کالم : بزمِ درویش – میٹھے لوگ :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

کالم : بزمِ درویش
میٹھے لوگ

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:

خالقِ کائنات کی تخلیقات کا اگر بغور مشاہدہ کریں تو جیسے جیسے اسرار کے پر دے سرکتے ہیں ویسے ہی جبین بے نیاز میں ہزاروں سجدے تڑپنا شروع ہو جا تے ہیں خالق کی شاندار ایسی تخلیق پر فیکشن خو بصورتی اور تنوع کہ انسانی عقل عش عش کر اُٹھے ‘خدا ئی تخلیق میں سب سے اہم حضرت انسان جو ایسی پراسرار مشین ہے کہ جو اپنے اندر ہزاروں تنگ زاوئیے اور اسرارلیے ہو ئے ہے ‘

انسان اپنی صفتوں کے اظہار سے ہمیشہ حیران کر کے رکھ دیتا ہے ‘شر فساد جھگڑا خو د پسندی اقتدار شہرت حب چاہ حب اقتدار اِس کی جبلت میں ہے جس کے لیے یہ لاکھوں انسانوں کو مو ت کے گھاٹ اتار کر خوش ہو تا ہے ۔چھوٹی سی بات پر شہروں کے شہروں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا ‘ انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنانا اور پھر انسانی چربی سے ہی ان میں چراغ جلانا ‘ ہر دور میں چنگیز اور تیمور جیسے خونخوار درندوں نے انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا پھر مہذب دور کے انسان نے ناگا ساکی اور ہیرو شیما پر ایٹم بم گرا کر لاکھوں انسانوں کو کو ئلوں میں تبدیل کر دیا موجودہ اورگذشتہ عشروں میں امریکی صدر بش ‘ اوبامہ اور ٹرمپ نے کس بے دردی سے مسلمان ملکوں میں عورتوں بچوں بو ڑھوں اور جوانوں کا قیمہ بنایا ہے ‘ معصوم بچوں اور عورتوں کے جسموں میں سوراخ کئے ہیں ظلم و بربربیت کی خوفناک داستانیں جس بے دردی سے رقم کی گئی ہیں کرہ ارض کا ہر انسان اِس سے واقف ہے درندگی ایسی کے خونخوار درندے بھی شرما جائیں اور یہی انسان جب اچھا ئی پر آتا ہے تو ایک مظلوم بیٹی کی آواز پر حجاج بن یوسف جیسا انسان تڑپ جاتا ہے ‘ اسلامی لشکر مظلوم بیٹی کی آہ پر اُس کی مدد کے لیے بھیج دیتا ہے تیمور جیسا ارتھ شیکر ایک فقرے کے بدلے سارے شہر کو معاف کردیتا ہے بلکہ انعام و کرام سے نواز دیتا ہے ‘ حضرت انسان رحم دلی پر آئے تو پرندوں جانوروں کے لیے ہسپتا ل قائم کر دے اور بے رحمی پر آئے تومعصوم بچوں کا قیمہ بنا دے ‘ انسان کی بے پناہ خو بیوں میں سب سے بڑی خو بی اُس کی زبان یعنی بو لنے کی قدرت ہے جس سے با قی تخلیقات محروم ہیں ‘ اِسی زبان سے الفاظ نے تاریخ عالم میں بھر پور کر دار ادا کیا ہے انسانی خو بیوں میں سیرت کردار کے ساتھ لہجہ اور زبان کی مٹھاس خاص مقام رکھتی ہے دل و دماغ کی گہرائیوں سے نکلے ہو ئے چند جملے سننے والے کی زندگی بد ل کر رکھ دیتے ہیں ‘ نسلِ انسانی میں بلا شبہ انبیاء کرام کے گروہ یہ صفت رکھتے تھے کہ اُن کی مٹھاس سے بھرپور گفتگو سننے والے کو جہالت کی پاتال سے نکال کر انسانیت کے ماتھے کا جھومر بنا دیتی ‘ فخرِ دو جہاں ﷺ کی زندگی ایسے لاتعداد واقعات سے بھری پڑی ہے جب آپ ﷺ نے حسنِ اخلاق اور مٹھاس بھرے لہجے سے سننے والے کو حلقہ کفر سے نکال کر نورِ ایمان میں داخل کر دیا ‘ نبی رحمت ﷺ کے بعد آپ ﷺ کے تربیت یافتہ پروانوں کی زندگیاں بھی بھری پڑی ہیں جب صحابہ کرام کی حکمت و عظمت سے لبریز پر کشش باتیں جن کی سما عت سے ٹکرائیں وہ جہالت کی قید سے آزاد ہو کر حلقہ اسلام میں داخل ہوئے ‘ صحابہ کرام ؓ کے بعد یہ شعبہ علما ء حضرات کا تھا لیکن علماشو نے اپنا حقیقی کردار ادا کر نے کی بجائے جب ایک دوسرے پر کفر کے گو لے داغنے شروع کئے تو نسلِ انسانی اخو ت محبت پیار امن کی بجائے طبقات میں تقسیم ہو تی چلی گئی کیونکہ خدا ئے عظیم کسی بھی دور میں انسان کی فلاح سے غافل نہیں ہوا اِس لیے نبیوں پیغمبروں صحابہ کرام کے بعد یہ ڈیوٹی عشقِ الٰہی کے متوالوں نے خوب نبھائی ‘صدیوں سے صوفیاء کرام کردار سازی کی اِس عظیم مشق کو بخوبی اوراحسن طریقہ سے نبھا رہے ہیں ‘ آپ تاریخ کا ورق ورق کھنگال لیں آپ کو جب بھی کسی انسان میں مثبت تبدیلی نظرآتی ہے یا