کالم : بزمِ درویش – درندے :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

کالم : بزمِ درویش
درندے

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:

میرا وجود آگ و شعلے برساتا تندور بن چکا تھا ‘ میں جو فطری نرم مزاج ‘صلح پسند اورانسانوں سے پیار کر نے والا ‘کسی انسان کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ جانے والا آج میری رگوں میں خون کی بجائے نفرت غصہ حقارت کا بارود دوڑ رہا تھا ‘ ایسا غصہ کہ سامنے بیٹھے انسان کے ہزاروں ٹکڑے کر کے جہنم کے شدید ترین حصے میں پھینک دیا جائے ‘

میرے دل و دماغ باطن سے بڑے سے بڑے مجرم گناہ گار کے لیے بھی پیار اوررحم کا چشمہ پھوٹ پڑتا ہے لیکن سامنے بیٹھے شخص کے لیے پیار محبت کی بجائے غصے اور نفرت کا دریا تھاجو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتا جارہا تھا میں اپنے غصے پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن غصے اور نفرت کی آنچ سے میرا وجود لرز رہا تھا میں اپنے منتشر اعصاب کو نارمل کر نے کی پو ری کو شش کر رہا تھا لیکن سامنے بیٹھے شخص کے آگ برساتے الفاظ پگھلے ہو ئے سیسے کی طرح میری سما عتوں میں شگاف ڈال رہے تھے ایسا مجرم گناہ گار کہ شیطان بھی پناہ مانگتا ہوا بھاگ گیا ہو گا ‘ شیطانی چیلوں نے حیرت سے دیکھا ہو گا کہ ہم سے بڑا شیطان مجرم گناہ گار بھی پیدا ہو گا نو مبر کی سردی میں اُس کے منہ سے نکلے الفاظ کی باز گشت سے میرا وجود پگھل رہا تھا میں چھلنی چھلنی ہو رہا تھا وجود پارے کی طرح تڑپ رہا تھا بھٹی میں مکئی کے دانوں کی طرح اچھل رہا تھا گناہ اورجرم انسان کر تے ہیں لیکن اِس درجے کی گناہ گاری شیطانیت جنسی حوس درندگی کہ شیطان نے بھی شرم سے منہ چھپا لیا ہو گا کہ کو ئی انسان اس حد تک بھی گر سکتا ہے میں اپنے سامنے بیٹھے پچاس سالہ شخص کو دیکھ رہا تھا جو گوشت پوست ہڈیوں سے بنا ہوا اِسی دھرتی کی پیداوار تھا اُس کی دو آنکھیں ایک سر دو ہاتھ دو ٹانگیں چہرہ اور جسمانی ڈھانچہ دوسرے انسانوں جیسا ہی تھا آنکھوں کا رنگ سر اور سر کے اند ر دماغ خیالات سوچیں یہ دیکھنے میں درندہ عفریت نہیں لگتا تھا لیکن اِس کے گناہ ایسے کہ درندے بھی منہ چھپا کر بھاگ جائیں ایسا گناہ کہ عام انسان صرف سوچنے سے ہی کانپ جائے صرف خیال آنے سے ہی سو بار استغفراللہ کا ورد کرے ‘ خیال کے آنے سے ہی خدا سے معافیاں مانگے لیکن یہ کس میٹریل سے بنا ہوا انسان تھا کہ کتنے آرام سے وہ گناہ کر تا رہا جو عام انسان خیال میں بھی نہ سوچے میرا دماغ شل ہو چکا تھا ‘ سوچیں خیالات مفلوج ‘ دماغ میں سناٹا اور دھواں پھیلتا جارہا تھا اُس کے گناہ کا خیال آتے ہی قے آنے لگتی جسم تڑخنے لگتا لرزنے لگتا جسم کا انگ انگ تو بہ تو بہ کا ذکر کر نے لگتا لیکن یہ گناہوں کی طویل لسٹ کے بعد بھی کتنے آرام سے دھرتی پر چل پھر رہا تھا ‘ سانسیں لے رہا تھا اِس کا دماغ پھٹ کیوں نہیں گیا ‘ دماغی کیمیکل ابنا رمل کیوں نہیں ہو گئے اِس کے