کالم : بزمِ درویش – مٹی کے کھلونے :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

کالم : بزمِ درویش
مٹی کے کھلونے

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:

تتلی جیسی نرم ونازک دھان پان سی معصوم لڑکی کے چہرے پر کربلا کا ماتم اور آنکھوں میں دریائے فرات کی موجیں اچھل اچھل کر بے کنار ہو رہی تھیں بید مجنوں کی طرح لرزتے ہو ئے گلو گیر لہجے میں بار بار ایک ہی فقرہ دہرا رہی تھی ‘ سر کیا یتیم بے آسرا کو اِس مہذب معاشرے میں زندگی کی سانسیں گزارنے کے لیے اتنے بڑے امتحان سے گزرنا پڑتا ہے ۔

کیا یہ صرف طاقتور کا معاشرہ ہے اِس معاشرے میں وہی لڑکیاں با عزت زندگی گزار سکتی ہیں جن کے سرو ں پر کڑیل جوان بھا ئی اور بااثردولت مند باپ کا سایہ موجود ہو تا ہے ‘ کیا یتیم بے آسرا لڑکیاں مٹی کے کھلو نے ہو تے ہیں جنہیں جب چاہا کھیلا جب چاہا توڑ دیا ‘ سر میری ڈیمانڈ کیا ہے چار دیواری اور دو وقت کی روٹی ‘ چار دیواری اِس لیے کہ مر دہ معاشرے کے جنسی بھیڑیوں سے محفوظ رہ سکوں ‘ دو روٹیاں اِس لیے کہ سانسوں کی ڈوری کا کچا دھاگہ کہیں ٹو ٹ نہ جا ئے لیکن دو روٹیوں اور چاردیواری کی اتنی قیمت مجھے چکانا ہو گی کہ ایک نفسیاتی درندہ نما جنسی مریض مجھے خو نخوار درندے کی طرح نو چتا رہے اور میں اف بھی کرو ں تو گنا ہ گار مجرم ٹھہرتی ہوں میرا مطالبہ یا درخواست صرف اتنی ہے کہ مجھے اذیت اتنی دی جائے جتنی میں سہہ سکوں مجھے زخمی اتنا کیا جا ئے جتنا میں سہہ سکوں اور اگر میرا خاوند جنسی نفسیاتی مرگی کا مریض ہے تو اُس کے ماں باپ صرف زبانی میرا ساتھ دے دیں اپنے مریض بیٹے کو سمجھانے کا جھو ٹا وعدہ ہی کر دیں تاکہ امید کے چراغ میں میری زندگی گزر سکے اور اگر میں خاوند کی اذیت سے کبھی تنگ آکر آہ کروں تو میرے زخموں پر مرہم کی بجائے مرچیں تو نہ چھڑکیں لیکن میرے چچا چچی اور میاں کہتے ہیں ہم نے تمہار ی پڑھائی پر خرچہ کیا ہے ‘ ہم نے تمہیں غربت کے جہنم سے نکال کر پر آسائش زندگی دی ہے ہم نے تمہاری قیمت ادا کی ہے تم مٹی کا کھلونا ہو جس کو ہم نے اپنے پاگل نفسیاتی مریض کا دل بہلانے کے لیے خریدا ہے ‘ اب تمہاری ڈیوٹی یہی ہے کہ تم مریض پاگل میاں کا دل بہلا ؤ ‘ سر جب جب میرے میاں اور سسرال کا رویہ برداشت سے باہر ہوا میری خالہ نے میرے جسم پر تشدد کے نشان دیکھے تو مجھے گھر لے آئیں تاکہ میرا علاج کراسکیں جب خالہ کو حقیقت کا پتہ چلا تو اُس نے میرے سسرال والوں سے شکایت کی تو انہوں نے میری خالہ کی خوب بے عزتی کی ‘ خالہ میری حالت اور اپنی بے عزتی برداشت نہ کر تے ہوئے زندگی کی بازی ہار گئیں تو میں خالہ کے کرائے کے گھر میں اکیلی رہ گئی ‘ گھر کا کرایہ اور اخراجات جب میری اوقات سے باہر ہو ئے تو میں نے اپنے میاں کو فون کیا کہ میں واپس آنا چاہتی ہوں تو اُس نے تمسخرانہ قہقہے لگا ئے اور بولا آگئی عقل ٹھکانے ‘ سارا غرور تکبر ختم ہو گیا اب میں سوچوں گا تمہیں واپس لانا ہے کہ نہیں‘ پھر تنگ آکر میں نے اپنے چچا اور چچی کو فون