بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار :- فاروق طاہر

فاروق طاہر

بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار

فاروق طاہر
عیدی بازار،حیدرآباد

09700122826

اولاد اللہ کی عظیم نعمت ہے۔ عام آدمی ہی نہیں نبیوں اور بزرگوں نے بھی اولاد کی تمناکی اور دعائیں مانگیں۔یہ ایک فطری امر ہے کہ انسان اولاد کی تر بیت اور پرورش کے لئے تاحیات اپنے آپ کو مصروف رکھتا ہے۔ رب ذوالجلال فرماتا ہے ” مال اور اولاد دنیوی زندگی کی زینت ہے”(الکہف) ہمارے سامنے سماج کی مختلف اکائیوں کی شکل میں موجود شرفاء و ذلیل ،کامیاب و ناکام،معززو مقہور افراد بچپن کی منازل طئے کر تے ہوئے اس مقام تک پہنچے ہیں۔

ہمارے اردگرد بسنے والے یہ انسان جن میں قاتل بھی ہیں اور مقتول بھی،امن پسند بھی ہیں اور فسادی بھی یہ صرف اس تربیت کا نتیجہ ہے جو ان کو فرا ہم کی گئی جس کی بناء پر کوئی فتنہ پرور بن کر ابھر ا تو کو ئی ہا دی اور صالح بن کر ابھرا۔جس بچے کو اچھی تر بیت میسر آگئی وہ بہتر انسان بن گیا جو رہنمائی اور تر بیت سے محروم رہا وہ بے راہ روی کا شکار ہو گیا۔ رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتاہے پھر اس کے والدین اس کو یہودی ، نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔ بچے پیدائشی طور پر پاکیزہ اور نازک ہو تے ہیں۔اگر ان کو خیر کا عادی بنادیا جائے اور اچھے کام سکھائے جائیں تو وہ زندگی میں آگے بڑھتے ہیں بجائے اس کے اگر وہ بر ے افعال کے عادی ہوجائیں تو بربادی اور ہلاکت ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ماں کی آغوش کو بچے کی پہلی درس گاہ کہاگیا اورایک مثالی ماں کو ایک ہزار اسا تذہ پر ترجیح دی گئی ۔ ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی گئی اور باپ کو جنت کے دروازوں میں بیچ کا دروازہ بنادیا گیا۔ والدین کو ان اعلی و ارفع مقامات پر فائزہ کرنے کی وجہ نسل نوکی تربیت میں ان کا گرانقدر کردار اور اولاد کی فلاح و بہبود کے لئے اپنا آرام وسکون نثار کر ناہے۔
حشرات الارض پیدا ہوتے ہی رینگنے ،پرندے پرواز اور چوپائے چلنے پھرنے کے قابل ہوجاتے ہیں جب کہ اولاد آدم کو اپنی پیدائش کے بعد امور زندگی کی انجام دہی کے لئے ایک طویل عرصہ درکار ہوتاہے۔ اور وہ طویل عرصہ جس کے باعث بنی نوع انسان اپنے آپ کو خود کفیل بنا پاتی ہے اسے تعلیم و تر بیت سے تعبیر کیا جا تا ہے۔ جہاں جانور اپنی خوراک اور زندگی کا ادراک لئے روئے زمین پر آتاہے وہیں انسانی نو زائیدہ نسل ان تمام رموز پانے میں ایک عر صہ لگادیتی ہے۔ تربیت بنی نوع انسان کا وہ واحد وصف ہے جس کی بدولت انسان اپنی آنی والی نسلوں کو حسب منشاء تیار کر تاہے ۔ کسی بھی ملک و قوم کا مستقبل اس ملک و قوم کے بچوں پر ہوتا ہے۔بچوں کو نظر انداز کرکے کوئی بھی قوم آج تک کامیابی حاصل نہیں کرسکی ۔ کسی بھی ملک کی تعمیر و تخریب اور خیر و بھلائی میں بچوں کا اہم کردار ہوتاہے ۔ آج کے بچے کل ملک و قوم کے در خشاں و تابناک مستقبل کے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ اگر صالحیت اور اچھائی والدین میں پائی جائے تو بچوں کو مہذب و معتبر بنایا جا سکتاہے۔ بچے والدین کے پاس اللہ کی امانت ہوتے ہیں اور اس کے بارے میں ان سے سخت باز پرس کی جائے گئی۔قرآن حکیم فر ماتا ہے کہ ” اے ایمان والوں اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ” رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ” تم سب اپنی اپنی جگہ پر ذمہ دار ہو ۔خلیفہ ذمہ دار ہے ،اس سے اپنی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔مرد اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے ان کے متعلق اس سے پوچھا جائے گا۔ عورت اپنے گھر کی ذمہ دار ہے، اس کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا۔خادم اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار ہے،اس کے متعلق اس سے پوچھا جائے گا۔تم سب ذمہ دار ہو ،اپنی رعیت کے متعلق پوچھے جا ؤ گے۔”۔
انسانی نسل کی تربیت سے مراد صحت مند معاشرے کی تشکیل ہے والدین کی حیثیت ایک معمار ایک انجینئر کی ہوتی ہے جس طرح ایک انجینئر عمارت کی مضبوطی کےلئے ا یسی تدابیر اختیار کرتا ہے جس کی وجہ سے عمارت مضبوط اورپائیداربن جائے بالکل اسی طرح ذمہ دار والدین بچوں کی تربیت میں ان تمام عناصر وعوامل کو بروئے کار لاتے ہیں جس سے سماج کو مطلوبہ انسان حاصل ہوں۔ تربیت کے ذریعہ بچوں کو سماج کے لئے کار آمد بنایا جاسکتا ہے۔ علم معلومات کی فراہمی کا ایک نام ہے او ر عمدہ تربیت سے علم نکھرتا ہے۔ تربیت ایک بے آب و گیاہ بنجر انسانی ذہن کو اخلاق و مروت ،حمیت و جرات ،شجاعت و سخاوت اور انصاف پروری کا اعلی نمونہ بناتی ہے۔ علم اور دانشوری کو ماہر تعلیم برنارڈ رسل دو مختلف چیزوں سے عبارت کرتاہے اس کے مطابق علم کی گود میں عافیت کے ساتھ برائیاں بھی جنم لیتی ہیں اور تربیت کے ذریعہ ہی ان کا سدباب ممکن ہے۔بچوں کی تعلیم و تربیت ایک فن ہے اور ضروری ہے کہ والدین اس فن میں مہارت حاصل کریں۔فن سے عدم آگہی اور لاپرواہی کے نتیجے میں بچوں کی دنیا و آخرت دونوں تباہ ہوجاتے ہیں ۔ رسول اکر م صلی اللہ علیہ و سلم نے فر ما یا کہ "روزانہ ایک صاع صدقہ کر نے سے بہتر ہے کہ آدمی اپنے لڑکے کو بھلائی کی تعلیم دے۔” اسلام نے بچوں کی تربیت کے ضمن میں والدین پر تین باتیں بالکل واضح کردی ہیں جس سے اولاد کو معمور کر نا ضروری ہے”اپنی اولاد کو تین خصلتیں سکھاؤ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت ،اہل بیت سے محبت اور قرآن کریم کی تلاوت۔”قرآن فہمی تو کجا ہماری نسل صحت کے ساتھ قرآن کی تلاوت کر نے کے قابل بھی نہیں ہے۔آج انسانی اقدار کی زبوں حالی کا سبب نسل نو کا اخلاقی فقدان ہے اور تربیت کے اسلامی اصولوں سے دوری کا نتیجہ ہے۔
