کالم : بزمِ درویش – پیکر نور داتا حضور :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

کالم : بزمِ درویش
پیکر نور داتا حضور

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:

میں برصغیر پاک و ہند کے سب سے بڑے چشمہ معرفت سے اپنی روحانی پیاس بجھا رہا تھا دنیا بھر سے آئے ہوئے پروانوں کے اذھان و قلوب اِسی چشمہ معرفت کی ایمان و افروز شبنمی پھوار سے معطر ہو رہے تھے ذکر اذکار درود و سلام کی مشکبو سرگوشیوں سے سید علی ہجویری کا مزار اور مسجد کا صحن مہک رہا تھا-

لاہور شہر کی آن بان شان سید علی ہجویری کا گلشن تصوف صدیوں سے اپنی مہک اور نوری کرنوں سے اندھوں کو نور کی روشنی اور ایمانی خوشبو سے معطر کر رہاتھا اور آج بھی روز اول کی طرح اسی طرح مہک رہا تھا مستی سرور نشے کے دریا چاروں طرف بہہ رہے تھے اور دیوانے اِن ایمانی مو جوں میں غو طے لگا رہے تھے ایسی شان یقیناًخدا کے انعام یافتہ بندوں کو ہی نصیب ہوتی ہے یہ ایسی لا زوال نہ مٹنے والی شہرت صرف اسی کے حصے میں آتی ہے جو زندگی کا ہر لمحہ خدا کی رضا کے مطابق گزارتے ہیں اور پھر خا لق کا ئنات ایسے بر گزیدہ بندوں کو شہرت کے آسمان پر قیا مت تک کے لیے امر کر دیتا ہے آپ کر ہ ارض کی سینکڑوں گدیوں مزاروں کا اگر جائزہ لیں تو آج ان گدیوں کی آن بان اور شہرت ان کے سجا دہ نشینوں کی وجہ سے ہے جو ان کو عوام میں زندہ رکھنے کے لیے نت نئے طریقوں پر عمل کر تے ہیں لیکن جب آپ ہجویر کے اِس سید زادے کی طرف دیکھتے ہیں تو نہ گدی نشین نہ سجا دہ نشین اور نہ ہی عوام کو اشتہا رات کے ذریعے بلایا جاتا ہے وقت گزرنے کے ساتھ بے شمار مزار کھنڈرات میں بدل گئے گردش لیل و نہار میں اپنا وجود قائم نہ رکھ سکے لیکن صدیوں کی رفتار اور وقت کی کروٹیں اِس سید زادے کوشہرت سے نوازتی جا رہی ہیں ایسے ہی لو گ خداکے انعام یا فتہ ہو تے ہیں جن کو لازوال شہرت خالق کائنات عطا کرتا ہے اِیسی زندہ جا ویدہستیاں دنیا وی ڈرامے با زیوں کی محتا ج نہیں ہو تیں بلکہ زمانہ ایسے لوگوں کا بھکا ری ہو تا ہے سلا طین اور با دشاہ گر جیسے لوگ ایسے لوگوں کے در پر دست دراز پھیلا نے آتے ہیں مٹی سے بنے یہ قد آور لوگ جو حوا دث زمانہ کا شکا ر ہو کرجب ذرات میں تبدیل ہو نے لگتے ہیں تو اپنی بقا اور حاجت کے لیے ایسی ہستیوں کے در پر ننگے پاں سوالی بن کر آتے ہیں سید علی ہجویری کو یہ لازوال شہرت کیوں نصیب ہو ئی اِس کی وجہ آپ کا مرشد کامل ہونا تھا آپ نے زندگی کا ہر لمحہ خدا کی مرضی میں گزار کر یہ مقام حاصل کیا مسلمان تو مسلمان غیر مسلم بھی اِس سچائی سے واقف ہیں کہ گروبن گیان نہیں ملتا تصوف ایک پرخار وادی ہے جس کے پر اسرار بھیدوں میں الجھ کر سالک اپنی منزل کھو دیتا ہے اِس لیے راہ تصوف اور معرفت الہی کے سفر میں مر شد کامل کا ہو نا لازمی ہے اسلام کے نظا م تصوف میں بھی مرشد کو مر کزی حیثیت حاصل ہے اگر کسی کو صحیح مر شد کامل مل جائے تو راہ سلوک کی منزلیں آسان ہوجاتی ہیں کیونکہ مرشد ان پراسرار راستوں سے گزرا ہوتا ہے اِس لیے وہ اپنی نگرانی میں مرید کی درجہ بدرجہ ترقی اور راہنمائی کرتا چلا جاتا ہے اور پھر ایسے مرید کو کسی اور طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی کامل مرشد کی سب سے بڑی خو بی یہ ہو