ہاتھی – Elephant – – – – – – – ڈاکٹرعزیزاحمد عرسی

elephant ہاتھی
وہ مخلوق جس کا دماغ انسان کے دماغ سے چار گنا بڑا ہوتا ہے
ہاتھی – Elephant

ڈاکٹرعزیزاحمد عرسی، ورنگل
موبائل : 09866971375

الم ترا کیف فعل ربک باصحٰب الفیل (الفیل ۔۱)
(کیا تو نے نہ دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا۔الفیل۔۱)
قرآن مجید میں ہاتھی پر ایک مکمل سورت موجود ہے جو سورۃ الفیل کہلاتی ہے۔خطہ عرب میں ہاتھی نہیں پایا جاتا۔ جب یمنؔ کے گورنر ابرہہؔ نے مسلمانان عالم کو فریضۂ حج ادا کرنے سے روک کر اپنے بنائے ہوئے کلیسا کی زیارت کروانے کا منصوبہ بنایا تو اسکا یہ منصوبہ ناکام ہوگیا کہ مسلمان خانہ کعبہ کو حج کیلئے جوق در جوق آتے رہے۔ اپنے منصوبے کی ناکامی پر چراغ پا ابرھہؔ نے اپنے کلیسا کی بے حرمتی کی فرضی کہانی گڑھ کر خانہ کعبہ پر حملے کا جواز پیدا کرلیا۔ اور تقریباً 60ہزار لشکر جرار کے ساتھ مکہ پر چڑھائی کردی۔ اسکے لشکر میں ہاتھی بھی شامل تھے جنکی تعداد ۹ یا ۱۱ تھی۔ ان ہاتھیوں میں ایک ہاتھی بہت بڑی جسامت کا تھا جس کو میر لشکر کی حیثیت حاصل تھی اسکا نام مفسرین نے ’محمود‘ لکھا ہے،جو Mammothکا بگاڑ ہوسکتا ہے، اس طرح اہل عرب اسی موقع پر ہاتھی سے متعارف ہوئے۔ اس سورت میں اللہ فرماتا ہے کہ ’’تم نے دیکھا کہ تیرے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا۔‘‘

ہاتھی نہ صرف ابرہہؔ کے لشکر کی طرف اشارہ ہے بلکہ قوت کی نشانی بھی ہے کہ کس طرح اپنی قوت پر اِترانے والوں کو اللہ نے معمولی پرندوں کے ذریعہ گرائی ہوئی کنکریوں سے تباہ کردیا۔ یہ سورت انکے لیے بھی درس عبرت ہے جو جھوٹا کھڑاگ پھیلا کر معصوموں پر حملہ کرنے کا جواز پیدا کرلیتے ہیں۔ اسکے علاوہ قرآن میں سورۃ القلم میں ’خرطوم‘ آیا ہے جسکے معنی ہاتھی کی سونڈ کے ہیں۔ بائبل میں ہاتھی کا تذکرہ موجود نہیں ہے بلکہ ہاتھی دانت کا ذکر ضمناً موجود ہے۔ ہندو مذہب میں علم و حکمت کے دیوتا گنیش جی کا چہرہ ہاتھی کی شکل کا ہے۔ ہندو دیو مالا میں زمین کو اٹھا رکھے سات جانوروں میں ایک ہاتھی ہے۔ جو تانبیل (کچھوا) پر کھڑا ہے۔ بدھسٹ سفید ہاتھی کو مقدس مانتے ہیں کہ انکے مطابق راہبوں، صوفیوں، مہاپرشوں اور حکمرانوں کی مقدس ارواح سفید ہاتھی میں منتقل ہوجاتی ہیں۔ تھائی لینڈ میں سفید ہاتھی کی پرستش کی جاتی ہے۔ رومیوں نے ہاتھی کو سرکس میں پہلی مرتبہ استعمال کیا اور یونان میں ہاتھی کو فوج میں بحیثیت ٹینک (دبابہ) استعمال کرنے کا طریقہ سکندرؔ نے شروع کیا۔
ہاتھی پالتو جانور نہیں ہے لیکن انسان نے اسکو سدھا کر پالتوجیسا بنا دیا ہے کہ وہ انسان کے شانہ بہ شانہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کام کرتا نظر آتا ہے۔ دنیا کی تمام مخلوقات انسان کے فائدے کیلئے ہیں۔ حق تعالیٰ ارشاد فرماتاہے کہ ’’اس نے جانور پیدا کئے جن میں تمہارے لیے پوشاک بھی ہے اور طرح طرح کے دوسرے فائدے بھی‘‘ اور اللہ آگے ارشاد فرماتا ہے۔ کہ ’’وہ تمہارے لیے بوجھ ڈھو کر ایسے ایسے مقامات تک لے جاتے ہیں جہاں تم سخت جانفشانی کے بغیر نہیں پہنچ سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب بڑا ہی مشفق اور مہربان ہے‘‘ اللہ نے قرآن کی پچاس سے زائد آیتوں میں غور و تدبر کرنے اور عقل و فکر کا استعمال کرنے کی دعوت دی ہے کہ وہ کائنات کی بے شمار نشانیوں اور انکی عجیب و غریب کارگری پر غور کریں تاکہ انسانوں میں خالق کی عظمت کا احساس پیدا ہو۔