نسوانی تنقید ( FEMINIST CRITICISM)۔ ۔ ۔ ۔ رافد اُویس بھٹ

نسوانی ۔ رافد اُویس بھٹ
رافد اُویس بھٹ

نسوانی تنقید ( FEMINIST CRITICISM)

رافد اُویس بھٹ
ریسرچ اسکالر، یونی ورسٹی آف حیدرآباد
گچی باولی ‘ حیدرآباد ۔ دکن


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ عورت طبقہ پر ہمیشہ مرد طبقہ کی بالادستی رہی ہے اور عورت کو مرد سے کم تر تصورکیا گیا ہے۔ہوسکتا ہے کہ عورت پہ بالا دستی جنسی تعصبات کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے۔کیو نکہ عورت کو صنف نازک متصورکر کے ’’نازک دلی‘‘’’رقیق القلبی‘‘اور’’شرم وحیا‘‘جیسی خصوصیات کا لیبل لگا کے ہمیشہ مردانہ اقتدار اور مردانہ طاقت عورت طبقہ پر غالب رہی ہے۔عورتوں کو مر د کے مقابلے میں ایک کمتر مخلوق تصور کیا گیا ہے اور اس وجہ سے ہمیشہ ’’مادرانہ نظام‘‘ کے مقابلے میں’’ پدرانہ نظام‘‘ غالب رہا ہے اور نتیجتاًعورت کے بارے میں جو تصورات،مفروضات اور نظریات پیش کئے گئے ہیں وہ سب مردوں کے متعین کردہ ہیں اور عورت ثقافتی،جنسی اور صنفی تعصبات کا شکار ہوکر ثانوی جنس متصورہوئی۔

