تربیت گوشۂ جگر :- ابو عبدالقدوس محمدیحییٰ

ابوعبدالقدوس محمدیحییٰ

تربیت گوشۂ جگر

ابو عبدالقدوس محمدیحییٰ

اولاد جو کہ انسان کا ٹکڑا یا گوشۂ جگر بھی کہلاسکتی ہے اس سے محبت ایک فطری امر ہے۔ چرند ،پرند، حیوان، وحوش،بہائم یہاں تک کہ وحشی اورجنگلی درندے جن کی خوراک دوسرے جانوروں کاگوشت ہے لیکن اپنے بچوں سے وہ بھی محبت کرتے ہیں ۔ مادہ بچھو کے بارے میں مثل مشہور ہے کہ وہ اپنے نو مولود بچوں کی خوراک بن جاتی ہے۔

اس طرح اپنے بچوں کی پہلی خوراک بن کرخود کو قربان کردیتی ہے اور ان بچوں کے جسم کاحصہ بن جاتی ہے۔دیگر جانوربھی اپنے بچوں کا خیال رکھتے ہیں ۔ ایک حدیث مبارکہ میں گھوڑی کا اپنے بچوں کاخیال رکھنے کا بیان آیاہے:
”اللہ نے رحمت کے سو حصے بنائے اور ان میں سے ٩٩ حصے اپنے پاس رکھے ہیں ۔ صرف ایک حصہ زمین پر اتارا اور اسی کی وجہ سے آپ دیکھتے ہیں مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں ۔ گھوڑی بھی اپنے بچے کے اوپر سے اپنا پاؤں اس خوف سے اٹھالیتی ہے کہ اسے تکلیف ہوگی”۔(صحیح بخاری:کتاب الآداب)
یہی جذبہ اللہ رب العزت نے حضرت انسان کے دل میں بھی رکھا ہے۔ تمام والدین اپنی اولاد سے محبت کرتے ہیں ۔ ان کی بہتری و خیرخواہی چاہتے ہیں ۔ ان کو کامیاب و کامران دیکھناچاہتے ہیں ۔ان پر کوئی آنچ آنا پسندنہیں کرتے ۔ ہمیشہ اپنی اولاد کو ناز و نعم میں پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں ۔دنیا میں بے لوث ،مخلص اور بلاعوض محبت کرنے والی ذات والدین ہی کی ہے۔جو اپنی تمام تر قوتیں توانیاں اپنے بچوں کے مستقبل کو سنوارنے اوربنانے پر صرف کردیتے ہیں ۔خود بھوک،پیاس، مصیبتیں برداشت کرلیں گے لیکن اپنے بچوں کے لئے سایہ الفت و محبت بنے رہیں گے۔الغرض اپنی جوانی کی کئی بہاریں لوٹاکر اولاد کو بہار شباب سے آشنا کرتے ہیں ۔بقول شاعر
روٹی اپنے حصے کی دے کے اپنے بچوں کو
صبر کی ردا اوڑھے بھوکی سورہی ہے ماں (عارف شفیق)
اس حد تک قربانی و ایثار کرنے والے والدین ہی ہوسکتے ہیں ۔ والدین اپنے بچوں کے لئے حتی المقدور دنیاومافیہا کی نعمتیں مہیا کرنے کی فکر میں رہتے ہیں ۔ ان کے لئے راحت و آرام اوراسباب تعیش بہم پہنچانے میں مصروف رہتے ہیں ۔ دنیا کی آگ ،موسم کی سختی، دھوپ کی تمازت، گرمی کی شدت سے بچانے کی فکررہتی ہے اور ان کے لئے زندگی کی ہر نعمت و سکون کے حصول کا انتظام کیاجاتاہے۔