ہوش و حواس پاگل پن کی حدوں کو کراس کیوں نہیں کر گئے یہ ابھی تک ہوش مندوں کی طرح کتنے آرام سے پھر رہا تھا ‘ مجھے اِس کے گناہ کا خیال ہی کاٹ رہا تھا جیسے کوئی زہر آلودہ خنجر سے میرے نازک دل کو کوئی چیر رہا ہو ‘ کلیجے کو زخمی کر رہا ہو جیسے کسی نے گرم سلاخ پر پرو کر جلتے ہوئے آلاؤ میں رکھ دیا ہو ‘ اِس کی جرات پر حیرت ہو رہی تھی کہ خون گوشت ہڈیوں سے بنا کو ئی انسان ایسا جرم گناہ بھی کر سکتا ہے میں باربار اُسے سر سے پاؤں تک دیکھ رہا تھا بے یقینی سے سوچ رہا تھا کہ کو ئی خواب ہے میں کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ رہا ہوں ابھی آنکھ کھلے گی تو خواب کا طلسم ٹوٹ جائے گا ‘ جاگتی آنکھوں کے ساتھ منظر بدل جائے گا اور میں سکھ کا سانس لوں گا کہ میں ڈراؤنا خواب دیکھ رہا تھا ۔ لیکن میں اپنے جسم کی چٹکیاں لے چکا تھا بار بار یقین کر چکا تھا کہ یہ خواب نہیں ہے بلکہ ایک تلخ اور غلیظ حقیقت میرے سامنے بیٹھی تھی جو الفاظ اُس کے منہ سے نکلے تھے وہ حقیقت پر مبنی تھے الفاظ کیا تھے نشتر تھے جنہوں نے میرے وجود کو تار تار کر دیا تھا ،میں بے یقینی سے اُس کی طرف دیکھ رہا تھا میں نے ایک بار پھر اُس سے پوچھا جو تم نے کہا ہے وہ واقعی سچ ہے تم اپنے الفاظ اور گناہ پر قائم ہو واقعی تم نے یہ سیاہ کاری ظلم کیاہے کیا واقعی تم سیا ہ رات کے سناٹے میں خوفناک جنسی درندے کی طرح شکار پر نکل پڑتے تھے ‘ پھر شکار مظلوم بے بس کمزور شکار کو پکڑ کر گناہ کے سیاہ ترین بابوں میں ٹاپ آف دی لسٹ گناہ کے مرتکب ہوتے تھے تو اُس نے پھر اقرار میں سر ہلایا تو میں پھر کانپ کر رہ گیا ۔ میں کسی مریض کو دیکھنے کے لیے لاہور کے سرکاری ہسپتال میں آیا ہوا تھا۔مریض کے آپریشن کی تاریخ بہت لیٹ تھی مریض اور اُس کے لواحقین کی شدید ترین خواہش تھی کہ کسی طرح آپریشن کی کوئی جلدی تاریخ مل جائے تاکہ مریض کا مرض بڑھ نہ سکے اور جلدی آپریشن کے بعد مریض صحت مند ہو کر دوبارہ نارمل زندگی گزار سکے میرے یہاں پر دو ڈاکٹرصاحب جاننے والے تھے میں نے آکر اُن سے درخواست کی انہوں نے ہمیشہ کی طرح تعاون کیا آپریشن کی جلدی کی تاریخ مل گئی تو میں واپسی کے لیے باہر کے دروازے کی طرف چل پڑا ‘ دروازے سے پہلے ہی اِس شخص نے مجھے روک کر ہا تھ جوڑتے ہوئے کہا جناب مجھے دو منٹ آپ کی توجہ درکار ہے میراِ س بھری دنیا میں کوئی بھی نہیں ہے ‘ میں بے آسرا لاعلاج مریض ہوں کتنے مہینوں سے ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال میں دھکے کھا رہا ہوں لیکن ڈاکٹر کہتے ہیں میرا کوئی علاج نہیں اب مجھے زندگی اِسی طرح معذوری میں ہی گزارنا ہو گی اُس کی حالت زار دیکھ کرمیں تڑپ گیا اُسے لے کر باہر لان میں بینچ پر بیٹھ گیا اور بولا اب مجھے بتا ؤ آپ کو کیا بیماری ہے تو وہ بولا میرے پیشاب اور پاخانے کے دونوں فطری راستے بند ہوچکے ہیں اور پیٹ کے آپریشن کے بعد میری بڑی آنت اور کچھ اور حصے کاٹ دئیے گئے اب مجھے نالی اور بیگ لگے ہیں اکثر اوقات بیماری کی شدت میں یہ نالیاں بھی بند ہو جاتی ہیں غلاظت میرے منہ سے نکلنا شروع ہو جاتی ہے یا پیٹ اور مثانہ پھول جاتا ہے جس سے ناقابل برداشت تکلیف ہو تی ہے وہ اپنی بیماری بتارہا تھا تو میں نے پو چھا تم نے ایسا کون سا گناہ کیا ہے جو تمہیں ایسی خوفناک بیماریاں لگ گئی ہیں تو وہ بولا میں ایسے گناہ کا اقرارکرتا ہوں مجھے اور میرے دو اور دوستوں کو شراب جوئے اور زنا کی عادت تھی ہم رات کے وقت ہسپتالوں میں بے آسرا خواتین کے ساتھ زنا کرتے ‘ مجبور خواتین کو علاج کے بہانے اپنے اڈے پر لے جا کر زنا کرتے ‘ جنسی خواہش ہماری اِس حد تک بڑھ گئی تھی کہ رات کے وقت کوئی بھی اکیلی عورت ہمیں مل جاتی ‘ ہم اُس پر حملہ کر دیتے لاہور کے کئی ہسپتالوں میں ہم نے گناہ کیا لیکن گناہ کی آخری حدہم نے اُس وقت کراس کی جب داتا صاحب کے دربار پر جاکر بے یارومددگار عورتوں کو اپنی جنسی تسکین کے لیے پکڑ لیتے ‘ اپنا منہ کالا کر تے اِس مقصد کے لیے ہم نشہ آور چیز پلا کر عورتوں کو بے ہوش کر تے ‘ داتا صاحب کے دربار پر کتنے عرصے یہ گناہ ہم کر تے رہے وہا ں پر ایک جوان پاگل مجذوبہ لڑکی ہمیں پسند آئی ‘ اُس کو ہم اٹھا کر اپنے اڈے پر لے گئے وہاں کتنے دن اُس مریضہ کے ساتھ اپنا منہ کالا کرتے رہے ‘ اُس کو نہلا دھلا کر صاف کپڑے پہنا دئیے تھے پھر جب وہ معصوم حاملہ ہو گئی تو ہم نے پھر اُسے دربار پر جاکر چھوڑ دیا جہاں پر چند مہینے کے بعد ہی حمل کی وجہ سے وہ موت کے گھاٹ اُتر گئی ‘ اُس مجذوبہ اور داتا صاحب کی ہمیں بد دعا لگ گئی میرا ایک دوست ایکسیڈنٹ میں کمر کی ہڈی تڑوا کر فالج زدہ ہوکر کئی مہینے بستر پر ایڑیاں رگڑ کر مرگیا ‘ دوسرا ایڈز کا شکار ہوکر سسک سسک کر مرگیا اب میں بھی خوفزدہ ہوچکا تھا میری ایک ہی بیٹی تھی جو پندرہ سال کی عمر میں کسی رکشہ ڈرائیور کے ساتھ بھاگ گئی ‘ واپس آئی تو آٹھ ماہ کی حاملہ تھی آٹھ ماہ جو گھر سے باہر رہی ہر رات جنسی درندے اُس کا جسم ادھیڑتے رہے پھر دوران زچگی میرے سامنے وہ مرگئی ‘ میری سزا کا عمل جاری ہوچکا تھا میرا پیشاب اور پاخانہ بند ہوگیا آپریشن کرایا تو ڈاکٹروں نے نالی اور بیگ لگا دئیے ‘ اب میں لاہور کے ہر بڑے ڈاکٹر کے پاس اور ہسپتالوں کے چکر لگا چکا ہوں کہ اِس کے باوجود میرا کھانا پینا اور پانی بند ہو جاتا ہے جس سے میں موت کے عذاب میں مبتلا ہو جاتا ہوں آپ کوئی سفارش کریں میرا آپریشن ہو جائے کو ئی ڈاکٹر میرا علاج کر دے تاکہ میں خدا کے اِس عذاب سے بچ جاؤں ‘ میں بار بار داتا صاحب جاکر معافیاں مانگ چکاہوں لیکن میرا گناہ اتنا زیادہ ہے کہ مجھے معافی نہیں ملتی ‘ میں ہر روز امید لے کر ہسپتال آتا ہوں لیکن ڈاکٹر میری شکل دیکھتے ہیں دھکے دے کر نکال لیتے ہیں ‘ اُسے دیکھ کر میرا دم گھٹ رہا تھا میں نے اُس کی طرف سپاٹ نظروں سے دیکھا اور واپسی کے لیے ہسپتال سے باہر کی طرف چل دیا کہ اِس معاشرے میں کیسے کیسے درندے معصوم انسانوں کو ادھیڑتے ہیں ۔

جواب دیجئے