دانائی اور حکمت تربیت کے اہم امور میں سے ایک ہے۔والدین کی ادنی سے لاپرواہی سے بچوں اور والدین دونوں کی دنیا اور آخرت تباہ ہو سکتی ہے۔ بچے کی تربیت میں گھر کا ماحول اہم ہوتا ہے۔اگر گھر کا ما حول خوش گوار نہ ہو تو بچوں میں بہت ساری خرابیاں راہ پاسکتی ہیں۔بچوں کی تربیت سے والدین کومایوس نہیں ہونا چاہئے کیونکہ بچوں کی بری عادتیں فوراً دور نہیں ہوتی ہیں اس کے لئے وقت درکار ہوتا ہے اور جو والدین اس کام میں تندہی سے جڑے ہوتے ہیں ان کی اولاد اوصاف حمیدہ کی حامل ہوتی ہے۔بچوں سے بہت زیادہ بلند اقدار اور توقعات کا وابستہ کرلینا بھی خلاف عقل بات ہے۔ والدین بچوں کو اپنے معیار کی کسوٹی پر نہ جانچیں ۔والدین آج اخلاق و اقدار کی جن بلندیوں پر فائز ہیں وہاں تک پہنچنے میں انھیں کئی سال لگ گئے ہیں پھریہ کیسے ممکن ہے کہ بچے اپنی زندگی کے اولین دور میں اخلاق و اقدار کی ان چوٹیوں کو سر کرلیں۔ والدین بچوں کو بار بار نصیحت کرنے سے احتراز کریں اس سے بچے ضدی اور نافرمان ہوجاتے ہیں۔ والدین بچوں کے لئے وقت نکالیں کیو نکہ والدین کے وقت پر اولاد کا حق ہے۔جو والدین بچوں کے لئے وقت نہیں نکالتے ان کے بچے پھسڈی پن کا شکار ہو جاتے ہیں۔والدین بچوں کے سامنے اپنا مثالی کردار پیش کریں اگر وہ خود اپنی زندگی میں اخلاق اور اصولوں کو پس پشت ڈالتے ہوں تو پھر بچوں سے اچھے اخلاق کی توقع عبث ہے۔اخلاق اور کردار تعلیم کا جو ہر خاص ہے اخلاق و کردار سے محروم قوم سے کسی تعمیر و تر قی کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔
والدین اپنی اولاد کے مزاج اور صلاحیتوں کا بخوبی جائزہ لیں اور دانشمندی سے ایک ایک خوبی کو پروان چڑھائیں اور ایک ایک خرابی کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ بچوں کو ہمیشہ سچ بولنے ،ایمانداری اور بھلائی کے کام کرنے کے علاوہ دوسروں کی مدد کی ترغیب دیں تاکہ ان کا نور نظر معاشی حیوان کے بجائے ایک سچا انسان بنے۔والدین تربیت میں بچوں کی عمر اور استعداد کا لحاظ رکھنے سے نہ صرف بچوں کی طاقت کو صحیح رخ دے سکتے ہیں بلکہ ان کی بہت سی برائیوں کو دور بھی کر سکتے ہیں۔ بچوں پر ان کی صلاحیت سے زیادہ بوجھ ڈالنا ایک حماقت ہے جس سے بچوں کی فطری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے ۔ بچوں کی تربیت پر والدین کے علاوہ اثر انداز ہونے والے دیگر عوامل میں افراد خاندان،اساتذہ،اسکول،تعلیمی نظام اور معاشرہ قابل ذکر ہیں۔ ایک صحت مند معاشرے کی تعمیر کے لئے والدین بچوں کو اپنے حقوق کے علاوہ پڑوسیوں کے حقوق،رشتے داروں کے حقوق، چھوٹے بڑوں کے حقوق اور اساتذہ کے حقوق کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں۔بچوں میں تہذیب کو پروان چڑھانے کے لئے انھیں ملاقات کے آداب ،نشست و بر خاست کے آداب،مجلس کے آداب وغیرہ کی تر بیت فراہم کرنابھی ضروری ہے تاکہ بچے مہذب زندگی بسر کر سکیں۔بچوں کو جذبات کے اظہار کی آزادی دی جائے اور اگر وہ کسی غلطی کا ارتکاب بھی کر بیٹھیں تو احسن طریقے سے ان کی سرزنش کریں۔