تانیثیت اس جنسی تعصب کو ختم کردینا چاہتی ہے اور مردوں کی فکری اور نظری جہات کووسعت دینے پر زور دیتی ہے اور مرد طبقہ نے جو ذہنی،جذباتی،طبقاتی اور جنسی تعصبات قائم کرکے عورت طبقہ پر برتری حاصل کی،اُس سے تانیثیت آزادی چاہتی ہے۔Gender and religion encyclopedia of Sociology میں تانیثیت کی تعریف یوں کی گئی ہے:
” Feminism: a movement that attempts to institute Social,Economic and Political equality between men and women in sociely and distortion in the relationship between men and women.”1
تانیثی تحریک کا آغازانقلاب روس کے ساتھ ہی ہوا ہے۔اس سلسلے میں میری وِلسٹن کرافٹ Mary Wollstone Craft نے ایڈ منڈبرک کی کتاب A vindication of the Rights of man کے جواب میں ۱۷۹۰ء کے آس پاس A vindication of the Rights of womenلکھی جس نے عورتوں کے ’’شعور ذات‘‘اور ’’عزت نفس‘‘کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اُس دور کے کئی ایسے تانیثی مفکر بھی دوسری جانب عورتوں کی سیاسی اور معاشی حالات کو سُدھارنے کے لئے کوشاں تھے جن میں جان اسٹورمل(John Staur Mill)مار گریٹ فلر(Margaret Fuller) وغیرہ اہمیت کے حامل ہیں۔لیکن سیمون دی بوار Simon De Beavoir))نے تانیثیت کو نئے تناظر اور نئے تفکیری پہلوؤں سے آشناکرکے "The Nature of Selonoser” نام کی کتاب لکھی۔اس کے علاوہ ۱۹۷۹ء میں کیٹ مِللِٹ(Kate Millett)نے ’’Sexual Politics‘‘لکھ کر تانیثیت کو مزید تقویت پہنچائی۔لیکن تانیثیت کو مابعد جدید دور میں ایک تھیوری کے طور پر آگے بڑھانے والوں میں جولیا کرسٹیوا کانام اہم ہے۔
جہاں تک تانیثی تنقید کا سوال ہے اس کے دو مدارج میں اول یہ کہ عورتوں نے جو متون خلق کئے ہیں اُن کا مطالعہ کرکے اُنھیں وہ اہمیت اور حیثیت عطاکردینا جس کی وہ مستحق ہیں۔کیو نکہ مرد طبقہ نے عورت کو ثانوی جنس کا درجہ دے کر اُن کی تخلیقات کے ساتھ بھی نارواسلوک کیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ عورتوں کے بنائے ہوئے متون کا مطالعہ مردوں کے ہی بنائے ہوئے اصول اور شعریات کی بنیاد پر ہوا۔دوسرا درجہ یہ ہے کہ مردوں کے بنائے ہوئے متون کا مطالعہ کیا جائے اور عورتوں کے تئیں مردوں کے تصورات،مفروضات اور تعصبات کو جانچا جائے تاکہ یہ حقیقت سامنے آجائے کہ وہ کس حد تک عورتوں کے خود اپنے نقطہ نظر سے صحیح ہیں۔
تانیثیت کے بارے میں گوپی چند نارنگ یوں لکھتے ہیں:
’’تانیثیت ،تاریخی،ادبی اور ثقافتی متون کی ازسرنو تشریح وتعبیر کرکے عورت کو نہ صرف اس کا صحیح مقام دلانا چاہتی ہے بلکہ وہ گذشتہ اورموجودہ متون میں عورت کے نقطہ نظر کے اظہار کی کمی کی تلافی بھی کرنا چاہتی ہے۔‘‘؂۱
تانیثی تنقید خلق شدہ متون میں اُن پوشید ہ عناصر کی بازیافت چاہتی ہے جو عورت کے ثقافتی اور جنسی تصور میں رخنہ ڈالتے ہیں اور عورت اور مرد کے درمیان ایک پُل باندھنے کا کام کرتے ہیں۔یعنی تانیثی تنقید عورتوں کی تحریروں کواُن تمام تصورات،اصول وقوانین اور تہذیبی وثقافتی اور جنسی بیڑیوں سے آزاد کرانا چاہتی ہے جو مرد تخلیق کاروں نے انھیں برسوں پہلے پہنائی ہیں۔سینڈرا گلبرٹ(Sandra Gilbert)تانیثی تنقید کی وضاحت کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
"…Feminist Criticism wants to decode and demystify all the disguised question and answers that have always shadowed the Commection between textuality and sexuality,genre and gender,Psychosexual identify and Cultural authority” 2
تانیثی تنقید دراصل ’’نظرثانی ‘‘ پر ایقان رکھتی ہے اور پوری تاریخ اور ثقافت پر نظر ثانی کر کے متن کی نئی تشریح و تعبیر چاہتی ہے بلکہ وہ مرددوں کے بنائے ہوئے اصول وضوابط کو چیلنج بھی کرتی ہے۔تانیثی تنقید کا سب سے اہم اعتراض یہ ہے کہ مردوں نے ادبی متن کی تعمیر وتعبیر کو ایک ایسا کارنامہ تصور کیا ہے جو صرف مرد انجام دے سکتے ہیں۔اسی پر تانیثی تنقید سوالیہ نشان لگا کے پوری ادبی تاریخ اور موجودہ متون کی بازیافت چاہتی ہے اور اُس اسٹیریو ٹا ئپڈ کردار سے آزادی چاہتی ہے جو مردوں نے اپنے تصورات اور نظریات سے قائم کیا ہے۔تانیثیت عورت کو ایک اپنا وجود،اپنا اسم،اپنی آواز،اپنی لغت،اپنی خودداری اور اپنی پہچان دینا چاہتی ہے۔
تانیثی تنقید اسی مفروضے کے تعاقب میں موجودہ متون میں عورتوں کے تئیں وضع کردہ مفروضات اور تصورات کو جانچنے اور پرکھنے کے بعد یہ دیکھتی ہے کہ آیا وہ مفروضات اور تصورات عورتوں کے خود تمثال Self image سے کس حد تک ہم آہنگ ہیں۔
مذکورہ بالا تنقیدی نظریات کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اردو ادب میں یہ نظریات مغرب کے زیرِ اثر وجود میں آئے ہیں مگر اردو ناقدین نے ان نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے اردو ادب کو جانچا ہے۔
اردو کے یہ تمام نظریات مثلاً: جمالیات، تاثرات، نفسیات ہو یا مارکسی نظریہ، ساختیات ہو یا اسلوبیات ،پس ساختیات ہو یا قاری اساس تنقید ،غرض تمام نظریات کو اردو ناقدین نے بھی برت کر اردو ادب کے سرمایہ میں گراں قدر اضافے کیے ہیں۔
عصرِ حاضر میں مابعد جدید تنقیدی نظریات کے زیرِ اثر فن پاروں کاجانچااور پرکھا جا رہا ہے لیکن مابعد جدیدیت میں کوئی ایک نظریہ اہمیت نہیں رکھتا ہے بلکہ کئی نظریات بیک وقت نظر آتے ہیں ۔لیکن نقاد مزاج کے اعتبار سے ان رجحانات کا انتخاب کرتا ہے اور ان کے تحت ادب پاروں کو جانچتا اور پرکھتا ہے۔
غرض عصرِحاضر کے تقریباًتمام ناقدینِ اردو ان نظریات سے نہ صر ف بخوبی واقف ہیں بلکہ وہ کسی ایک ادبی روئیے سے وابستہ ہو کر ادب پاروں کو جانچتے اور پرکھتے ہیں۔ ناقد نہ صرف نظریاتی طور پر اس سے وابستہ ہوتا ہے بلکہ فن پاروں کو پرکھتے وقت عملی طور پر اس کا اطلاق بھی کرتا ہے۔
***
۱؂ Gender and Religion Encyclopedia of Socio logy (vi) D.5561
۲؂ جدیدیت کے بعد،ص ۲۱۶
۲؂ Modern Criticism and theory p.334 بحوالہ شعر وحکمت،کتاب چھ،دور سوم،مرتبین:شہر یار، مغنی تبسم،مارچ۲۰۰۴ء،ص۶۶

↓