یہ اسباب آرام وسکون، راحت وتعیش ،عیش وعشرت کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی اچھی تعلیم وتربیت پر بھی پوری توجہ دیں تاکہ ان کی اولادبہترین انسان اور مسلمان بن سکے اور اگر صحیح تعلیم وتربیت نہیں تو یہ تمام دنیاوی آسائشیں و آرام اور دنیاوی نعمتیں و لذتیں اس کمی کوپورا نہیں کرسکتیں ۔کیونکہ اولاد کو دنیاوی راحت وسکون دینے کے لئے تو جانور بھی اپنی تمام توانیاں صرف کردیتے ہیں اور اپنی اولاد کو سکون دیتے ہیں ۔ انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو بہترین معاشرے کابہترین شہری اور صالح مسلمان بنائے اس کے لئے اچھی تعلیم و تربیت کا ہونا نہایت ضروری ہے اور یہی انسان کا مقصد اولین ہوناچاہئے صرف اولاد کا پیٹ پالنا اس کا مقصد حقیقی نہیں ہے یہ تومحض ایسا ہے کہ انسان بامرمجبوری کوئی کام کرے اور اسے اپنی زندگی کا مقصد قرار دے، یاکوئی انسان جو قیدخانہ میں ڈال دیا گیا ہو اسے اپنا گھر کہے، کیونکہ صحیح معانی میں گھر مکینوں سے بنتا ہے نہ کہ مکان یا در ودیوار سے۔ اپنے گھر کو پیار،محبت ،صلہ رحمی،عزت،مروت، ہمدردی، ملنساری، عزت،خوداعتمادی اور توجہ کے زیورات سے سجاکر جنت نظیر بنائیں کیونکہ صرف درودیوارسے بنایا،سجایا،آراستہ وپیراستہ کیا ہوا گھر زنداں وقیدخانہ سے کسی بھی طور مختلف نہ ہوگا۔ بقول شاعر:
اپنی مجبوری کو ہم دیوار و در کہنے لگے
قید کا سامان کیا اور اس کو گھر کہنے لگے( شبنم رومانی)
جہاں تک کردار سازی اور تربیت کے لئے عملی اقدامات کرنے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں نفسیات دانوں کی مختلف بلکہ کسی حد تک متضاد آراء ہیں اورتمام پر عمل بیک وقت ناممکن ہے۔ اگر ہم ماضی کے والدین کی طرح سختی اورشدت کارویہ اپنائیں تو اس ترقی پسند دور میں بچے اس کو مسترد کردیں گے۔اور پھر یہ چیز بھی یقینی نہیں کہ اس سختی اورشدید مارپیٹ کا کچھ فائدہ بھی ہوگا۔
میرے نزدیک تمام امور میں سب سے اہم نکتہ بچوں کے لئے وقت نکالنا ہے۔ ان کے ساتھ مناسب وقت گزاریں۔کوئی بھی کتنا ہی پڑھا لکھا ہو وہ آپ کے بچوں کو باپ کی محبت اور ماں کی ممتا فراہم نہیں کرسکتا۔جو محبت ،شفقت،انسیت ،خلوص اورپیار آپ فراہم کرسکتے ہیں وہ دنیا کی تمام دولت لٹاکر بھی حاصل نہیں کی جاسکتی ۔ لیکن یہاں اس کے برعکس آج کل والدین بھی دیگر مشاغل میں اتنے زیادہ مصروف ہیں کہ بچوں کے لئے ان کے پاس وقت نہیں ۔بچے ماں اورباپ کی محبت کو ترس جاتے ہیں۔ ان کے لمس تک سے محروم ہیں۔ بالخصوص جن بچوں کے والدجاب کی خاطر دوسرے ملک سدھار چکے ہیں اورپانچ پانچ سال بچوں کوروبرو شکل دیکھنے کا موقع میسرنہ آتاہو !
