زلزلہ اور جانوروں کے عادات واطوار : – ڈاکٹر عزیز احمد عرسی

ڈاکٹرعزیز احمد عرسی

زلزلہ اور جانوروں کے عادات واطوار

ڈاکٹر عزیز احمد عرسی
ورنگل – تلنگانہ

زلزلہ زمین کی ایک انگڑائی کانام ہے جس کی ظالم ادا پر ہزاروں دیوانہ وار فدا ہوجاتے ہیں۔زلزلہ زمین کے کروٹ بدلنے کانام ہے کہ جب یہ کروٹ لیتی ہے تو ا سکی سلوٹوں میں ہزاروں چھپ جاتے ہیں۔ زلزلہ زمین کے پیٹ کی گرمی کانام ہے کہ جب یہ پیٹ پھاڑتی ہے تولاکھوں فرزند اپنی جان نثار کر دیتے ہیں۔ اور زلزلہ۔ انسان کے بد اعمالیوں (یعنی زیر زمین جوہری دھماکے ،کانوں کی کھدوائی، سرنگوں کی تعمیر،پہاڑوں کی صفائی جو ہری فضلہ کی تدفین آلودہ پانی کو تلف کرنے کی تدابیر وغیرہ) کی سزا ہے جوقہر بن کر نازل ہوتا ہے اور ہزاروں کومٹا دیتا ہے۔

لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ اکثر اوقات اپنی گرفت سے معصوم جانوروں کو دور رکھتا ہے جسکا مشاہدہ دنیا نے 2004میں سماترا کے زلزلے سے پیدا ہونے والی سونامی لہروں کی تباہ کاریوں میں کیا ۔ یہ لہریں عام طور پر زمین کی حرکت یا سمندر کی تہہ میں پیداہونے والے زلزلے یا سمندر کی تہہ میں زمین کے کھسکنے یاسمندر کی عمیق گہرایوں میں آتش فشانوں کے پھٹ پڑنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ سماترا کے سمندر میں آنے والے زلزلے کی باعث پیدا ہونے والی بے رحم لہروں نے700 کیلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے فاصلہ طے کرتے ہوئے اپنی مکمل اونچائی کے ساتھ جب سری لنکا کے ساحل سے ٹکرائیں تو ساحل سمندر سے صرف تین کیلو میٹر فاصلے پر واقع دنیاکی مشہور وائلڈ لائف سنکچری Yala نیشنل پارک بھی پانی سے بھر گیا۔ یہ پارک اپنے Fauna خصوصا ہاتھیوں Leopard اور بندروں کی وجہ سے شہرت رکھتاہے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ جہاں سونامی کے باعث دنیا میں ڈیڑھ لاکھ تادو لاکھ سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔لاکھوں لا پتہ ہیں (صرف سری لنکامیں 25 ہزار سے زائد افراد کے مرنے کی اطلاع ہے) وہیں دنیا کی آنکھ نے یہ بھی دیکھا کہ سری لنکا میں مرنے والے انسانوں کی لاشوں کے درمیان کسی جانور کی لاش موجود نہیں ہے۔اس کی وجہ صرف یہی ہو سکتی ہے کہ تمام جانوروں نے سونامی کے ساحل سے ٹکرانے سے قبل ہی حفاظتی اقدامات کر لئے تھے جسکے نتیجے میں حالیہ تباہی کی زد میں شاید ہی کوئی ہاتھی یاLeopard آیا ہو۔ حتی کہ بندر اور خرگوش وغیرہ کی لاشیں بھی دکھائی نہیں دیں۔ اسی لئے سری لنگا وائلڈ لائف سنکچری کے عہدہ داروں کا کہنا ہے کہ جانوروں کو چھٹی حس ہوتی ہے جو زلزلوں یاآفات سماوی کے متعلق قبل از وقت معلومات حاصل کرلیتی ہے۔ لیکن بیشتر سائنس داں اس بات کو تسلیم نہیں کرتے ۔ کچھ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ جانوروں کے موجودہ حسی اعضا ہی میں کچھ مخصوص حصے پائے جاتے ہیں جو ماحول کی ان تبدیلیوں کومحسوس کر لیتے ہیں جس سے انسان کے کان بے بہرہ ہیںMartyr(2004) کے مطابق جانور کا فی دور سے آفات سماوی کاانداز ہ لگا لیتے ہیں پھر نقل مکانی کر جاتے ہیں۔یا حفاظتی تدابیر اختیار کر لیتے ہیں۔ کیونکہ زلزلے سے قبل ہو اکادباؤ عجیب انداز اختیار کر لیتا ہے جسکولفظوں میں بیان کر نا مشکل ہے۔ بہر حال جانوروں کابدلتا ہوارویہ انسانوں کے لئے ابتدائی وارننگ کی حیثیت رکھتاہے۔ لیکنGuerrero(2005) کا اصرار ہے کہ جانوروں میں چھٹی حس ہوتی ہے۔اسی لئے ان دنوں چین اور خصوصا جاپان میں جہاں کی زمین آئے دن زلزلوں سے دہلتی رہتی ہے جانوروں کوزلزلے کی قبل از وقت پہچان کے لئے آلہ کار بنایا جارہا ہے۔کیونکہ اکثر اوقات جانوروں کی عادات واطوار میں تبدیلی زلزلے کا پیش خیمہ بنتی رہی ہے۔ فی الوقت دنیامیںیہی ایک ایسا مظہار (Indicator) ہے جو بہت حد تک صحیح پیش قیاسی کرسکتاہے۔ ورنہ انسان کے بنائے ہوئے آلات مابعد زلزلہ اس کی شدت کو ناپنے کے لئے ہی کام آتے ہیں اور موجودہ تمام تر ترقی کے باوجودزلزلے کی پیش قیاسی ان آلات کے بس کا روگ نہیں ۔ان دنوں جاپانی زلزلے کا مظہار بنانے کے لئے فی الحال جس جانور پر اپنے تجربات کر رہے ہیں وہ کتا(Dog) ہے جوزلزلے سے قبل بری طرح بھونکتا ہے یا کاٹنے دوڑتا ہے تحقیق کا ر خ زیادہ تر جانوروں کی (Psychin) قوت کی جانب ہے ۔ شاید اسی قوت کو زمانہ قدیم کے لوگ چھٹی حس کہا کرتے تھے۔ ممکن ہے زمانہ قدیم کے لوگ تجربات کی بھٹی میں تپ کر عقل وفہم کی بنیاد پر جب جانوروں کی اسی قوت Psychin سے رشتہ جوڑلیتے اور ان کی عادات واطوار میں تبدیلی کو محسوس کرتے تو یہ کہہ اٹھتے کہ، میں جانوروں کی زبان سمجھتا ہوں یا جانور مجھ سے بات کرتے ہیں۔ یونانیوں کا خیال تھا کہ جانوروں سے بات کرنا یا ان کی زبان سمجھنا ایک علم ہے جس پر چین اور جاپان کے لوگ عبور رکھتے ہیں۔ مجھے یونانیوں کاخیال صحیح نظر آتا ہے کیونکہ 1975 میں چین میں آئے زلزلے سے قبل بڑے جاندار جیسے گائے،گھوڑے وغیرہ بے آرامی محسوس کر رہے تھے۔ ان میںیہ کیفیت زلزلے سے تقریبا ایک مہینہ قبل شروع ہوگئی تھی۔چوہے حرکت کر رہے تھے تو ایسا محسوس ہو رہاتھا جیسے شراب پی رکھی ہو، مرغیاں ڈربے میں جانے سے انکار کررہی تھیں(Gorliss,1977) جانوروں کی اسی بے چینی کودیکھ کر چینیوں نے مائی چنگ شہر خالی کردیا جہاں اندرون دو یوم 7.3 شدت کا زلزلہ آیا جس میں 95% شہری عمارات تباہ ہوگیں۔ لیکن اس حقیقت کے باوجود سائنس جانوروں کے اس بدلتے ہوئے رویئے کوسمجھانے میں ناکام ہے۔ بعض سائنس دانوں کا خیال ہے کہ صرف جانور ہی نہیں بلکہ انسان بھی زلزلے کی آمد کے متعلق محسوس کر سکتے ہیں۔ اور ان کی پیش قیاسی صحیح بھی ثابت ہوسکتی ہے لیکن ان انسانوں میں ماقبل زلزلہ مرتب ہونے والی تبدیلی کی توضیح مشکل ہے۔ بس یہ صرف ایک احساس کی لہر ہے جو ان کے وجود کو متغیر کردیتی ہے۔ لیکن ہرمرتبہ ان انسانوں کی پیش قیاسی صحیح ہو ضروری نہیں ہے۔جانوروں کی تبدیلی اطوارسے متعلق اندزہ لگانامشکل ہے کیونکہ جانور مختلف اوقات میں مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے رویہ میں تبدیلی لاتے ہیں۔ خطرے کے اوقات میں جانوروں پر کیاطاری ہوجاتا ہے یہ سمجھنا بھی مشکل ہے، بس ایک عجیب خوف میں گرفتار ہوجاتے ہیں اورچیخنے لگتے ہیں، کہیں چھپنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔اللہ نے جانوروں کے بعض حسی اعضا کو انسان سے کہیں زیادہ طاقتور بنایا ہے لیکن انہیں قوت گویائی سے محروم رکھا، ورنہ خوفزدہ زبان میں انجانے خطرے کا جس طرح اظہار کرتے وہ انسانی زندگیوں کو تہہ وبالا کر دیتااور اللہ نے انسان کو نطق سے نوازکر ایسی خصوصیات سے عاری رکھا تاکہ وہ خطرے کے آخری لمحے تک بھی پرسکون زندگی گذار سکیں۔
زلزلے سے متعلق مذاہب اور مختلف تہذیبوں میں جدا گانہ خیالات پائے جاتے ہیں۔ ہندوعقیدہ ہے کہ یہ زمین گائے کی سینگ پرٹھہری ہوئی ہے۔ جب گائے اپنی سینگ بدلتی ہے توزلزلہ آتا ہے۔ آفریقہ کی عوام اس کو مدفون روحوں کی لڑائی سمجھتے تھے۔ سوڈان اورمشرقی افریقہ میں زلزلہ کوزمین کے دیوتا اور جنگ کے دیوتاکے درمیان معرکہ آرائی کا نتیجہ خیال کرتے تھے اہل فارس کا عقیدہ تھا کہ زمین بیل کے کندھے پر ٹکی ہوئی ہے جب وہ کندھا بدلتا ہے زلزلہ آتا ہے اور یہ بیل مچھلی پر کھڑا ہواہے ۔کئی اقوام زمین کے بوجھ کو اٹھانے کیلئے کسی اٹلس (Atlas) کا تصور رکھتی ہیں جو ہر قوم میں الگ الگ ہے مثلاً ہندوستان میں ہاتھی ‘ انڈونیشیا میں ریچھ یا بھینس ‘ عرب میں مچھلی امریکہ میں کچھوا فجی(Fiji) میں سانپ وغیرہ ۔ بعض اقوام نے زلزلے کا ایک خدا بھی بنالیا جس کا نام انہوں نے Tuil رکھا، ان کا یہ خدا Kamchatka رشیا میں رہتا ہے ان کے عقیدے کے مطابق زلزلے کے آمد کو وہ Tuil کی زمین سے چھیڑ چھاڑ قرار دیتے ہیں، ارسطوؔ نے 4 صدی قبل مسیح میں یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ زلزلے غاروں میں ہواؤں کے مقید ہونے کی بنا پر واقع ہوتے ہیں ۔ آج بھی بعض یونانیوں کا یہی عقیدہ ہے لیکن اس بات میں بھی حقیقت ہے کہ یونانیوں نے ہی یہ تصور بھی دیا کہ جانور زلزلوں کی آمد سے متعلق قبل ازوقت محسوس کرلیتے ہیں انہوں نے دنیا کے سامنے یہ مشاہدہ لایا کہ 373 ؁ قبل مسیح میں جب Helice میں زلزلہ آیا تو دو دن قبل سوتے ہوئے (Hibernating) سانپ جاگ گئے اور شہر سے دور چلے گئے۔ علاوہ اس کے چوہےCentipeds یعنی کن کجھورا وغیرہ بھی زلزلہ آنے سے کئی دن قبل نقل مقام کرگئے ۔ رومن قوم کاخیال تھا کہ ہاتھیوں اور الوؤں میں قدرتی خطرات کو محسوس کرنے کی قوت پائی جاتی ہے۔ عام طور پر مشہور ہے کہ دن میں آنے والے زلزلے بہت زیادہ بھیانک ہوتے ہیں۔ ویسے زلزلہ کسی بھی وقت آسکتاہے یہ صرف انسان کا وہم ہے او را س کے ذہن کی قوت پرواز ہے جس کی بیجا اڑان مختلف عقیدوں کو پیدا کر لیتی ہیں۔ کیونکہ زلزلہ زمین کی اچانک اور سرکش حرکت کا نام ہے جو زمینی تہوں سے توانائی کے اچانک ابل پڑنے کے باعث واقع ہوتا ہے۔
