دکنی غزل کا ارتقاء :- محمد منہاج الدین

محمد منہاج الدین

دکنی غزل کا ارتقاء
(عہد بہمنی تا سقوط دکن)

محمد منہاج الدین
ریسرچ سکالر،
سوامی رامانند تیرتھ مراٹھواڑہ یونیورسٹی، ناندیڑ

اُردو میں غزل کی ابتدا ء کا سہرا حضرت امیر خسرو کے سر باندھا جاتا ہے۔ اس کے بعد دکنی شاعروں نے اس صنف میں طبع آزمائی کی اور غزل کی روایت کو نہ صرف آگے بڑھایا بلکہ اعتبار بخشا۔اُردو غزل امیر خسرو تا عصرِحاضر تک چھ صدیوں سے زائد عرصہ کا فاصلہ طے کرچکی ہے جس کی وجہ سے فکر و طرز میں تبدیلیاں رونماں ہوئیں۔

چنانچہ دکنی شاعروں نے غزل کو فارسی روایت سے حاصل کیا۔مگر دکنی غزل کا مطالعہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ غزل کے فن کو تو انہوں فارسی زدہ رکھا مگر فکر کے اعتبار سے زیادہ تر مقامی رنگ و آہنگ کو اپنایا ۔دکنی غز ل کے فکر فن سے بھی یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ دکنی غزل گو دکنی معاشرت سے اپنی غزل کی دنیا بسائی ہے۔ دکنی غزل میں محبوب کا تصور ہندوی روایت کے مطابق ہے۔دکنی شاعری میں حُسن کی سچی تصویر کشی اور عشقِ حقیقی جذبات کا اظہار ہوا ہے۔عشق کے علاوہ دکنی شعراء نے تصوف اور اخلاق کے مضامین بھی باندھے۔ دکنی غزل میں سادگی روانی او ر بے ساختگی بھی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ دکن کے غزل گو شعراء فنی نزاکتوں سے بھی کام لیا ہے ۔دکنی شاعروں نے مسلسل غزل کی بنیاد ڈالی جو بعد کے دور کی شاعری میں نظر نہیں آتی ہے۔قدیم دکنی غزل میں فیروزی، مشتاق اور لطفی وغیرہ کے نام شامل ہیں جنہوں نے صنف غزل میں طبع آزمائی کرتے ہوئے غزلیہ شاعری کو مقبول بنایا :
کہیا ہے توں یو شعر ایسا سرس
کہ پڑنے کوں عالم کرے سب ہوس
(فیروزی)
تج کیس گھنگر و والے بادل پیٹیاں میں کالے
نج مانگ کے اجالے بجلیاں اٹھیاں گگن میں
او کسوت کیسری کرتن چمن میانے چلی ہے آ
رہے کھلنے کوں تیوں دستی او چپنے کی کلی ہے آ
تج نین کی پیالی سوں مگر زلف پیامد
ہے رخ کے اوپر لوت پتاں آتے ہوجاتے
(مشتاق)
خلوت منے سجن کی میں قوم کی بتی ہوں
یک پاوں پر کھڑی ہوں جلنے پرت پتی ہوں
رسیا چتر رسیلے بھوگی سو شاہ محمد
مندر منے سجن کے نس جاگتی رھتی ہوں
لطفی ترے جلن کی پاکی کہاں ہے اس میں
جیوں پانچ پانڈواں کی کہتے سودھر پتی ہوں
(لطفی)
مشتاقیؔ اور لطفیؔ کے بعد دکنی کے چند اور قدیم شاعروں کی غزلیں دستیاب ہوئی ہیں جن میں قریشی بیدری، حافظ دکنی ، جعفر گستاخ اور فدائی کے نام قابلِ ذکر ہیں:
شھی منجے مبارک ہور حسن لایزالی
منج کو اچھوں گدائی ہور عشق لایزالی
(حافظ دکنی)
رہو تل تل خدا سوں مل نکو باندو کسی سوں دل
کرو جعفر سوں یوں حاصل ابھی کچ کام آنا ہے
(جعفر)
چمن میں عیش کے یاراں اول دانا ہوا پیدا
کہ اس دانے کے کھانے کوں سو میں دانا ہوا پیدا
(فدائی)
سکی تج بن کہ جوں باؤ بگولا ہر کدر پھرتا
جو لیلیٰ بن کے جوں مجنوں دیوانہ ہر کدر پھرتا