کیا کہ خالہ کی وفات کے بعد اب میرا کو ئی سہارا نہیں ہے مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کے گھر آسکوں ‘ انہوں نے اپنے بیٹے سے بات کی تو بیٹا بولا اِس نے میرے خلاف باتیں کی ہیں اس کی سزا بھی باقی ہے اِس کو ابھی اور دھکے کھانے دو جب یہ سڑکوں پر بھیک مانگے گی تو اِسے میری قدر و قیمت کا احساس ہو گا یہ جس غرور پر اِس گھر کو ٹھکرا کر گئی تھی ابھی اس کے غرور کا بت ٹکڑے ٹکڑے ہو نے دیں پھر میں اپنی شرطوں پر اِس کو واپس لا ؤں گا وہ میری بے بسی بے آسر گی کمزوری کو انجوائے کر رہا تھا میری گستاخی کیا تھی کہ مجھے اتنی اذیت دو جو میں بر داشت کر سکوں میں تو اُس کا ظلم درندگی سہنے کو تیار ہوں لیکن اب وہ غصے میں ہے کہ میں نے لوگوں کے سامنے لب کشائی کر کے بہت بڑی گستاخی کی ہے اور وہ اب مجھے اِس گستاخی کی سزا دے رہا تھا وہ بلک بلک کراپنے اوپر ہو نے والے ظلم کی داستان سنا رہی تھی اور میں مہذب معاشرے میں آگ برساتے فرعونوں ‘ نمرودوں ‘ شدادوں اورظالموں کے بارے میں سوچ رہا تھا جو پو ری پلاننگ سے اپنے معذور نفسیاتی ذہنی مریض لڑکوں کے لیے غریب گھروں کی بے آسرا یتیم لڑکیوں کا انتخاب کر تے ہیں ‘ شکاری بھیڑوں کی طرح یہ ایسی لڑکیوں کا انتخاب کر تے ہیں جس کا آگا پیچھا نہ ہو یا غربت کی چکی میں اِس حد تک پس رہی ہوں کہ زندگی گزارنا تک مشکل ہو تو یہ زمانے میں فخریہ اشتہار چلا تے ہیں کہ ہم نے خوف خدا کے تحت غریب یتیم لڑکی کو بہو بنانے کا فیصلہ کیا ہے ہم نے جہیز بھی نہیں لیا ہم نے خدا ترسی ‘ غریب پروری بلکہ یتیم پروری کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے ‘ لوگ اِن فرعونوں شکاریوں کے اِس عمل کو تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پھر اِیسے لوگوں کی غریب پروری کی مثالیں دیتے ہیں چہروں پر شرافت خدمت خلق کے ماسک چڑھائے یہ شکاری اپنے مکروہ منصوبے کی تکمیل اور ذہنی پاگل بیٹے کے لیے ایک زندہ گوشت سے بنا ہواکھلونا لے آتے ہیں ایسا کھلونا جو اِن کے بیٹے کے ہاتھوں کھیلنے پر مجبور ہو تا ہے اوراپنے احسانوں تلے دبا کر یہ ایسی لڑکیوں کا انتخاب کر تے ہیں جو اِن کے پاگل مریض بیٹوں کی تنہائی کو رنگوں میں بھر دیں یہ پاگل مریض لڑکے جنہوں نے شادی سے پہلے گھر والوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہوتی ہے بچپن سے اِنہیں پاگل پن کے دورے پڑتے ہیں گالی گلوچ مار کٹائی سے باز نہیں آتے کبھی تو یہ نوکروں کو مار رہے ہو تے ہیں اورکبھی بازاروں میں لوگوں سے معمولی باتوں پر مار کٹائی کر تے ہیں یا پھر فرمائشیں پو ری نہ کر نے پر ماں باپ کے گلے پڑ جاتے ہیں اپنے بچوں کے پاگل پن یا نفسیاتی دوروں اور لڑائی جھگڑوں کا یہ علاج کر تے ہیں کہ پاگل کی تو جہ اپنی طرف سے ہٹانے کے لیے بے بس مجبور قیدی نما غریب لڑکی اِس وحشی درندے کے پنجرے میں ڈال دیتے ہیں کہ بے بس لاچارلڑکی جس کا معاشرے میں پہلے ہی کو ئی سہارا نہیں ہو تا وہ بیچاری اپنے خاوند کے پنجرے میں معصوم پرندے