والدین صرف نیک اولاد کی تمنا نہ کر یں بلکہ اولاد کو نیک بنانے کی کو شش بھی کریں۔ والدین بچوں کی صحیح تعلیم و تر بیت کے لئے انبیاء کی ان نصیحتوں سے فیض اٹھائیں جن کا قرآن میں ذکر کیا گیاہے۔تریت کے اس الوہی نظام کے ذریعہ نسل انسانی کو تباہی و بے راہ روی سے بچایا جا سکتاہے۔والدین اپنے انتقال سے پہلے اولاد کو کوئی ایسی چیز دینا چاہتے ہیں جو ان کی نظر میں بہت اہمیت رکھتی ہے ایک عام آدمی اپنی وفات سے پہلے اولاد کے لئے زیادہ سے زیادہ دولت چھوڑنا چاہتا ہے جب کہ ایک سرمایہ دار و تاجر کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کے لئے مستحکم تجارت وراثت میں چھوڑے اور ملازم پیشہ شخص اپنی اولاد کو اونچے عہدوں پردیکھنے کی آرز و کرتا ہے۔یہ تمنائیں اور خواہشات انسانی نسل کی دنیا کو خوش حال تو بناسکتی ہے لیکن اس میں اخروی خسارے کی سوا کچھ اور نہیں ہے۔ والدین کو یہ فکر نہیں ہونی چاہیے کہ ان کی زندگی کے بعد ان کی اولاد کا کیا ہو گا بلکہ والدین کو یہ فکر لاحق ہونی چاہئے کہ ان کی اولاد کا ان کی زندگی کے بعد کیا ہوگا کیو نکہ دنیا کی کا میابی تو ایک فریب ہے جب کی اخروی کامیابی ایک حقیقت ہے۔ والدین کو اسلامی تربیت کے بنیادی اصولوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے جس کے سہارے وہ اپنی اولاد کی اخلاقی ،معاشرتی ،ذہنی،حسی،جذباتی اور جنسی تربیت کو بحسن و خوبی انجام دے سکتے ہیں۔وہ والدین جو ماحول کی خرابی کا راگ الاپتے ہیں انھیں چاہئے کہ وہ ماحول کی اصلاح کا کام اپنے گھر سے شروع کریں۔ماحول کی اصلاح کی تحریک اس وقت طاقت ور ہوجاتی ہے جب مصلح کے گھر کے افراد تعلیم و تربیت کا اعلی نمونہ بن جاتے ہیں۔ موثر تربیت کے لئے ایک صالح دینی ماحول کا ہونا اشد ضروری ہے۔بھلائی اور برائی تعلیم و تربیت اور افہام و تفہیم کے ذریعہ پھیلتی اور فروغ پاتی ہے۔والدین جس طرح اولاد کے دنیوی آرام کا خیال رکھتے ہیں اسی طر ح اپنی اولاد کی فکری ،عملی اور اخلاقی تربیت کے سامان بھی فراہم کریں۔والدین ذراسی دھوپ کی تمازت سے اپنی اولاد کو بچانے کے لئے اپنی تمام توانیاں صرف کردیتے ہیں بھلا وہ کس طرح گوارا کریں گے کہ ان کی اولاد دائمی آگ کی نذر ہو جائے۔والدین کی اولاد سے اصل محبت اور سچی خیر خواہی یہی ہے کہ بچوں کو دنیوی راحت و آسائش کے سامان فرا ہم کر نے کے ساتھ ان کو آخرت کی لازوال دولت سے بھی واقف کراوئیں تب ہی وہ اپنی تربیتی ذمہ داریوں سے عہدہ براء ہو سکتے ہیں۔