(قریشی)
دکنی کے اس ابتدائی دور میں مشتاق اور لطفی کی غزل کو اعتبار حاصل ہے محمد علی اثر نے بھی ان کو اس دور کے نمایاں غزل گو کہا ہے۔ان کے مطابق اس عہد میں مشتاق اور لطفی کے نام اہم ہیں جن کا کلام دکنی غزل کے ابتدائی نمونوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انھوں نے فکر و تخیل کو خوش بیانی سے سے بیان کیا ہے کہ زبان کی کم مائگی کا احسا س تک نہیں ہوتا۔ تشبیہات و استعارات کا استعمال اور کلام میں سادگی اور حقیقت پسندی کا عنصر بھی ان کو نمائندہ غزل گو بناتا ہے۔
بہمنی دور کے بعد قطب شاہی اور عادل شاہی دور میں بھی مثنوی کو مقبولیت حاصل رہی مگر مثنوی کے ساتھ ساتھ غزل بھی اپنے وجود کو منواتی رہی اور اس کا ارتقاء عمل میں آتا رہا ۔ دبستانِ گولکنڈہ کے اہم شعرا میں محمد قلی قطب شاہ ، وجہی، غواصی، ابن نشاطی وغیرہ رہے ہیں ۔ملا خیالی، فیروز ، شیخ محمد گجراتی اور حسن شوقی اور دیگر شاعروں کے یہاں بھی غزل اپنی آپ و تاب کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے :
یوسفِ گم گشتہ پھر آگابہ کنعاں غم نہ تھا
گھر تیرا اُمید کا ہوگا گلستاں غم نہ کھا
ساقیا شرابِ ناب کہاں
چند کے پیالے میں آفتاب کہاں
( قلی قطب شاہ)
نین دو مت چنچل کے اچھیں بچ مکھ نرمل کے
کنول پُر بند جیوں جل کے ستو رہ باو سوں پلنے
تج باس سوں ماتے ہمیں پھر کیف کھانا کیا سبب
تن من جلا جوگی ہوے پھر راک لانا کیا سبب
(وجہی )
رنگ بھر یا منج گھر میں آج آیا بسنت
غیب تجھے تازا طرب لیا بسنت
اے دل آرام میں جدھر جاوں
دل کوں تیریچ پاس دھر جاوں
(غواصی )
تج کیس گھنگرووالے بادل پٹیاں ہے کالے
تس مانگ کے اجالے بجلیاں اٹھیاں لگن ہیں
ملا خیالیؔ
نین کے یادوں کر جاوں جب گھر ہلا دے صبح
نہ جاگو گی قیامت لگ اگر گل لگ سلاولے صبح
(حسن شوقیؔ )
گولکنڈہ کا غزلیہ دور ایک اہم اور روشن باب ہے۔اردو کے اولین صاحب دیوان قلی قطب شاہ کے علاوہ غواصی،وجہی ،ابن نشاطی، ملا خیالی ، حسن شوقی وغیرہ اس دور کے سربر آور غزل گو رہے ہیں جنہوں نے غزل کو فکری و فنی سطح پر اعتبار دلایا۔
عادل شاہی حکومت میں شاہ برہان الدین جانم ، سیّد شہباز حسینی ، خواجہ محمد دہدار فانی نے بھی غزل کے جلوے بکھیرے۔ نصرتی ، ہاشمی، ، شاہ سلطان ، ملک خونشود وغیرہ نے بھی دکنی غزل کو کی روایت کو آگے بڑھایا
مریداں اتھے شاہ کے بے شمار
فقیراں اتھے شاہ کے کئی ہزار
(جانم)
سوتے ندیوں خلق کوں شہباز نسدن روئے کر
سونی سنے پر کوں میری مت کوئی دیکھے سوے کر
(شہباز حسینی)
ہشیار ا رچ سنبھال خدا کے تو در منے
کی دل عبث بندا ہے ایتا مال زر منے
(خواجہ محمد دہدار فانی)
چلیا تیرا ایسا کماں تے سلک
پون کوں فکر پر لگے ہے تلک
(شاہی)
مانی جو تجہ چنچل پن ٹک اے پری لکھے گا
بہتے پون کے جل پر صورت گری لکھے گا
(نصرتی)
نیں گنے پر میں اوڑی نیءں نوی جھلکاٹ کی چادر