زلزلہ کی آمد سے متعلق جانور قبل ازوقت کس طرح محسوس کرتے ہیں اس کے متعلق دو نظریات ہیں۔ پہلے نظریے کے مطابق یہ زمین کے تھر تھرا نے کے محسوس کرتے ہیں اور دوسرے نظریے کے مطابق ماقبل زلزلہ زمین سے خارج ہونے والی برقی رو جانوروں کے ذہن پر اثر ات مرتب کرتی ہے جسکی وجہ سے اس کے روز مرہ میں تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ ان نظریات پر بعض سائنسداں یقین کرتے ہیں کیونکہ1888 میں چین میں دیکھا گیاکہ قبل از زلزلہ مینڈک بری طرح ٹرانے لگے۔ خچر بلا وجہہ دوڑنے لگے۔ پرندے پروں میں سرچھپانے لگے سمندری جانور زمین پر آنے کے لئے بے چین دیکھے گئے۔ Catfish اکو یریم (Aquarium)کی دیوار سے باہر کود گئی بطخ پانی چھوڑ کر زمین پر آگئی اور چین کا قومی جانور Panda سرہلاہلاکر آہ بکا کرنے لگا۔ 1920 میںHaiyuan میں زلزلہ آنے سے قبل کتے بہت زیادہ بھونک رہے تھے اور چڑیا کسی بھی ایک شے کے گرد نہایت تیزی سے گھوم رہی تھی۔ 1967 میںHsingtai میں ماقبل زلزلہ شہرکے تمام کتے اس قدر دور چلے گئے جہاں اس کے اثرات محسوس نہ کئے جاسکیں۔ اور جب زلزلے نے شہر میں تباہی مچادی تب تمام کتے واپس ہوکراپنے شہر اور اس کے مکینوں کو حسرت سے دیکھتے ہوئے پائے گئے۔1976 اور Kaokechuangمیں زلزلے سے قبل گھوڑے غیر معمولی انداز میں اچھلتے ہوئے دیکھے گئے۔ کھانے کے لئے دی گئی غذا کوپھینک دیا اور اصطبل کی تمام رکاوٹوں کو توڑ کر فرار ہوگئے۔1976 میںTangshai کے زلزلے سے قبل کتے عجیب انداز میں اپنے مالکوں کو اشارے کررہے تھے جس کا ثبوت شہر پیکنگ کے برٹش ایمبسی کے عہدہ داران نے د یا۔ 1979 میں سان فرانسکو میں جانوروں کے انداز میں کافی تبدیلی دیکھی گئی۔کیلفورنیا میں1989 میں آئے زلزلے سے قبل جانوروں کی عادات میں فرق دیکھا گیا۔ جانوروں میں یہ تبدیلی تقریباً ایک ہفتہ قبل ہی سے محسوس کی جاسکتی ہے۔ اور24 گھنٹے قبل ان کی ہر حرکت انسان کو الجھن میں ڈال دیتی ہے جس کے معنی وہ اپنے طور پر سمجھ نہیں پاتا۔ کچھ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ زلزلہ سے قبل باولیوں میں پانی کی سطح بدل جاتی ہے۔Geysers (گرم پانی کا چشمہ) کا اگلنا متاثر ہوجاتا ہے۔ مصنوعی مقناطیس کا اثر عارضی طور پر ختم ہوجاتا ہے، ہوائیں رک جاتی ہیں جس کوسمجھنا مشکل ہے کہ وہ کیا کیفیت ہوتی ہے۔،سان فرانسکو میں جب 1982 تا1985 واقع ہونے والے تقریبا 244 زلزلوں کاجائزہ لیاگیا تو یہ اعدادوشمار سامنے آئے کہ ان علاقوں سے قبل از وقت 41717 گھر یلو جاندار علاقہ چھوڑ کر چلے گئے ۔ Tributsch(1982) کے مطابق گہرے سمندروں سے مچھلیاں باہر نکل آئیں اور ساحل کے کنارے تیرنے لگیں۔ زلزلے سے قبل عام طور پر یہ دیکھا گیا کہ catfishes پانی سے باہر آنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ سوتا ہوا سانپ بل سے باہر نکل آتا ہے اور چوہے اس قدر کمزور وناتواں ہوجاتے ہیں کہ چلنے پھرنے سے معذور ہوجاتے ہیں کہ اگر انسان چاہے تو انہیں بآسانی پکڑسکتاہے۔سور(Pig) ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے ہیں اور کبوتر علاقہ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں کیونکہ گھر یلو کبوتروں کے سر میں خاص حسی اعضا ہوتے ہیں جوزمینی مقنا طیسی میدان کے متعلق مکمل احساس رکھتے ہیں۔(Cooke, 1984) زلزلہ آنے سے قبل سانپ، Eel کچھوے بھی اپنے عادات واطوار بدل دیتے ہیں(Quammen, 1985)۔مرغیاں انڈے دینا بند کردیتی ہیں۔ Cat fishes میں ہیجانی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ (Allstetler,1986) کے مطابق کتے اور بلیوں کے روز مرہ میں تبدیلی آجاتی ہے۔کتے بلاوجہ بھونکنے لگتے ہیں زور زور کی آوازیں کرنا شروع کردیتے ہیں اور ایسا ظاہر کرتے ہیں جیسے اعصابی کمزوری میں مبتلا ہیں اور Miller(1996) کے مطابق شہد کی مکھیاں چھتہ چھوڑ کر بھاگ جاتی ہیں اور زلزلہ ختم ہونے کے آدھ گھنٹے بعد واپس آجاتی ہیں۔ چیونٹیوں کی رفتار بدل جاتی ہے۔ اس خصوص میں ایک دلچسپ تجربہ کیا گیا۔ کچھ کبوتروں کے پیروں سے دماغ تک پہنچنے والی اعصاب کوکاٹ دیا گیا جس کے باعث وہ کبوتر بوقت زلزلہ زمینی تبدیلی کو دماغ تک نہیں پہنچا سکے اور پرسکون انداز میں زمین پر بیٹھے رہے۔ جب کہ نارمل کبوتر بے چین ہوگئے اور علاقے سے دور نکل گئے۔ ان تجربات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتاہے کہ جانور انسان سے قبل قدرتی حادثات کے بارے میں جان لیتے ہیں۔ کیونکہ زمینی برقی قوت قدرتی ماحول پر اثر اندا ز ہوتی ہے جس کے باعث فضا میں تبدیلی واقع ہوتی ہے جواکثر کسی بڑے قدرتی حادثے کاپیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔لیکن اس کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ1960 میں مراقش میں آنے والے زلزلے نے جہاں پندرہ ہزار افراد کواپنی آغوش میں لیا وہیں کتوں اور دوسرے جانوروں کی لاشوں کے انباربھی زمین کی تہوں میں دیکھے گئے۔اس لئے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ جانور زلزلوں کے لئے مظاہر (Indicator) کی حیثیت رکھتے ہیں یا نہیں۔ زلزلے اچانک واقع ہونے والے حادثات ہیں جسکے متعلق قبل از وقت اندازہ نہیں لگایاجاسکتاہے۔ایک اندازے کے مطابق ساری دنیا میں ہر برس 10 لاکھ سے زائد زلزلے آتے ہیں۔ لیکن ان میں صرف ایک لاکھ زلزلے ہی انسان محسوس کرسکتاہے۔ ان ایک لاکھ زلزلوں میں تباہی مچانے والے صرف 100 ہی ہوتے ہیں۔ اوران 100زلزلوں میں بھی صرف ایک زلزلہ بڑی نوعیت کا ہوتا ہے جس کی شدت رچٹر اسکیل پر 8 سے زائد ہوتی ہے جبکہ18 زلزلوں کی شدت 8 سے کم ہوتی ہے اور بقیہ زلزلے 5 تا7 کے درمیان ہوتے ہیں۔لیکن یہ تمام ہی زلزلے تباہ کن ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر منٹ میں دو زلزلے آتے ہیں۔ جو 2 تا4 شدت رکھتے ہیں۔ لیکن ان زلزلوں کوزمین سہار جاتی ہے لیکن جب شدت بڑھ جاتی ہے توزمین اس قدر پھٹ پڑتی ہے کہ 800 کیلو میٹر سے زیادہ گہری دراڑ پیدا ہوجاتی ہے۔اسی لئے مذہبی مفکرین زلزلے کو قدرت کی ایک نشانی قرار دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ زلزلے قیامت کے آنے کا اعلان ہے کہ اللہ فرماتا ہے۔’’ جب زمین اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی اور اپنے اندر کے سارے بوجھ نکال کر باہر ڈال دیگی تو انسان کہے گاکہ یہ اس کوکیا ہورہا ہے‘‘(الزلزال) ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں’’ جب آسمان پھٹ جائے گا۔۔۔اور زمین پھیلا دی جائے گی۔ اور ۔۔۔ اس کے اندرجو کچھ ہے وہ اسے باہر نکال پھینک کر خالی ہوجائے گی‘‘ (انشقاق)۔ اسی لئے انسان کو چاہئے کہ وہ ان واقعات سے عبرت پکڑیں کہ یہ قیامت کی نشانیوں میں ایک ہے۔ اگر انسان ان ناگہانی حادثوں سے سبق سیکھ جائے تو پھر یہی زلزلے اس کی زندگی کوتہہ وبالا کر دیتے ہیں اور اس کی زندگی راہ مستقیم پر چل پڑتی ہے اسی لئے شاعر کہتاہے کہ
گرچہ برہم ہے قیامت سے نظام ہست وبود : ہیں اسی آشوب سے بے پردہ اسرار وجود
زلزلے سے کوہ و در اڑتے ہیں مانند سحاب : زلزلے سے وادیوں میں تازہ چشموں کی نمود
دنیا میںآج تک سب سے بڑا زلزلہ (جس کو انسان نے ریکار ڈ کیا)1960 میں چلّی میں محسوس کیاگیا جس کی شدت 9.5 تھی لیکن1556ء کوچین میں جو زلزلہ آیا اس کی شدت 9.5سے کم تھی لیکن یہ زلزلہ 8 لاکھ تیس ہزار افراد کی موت کا سبب بنا۔ ایک اندازے کے مطابق 2004 ء سماتر ا کا زلزلہ 99ملین ٹن توانائی کو خارج کیا۔ جبکہ رچٹر اسکیل پر اس زلزلے شدت صرف 7 تھی۔ بالفرض محال اگر اس زلزلے کی شدت رچٹر اسکیل پر 7 ناپی جائے تو اس زلزلے سے صرف ایک ملین99ہزار ٹن توانائی خارج ہونی چاہئے۔ رچٹر اسکیل زلزلے کی شدت کو ناپنے کامعیارہے جس میں زمین کی حرکت کوسامنے رکھا جا تاہے۔ایک دوسرا طریقہ Mercalli اسکیل کہلاتاہے جس میں ایک سے بارہ تک درجات ہوتے ہیں۔ اس اسکیل میں انسانی تباہی کے مطابق زلزلے کی شدت کا اندازہ لگایاجاتاہے۔ شاید سماترا کا زلزلہ Mercalli اسکیل پرXI سے زیادہ تھا۔ سماتر اکے زلزلے کے باعث اٹھنے والی سونامی کی لہر سری لنکا نیشنل پارک میں داخل ہونے کے باوجود جانوروں کا بچ جانا ایک بار پھر اس بحث کے دروازے کھولتا ہے کہ کیا جانوروں کو چھٹی حسی ہوتی ہے۔