کالم : بزمِ درویش – کوچہء ہجویر :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

کالم : بزمِ درویش
کوچہء ہجویر

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:

میں ایمان افروز مستی اور سرور سے بھری نشاط انگیز گھڑیوں سے گزر رہا تھا میرے جسم کا انگ انگ اور روح ایما نی حرارت سے پگھل رہے تھے میرے با طن اور روح کے عمیق ترین گو شے روحانی مستی سے لبالب بھرے ہو ئے تھے مستی نشہ سرور قطرہ قطرہ میری روح میں اتر رہا تھا نشہ سرور اور نور میری روح کے پردوں کو چیرتے ہو ئے بعید ترین گو شوں کو مہکا اور روشن کر رہے تھے-

میں دنیا سے کٹ چکا تھا مادیت پرستی ہوا میں تحلیل ہوگئی تھی میں کثافت سے لطا فت کے عمل سے گزر رہا تھا وجد و الہام کے دریچے وا ہوتے جا رہے تھے من کی سیاہی اجا لوں میں ڈھل رہی تھی چاروں طرف نور ہی نور تھا جو میری روح کو منور کر رہا تھا میری روح وجد میں آکر جھو م رہی تھی خو شی نشے سرور کے چشمے میرے با طن سے پھو ٹ رہے تھے جسم کی پو ر پور نشے مستی میں ڈوب چکی تھی خوش قسمت ہو ت ہیں وہ لوگ جو اِن نشاط انگیز ایما نی گھڑیوں سے گزرتے ہیں جن کی حسیات اِن کیفیا ت کوانجوائے کرتی ہیں جن کے با طن نور سے متعارف ہو تے ہیں جو اجا لوں سے ہمکنار ہو تے ہیں ایسے اجالے جن کے سامنے اربوں کہکشاوں کی روشنی بھی مانند پڑ جائے ایسا نور جس سے چاند ستا رے سورج روشنی کی بھیک مانگیں ایسا نور جس کے در پر اندھیرے سوالی بن کر آئیں ایسا اجا لا نو ر صرف اِن خو ش قسمت انسانوں کو حاصل ہو تا ہے جو ساری دنیا سے منہ مو ڑ کر خا لق کا ئنا ت کی طرف منہ مو ڑ لیتے ہیں جن کی تر جیح اول رب ذوالجلال ہو تا ہے جن کی زندگی کا مقصد خدا کی رضا ہو تی ہے جن کا جینا مر نا صرف قرب الہی کا حصول اورمعرفت الہی ہو ناہیجن کی سانسیں خدا کی مرضی سے چلتی ہیں جو سر سے پاوں تک خدا کی رضا کی چلتی پھر تی تصویر نظر آتے ہیں یہی وہ لو گ ہو تے ہیں جو تزکیہ نفس عبا دت ریا ضت مجا ہدوں کے بعد خو د کو تمام دنیا وی جسما نی الا ئشوں سے پاک کر کے دربار حق میں کھڑا کر تے ہیں جو قرب الہی کے مسافر ہوتے ہیں جو عشق حقیقی کے طالب ہو تے ہیں دنیا جہاں کے ہیر ے جو اہرات دولت کے انبار ان کے لیے مٹی کے ڈھیر ہو تے ہیں جو خدا کی آزمائشوں کو بھی اس کی رضا سمجھ کر گلے سے لگا تے ہیں جو انعام اور آزما ئش کی ہر گھڑی میں خدا کی رضا کے متلا شی ہو تے ہیں جو خدا کے عشق کے بعد خدا کی بنائی ہر چیز سے عشق کر تے ہیں جو دوسروں کا درد محسوس کر تے ہیں دوسروں کا غم کم کر نے کی کو شش کر تے ہیں جو دوسروں کا دکھ بٹا تے ہیں اپنی خوا ہش پر دوسروں کی خوا ہش کو ترجیح دیتے ہیں جو جھو ٹ نفرت غصہ شہوت لالچ تکبر غرور خو د پسندی سے پاک ہو تے ہیں جو محبت پیا ر ایثار قربانی اخو ت بھائی چارہ خدمت خلق کے زیور سے آراستہ ہوتے ہیں جو اِس پو ری کائنات میں صرف اور صرف خالق کائنات کو چنتے ہیں اور پھر جینا مرنااسی کی پسند نا پسند کے پل صراط پر گزرنے میں گزار دیتے ہیں یہ ایمان کے وہ چراغ ہو تے ہیں جن سے پھر لا کھوں بے نو ر اندھے اپنے باطن کے اندھیروں کو دور کر تے ہیں پھر چراغ سے چراغ جلتا چلا جاتاہے میں بھی اِس وقت تاریخ تصوف کے سب سے بڑے چراغ شہنشاہِ لا ہور سید علی ہجویری کے دربار اقدس پر حجرہ مبارک کے اندر کھڑا اپنے با طن کے اندھیروں کو اجالوں میں بدل رہا تھا سرکار کی قبر مبارک کے اتنا قریب یہ احساس ہی جسم کی نس نس میں نشے سرور کے دریا بہا رہا تھا ، میں رشک بھر ے لمحوں سے گزر رہا تھا اور ان پر ما تم کر رہا جو اِن نشاط انگیز گھڑیوں سے محروم رہتے ہیں میں دنیا مافیا سے بے خبر آنسوں کا نذرانہ پیش کر رہا تھا لمحے صدیوں میں بدلے یا صدیاں لمحوں میں سمٹ آئیں پتہ نہیں کتنی دیر میں نشے سرور نو ر کے سمندر میں غو طے کھا تا رہا پھر آہستہ آہستہ اعصاب نارمل ہو ئے تو دیکھا دیوانوں کا