پھٹی ہوئی اوڑنی جو میں پرانی پاٹ کی چادر
(ہاشمی)
عادل شاہی دور کی غزل میں طرز بیان کی سادگی، بے ساختگی ، روانی، موسیقیت، ترنم ریزی نمایاں نظر آتی ہے اس کے علاوہ صنائع کا تخلیقی استعمال دبستان بیجاپور نے بھی خوب کیاہے۔
سقوط دکن کے بعد ولی اور سراج نے قدیم دکنی کی روایت کے ساتھ ساتھ فارسی کی شعری روایت کو اپنایا۔دراصل فارسی کی روایت کے پیچھے ولی دکنی کے پیر و مشد سعد اللہ گلشن کی تربیت بھی ہے،لہذا ولی کی شاعری زیادہ ترفارسی لہجہ اور لفظیات سے متص ہم آہنگ نظر آتی ہے۔اس دور کے دیگر اہم غزل گو میں داؤد اور بحری کے نام بھی اہم ہیں جنہوں نے دکنی شاعری کی روایت کو آگے بڑھایا۔دکنی دور کا آخری بڑا غزل گو سراج ہے جنہوں نے ولی کی روایت کو آگے بڑھایا اور غزل کو تغزل اور تصوف سے متصف بھی کیا۔
تج چال کی قیمت سوں دل ہے مرا واقف
اے مان بھری چنچل رُک بھاؤ بتاتی جا
عیاں ہے ہر طرف عالم میں حُسن بے حجاب اُس کا
بغیر ازدیدۂ حیراں نہیں جگ میں نقاب اُس کا
عیا ں ہر طرف عالم میں حسن بے حجاب اس کا
بغیر از دیدۂ حیراں نہیں جگ میں نقاب اس کا
(ولی)
دیکھ ناسک تجھے سوں جسکی جلائے
گل کے دل داغ شمع پر گل ہے
غم سوں یرے پرروتا ہے بحری یوں مدام
گرمر یگا تو نہ پڑسی کام کچہ غال کا
(بحری)
خبر تحیر عشق سُن نہ جنوں رہا نہ پری رہی
نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی
دورنگی خوب نہیں یک رنگ ہوجا
سراپا موم ہویا سنگ ہوجا
(سراج)
اس طرح ولیؔ اور سراج ؔ کا دور دکنی غزل کا اہم دور ہے جہاں سے اردو غزل نے اپنا سفر شروع کیا جس میں لسانی، فنی لحاظ سے نکھار پیدا ہورہا تھا اور اردو شاعری جدید رجحانات سے متصف ہورہی تھی ۔ ولی ؔ نے یوں کیا کہ دکنی ادبی روایت کو فارسی روایت کے قالب میں ڈھالا ۔ اس طرح ولیؔ نے شمالی ہند کی تخلیقی حس کو بھی برقرار رکھا اور اُردو میں فارسی روایت کو بھی لسانی اور فنی اعتبار سے فروغ دیا ۔ اس کے علاوہ صوفیانہ ،نیز روحانیت ، داخلی جذ بات و احساسات اور وارداتِ قلبیہ کے اظہار کا ذریعہ بھی بناتے ہوئے اردو شاعری کو اعتبار کی منزلوں پر پہنچادیا۔ ولیؔ اور ان کے معاصرین کا دور ،اردو دکنی غزل کا زرین دور ہے ۔بقول وقارخلیل؛
’’کلاسیکی دکنی کو اپنے سنہرے دور میں سرزمین دکن کی علاقائی زبانوں سے سابقہ پڑا دکنی نے ان زبانوں پر اپنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں اور کسی نہ کسی حد تک خود بھی ان کا اثر قبول کیا ہے۔ بہمنی عادل شاہی قطب شاہی اور مغل حکمرانوں نے اپنے قوت عمل اور فکری توانائی کی بدولت رشتہ رفاقت کو پروان چڑھایا اور وسیع تراتحاد کے لیے دکنی اردو کا پودا لگایا۔‘‘
غرض دکنی غزل کا تاریخی جائزہ اس بات کا متقاضی ہے کہ دکن میں مثنوی کی ترقی کے باوجود غزل کی مقبولیت بھی برقرار رہی۔ولی کے بعد دکنی غزل جب شمالی ہند پہنچی تو نئے لب و لہجہ اور فارسی آمیز الفاظ کے ساتھ تر و تازہ ہوئی۔