لیکن اکثر سائنس داں اس کو ان حادثات میں بچ جانے والے نفسیاتی طور پر ڈرے ہوئے افرا د کے تخیل کا کرشمہ سمجھتے ہیں کہ آفات سماوی سے قبل انہوں نے دیکھاکہ پودے ایک دوسرے سے گلے مل رہے ہیں روز وشب کی موزونیت(Circadian Rhythm) میں تبدیلی آئی ،پتھر میں ایجاز پیدا ہوا ۔ ماحول بدل گیا۔ ہوارک گئی، سپیدہ سحر نمودار ہوئی۔ قوس قزح جھلملانے لگی۔ قطبوں سے پراسرار روشنیاں(aurora lights) پھوٹنے لگیں سورج گرم ہوگیا چاند منہ چھپانے لگااور سمندر مسکرانے لگا۔ اسی لئے بعض سائنس داں ان حالات کومابعد زلزلہ انسان پر مرتب ہونے والے نفسیاتی اثرات سمجھتے ہیں۔ لیکن ایسے سائنس داں 1975 میں مائی چنگ کے زلزلے کے بارے میں کچھ نہیں کہتے جہاں جانوروں کی عادات واطوار اورماحول کی خاص تبدیلی کو دیکھ کر حکام نے فوری شہر خالی کروادیا جس کے بعد یہاں بپا زلزلے نے شہر کی 90% عمارتوں کو تباہ کردیا اور جانوروں کی حرکات و سکنات سے نتیجہ اخذ کرنے کے باعث زائد از 2 لاکھ متوقع ہلاکتوں سے بچا گیا۔اسی لئے کچھ سائنس داں اپنے ذاتی تجربات ومشاہدات وشواہدات کی روشنی میں جانوروں کے اس عمل کوسمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو اسطرح ہے۔
۱۔ انسانوں کے مقابلے جانوروں کے اندر قوت سماعت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ الٹر سانک آواز سن سکتے ہیں(الٹر اسانک ساونڈ آواز کی وہ موجیں ہیں جو انسانی کان نہیں سن سکتے)۔ جبکہ جانور زیر زمین ہلکے جھٹکے کو بھی محسوس کرلیتے ہیں(Armstrong, 1969)
۲۔ زلزلے سے قبل Telluric کرنٹ کااخراج عمل میں آتا ہے۔ مچھلی چونکہ برقی کے ہلکے جھٹکے کوبھی محسوس کر لیتی ہے اسی لئے وہ بوقت زلزلہ یااس سے قبل پانی سے باہر نکل آنا چاہتی ہے کیونکہ ان پر Piezo electric اثرپیدا ہوتاہے(Tributsch 1982),
۳۔ ایسے انسان جو درد سر میں مبتلاہیں زلزلے سے کچھ قبل اپنے سردرد کے غائب ہونے کی اطلاع دیتے ہیں۔ جسکی وجہ زمین مقناطیسی میدان میں تبدیلی ہے۔اسی لئے نارمل جانور ان حالات میں سردرد محسوس کرتے ہیں بعض مقامات پر کتوں کو اسپرین کاماخذWillow bark کھاتے ہوئے دیکھا بھی گیا تاکہ سردرد سے بچا جائے اور طبیعت میں اعتدال پیداہو ۔ (Quammen, 1985) یہ جانور وں کواپنا علاج آپ کرنے کی بہترین اور انوکھی مثال ہے،۔ شاید یہی وجہ ہوگی جب برقی روانی سالمات میں تبدیلی واقع ہوتی ہے تو جانور کی ذہنی کیفیت میں عارضی تبدیلی ہوتی ہے اسی لئے فطرتا نرم خو جانور مشتعل اور تیز وطرار جانور خاموش ہو جاتے ہیں۔
اس طرح جانوروں میں آفت سماوی سے قبل تبدیلی تجربات کی روشنی میں صحیح نظر آتی ہے۔ اس کو انسان کا توہم نہیں قرار دیا جاسکتاہے بلکہ اس کوانسانی عقل مندی سے تعبیر کیا جاسکتاہے جو ماحول کا جائزہ لیکر وقوع پذیر ہونے والے غیر معمولی واقعات کو اہمیت دیتاہے اور اپنے سابقہ تجربات سے فائدہ اٹھا کر پیش قیاسی کرتاہے جس کی صداقت اس کے انداز تجزیہ پر منحصر ہوتی ہے جس سے وہ نتیجہ اخذ کرتا ہے۔