تی ہے کہ وہ مرید کو بھی ویسا ہی بنا دیتا ہے جیسا وہ خود ہے مرید کے اندر بھی روحا نی قوتیں بیدار ہو جا ئیں پھر مرید بھی ایک چراغ سے دوسرا چراغ جلاتا چلا جائے اور دوسرے مریدوں کو بھی روشنی کی بھیک دے سکے- مرشد کامل سے فیض یاب ہونے کے لیے بہت ضروری ہے کہ مرید اپنے اندر پہلے کامل یقین پیدا کر لے بے یقینی اورکمزور سوچ رکھنے والے مرید کبھی بھی اپنے مرشد سے فیض یا ب نہیں ہو سکتے روحانیت کے تمام اساتذہ کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ یقین کامل ہی مرشد کامل ہوتا ہے اِس لیے مرشد ماننے سے پہلے اپنی تربیت بہت ضروری ہے کیونکہ اگر متلاشی کا ذہن شکوک و شبہا ت کی آماجگاہ ہے تو پھر مرشد کامل میں بھی نقص ہی نظر آئیں گے یا کچھ بھی نظر نہیں آئے گا اور اگر سالک یقین کی دولت سے مالا مال ہے یا اس کی دماغ کی سکرین صاف ہے تو وہ خالص ہوجاتا ہے اِسی حالت میں جب بھی اسے کامل مرشد ملتا ہے تو ایک ہی نظر میں اس میں بھی عشق حقیقی کی چنگاری سلگا دیتا ہے جو بعد میں بھا نبھر بن کر اسے کثافت سے لطا فت میں بدل دیتی ہے مولانا روم نے کیا خوب مثال دی ہے دنیا میں آپ کو بہت سارے ایسے بھی روحانیت کے دعوے دار نظر آئیں گے جو جھو ٹے ہوتے ہیں جن کا باطن برائیوں سے پاک نہیں ہو تا اِن میں سے کچھ تو نبوت کا بھی دعوی کر دیتے ہیں حیرت اس وقت ہوتی ہے جب ان کو بہت سارے پیروکار بھی مل جاتے ہیں اِس کی بھی یہی وجہ ہو تی ہے کہ جیسا مرشد اسے ویسے خیالات والے مرید بھی مل جا تے ہیں کیو نکہ ہر چیز اپنی قسم کی طرف کشش کر تی ہے اب مسئلہ یہ ہو تا ہے کہ مرشدکامل کون ہو گا جس کی روحانی قوتیں بیدار ہیں تو اکثر بزرگوں کا خیال ہے کہ جب بھی آپ کسی روحانی شخص کے پاس خلوص نیت سے جائیں تو آپ کو اس بزرگ کے پاس بیٹھ کر خاص قسم کا روحانی کیف نشہ آسودگی اوراطمینان محسوس ہوگا آپ کا بیٹھے رہنے کو دل کر ے گا بار بار ان کے پاس جانے اور وقت گزارنے کو دل کر ے گا ان کی صحبت سے مسائل سلجھنے لگتے ہیں شاہراہ حیات پر خا روں کی جگہ گل بکھرنے لگتے ہیں زندگی مشکلات سے نکل کر آسانیوں کی شاہراہ پر دوڑتی محسوس ہوتی ہے لیکن یہ تب ہوگا جب آپ اچھی طرح کسی بزرگ کو چیک کریں اس کے شب و روز لوگوں سے برتاو کو دیکھ لیں اچھی طرح دیکھنے کے بعد اگر کسی کو مرشد مانیں تو پھر دل سے مانیں مرشد کامل کی اہمیت کا اندازہ امام غزالی کے قول سے لگایا جاسکتاہے جنہوں نے قرآن فہمی میں کوئی کسر نہ چھوڑی قرآن حدیث منطق فلسفہ علم الکلام الغرض دنیا کے تمام علوم کو اپنے اندر سمولیا آپ جامعہ نظامیہ بغداد شریف کے رئیس الجامعہ تھے ساری دنیا سے تشنگان علم اپنی روحانی پیاس بجھانے کے لیے آپ کے قدموں میں حاضری دیتے اورآپ کے علم کے سمندر سے سیراب ہوکر دنیا جہاں میں پھیل جاتے وہی امام غزالی فرماتے ہیں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میر ی جان ہے علم اور فن کی دنیا کا میں شہسوار تھا لیکن حق کا طالب پھر بھی تھا پیاس اب بھی باقی تھی اِس پیا س کے لیے میں دربد بھٹکا لیکن پیاس نہ بجھی بالآ خر میں صوفیا کرام کی بارگاہ میں حاضر ہوا دوسال علم تصوف پڑھا اور اس نتیجے پرپہنچاکہ علم تصوف علم نہیں عمل کا نام ہے حق اِسی دربارسے ملتا ہے جس کے لیے مرشد کامل کا ہونا ضروری ہے ۔