اب حال یہ ہے کہ تربیت کی بجائے والدین اپنے بچوں کو آسائشیں (Advantages) دینا چاہتے ہیں ۔اورسمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنوں بچوں کو اچھاگھر، اچھاماحول،اچھااسکول اور دیگر سہولتیں فراہم کردیں تو انہوں نے ان کی صحیح تعلیم و تربیت کا حق اداکردیا۔
والدین کی طرف سے آسائشیں (Advantages) مہیا کرنا کوئی مذموم نہیں بلکہ بہت ہی قابل تعریف ہے لیکن صرف یہ چیزیں اچھی زندگی گزارنے کی ضمانت نہیں ہیں ۔مثلاًاگر والدین بچے کواس سوچ کے تحت اعلیٰ اسکول میں داخل کرائیں کہ یہ طبقہ اشرافیہ (Elite Class) میں بیٹھے گا ،ان کے ادب وآداب (Etiquettes & Manners) سیکھے گا اگر گھر کا ماحول اور مالی حیثیت ان سے مطابقت نہ رکھتی ہو اور وہ اس کے اخراجات برداشت (Afford) نہ کرسکتے ہوں تو اس سے بچے میں احساس محرومی ( Frustration) بڑھے گا۔
مزید برآں والدین کی سرپرستی اورقلبی ،ذہنی اورجسمانی تعلق نہ ہونے کے باعث ہمارے گھروں میں جو خلا پیدا ہوچکا ہے اسے میڈیا نے پوراکرنے کی کوشش کی ہے۔ اورآج تو ہمیں خود علم نہیں کہ اب گھروں میں ضابطہ اخلاق کون بنارہا ہے،ہم یاپھرالیکٹرانک میڈیا (ٹیلیوژن،ریڈیو،فلم) ، پرنٹ میڈیا (اخبارات و رسائل) اورسوشل میڈیا(فیس بک، ٹوئٹر) ۔اس سے بھی ہم بے خبر ہیں ۔
اس فیصلہ کو کوئی بھی دانشمند ، اہل بصیرت، دانا،بینا اورجہان دیدہ شخص حکمت ودانائی کا فیصلہ نہیں قرار دے گا۔ اس لئے بہتر اورمناسب یہی ہے کہ جہاں تک ہوسکے اپنے جیسوں میں میل ملاپ رکھنا چاہئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمام تگ و دو محنت اورکوشش کے باوجود یہ اپنے تئیں دانشمندانہ فیصلہ تصورکرنے کی وجہ سے اس مثل کے مصداق نہ ہوجائے کہ ”کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا” اور ایک وقت ایسا آجائے جب اس کے لبوں پر بے ساختہ یہ شعر جاری ہوجائے۔ بقول احمد امتیاز
کوئی عادت مرے بچوں میں نہیں مری
میرے اندر ہی دھری رہ گئی دانائی مری
اسی طرح آج کے دور میں بچوں کے نامناسب اور غیرمہذب رویہ کی ذمہ داری وراثت پر نہیں ڈالی جاسکتی ۔ وراثت کایہ مفھوم صحیح اورقابل قبول نہیں ہے۔کیونکہ ”ہربچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے” یعنی فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے اور پیدائشی طور پر مزاج اسلام سے ہم آہنگ ہوتا ہے کی حدیث کے خلاف ہے،مثلاً بچہ توہمیشہ سچ بولتا ہے یہاں تک کہ اسکا اردگرد کا آلودہ ماحول اسے جھوٹ بولنا سکھادیتا ہے۔بقول شاعر
جب بھی سچ بولتے بچوں پہ نظرجاتی ہے
یاد آجاتا ہے بے ساختہ بچپن اپنا
اگر والدین بچوں کو اچھے کردار کے حامل افراد کی صورت و شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں گھر کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لینی ہوگی اور اس کے لئے خود بھی ایسی کتب پڑھیں اوربچوں کو بھی پڑھائیں جن میں عظیم لوگوں کی تربیت کرنے والے والدین کے تذکرے موجود ہوں اس سے بچوں کوترغیب ملے گی۔بچے کا اپنے ذہن میں سہ ماہی ششماہی مقاصد کا تعین کریں ۔ اور اس کے بعد جانچ پڑتال کریں آپ اپنے مقصد میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں ۔بچوں کو اچھے کردار ادا کرنے کی ترغیب و تحریص دلائی جائے۔ انہیں بتایا جائے کہ دامن پر لگے داغ تو دھل سکتے ہیں لیکن کردار اگر داغ دار ہوگیا تو اس کی مثال ان پھولوں کی ہوگی جن کی خوشبو جاچکی ہو اور خوشبودوبارہ لوٹ کر پھولوں میں کبھی نہیں آتی۔بقول شاعر