کی طرح پھڑ پھڑاتی ہے پاگل خاوند اذیتیں دے کر اپنے ادھورے پاگل پن کی تسکین کر تا ہے اس طرح پاگل مریض خاوند ایک ہوش مند نارمل لڑکی کو اذیت دے دے کر اُسے بھی نفسیاتی مریضہ بنا دیتے ہیں ایسی لڑکیوں کے پاس ایک ہی راستہ ہو تا ہے کہ وہ اِن جنسی درندوں کی درندگی برداشت کریں کیونکہ پیچھے تو اُن کا کو ئی ہو تا نہیں اِس لیے وہ کہا ں جائیں اور اگر اذیت حد سے بڑھ جائے تو پھر ایسی بے چاری لڑکیاں خود کشی کر کے درندوں کی قید سے آزاد ہو جاتی ہیں میرے سامنے بھی ایسی ہی نازک سی چڑیا نما بیٹی بیٹھی تھی ‘ ظالم عقابی پرندہ اِس کے نازک پروں کو نوچتا تھا یہ اِس ظلم پر بھی تیار تھی لیکن اب اس نے یہ شرط لگا ئی تھی کہ آئندہ نہ تو میں اپنا علا ج کروں گا اور نہ ہی سدھروں گا ‘ میراظلم درندگی اِسی طرح جاری رہے گا تم مجھے لکھ کر دوگی کہ آئندہ میری کسی درندگی یا ظلم پر تم اعتراض نہیں کروگی بلکہ خاموشی سے میرا ہرظلم سہو گی تو میں تم کو گھر آنے کی اجازت دوں گاگیلی لکڑی جیسی سلگتی لڑکی بولی سر مجھے کوئی ایسا وظیفہ دیں کہ میں جب جاؤں تو وہ مجھ پر میری برداشت سے زیادہ ظلم نہ کر ے تاکہ میں زندگی کے باقی دن چار دیواری کے اندر پو رے کر سکوں ۔ میں اندر سے پگھل رہا تھا میں اِس کو درندے کی درندگی سے بچانا چاہتا تھا میں نے اُس سے اُس کے کلاس فیلو کا نام اور نمبر پو چھا جو اُس نے دے دیا اور پوچھا سر آپ کیا کر نا چاہتے ہیں تو میں بولا ویسے ہی آپ میرے پاس تین دن بعد آنا میں تمہارے خاوند کا پورا علاج کروں گا وظیفہ بتایا وہ امید بھری نظروں سے دیکھتی ہو ئی چلی گئی اب میں اپنے ایک مخیر دوست کے پاس جاکر اُسے ساری داستان سنائی اور کہا ہم نے اُس لڑکی کی مدد کر نی ہے اُس نے بھر پور تعاون کا یقین دلایا تو میں جاکر اُس لڑکے سے ملا جو اِس معصوم غریب یتیم لڑکی کا کلاس فیلو اور محبت کر تا تھا میں نے جاکر اُسے ساری داستان غم سنائی جسے سن کو وہ بہت دکھی ہوا لیکن بولا سر اب میں کیا کر سکتا ہوں تو میں بولا اگر ہم اُس لڑکی کو درندے سے آزادی دلا دیں تو تم اُس سے شادی کرو گے جو ابھی تک کنواری ہے تو وہ بولا بے شک سر میں ہر قیمت میں اُس سے شادی بھی کروں گا اور اُسے خوش بھی رکھوں گا میرا باپ تو فوت ہو گیا ہے میں نے ماں سے بات کی ہو ئی ہے اُسے آج ہی منالوں گا تین دن بعد لڑکی آئی تو میں نے اُسے ساری بات بتا ئی پہلے تو وہ انکاری ہو ئی لیکن میرے کہنے پر مان گئی اب میرا مخیر دوست بیچ میںآیا اُس نے خلع کے پیپر تیار کرا ئے اور طلاق مانگ لی ‘ چچا سسر نے پہلے تو انکار کیا لیکن پھر مان گیا کیونکہ مخیر آدمی نے دھمکی دی میں عدالت میں تمہارے بیٹے کے کرتوت بتا کر خلع لے لوں گا پھر وقت گزرنے پر سادگی سے اُس بچی کا نکاح اُس کے کلاس فیلو سے کر دیا گیا آج وہ خوشگوار زندگی گزار رہی ہے یہ تو بچ گئی لیکن ہمارے مردہ معاشرے میں پتہ نہیں کتنی معصوم لڑکیاں ذہنی مریضوں کے ہاتھوں روزانہ مٹی کے کھلونوں کی طرح ٹوٹتی ہیں کو ئی اُن کی آہ سننے والا نہیں ۔