دریا مزار اقدس کے چاروں طرف لپک لپک کر آرہا تھا آخر کا ر زندگی کے ایمان افروز تجربے سے گزرنے کے بعد ہم حجرہ مبارک سے باہر آگئے باہر دیوانوں کا ہجوم رشک بھری نظروں سے ہماری طرف دیکھ رہا تھا اب ہم نشے سرور میں ڈوبے دربار کے باہر مسجد کے صحن میں آگئے اب میں نے دوستوں سے درخواست کی کہ تھوڑی دیر کے لیے مجھے تنہا چھوڑ دیا جائے میں اپنی خلوت اور نشے کو محسوس کرنا چاہتا تھا اب دربا ر اقدس میرے سامنے تھا اور چاروں طرف سید علی ہجویری کے دیوانوں کا سیلاب جواپنے اپنے اندازسے عقیدت کے پھو ل نچھاور کرنے آئے تھے دنیا جہاں اور وطن عزیز کے گو شے گو شے سے آئے ہو ئے دیوانے مختلف ٹو لیوں میں درود و سلام میں مصروف تھے فضا درود و سلام کی عطر بیز سر گوشیوں سے مہک رہی تھی ۔ قافلوں کے قافلے اپنے مرشدوں کے پیچھے عقیدت و احترام سے سر جھکا ئے مزار اقدس پر انوار کی طرف بڑھ رہے تھے مریدوں کی عقیدت دیکھ کر مجھے اپنی ریاضت کے ابتدائی ایام یاد آگئے جب میں بھی مرشد کریم کے عرس مبارک پر دن رات مرشد پاک کے دربار پر دیوانہ وار گھومتا جھو متاتھا تصوف کی وادی جو پراسرار بھیدوں اور عقیدت احترام کے پھو لوں سے مہکی ہوتی ہے آپ تصوف میں جب مرید کا اپنے مرشد سے دیوانہ وار عشق دیکھتے ہیں تو خو شگوار حیرت ہوتی ہے مرید مرشد خانے کو ساری عمر عقیدت و احترام کا قبلہ ما نتا ہے مر شد خا نے کی خاک کو آنکھوں کا سرمہ بنا تا ہے تاریخ کا دامن ایسے ایمان افروزواقعات سے بھرا پڑا ہے جب مرشد کا تعلق اہل دنیا کو حیرت میں ڈال دیتا ہے شہنشاہِ اجمیر خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کا 90سال کی عمر میں اپنے مرید خوا جہ قطب الدین بختیار کا کی کے لیے دہلی کا سفر کسے نہیں یاد بابا فرید گنج بخش کا اپنے مر شد خوا جہ قطب الدین بختیار کاکی سے والہا نہ عشق کو ن بھول سکتا ہے نظام الدین اولیا کا بابا فرید سے دیوانگی والا عشق تاریخ تصوف کا سنہرا باب ہے امیر خسروکانظام الدین سے عشق مثالی باب ہے پیر مہر علی شاہ صاحب کا سیال شریف میں حاضری کا انداز کو ن بھو ل سکتا ہے دمڑی والی سرکار میر پو ر کا یہ کہنا کہ مر شد خا نے سے جو بھی میرے مزار پر آئے جو توں سمیت آئے کیا انداز ہے شمس تبریز اور مولانا روم کا عشق اور پھر مولانا کا اپنے مرشد کے ہجر میں مثنوی روم لکھنا عقل حیران رہ جا تی ہے سلطان با ہو کا مرشد کریم کے پاس دہلی جانا کون بھول سکتا ہے اور پھر بھلے شاہ کا شاہ عنا یت قادری سے دیوانہ وار عشق عقل انگلی دانتوں تلے دبانے پر مجبور ہو جاتی ہے تصوف کی پرخار پر اسرار وادی میں منزل اسی کے حصے میں آئی جو مرشد کے عشق میں فنا ہوا اپنی ذات کی نفی کی تا ریخ کے اوراق ایسے ہزاروں واقعات سے بھرے پڑے ہیں جب مرید نے مرشد کی رضا کے لیے خو د کو فنا کردیا اِس فنا پن میں جو لذت ہے آپ بیان نہیں کرسکتے مجھے آج بھی وہ دن یا د ہے جب چند سال پہلے مرشد کے حکم پر میں اجمیر شریف انڈیا گیا اور شہر میں داخل ہوتے ہی جو تے اتا رکر ننگے پاں شاہ اجمیر کے دربار میں دوڑ کر حاضری دی تیز گرمی گرم سڑک پاں میں چھا لے پڑ گئے لیکن نہ چھا لوں کی پروا ہ نہ گر می کی کر ہ ارض پر دیوانے دنیا جہاں سے بے فکر ہو کر جب مرشد خا نوں کی طرف حا ضری دیتے ہیں تو اپنی خا لی جھولیوں کو فیض سے بھر کرلے جاتے ہیں سید علی ہجو یری کے مزار انوار پر بھی دنیا جہاں سے آئے ہو ئے دیوانے مرید اپنی جھولیاں بھر نے آئے ہو ئے تھے یہاں پر مرید اپنے مرشدوں کے ساتھ دامن مراد پھیلائے حاضر ہو رہے تھے یہاں پر مرشد مرید کی تمیز ختم ہو گئی تھی مریدوں کے چہرے عقیدت کی آنچ سے گلنا رہو رہے تھے اور بہت سارے دیوانے جو سید علی ہجویری کے ماننے والے تھے وہ اپنی جھولیاں پھیلا ئے اپنے مرشد خا نے میں حا ضر تھے اپنی روحانی جسمانی پیا س بجھا رہے تھے اور مرشد کبھی بھی اپنے مرید کو خا لی دامن نہیں لو ٹاتا ۔