اپنے کردار کو موسموں سے بچارکھنا
لوٹ کر آتی نہیں خوشبو پھولوں میں
یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہے جوعموماً نظر انداز کردی جاتی ہے کہ انسان جسم و روح کا مرکب ہے۔ اس لئے اس کی بنیادی ضرورتیں بھی جسمانی و روحانی ہیں ۔ اس کے لئے جسمانی ضروریات یعنی مادی وسائل کے ساتھ روحانی وسائل یعنی مذہب کی ضرورت ہے۔ جودائمی سکون و راحت کاسبب اوراخروی نجات کا باعث ہے۔لیکن من حیث المجموع اس روح کے تقاضوں ،ابدی سکون و راحت اورآخرت کی آگ بچنے کی فکرنہیں کی جاتی ۔ جس کی اللہ رب العزت نے قرآن مجید اور فرقان حمید میں تاکید کی ہے۔
ترجمہ:اے ایمان والوں اپنی جان اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔(التحریم:٦)
برسبیل تذکرہ یہاں یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ جس طرح اسلام میں عبادت صرف چند رسمی اعمال مشینی انداز سے اداکرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ رب العزت اور حضور پرنور ﷺ کی مکمل اطاعت وفرمانبرداری کا نام ہے اور اپنی پوری زندگی کو اسلامی ادب و آداب کے سانچے میں ڈھالنے کا نام ہے۔یعنی کھانے،پینے،سونے ،جاگنے، کھیلنے کودنے اور سیر وتفریح کرنے جیسے مباح کام بھی باعث اجرو ثواب اور عبادت بن جائیں گے اگر ان کی ادائیگی میں اسلامی آداب کو پیش نظر رکھا جائے اور کرنے کی یہ نیت ہو کہ تازہ دم ہو کر، مزید طاقت حاصل کر کے رب کی عبادت و اطاعت کروں گا۔
یہاں اس نکتہ سے غافل نہ رہاجائے کہ اگر آخرت کی تیاری کی جائے گی اورحضور پرنور ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی کوشش کی جائے گی تو آخرت کی کامیابی کے ساتھ ساتھ دنیامیں بھی کامیابی وکامرانی اورسرفرازی قدم چومے گی۔ لیکن اس کونظرانداز کرنے کی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ بہت کم والدین ہی اولاد کی صحیح تعلیم وتربیت کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔ اکثر ناکام و نامراد رہتے ہیں ۔پھر جب اولاد بڑی ہوجاتی ہے توان کے حسین خواب، خوبصورت تصورات وتخیلات بکھر جاتے ہیں۔وہ اپنے بچوں سے شاکی،نالاں اوربیزارہوجاتے ہیں ۔کیونکہ والدین یہ توقع کرتے ہیں کہ محبت،خلوص،خدمت اورنگہداشت کے صلے میں بچے بھی تازندگی خدمت اور محبت کامظاہرہ کریں گے ۔ چونکہ بچے عموماً (صحیح تربیت نہ کرنے کی وجہ سے)اس توقع پر پورا نہیں اترتے اس لئے لازمی طورپر والدین کو شدید مایوسی کا سامناکرناپڑتا ہے۔ اکثر ایسے ماں باپ کو بڑھاپے میں پچھتاتے اور اولاد نافرمانیوں اور سختیوں کے تذکرے اور ان کی شکایات کے انبار لگاتے ہوئے دیکھا گیاہے۔اور وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ تومکافات عمل ہے کہ جب بچوں کی مہار ان کے ہاتھوں میں تھی اس وقت شتر بے مہار کی طرح چھوڑ دیا تھا اورانہیں کوئی لگام نہ دی تھی۔