کو ئی چور سے قطب کے عہدے پر فائز ہوتاہے تو یہی کو چہ محبت صوفیاں کا آنگن ہے جہاں دن رات انسانوں کی کردار سازی ہو تی ہے انسانوں کے ظاہر و با طن کی جہالت گند گی کو طہا رت میں بدلا جاتاہے ‘نظر آتا ہے آپ صوفیاکرام کی مجلسوں میں بیٹھ کر دیکھیں اِن کی چھوٹی چھوٹی باتیں کشش اور کیف میں بسے جملے معارف و حقائق کے سمندر اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہوتے ہیں اِن کے پاس بیٹھ کر عرفان کو غذا ملتی ہے عقل کی گتھیاں لمحوں میں سلجھتیں ہیں اِن کی گفتار کی شیرینی اور زبان کی مٹھاس سما عتوں کو لذت کے نئے جہانوں سے متعارف کرا تی ہیں اب جب اِن عظیم نفوس قدسیہ کی مجالس و محافل کا مطالعہ کر تے ہیں تو گلشن تصوف انو کھا نرالا الگ ذائقہ لیے نظر آتا ہے جس میں ہر پھول کا رنگ اورخو شبو دوسرے سے مختلف ہے جو بصارت کو سرور اور مشام جان کو معطر کر تا ہے جب یہ بزرگان دین کے ہونٹوں سے گفتگو کے پھول جھڑتے ہیں تو عزت آموز مثالوں اور سبق آموز حکایتوں کے ساتھ زندگی کے عمیق ترین الجھے ہوئے حقائق چٹکیوں میں حل ہو ئے چلے جاتے ہیں ‘ ایک شخص شہنشاہِ پاک پتن بابا فرید ؒ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے شہنشاہِ میں آپ کے لیے چھری لایا ہوں یہ تحفہ قبول کر لیں تو آپ بو لے تمہارا شکریہ مگر مجھے چھری نہ دو ‘ دوبارہ کبھی آنا تو چھوٹی سی سوئی لیتے آنا اللہ والے کاٹنے کا کام نہیں کرتے بلکہ جو ڑنے کا کام کر تے ہیں عبادت کرنا کو ئی اِن سے سیکھے ایک مرتبہ حضرت ابو بکر شبلیؒ حالتِ مراقبہ میں دنیا ما فیا سے بے خبر بیٹھے تھے جیسے پتھر کا بت ‘ یہاں تک کہ جسم کا بال بھی حرکت نہ کر رہا تھا تو لوگوں نے آپ ؒ سے پو چھا حضرت اِس کما ل درجے کی محویت اور طریقہ آپ نے کہاں سے سیکھا تو حضرت شبلی ؒ بولے ایک مر تبہ میں نے بلی کو چوہے کے شکا رمیں بیٹھا دیکھا تو بلی کے جسم کا ایک بال بھی حرکت نہیں کر رہا تھا بلی کی یہ حالت دیکھ کر میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ ایک جانور اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے اِس قدر دنیا و مافیا سے بے خبر بیٹھا ہے تو میں اپنے مالک کی رضا کے لیے بے دھیانی سے عبادت کیوں کروں مجھے بھی خدا کی رضا کے لیے بلی کی طرح بے حس و حر کت خدا کی طرف متو جہ ہو نا چاہیے ‘ خدا سے عشق کا یہ عالم کہ ایک مر تبہ کسی شخص نے حضر ت با یزید بسطامی ؒ کے دروازے پر آکر دستک دی آپ کو پکا را تو آپ ؒ نے پو چھا کسے تلاش کر تے ہو تو آنے والے نے کہابایزید کو بلا تا ہوں تو اللہ کے عاشق نے کہا میں بیچارے بایزید کو تیس سال سے تلاش کر رہا ہوں لیکن مجھے نہیں ملا جب ذوالنون مصری ؒ تک آپ کی اس حالت کا احوال پہنچا تو فرمایا با یزید بسطامی ؒ خا صان خدا کی طرح بحضورباری تعالیٰ میں اِیسی شدت سے محو ہو گئے ہیں کہ خو د کو بھی بھو ل بیٹھے ہیں۔ یہی وہ ادائیں اورعبادات ہیں جو اولیاء کرام کودوسرے انسانوں سے اوپر لے جاتی ہیں کہ آپ کے منہ سے نکلے الفاظ مٹھاس کی ایسی چاشنی میں لپٹے ہو تے ہیں کہ سننے والا جھوم کر سر عقیدت میں جھکا کر غلامی کا طوق گلے میں پہن لیتا ہے صوفیا کرام ؒ کی زبان میں مٹھاس اور اثر اسی لئے آتا ہے کہ یہ خدا سے حقیقی عشق اور پھر اُس کی مخلوق سے لازوال محبت اور خدمت کر تے ہیں پھر خدا ئے لازوال اِس عظیم محبت اور خد مت کے صلے میں انہیں عوام کے دلوں کا تاجدار بنا دیتا ہے ‘ عبداللہ بن مبا رک ؒ عہد ہا رون رشید کے مشہور فقہی و محدث اور بزرگ تھے ایک مرتبہ جب وہ عراق میں تشریف لا ئے تو اہل شہر کا سیلاب غلاموں کی طرح آپ کے استقبال کو اُمڈ آیا ہارون رشید اپنی بیگم کے ساتھ موجود تھا عوام کی عقیدت اور جذبات دیکھ کر بیگم بولی یہ ہے حقیقی سلطنت کہ اہل دنیا زیارت کے لیے غلاموں کی طرح اُمڈ پڑے ہیں دوسری طرف تمہاری حکومت ہے کہ جب تک پولیس ڈنڈا نہ چلائے ایک انسان بھی تمہارے استقبال کو نہیں آتا حقیقی سلطان یہ لو گ ہیں ۔