کیرالا آفت سماوی ۔اسباب‘مسائل اور حل :- ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی


کیرالا آفت سماوی ۔اسباب‘مسائل اور حل

ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

کیرالا سیلاب قومی المیہ بن گیا ہے۔ اب تک اس سیلاب سے 350سے زائد افراد کی جانیں گئی ہیں۔سیلاب کی وجہہ سے 10لاکھ ہیکٹر اراضی پر کھڑی فصلیں برباد ہوئی ہیں۔ اور ریاست اور اس کی عوام کو 20ہزار کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔اس سیلاب نے انسانوں اور املاک میں کوئی تفریق نہیں کی۔لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔

کئی افراد گردن تک پانی میں ڈوبے مدد کو تڑپتے رہے۔بھاری مقدار میں زمین کھسکنے کے واقعات سے کئی مکانات زمین بوس ہوگئے۔سڑکیں ٹوٹ گئیں اور مجموعی طور پر کیرالا کی زندگی درہم برہم ہوگئی۔کیرالامیں اس قدر شدت کا سیلاب 1924میں آیا تھا جب شدید مانسونی بارش کے سبب 3,368ملی میٹر بارش ہوئی تھی۔اس وقت ایک ہزار سے زائد افراد کی جانی گئی تھیں اور شدید مالی نقصان ہوا تھا۔ابھی مانسون کا آغاز ہوا ہے اور ریاست میں اب تک2,086ملی میٹر بارش ہوچکی ہے جو اوسط سے30%زیادہ ہے اور ستمبر اور اکتوبر کے مہینے باقی ہیں جب ہوا کے کم دباؤ کے سبب اکثر طوفانی بارشیں ہوتی رہتی ہیں۔جنوبی ہند میں مانسون کا آغاز کیرالا سے ہی ہوتا ہے اور ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اس طرح کی سیلابی صورتحال کے پس پردہ بھاری مقدار میں انسانوں کی ماحول کے اندر بے جا مداخلت ہے۔اس بارش کے سبب ریاست میں موجود39میں سے 35ڈیموں کے دروازے کھول دینے پڑے تھے اور تیز رفتار ی سے زیادہ پانی کا بہاؤ سے ہی سیلابی صورتحال واقع ہوئی تھی۔پانی کی آمد سے لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے اور وہاں بھی زمین کھسکنے کے واقعات سے لوگوں کو پناہ لینے یا جان بچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔علاقے میں زیاد ہ بارش کے سبب بھی پڑوسی ریاستوں نے بھی اپنے ڈیموں کے دروازے کھول دئے تھے جس کے سبب بھی نچلے علاقوں میں پانی کا بہاؤ زیادہ ہوگیا ۔کیرالا اور ملک کے دیگر چار علاقوں میں اس سال زیادہ بارش کی پیشن گوئی کی گئی تھی۔محکمہ موسمیات کے اعداد شمار واضح کرتے ہیں کہ ریاست میں اہم بارش کے مقامات پر 9سے 15اگسٹ کے درمیان 255%زیادہ بارش ہوئی ہے۔2011ء میں ماحولیاتی مطالعے کے قائم کردہ گیڈگل کمیٹی نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ کیرالا کے مغربی گھاٹ اور اس سے متصلہ زمینی علاقے ماحولیاتی طور پر خطرناک ہیں۔س وقت کے ماحولیاتی وزیر جے رام رمیش نے یہ کمیٹی قائم کی تھی تاکہ مغربی گھاٹ سے متعلق جغرافیائی عوامل کا مطالعہ کیا جاسکے۔اس کمیٹی نے مغربی گھاٹ کی1500کلومیٹر کی پٹی کو ماحول کے اعتبار سے حساس علاقہ قرار دیا تھا۔انہوں نے کیرالا میں ہی خطرے کا سامنا کرنے والے کئی علاقوں کی نشاندہی کی تھی اور اس کے لیے کئی وجوہات بیان کی تھیں۔