اگر اس وقت اپنے فرائض تربیت صحیح طور پر اداکیے ہوتے تو آج اولاد بھی ان کے حقوق اداکرنے میں کوتاہی نہ برتتی۔ اگرآج ہم نے اولاد کی صحیح تربیت نہ کی توعین ممکن ہے کہ کل (بحیثیت)ماں باپ ہمارامستقبل بھی اولڈہوم سے وابستہ ہوجائے کیونکہ کانٹے اگاکر پھولوں کی توقع رکھنا یا آگ لگا کر ساون اور برسات کی توقع رکھنا پاگل پن اور دیوانگی کے سوا کچھ نہیں ۔بقول شاعر
کچھ لوگ بچھا کر کانٹے پھولوں کی توقع رکھتے ہیں
شعلوں کوہوائیں دے دے کر ساون کی توقع رکھتے ہیں
شیکسپیئرکا ایک قول ہے:” نافرمان بیٹے کا وجود سانپ سے زیادہ مہلک ہے ”۔حقیقتاً یہ امرواقعہ ہے کہ بہ نسبت اس سانپ(دشمن) کے جو انسان کی نظر کے سامنے ہو۔آستین کا سانپ زیادہ خطرناک،مہلک اور تباہ کن ہوتاہے۔ جیسا کہ شبنم رومانی صاحب نے اس شعر میں بیان کیاہے۔
کل شب تھا میں دودشمنوں کے درمیان
اک سانپ راستے میں اک آستین میں تھا
اولاد کے اس رویئے کی بنیادی وجہ تعلیم و تربیت کا فقدان ہے۔اگرآج اولاد کی صحیح تربیت ہوگئی تو کل والدین کی زبان پر شکوہ ہوگا نہ شکایت ،ورنہ اس وقت پشیمانی اورندامت کا سامنا کرناپڑے گا۔
شانوں پہ گناہوں کا بار ،دامن نیکیوں سے خالی
ندامت ہے ،ندامت ہے، ندامت ہی ندامت ہے
اور اس وقت پشیمانی اورندامت سے کوئی فائدہ بھی نہ ہوگا اور یہ ندامت وتوبہ کوئی چارہ گر نہ ہوگی۔ بقول اسداللہ خاں غالب
کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیمان ہونا
حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے:”باپ اپنی اولاد کوجوکچھ دیتا ہے اس میں سے سب سے بہتر عطیہ اس کی اچھی تعلیم و تربیت ہے۔”۔ایک اور روایت میں آپ نے فرمایا:”ایک صاع خیرات کرنے سے بچوں کی تربیت کرنا زیادہ بہتر ہے”۔
بچہ جو کچھ بنتا ہے اس میں وراثت سے زیادہ اس کے ماحول اور ماں باپ کی تعلیم و تربیت کاعمل دخل ہوتاہے۔یہاں لفظ تعلیم سے مراد مختلف قسم کے علوم کا حصول ہے اورتربیت سے مراد تزکیہ اخلاق و ادب وروش و فعل ہے ۔ لیکن یہ ذہن میں رہے کہ اسلامی انداز سے تعلیم و تربیت کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ تمام مسلمان اپنے بچوں کوحافظ، عالم اورمفتی ہی بنائیں ۔ بلکہ اچھی تربیت کریں اور خلوص دل سے انہیں اچھا انسان اورمسلمان بننے میں مدد کریں ۔اور انہیں ان کی دلچسپیوں ،صلاحیتوں اور انفرادی اختلافات کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی شعبہ میں جانے دیں تاکہ وہ اس ملک و قوم کے کارآمد شہری بنیں ۔ بچے کو اسلام کی بنیادی اور لازمی تعلیمات کے ساتھ میڈیکل ،انجینئر نگ الغرض کوئی بھی تعلیم دیں ،ہنرسکھائیں ۔بچے کو ذہنی، جسمانی صلاحیتوں اور اس کی خواہشات ودلچسپی کے مطابق پروان چڑھنے دینا چاہئے اور والدین پیشے اور ہنر کے انتخاب میں بچوں پر اپنی مرضی مسلط نہ کریں ۔ ایسا کرنا محبت کا ثبوت نہیں بلکہ اس کی زندگی خراب کرنے کا باعث ہوگا۔ہاں ان تمام کے ساتھ اگر اس کی شخصیت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پروان چڑھے گی تویہ تمام سیکھنے سکھانے کاعمل باعث اجرو ثواب ہوگا۔ مسلمانوں کو ڈاکٹرز ،انجینئرز اور دیگر پیشوں کے ہنر مند افراد بھی چاہئیں ۔ تما م معاشرہ صرف عالم اور مفتی بن کر زندگی نہیں گزارسکتا۔