جس سے ان میں خشیت پیداہوگی اور انکا دل حب الٰہی سے معمور ہوجائے گا۔ اللہ نے انسان کو عقل سلیم عطا فرمائی ہے جسکو بروئے کار لاکر وہ ہاتھی جیسے وحشی جاندار کو بھی اپنا مطیع و فرمانبردار بنا لیتا ہے۔ رسول خداؐ نے جانداروں سے اچھے برتاؤ کی ہدایت فرمائی ہے اسی لیے انسان کبھی مشفقانہ طرز عمل اختیار کرکے انکا ماں یا باپ بن جاتا ہے اور کبھی محبت نچھاور کرنے والی اولاد کے مانند ہوجاتا ہے۔ اسی لیے جب انسان کسی ہاتھی پر بیٹھ کر انکے غول میں چلا جاتا ہے تو دوسرے ہاتھی اس انسان پر برہم نہیں ہوتے حالانکہ غول کے سب ہاتھی جنگلی ہوتے ہیں اہلی نہیں ہوتے لیکن یہ حقیقت ہے جو جانوروں کے عادات و اطوار کے ماہرین کیلئے بھی حیرت انگیز ہے۔ ہمالیہ کی ترائی میں آباد علاقوں میں اکثر اوقات مائیں اپنے چھوٹے بچوں کو ہاتھی کی نگرانی میں دے جاتی ہیں جنکی وہ اطاعت گزار جانور ماں کے واپس ہونے تک حفاظت کرتا ہے۔ اسی لیے وحشت کے اعلیٰ درجہ پر فائز ایسے جاندار جب الفت میں انسان کے آگے سرنگوں ہوجاتے ہیں تو دل بے اختیار پکار اٹھتا ہے کہ ’’خدایا۔تونے ان سب کو فضول اور بے مقصد پیدا نہیں فرمایا‘‘۔
ہاتھی لفظ اپنے اندر کئی مفاہیم رکھتا ہے۔ اردو زبان میں عام طور پر یہ قوت اور امارت کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسے ؂
دریچے کرم خوردہ ہوگئے ہیں
کبھی اس در پہ ہاتھی ڈولتا تھا
بے حس انسان پر طنز کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ کیا تمہاری جلد ہاتھی کی ہے۔ حالانکہ ہاتھی نفاست پسند جانور ہے جسکی جلد موٹی لیکن نہایت حساس ہوتی ہے جسکا وزن تقریباً ایک ٹن ہوتا ہے اور ہاتھی اپنی جلد کی بڑے اہتمام سے حفاظت کرتا ہے۔ اردو زبان میں ہاتھی پر کئی کہاوتیں موجود ہیں جیسے ہاتھی نکل گیا دم اٹک گئی، ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور ہیں کھانے کے اور ہیں، ہاتھی کا بوجھ ہاتھی ہی اٹھائے ہاتھی سے گنا کھانا، ہاتھی جھومتا ہے، ہاتھی پھرے گاؤں گاؤں جسکا ہاتھی اسکا ناؤں، ہاتھی کا دانت اور گھوڑے کی لات، ہاتھی کا پیر آنکس؛ مر اہوا ہاتھی بھی سوا لاکھ کا وغیرہ۔ عوام میں ہاتھی سے متعلق کئی کہانیاں اور غلط فہمیاں مشہور ہیں۔ جیسے ہاتھی کے دانت ہر دس برس کے بعد پھر اُگ آتے ہیں۔ اسکی ٹانگوں میں جوڑ نہیں ہوتے اسی لیے وہ درختوں کے تنوں کو سہارا دیکر کھڑا کھڑا سوتا ہے اور اگر نیچے گر جائے تو پھر اٹھ نہیں سکتا۔ اسکی عمر چار تا پانچ سو برس ہوتی ہے۔ خود ارسطوؔ نے بھی اسکی عمر 400برس لکھی ہے۔کہاجاتاہے ہاتھی ایک بے ڈھنگا جانور ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہاتھی نہایت سلیقہ مند جانور ہے جسکا تجربہ ہاتھی کو ایک شیشے کی دُکان میں لے جاکر کیا گیا۔ جہاں اس نے تنگ راستوں سے گذرنے کے باوجود شیشوں کے نازک آبگینوں کو نیچے نہیں گرایا اور بغیر کوئی شئے توڑے دُکان سے باہر نکل گیا اسی لیے ہم ہاتھی کو قوی الحبشہ ہونے کے باوجود سرکس میں بوتلوں پر توازن برقرار رکھنے کا کرتب دکھاتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ یہ نہایت حساس جانور ہے جو اپنی بے عزتی برداشت نہیں کرسکتا۔ Plinyکے تجربے کے مطابق جب فوقیت کے عادی ہاتھی پر دوسرے ہاتھی کو فوقیت دی گئی تو وہ ہاتھی دلّی کے قدیم بانکوں کی طرح اپنی بے عزتی برداشت نہ کرپایا تو بھوکا رہ کر خودکشی کرلی۔ ماہرین حیوانات نے ہاتھی کو نہایت ہوشیار اور ذہین جانور قرار دیا ہے۔ہاتھی کا دماغ انسان سے چار گنا بڑا ہوتا ہے،پہاڑوں سے نیچے اترنے کے لئے راستے کا انتخاب اس کی بڑی خصوصیت ہے جو سب سے سہل ہوتا ہے آج دنیا میں اکثر نہ سہی کچھ پہاڑی راستے ایسے ضرور ہیں جو کبھی ہاتھیوں کی گذر گاہ رہ چکے ہیں۔ ہاتھی کا دماغ 11پاؤنڈ ہوتا ہے یہ زمین پر پائے جانے والے جانداروں میں سب سے بڑا دماغ ہے ، ہاتھی ذہین جاندار ہے، اس کاE Q یعنی Encephalization Quotient دوسرے جانداروں میں زیادہ ہوتا ہے ،(۱) دنیا کا سب سے ذہین جاندار انسان ہے جس کا EQ تقریباً 7.8 تک ہوتا ہے (۲)دوسرے نمبر پر ڈولفن ہے، جس کا EQ تقریباً 5.3 سے زیادہ ہوتا ہے، (۳) Orcaکا 3.3 ( اس کو عام طور پر Killer Whale کہا جاتا ہے)۔(۴) چمپانزی کا 2.5 (۵) بندر کا 2.1 (۶) وھیل کا 1.3 (۷) ہاتھی کا 1.3 (۸) کتے کا 1.2 (Dog )۔ (۹) بلی کا 1.00 (۱۰) گھوڑے کا .9ہوتا ہے ۔E Q ذہنی سطح اور جذباتی ذہانت کو ناپنے کی اکائی ہے۔ لیکن سائنس دانوں کے ایک طبقے کے نزدیک ہاتھی کی ذہانت مشکوک ہے۔ لیکن اس بات پر سب کا اجماع ہے کہ ہاتھی پیچیدہ عمل بھی آسانی سے سیکھ لیتا ہے۔ اسکا ذہن انسان کی طرح مختلف اشیاء کو مشاہدے کے ذریعہ پرکھنے کی کوشش کرتا ہے یہ صلاحیت دوسرے جانداروں میں ہاتھی کے برابر نہیں پائی جاتی۔ لیکن اس تعلق سے مختلف آرا ہیں اگر اسمیں واقعیانسانی ذہن کی خصوصیات ہوتیں تو وہ کبھی اپنے آپ کو انسان کی غلامی کیلئے پیش نہیں کرتا بلکہ خوداری سے آزادانہ زندگی گذارتا۔ علاوہ ازیں انسان اور جانور کی ذہانت کا تقابل ہی بے کار ہے کہ انسان اپنے اندر جذبہ اور روحانی قوت رکھتا ہے اور عقل کے بل بوتے وہ ہر جانور کو اپنا مطیع و فرمانبردار بنانے کی کوشش کرتا ہے بڑے بڑے وحشی جانداروں کو اہلی بنالیتا ہے اور انہیں اپنے دست تصرف میں لے آتا ہے اور اپنے اغراض کیلئے استعمال کرتا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ انسان جسکو اپنی ذہانت پر ناز ہے جس نے ہر جانور کو زیر کرنے کا فن ایجاد کیا ہے عقیدت کی موجوں میں ایسا بہہ نکلتا ہے کہ ان ہی جانوروں کی پرستش کرنے لگتا ہے جنکو خود اس نے اپنا مطیع بنایا اور پھر اپنے ہوش و خرد کو گنوا کر اپنی ذات اور احساسات کو بے زبان جانور کے حوالے کردیتا ہے۔
ہاتھی کی ذہانت اور اسکے سیکھنے کے عمل سے متعلق ابوالفضلؔ لکھتے ہیں کہ یہ موسیقی کی تال پر اعضا کو حرکت دیتا ہے۔ کمان کھینچ سکتا ہے۔ تیر چلاسکتا ہے۔ راستے میں پڑی چھوٹی چھوٹی چیزوں کو طلب کرنے پر اٹھا کر فیلبان کو دیتا ہے۔ کہاجا تاہے کہ ہاتھی کو اسکے مہاوت سے محبت ہوجاتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہاتھی مہاوت کی بدسلوکی برداشت نہیں کرسکتا ہاتھی بعض اوقات اعصاب میں تناؤ کے باعث مست ہوجاتا ہے جو ایک خطرناک مرحلہ ہے۔ یہ مضبوط اور دیو پیکر ہونے کے باوجود نہایت خاموش طبع اور بزدل جانور ہے حالانکہ اسکی طاقت ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے یہ کبھی کسی جانور پر حملہ نہیں کرتا جب تک کہ اسکو تکلیف نہ پہنچائی جائے۔ اسی لیے ہندوستان میں ہاتھی کو شیر کے شکار کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ ہاتھی غول میں رہتے ہیں۔ ہر غول یا گلّے میں ہاتھیوں کی تعداد 20تا 40یا کبھی کبھی 100تک ہوتی ہے۔ گلّے کا ہر ہاتھی ایک دوسرے سے دوستانہ رویہ رکھتا ہے اور وقت ضرورت ایک دوسرے کے کام آتا ہے۔ یہ غول میں نہ صرف اپنے بچوں کی حفاظت کرتے ہیں بلکہ خطرے کے اوقات نومولود بچوں کو بلالحاظ رشتہ اپنی سونڈ یا دانتوں پر اٹھا کر محفوظ مقام کی تلاش میں نکل جاتے ہیں۔ اگر کوئی مادہ ہاتھی کسی وجہ اپنے بچوں کو دودھ نہ پلاسکے تو دوسری ہتنی اسکو اپنا دودھ پلاتی ہے۔ گلّے کی نگرانی کی ذمہ داری ہمیشہ مادین کے سررہتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے ہر گلّہ دراصل انکا کنبہ ہے جو ایک ہی ہاتھی کی اولاد ہیں۔ اس لیے ابوالفضلؔ نے انکے گلّے کو ’سہن‘ کہا ہے۔ ہر غول کی 50میل تک حکمرانی ہوتی ہے عام طور پر دوسرا غول انکی عملداری سے باہر رہتا ہے ۔
ہاتھی ایک پستانیہ ہے جو Proboscideaسے تعلق رکھتا ہے۔ خشکی پر رہنے والے تمام جانداروں میں اسکی جسامت بڑی ہوتی ہے۔ اسکی ناک اور اوپری ہونٹ مل کر سونڈ (Trunk)بناتے ہیں جس پر موجود مضبوط عضلات اسکی لمبائی کو کم یا زیادہ کرتے ہیں گول گھما کر وزن اٹھانے میں مدد دیتے ہیں۔ہاتھی کی سونڈ میں 1,50,000عضلات پائے جاتے ہیں،اس میں کوئی بھی ہڈی نہیں پائی جاتی، ہاتھی اپنی سونڈ سے 1500کیلو وزن بآسانی اٹھالیتا ہے سونڈ ہاتھی میں انسان کے ہاتھ جیسا کام انجام دیتی ہے اسی لیے اسکام نام ہاتھی رکھا گیا۔ یہ سونڈسے چارہ اٹھا کر کھاتا ہے اسکی غذا گھاس، پتے، بمبو اور مختلف پھل کونپلیں گنّا وغیرہ ہوتی ہیں۔یہ ایک دن میں تقریباً150کلو غذا استعمال کرتا ہے یہ اپنی سونڈ سے پانی کھینچ کر راست منہ میں داخل کرتا ہے اسکی سونڈ میں بیک وقت 6تا 8لیٹر پانی سما سکتا ہے۔ یہ روزانہ 100لیٹر سے زیادہ پانی پیتا ہے۔ تیز گرمی ہاتھیوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتی ہے اسی لیے یہ پانی کے قریب اپنا پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ اور دن میں بکثرت سونڈ سے اپنے جسم پر پانی اُنڈیلتے ہیں۔ یہ پانی دیکھ کر بے چین ہوجاتے ہیں۔ ہاتھی اپنے تمام تر جسم کے وزن کے باوجود بہترین تیراک ہوتے ہیں جو پانی میں ڈبکی لگا کر آنکھوں تک ڈوب جاتے ہیں اور تازہ ہوا کیلئے سونڈ کو پانی سے باہر رکھتے ہیں۔ رات کے وقت انکے نہانے کا منظر قابلِ دید ہوتا ہے لیکن اس دوران بھی ایک ہاتھی اس علاقے کی مسلسل نگرانی کے فرائض انجام دیتا ہے اور اپنی سونڈ کو ہوا میں لہرا کر خطرات کو سونگھتا ہے خطرہ محسوس کرنے پر ہلکا اشارہ دیتا ہے جس کو سن کر تمام ہاتھی قریبی علاقوں میں چھپ جاتے ہیں اور خطرہ دور ہونے کے بعد نگران کار ہاتھی پھر ایک اشارہ نشر کرتا ہے جس پر تمام ہاتھی پانی میں جمع ہوکر موج مستی کرتے ہیں۔ ہاتھی اپنے سونڈ کی بہت حفاظت کرتا ہے حتیٰ کہ دوران لڑائی بھی زمین پر نہیں مارتا۔ہاتھی میں دانتوں کی جملہ تعداد 28ہوتی ہے۔ ا ن میں نوکیلے دانت Canines نہیں پائے جاتے اور اوپری Incisorsتمام عرصہ عمر ترقی پاتے ہیں اور Tusk (ہاتھی دانت) بناتے ہیں۔ ہاتھی دانت اکثر اوقات خمیدہ ہوتے ہیں اور ان سے قیمتی Ivoryحاصل کیا جاتاہے۔ہندوستانی ہاتھی کا Tusk افریقی ہاتھی کے مقابلے چھوٹا ہوتا ہے۔ اب تک حاصل کردہ Tusk میں سب سے بڑا ساڑھے دس فیٹ کا دیکھا گیا جسکا وزن 239پاؤنڈ تھا۔