ جگہ پاتے ہیں جنہوں نے انسانوں کی بہتری کے لیے کوششیں کیں ‘ بادشاہانِ وقت کے نام لوگ بھول گئے لیکن خو اجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ ‘ خوا جہ نظام الدین ؒ ‘ خوا جہ قطب الدین بختیار کاکی ‘ ؒ امیر خسرو ‘ مجدد الف ثانی ؒ ‘شاہ ولی اللہ ؒ ‘ سید علی ہجویری ؒ ‘ بابا فرید ؒ جیسے نا بغہ روزگار عظیم نفوس قدسیہ ایسے لو گ ہیں جو آج بھی لوگوں کی دھڑکنوں میں آباد ہیں جن کے مزارات آج بھی تاریکی میں مینارہ نور کا کام کر رہے ہیں جو آج بھی جہالت کے اندھیروں کو روشنی میں بدل رہے ہیں آخر یہ کون لوگ تھے کہ نہ تو اِن کے پاس قارون کے خزانے تھے نہ ہی ارسطو ‘سقراط ‘ افلاطون کی دنیاوی ذہانت تھی نہ ہی فوجیوں کے طاقتور لشکر تھے نہ ہی یہ اقتدار کی راہداریوں کے مسافرتھے تو آخر ان لوگوں کو شہرت دوام کس طرح حاصل ہوئی ‘ ہر گزرتے دن کے ساتھ اِن کی شہرت اور عوام میں مقبولیت کا تاثر بڑھتا جا رہا ہے تو حقیقت یہی سامنے آتی ہے کہ اِن عظیم انسانوں کی زندگی احکامات الٰہی اور عشقِ رسو ل ﷺ سے منور تھیں ‘ اِن کی آنکھوں کا سرمہ مدینہ ‘ کوفہ و نجف کی خاک تھی آج بھی اگر کوئی شہرت کے آسمان پر قیامت تک کے لیے امر ہونا چاہتا ہے تو اُسے اِن عظیم ہستیوں کے کارناموں ‘ جہاد زندگی اور اسلوب حیات کو مشعل راہ بنانا ہو گا ۔ ہر انسان کی زندگی میں کوئی نہ کوئی ایک لمحہ حادثہ یا واقعہ ضرور ایسا آتا ہے جب وہ ہمیشہ کے لیے امر بھی ہوسکتا ہے یا پھر تاریخ کے کو ڑے دان کا کوڑا جہاں چاروں طرف گمنامی کے سیاہ اندھیرے ہیں اب جو لوگ اُس لمحے یا مہلت کو غنیمت جان کر حق کا ساتھ دیتے ہیں اپنی ذات کے خول سے نکل کر دوسروں کی بھلائی کا سوچتے ہیں ‘ دوسروں کی زندگیاں آرام دہ بنانے ‘ دوسروں کے غم کم کر ے ‘ دوسروں کو کامیابیاں عطا کرنے کی کو شش کرتے ہیں ایسے لوگوں کی ہر دور میں تاریخ کو تلاش ہوتی ہے ‘ ایسے ہی لوگ تاریخ کی مراد ہوتے ہیں ‘ ایسے ہی لوگوں کی تاریخ احسان مند ہوتی ہے ‘ حق گوئی کا ایک فقرہ انسان کو صدیوں کی شہرت عطا کرتا ہے جبکہ بے کار طویل عمر صرف گمنامی کی چادر عطا کرتی ہے ‘ تقدیر کی دیوی بہت کم لوگوں پر مہربان ہوتی ہے ‘ آج وطن عزیز میں جب تحریک انصاف کے لیڈر عمران خان صاحب اقتدار کی دلہن کا گھونگھٹ اٹھا نے والے ہیں وہ اقتدار کی دیوی کی پازیب کی جھنکار سن رہے ہیں تو ان کے پاس بھی تاریخ میں امر ہو نے کا موقع میسر آگیا ہے ‘ عمران خان نے تحریک انصاف کی بنیاد جس منشور پر رکھی اور بار بار ناکامی کے بعد اپنے ہی اصولوں سے ہٹ گئے ‘ لوٹا کریسی کے خلاف تھے آج انہوں نے لوٹوں کے لیے پھاٹک کھول دیا ہے ‘ بنی گالا کی منڈھیروں پر لوٹوں کی برکھا خوب برسی ہے کوئی بات نہیں ‘ نسل در نسل سیاست کے خلاف تھے آج انہوں نے ایک ہی خاندان میں ٹکٹیں دیں کوئی بات نہیں ‘ اسٹیٹس کو کے خلاف تھے سرمایہ دار جا گیردار کے خلا ف تھے کر پٹ سیاستدانوں کے خلا ف تھے آج اُن کی بارات میں یہی لو گ شامل ہیں ‘ اقتدار کے چو بارے پر چڑھنے کے لیے ستر سالوں سے با قی سیاستدانوں نے جو ہتھکنڈے آزمائے ‘ یوٹرن لئے جھوٹ بہتان سارے تیر آزمائے جو کام دوسرے سیاستدانوں نے کئے وہ سارے عمران خان نے بھی کئے لیکن ہم یہ ساری غلطیاں معاف کرنے کو تیار ہیں اگر عمران خان درباریوں کے جھنڈ اور کرپٹ مافیا کے ان جاہلوں کے چنگل سے آزاد ہوکر حقیقی انقلاب کی بنیاد رکھیں ‘ اقتدار کیلئے عمران خان کو اِن کر پٹ لوگوں کی ضرورت تھی ہم مانتے ہیں لیکن جب عمران خان اقتدار کے کو ٹھے پر جلوہ گر ہوجائے تو ہم عمران سے حقیقی خدمت خلق والی حکومت کا تقاضہ کرتے ہیں اگر عمران ایسا نہیں کرتے تو وہ سمجھ لیں وہ بھی گمنامی کے تاریک غار میں اِس خاموشی سے اُتریں گے کہ کسی کو پتہ بھی نہیں ہوگا کیونکہ سر منڈوانے سے کوئی قلندر نہیں بن جاتا ‘ یونان میں پیدا ہوکر کوئی سکندر نہیں بن جاتا ‘ بغدار میں ہر کوئی عبدالقادر جیلانی نہیں ‘ لاہور کو کوئی اور داتا کی نگری نہیں کہہ سکتا ۔ تاریخ کے شاہسوار وہی ہوتے ہیں جود اپنی ذات کو فراموش کر کے اپنی زندگی مخلو ق خدا کی بھلائی میں صرف کر دیتے ہیں ورنہ گردش ایام کے ساتھ مردہ باد کے نعروں کے لیے عمران خان کو بھی تیار رہنا چاہیے ۔