والدین کو چاہئے کہ وہ خودمختلف امورخیر سرانجام دینے کی مسنون اورقرآنی دعائیں یاد کریں ۔ ان دعاؤں کو اپنی زندگی کا جزو لاینفک بنائیں ۔ دعا عاجزی،تضرع اورحضور قلب خشوع خضوع انکساری سے مانگیں ۔ اپنے بچوں کوبھی یہ دعائیں ضروریادکرائیں ۔ دعا کرنے کی ترغیب دلائیں ۔ دعاؤں کواپنی اوربچوں کی زندگی کا معمول بنائیں ۔کیونکہ الدعا سلاح المؤمن۔ دعا مومن کا ہتھیار ہے ۔ گھر میں دینی ماحول قائم کریں ۔قرآن کریم کی تلاوت اور دیگر عبادات کی پیروی کریں ۔ اللہ کی وحدانیت ، عظمت اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت سے ان کے قلوب کو منور کریں ۔ بچوں کے ہاتھ سے صدقہ وخیرات تقسیم کرائیں ۔ اس عمل سے بچوں کے اندر مال کی حرص وہوس کم ہوگی۔نادار اور غریبوں کی ہمددری کا دل میں احساس پیدا ہوگا۔اور صدقہ دینا ویسے بھی بلاؤں اور مصیبتوں کو ٹالتاہے۔اگروالدین دوران تربیت ان امور کا خیال رکھیں تو یہی اولاد والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈ ک ، پھولوں کا گلدستہ ، پھلوں کی مٹھاس ، قوی اور طاقتور بازو بن جائے گی۔دنیاوی عزت و احترام اوراخروی نجات کا ذریعہ بنے گی۔
اس دنیا میں ایک نسل (جنریشن) اپنے معاملات و معمولات دوسری نسل ( اپنے جانشینوں )کے سپر د کرکے یہاں سے رخصت ہوجاتی ہے۔اب اگر وہ دینی ماحول ، امن و سلامتی و خوشحالی کے ساتھ زندگی بسر کریں گے تو ان کے پیشرواور خلف بھی اس دنیا میں مدح و ستائش اور آخرت میں اجرو ثواب کے حقدار ٹھہریں گے بصورت دیگر ان کی صحیح تعلیم و تربیت نہ ہوئی اور ان کے جانے کے بعد اگر وہ اس دنیا میں تباہی وبربادی لائیں ،اس دنیا کو بے آب وگیا صحرا میں تبدیل کریں اور روشنیوں کو اندھیروں میں بدل دیں توا ن کے پیشرو اورسابقہ نسل بھی اس کی ذمہ داراورشریک جرم ہوگی۔اس لئے زیادہ موزوں ، مناسب اوربہتریہی ہے کہ کل اندھیرے کا شکوہ کرنے کی بجائے آج یہاں اپنے حصے کا ایک ایک چراغ (بصورت حسنِ تربیت اولاد) جلادیا جائے۔اس طرح اگر ہر فرد اپنا چراغ جلالے گا تو یہ دنیا مثل ماہتاب روشن ، منور،حسین اورخوشنماہوجائے گی۔ بقول شاعر
شکوۂ ظلمتِ شب سے توکہیں بہترتھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
کیونکہ بچے نہ صرف والدین کی زندگی کا چراغ ہیں بلکہ مستقبل کے معمارِ ملت وقوم بھی ہیں ۔اگر ایک طرف والدین کی زندگی میں ستاروں کی تابناکی،چاند کا حسن ،چراغوں کی روشنی ، پھولوں کی خوشبو،پھلوں کی مٹھاس،پیار کی چاشنی، دنیا کی رنگینی ،چہرے کی شادابی، اورشہدکی حلاوت اورمٹھاس ان ہی کے دم سے ہے تو دوسری طرف پوری قوم کے مستقبل کا سوال اور ان کی بقا ان ہی معماروں کے ہاتھ میں ہے۔یقیناً کوئی بھی زیرک،دانشمند اورفہم وفراست کا حامل شخص اپنی یا اپنی قوم کی باگ ڈور اناڑی،کمزور،ناتواں،فہم وفراست سے عاری ،جلدباز،مشتعل جہلاکے ہاتھ میں دینا پسند نہ کرے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اولاد کی صحیح تربیت کرنے کی توفیق

جواب دیجئے