اس Tusk کا اساسی قطر 24189 انچ تھا۔ مادہ ہاتھی کے Tuskعموماً نر کے مقابلے چھوٹے ہوتے ہیں۔ جبکہ سری لنکا کے ہاتھیوں کی نسل میں یہ غیر موجود ہوتے ہیں۔ بعض معدوم ہاتھیوں میں انکی لمبائی 16فیٹ تک دیکھی گئی سائبریا میں دریافت شدہ Mammoth کے Tusk ملائم اور پھوٹک ہوتے ہیں۔ لیکن ان کی قیمت زیادہ ہوتی ہے ہاتھی اپنی زندگی کے بیشتر افعال سونڈ کی مدد سے انجام دیتا ہے اور ان دانتوں سے کوئی خاص کام نہیں لیتا اسیلیے انکو نمائشی دانت بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن سدھائے ہوئے ہاتھی ان دانتوں پر وزنی شہتیر وغیرہ لے جاتے ہیں۔ یہ دانت اندر سے تھوتھے اور مجوف ہوتے ہیں اور بہت کم ہاتھیوں میں دانت ٹھوس ہوتے ہیں۔ عام طور پر انکا وزن 30تا 40کیلو ہوتا ہے Tusk جس سے Ivory حاصل کیا جاتا ہے دانت کی متبدلہ شکل ہے جو مخروطی ہوتا ہے۔ اوپر سے اسکا رنگ قدرے گہرا ہوتا ہے لیکن اندر سفیدی پائی جاتی ہے۔ اسکی تہہ دار پرتوں میں رنگا رنگی لکیریں پائی جاتی ہیں اور اسمیں کسی قدر لچک موجود ہوتی ہے جسکے باعث اسکی قدر و قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ کانکنوں کیلئے جس طرح ہیرے کی اہمیت ہوتی ہے اسی طرح شکاریوں کے لئے ہاتھی دانت کی وقعت ہوتی ہے، یہ کندہ کاروں کیلئے زمانہ قدیم سے اہمیت رکھتے ہیں۔ کندہ کردہ ہاتھی دانت کو دنیا کے بیشتر مقامات پر آرائشی اشیاء کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ہاتھی دانت پر نہایت نفیس گل بوٹے بنائے جاتے ہیں جو سامانِ تعیش ہیں۔ بابل، اشوریات، یونانی اور مصری نمونے آج بھی دنیا کے مختلف عجائب گھروں میں موجود ہیں۔ ویسے اس فن میں جاپانی، چینی اور شمالی امریکی زیادہ شہرت رکھتے ہیں۔ ہاتھی دانت کے استعمال سے حجری دور کے لوگ بھی واقف تھے جسکے نمونے آج بھی برٹش میوزیم میں محفوظ ہیں۔ علاوہ اسکے اس میوزیم میں حضرت موسٰی ؑ کے زمانے کے کندہ کردہ کچھ ہاتھی دانت کی نوادرات بھی آج تک محفوظ ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ کا تاج ہاتھی دانت کا بنا ہوا تھا۔ Ivory صرف ہاتھی ہی سے حاصل نہیں ہوتابلکہ دریائی گھوڑے، Walrus اور Narwhal سے بھی Ivory حاصل ہوتا ہے۔ ہاتھی دانت سے Billiard کے گولے ، مصنوعی دانت چوڑیاں، پیانو کے پرزے اور کلید کے علاوہ آرائشی کھلونے بنائے جاتے ہیں۔ نباتات سے مصنوعی Ivoryبھی حاصل ہوتی ہے۔Phytelphasسے حاصل کردہ نباتاتی مرکبات اصل Ivoryکا نعم البدل ہیں۔
ہاتھی کے پیر کھمبا نما استوانائی اور بڑے ہوتے ہیں۔ ان میں بیرونی جانب واضح انگلیاں نہیں دکھائی دیتیں بلکہ ہر انگلی کے آخری حصّے پر ناخن پائے جاتے ہیں۔ انکی جملہ تعداد پانچ ہوتی ہے۔ اسکے پیر اسکا بھاری وزن سنبھالنے کیلئے نہایت متناسب ہوتے ہیں۔ یہ بغیر آواز کئے خاموشی سے چلتا ہے کیونکہ اسکے تلووں میں نمدہ نما ساخت پائی جاتی ہے۔ یہ پہاڑوں پر بہ آسانی چڑھ جاتا ہے اور ڈھلان پر بہ اطمینان اتر جاتا ہے۔ پہاڑوں اور ناہموار راستوں پر جہاں انسان جانفشانی کے بغیر نہیں پہنچ سکتا ہاتھی 350کیلو سے زائد وزن اٹھا کر آسانی سے پہنچ جاتا ہے۔ ویسے یہ میدانی علاقوں میں 450کیلو سے زیادہ وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسکی رفتار 15میل فی گھنٹہ سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہ گڑھوں کو پھلانگ نہیں سکتا،ہاتھی میں اچھلنے کی صلاحیت نہیں پائی جاتی۔ چلنے کے دوران ہاتھی کا وزن جس پیر پر پڑتا ہے وہ اپنے نچلے حصے میں پھول جاتا ہے اور چلنے کے عمل کے دوران جب پیر زمین سے اٹھ جاتاہے تو اپنی اصلی حالت میں لوٹ آتا ہے۔ اسی لیے ہاتھی دلدلی علاقوں میں بآسانی اپنی راہ بنا لیتا ہے۔عام طور پر شناخت کی جانے والی ہاتھی کی نسلیں دو ہیں۔ افریقی اور ہندوستانی۔ انکے علاوہ ایک تیسری نوع پست قد ہاتھیوں کی کیمرون لیبریا اور کانگو میں پائی جاتی ہے انکو Pigmyکہا جاتا ہے انکا قد 5تا6فٹ ہوتا ہے اور انکے کان گول ہوتے ہیںPigmy ہاتھیوں کا وزن ایک ٹن سے زیادہ ہوتا ہے۔ افریقی ہاتھی Loxodont africana کہلاتا ہے جو 11فٹ اونچا اور 6ٹن سے زیادہ وزنی ہوتا ہے۔ دنیا میں سب سے اونچا ہاتھی 15فٹ تک دیکھا گیاجو Stuffحالت میں برٹش میوزیم میں محفوظ ہے اسکو Elephas antiquus کہتے ہیں افریقی ہاتھی کے داڑھ میں معین نما تہہ دار ساختیں پائی جاتی ہیں یہ ہندوستانی ہاتھی (Elephas maximus) سے کمانی دار پیشانی بڑے کان اور سونڈ کے آخری حصے پر موجود دو مثلث نما انگلی جیسی ساخت کی بنیاد پر تمیز کیا جاسکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آفریقی ہاتھی کے بڑے کان دراصل آفریقی گرم ماحول میں ان کو ٹھنڈا یا اعتدال پر رکھنے کا کام انجام دیتے ہیںیہ ہاتھی کے جسم یا سر تک پہنچنے والی گرمی کو منتشر کرتے ہیں ،ہندوستانی ہاتھی ہمالیہ کی ترائی نیلگری اور مغربی گھاٹ کے علاوہ کرناٹک، آسام، تھائی لینڈ، کمبوڈیا، برما، سری لنکا اور سمترا وغیرہ میں پائے جاتے ہیں۔ انکے کان چھوٹے اور سونڈ پر صرف ایک ہونٹ نما ساخت پائی جاتی ہے جسکے ذریعہ یہ نہایت چھوٹی اشیا بھی بآسانی اٹھا لیتا ہے۔ اسکے داڑھ میں متوازی تہہ دار ساختیں پائی جاتی ہیں۔ ان ہاتھیوں کی اونچائی تقریباً 10فٹ تک ہوتی ہے۔ ہاتھی کی گردن چھوٹی ہوتی ہے۔ بصارت کمزور ہوتی ہے ، یہ 60فٹ سے زیادہ فاصلے کی اشیاء کو آسانی سے نہیں دیکھ سکتا،لیکن قوت سامعہ و شامّہ تیز ہوتی ہے جو نظر کے نقص کو پورا کرتی ہے۔ خطرے کے وقت یہ اپنے کان کھڑا کرکے ہوا کی موجوں کے ذریعہ ہلکی آواز بھی سن لیتا ہے اور اپنی سونڈ سے فضا کا جائزہ لیتا ہے۔ اس کی سونڈ میں حساس خلیے پائے جاتے ہیں جو قوت سماعت میں اضافہ کرتے ہیں۔حتیٰ کے ان کے پیروں میں خاص خلیے پائے جاتے ہیں جو زمین پر کی جانے والی ہلکی ی دھمک کو محسوس کرلیتے ہیں۔ اسکی زبان گول اور گرہ دار ہوتی ہے یعنی اس کی زبان کچھ کم طوطے کی زبان کی مانند ہوتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اگر ہاتھی کی زبان سیدھی ہوتی تو وہ انسان کی طرح بات کرسکتا۔ دم پر موٹے بال پائے جاتے ہیں جن سے بعض قبائلی زیورات بناتے ہیں۔ اسکا رنگ سیاہی مائل بھورا ہوتا ہے۔ بعض ہاتھی سفید بھی ہوتے ہیں۔ لیکن یہ انکا اصل رنگ نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی اسی نسل کے ہاتھی ہیں۔ یہرنگ بعض علمائے سائنس کے نزدیک فساد خون کے باعث ان کی جلد میں پیدا ہونے والے دھبے ہیں جو ہاتھی کا وصف اور جوہر بن جاتے ہیں۔ ورنہ درحقیقت یہ عیب ہے۔ زمانہ قدیم میںآسام میں سفید ہاتھی کو بادشاہی کی علامت تصور کیا جاتا تھا۔ تاریخ میں سفید ہاتھی کا تذکرہ قال قال ملتا ہے ہوریسؔ کے مطابق رومۃ الکبری میں، ابن بطوطہؔ کے مطابق کانڈی کے راجہ کے پاس اور تاریخ کامل کے مطابق شہاب الدین غوری کے پاس سفید ہاتھی موجود تھے۔ سفید ہاتھی Albino ہی کی ایک قسم ہے جو تھائی لینڈ میں عقیدت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ اور بطور سپاس گذاری آج بھی تھائی لینڈ کے پرچم پر اسکی تصویربنی ہوئی ہے۔
ہاتھی کے بیشتر اندرونی جسمانی اعضا ابتدائی قسم کے ہوتے ہیں جیسے جگر، شش وغیرہ لیکن اسکی کھوپڑی مخصوص قسم کی ہوتی ہے۔ اسکا دماغ بڑا اور تہہ دار ساختیں رکھتا ہے جو ذہانت کی نشانی ہے۔ ہاتھی رات کو اپنی غذا تلاش کرتا ہے اور کھاتا ہے۔ بعض اوقات یہ صبح کی اولین ساعتوں میں بھی یہ شغل جاری رکھتا دکھائی دیتا ہے۔ عموماً گرما کے زمانے میں دن کے اوقات آرام کرتا ہے اور ایستادہ حالت میں اپنے Tuskکے سہارے 3تا4گھنٹے سو جاتا ہے۔ جو گہری نیند نہیں ہوتی بلکہ اونگھ سے مشابہہ حالت ہوتی ہے لیکن کم عمر ہاتھی زمین پر بھی سوجاتے ہیں۔ ہاتھی کے تعلق سے مشہور ہے کہ وہ فطری موت نہیں مرتا کیونکہ شکاریوں کو کبھی انکی سڑی گلی لاش جنگل میں دکھائی نہیں دی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہاتھی مرنے سے پہلے انکے قبرستان پہنچ جاتا ہے اور دلدلی علاقے میں چپ چاپ مرجاتا ہے۔ ہاتھیوں میں مدت حمل 18 تا22مہینے ہوتا ہے۔ مادہ ہاتھی ایک جھول میں صرف ایک ہی بچہ دیتی ہے اور شاذ و نادر ہی بیک وقت دو بچوں کو جنم دیتی ہے۔ بچے کی پیدائش سے قبل غول کے دوسرے مادہ ہاتھی اسکو گھیر لیتے ہیں اور وضع حمل تک اسکے ساتھ رہتے ہیں۔ مادہ ہاتھی پانی میں یا پتوں کے نرم بستر پر بچہ دیتی ہے۔ نومولود عموماً 3 تا 4 فٹ اونچا اور 100کیلو سے زیادہ وزنی ہوتا ہے۔ اس پر مٹیالے رنگ کے بالوں کی پرت پائی جاتی ہے جو بعد میں غائب ہوجاتی ہے بچہ اندرون سہ یوم چلنے لگتا ہے۔ تب تک مادہ ہاتھی اسکو اپنے نمائشی دانتوں پر لئے رہتی ہے۔ ماں اسوقت تک اسکی نگہداشت کرتی ہے جب تک کہ وہ ازخود اپنی غذا کھانے کے قابل نہیں ہوجاتا یہ زمانہ عموماً 4یا5 سال کے عرصہ پر محیط ہوتا ہے۔ ہاتھی کا بچہ ماں کا دودھ منہ سے پیتا ہے سونڈ سے نہیں۔ جیسا کہ زمانہ قدیم میں خیال کیا جاتا تھا۔ کانگو اور افریقہ کے دوسرے علاقوں میں ہاتھی کو جلد، ہڈیوں اور گوشت کی وجہ سے شکار کیا جاتا ہے۔ جبکہ ہندوستان میں اسکو سدھانے کی طرف زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ یہ نہ صرف کام کاج میں انسان کی مدد کرتا ہے بلکہ اسکا استعمال زمانہ قدیم میں جنگوں میں بھی کثرت سے ہوا کرتا تھا۔ فوج میں آج کل انکے مقام پر ٹینک ہواکرتے ہیں اسی لئے ہم آج کے دور میں ہاتھیوں کو زندہ دبابے (Living Tanks) کہہ سکتے ہیں۔ جہاں تاریخ میں کچھ جنگیں ہاتھیوں کے ذریعہ لڑی گئی ہیں وہیں کچھ جنگیں ہاتھیوں کیلئے خصوصاً سفید ہاتھی کیلئے بھی لڑی گئی ہیں کہ انکی قیمت چھوٹی سلطنتوں کے گمان سے باہر ہوتی تھی ۔ سفید ہاتھی کی اپنے ملک میں موجودگی کو خوش بختی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ہماری قوت اور امارت کے دور میں ہم ہاتھی کااستقبال کرسکتے ہیں لیکن جب ہاتھی ’’باقوت‘‘ ہوجاتا ہے تو اسکا استقبال ممکن نہیں رہتا۔ دنیا کے بیشتر ملکوں میں ہاتھیوں کے باعث جنگوں میں فتح حاصل ہوئی ہے اور بعض مرتبہ انکی موجودگی کے باعث شکست بھی اٹھانی پڑی ہے۔ جنگوں میں استعمال ہونے والے ہاتھی کو زیورات سے آراستہ کیا جاتا تھا کہ جنگی اسلحہ اس پر کارگر نہ ہوں۔ Hannibalکی فوج میں ہاتھی شامل تھے شام کے بادشاہ Antiochusاور Epirusکے راجہ Pyrrhusہاتھی کی قوت کو استعمال کرکے جنگوں میں فتح پاتے۔ لیکن جنگوں میں ہاتھی کا سحر دیر تک برقرار نہ رہ سکا کیونکہ فوجیوں نے انہیں ہلاک کرنے کے لئے ہاتھی کے جسم کے کمزور حصے تلاش کر نکالے۔ جیسے کان اور آنکھ کا درمیانی حصہ جہاں کھوپڑی کی ہڈی نرم اور باریک ہوتی ہے۔ علاوہ اسکے اکثر اوقات ہاتھی خود بے قابو ہوکر اپنی ہی فوج کو روند ڈالتے۔ جسکی وجہ فتح بھی شکست میں تبدیل ہوجاتی۔ Pyrrhusنے ایک جنگ صرف ہاتھیوں کی وجہ سے ہاری تھی۔ ہندوستان میں بابرؔ کی فتح کا راز بھی مقابل فوج کے ہاتھیوں کا اپنی ہی فوج کو روندنا تھا۔ رومی قوم ہاتھی کو دوسرے جانوروں سے لڑا کر تماشا دیکھا کرتی تھی۔ یونانیؔ اور جرمنؔ حکمراں ہاتھی کو بطور تحفہ دوسرے حکمرانوں کو پیش کیا کرتے۔ روسؔ میں پہلی بار ہاتھی اہل فارس نے بطور تحفہ وقت کے حکمراں کو بھجوایا تھا جسکو عوام بڑے ذوق و شوق سے دیکھنے کے لئے
جمع ہوا کرتے۔
آج ہاتھیوں کی تعداد میں دن بدن کمی ہوتی جارہی ہے زمانے نے بہت ترقی کرلی ہے لیکن اس کے باوجود ہاتھی آج کے مشینی دور میں بھی انسان کی خدمت میں جٹا ہوا ہے بالکل اسی طرح جس طرح وہ صدیوں سے انسان کی خدمت کرتا آرہا ہے۔ اسی لیے ہاتھیوں کو پالتو بنانے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے جو نہایت دلچسپ ہوتا ہے۔ اس طریقۂ عمل میں سدھائے ہوئے ہاتھیوں کی مدد سے انسان رسیوں اور زنجیروں سے وحشی ہاتھی کو جکڑ کر بھوکا رکھتا ہے۔ اور بھوک سے نڈھال ہاتھی کی جب ایک مہاوت خدمت کرتا ہے تو وہ ہاتھی اس مہاوت سے اسقدر ہل مل جاتا ہے کہ اسکے ہر اشارے پر ناچنے لگتا ہے۔ ہندوستان میں ہاتھیوں کی تربیت کیلئے کئی اسکولقائم ہیں تاکہ انکو لکڑی کاٹنے کی مشینوں میں لکڑی اٹھانے پرمامور کیا جاسکے۔ ہاتھی سدھا نے کے بعد اسقدر وفادار و اطاعت گذار بن جاتا ہے کہ کارخانوں میں سیٹی کی آواز پر اپنے مقررہ کام پر چلا جاتا ہے اور چھٹی کی آواز تک کام کرتا رہتا ہے ۔ہاتھی نہایت وفادار جاندار ہے سائنسدانوں کے نزدیک ہاتھی کی یہ وفاداری ابھی تک ناقابلِ فہم ہے کہ سدھایا ہوا ہاتھی کبھی اپنے متعلقہ غول سے مل جائے جہاں غذا اور پانی کی وافر مقدار پائی جاتی ہے تب بھی وہ اپنے مالک کے پاس واپس آجاتا ہے حالانکہ ہاتھی کے اس گلّے میں اسکے خونی رشتہ دار موجود ہوتے ہیں۔ ماہرین حیوانات بتاتے ہیں کہ جانور بھی انسان سے محبت کرتا ہے اور جانور کی اس محبت کا سلسلہ اسوقت تک دراز ہوتا ہے جب تک کہ انسان کا طرز عمل اعتدال پر ہو۔ لیکن جب انسان کا طرز عمل اور برتاؤ بدل جاتا ہے تو وہ انسان کی محبت کو فراموش کردیتا ہے۔ اسی لیے رسول خداؐ نے جانوروں کو سفر کے دوران بھی سہولت فراہم کرنے کی تلقین فرمائی ہے اور جانوروں کے منہ پر مارنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ نہ صرف انسان بلکہ جانوروں کی بھی فطرت ہوتی ہے کہ وہ چہرے کی ضرب کو ذلّت سمجھتے ہیں۔ایک جہاں دیدہ شخص نے اپنے چشم دید واقعہ میں بتایا ہے کہ ایک
ہاتھی نے اپنے مہاوت کو محض اس لیے پیر سے کچل ڈالاکہ اس نے ہاتھی کے منہ پر مارا تھا ۔
* * *

Dr. Aziz Ahmed Ursi
Dr Azeez Ahmed Ursi, ہاتھی