انہوں نے سفارشات کی تھیں کہ علاقے میں مصنوعی کاشت پر پابندی عائد کی جائے۔تین سال کے اندر پلاسٹک کی تھیلیوں کے استعمال کو بند کردیا جائے۔سرکاری اراضی کو خانگی اراضی میں بدلنے اور جنگلاتی علاقے کے رخ کو موڑنے پر پابندی عائد کی جائے۔حساس علاقوں میں کان کنی کی اجازت نہ دی جائے۔ ان علاقوں میں کوئلے سے بجلی بنانے کے پراجکٹوں کی منظور ی نہ دی جائے۔نئی ریلوے لائن نہ بچھائی جائے ۔سیاحت پر سخت قوانین لاگو کئے جائیں۔حساس علاقوں میں زراعت میں مرحلہ وار جراثیم کش ادویات کا استعمال بند کیا جائے۔لیکن تعجب کی بات ہے کہ مغربی گھاٹ سے متصلہ ریاستوں اور خود کیرالا نے گیڈگل کمیٹی کی بعض سفارشات کو قبول نہیں کیا۔ اور کوئلے سے بننے والے بجلی گھروں پر پابندی اور کان کنی پر پابندی کو قبول نہیں کیا۔کچھ جغرافیائی وجوہات تھیں کہ مغربی گھاٹ کے سبب وہاں مانسون کی سرگرمی زیادہ ہوگی اور معمول سے زیادہ بارش ہوگی۔ کیرالا میں سیلاب کی دیگر وجواہات میں غیر قانونی کان کنی‘جنگل کا غیر قانونی استعمال اور بلند عمارتوں کی تعمیر بھی ہے۔ کہاجاتا ہے کہ لینڈ مافیا نے نرم زمین پر بلند و بالا عمارتیں تعمیر کردیں۔ پانی کے بہاؤ کے راستوں میں پکنک رسورٹس تعمیر کردیئے۔جنگلات کا غیر قانونی کٹاؤ اور غیر قانونی ریت کی بھاری نکاسی یہ وہ وجوہات ہیں جن کے لیے انسان ذمہ دار ہے ماحول نہیں۔جس نے کیرالاکو سیلاب سے دوچار کردیا۔دریاؤں کے راستے میں غیر قانونی تعمیرات کان کنی کے لیے کھدائی یہ ایسے انسانی کام ہیں جس نے اس آفت سماوی کو اس قدر بڑے پیمانے کی تباہی کی دعوت دی۔پروفیسر گیڈگل کا کہنا ہے کہ علاقے میں کی جانے والی غیر قانونی کان کنی اور جنگلات کے کٹاؤ کے سبب ہم نے اس سیلاب میں بڑی مقدار میں زمین کھسکنے کے واقعات دیکھے جس کے سبب بھی تباہی میں اضافہ ہوا ہے۔اس سیلاب میں کوچی کا علاقہ ارنا کلم اور دریائے پیریار کا علاقہ شدت سے متاثر رہا۔جس مین اڈاملیار ڈیم کا پانی چھوڑا گیا تھا۔ڈیموں کی حفاظت کے ماہر این ششی دھرن کا کہنا ہے کہ اڈاملیار ڈیم کی کل گنجائش169فیٹ تک پانی پہونچنے کے بعد ہی ڈیم کے دروانے کھولے گئے۔اگر یہ دروازے کچھ پہلے کھولے جاتے تو لوگوں کے بھاری مقدار میں انخلاء کو روکا جاسکتا تھا۔۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکام نے ڈیموں کے سبھی دروازے کھول کر بھاری غلطی کی جس کے سبب سیلاب کی صورتحال پیش آئی۔ پہلے سے منصوبہ بندی کی جاتی توسیلاب کی صورتحال پیدا نہیں ہوتی۔یہ آفت سماوی کے انتظامیہ محکمہ(ڈزاسٹر مینجمنٹ گروپ) کی ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔اقوام متحدہ ماحولیاتی پروگرام میںآفات سماوی کو کم کرنے محکمہ کے کے صدر مسٹر مرلی تھماروکوڈی نے کہا کہ انہوں نے 14جون کو ہی باخبر کردیا تھا کہ کیرالا کے ڈیم آغاز جولائی تک بھر جائیں گے۔بد قسمتی ہے کہ ہمارے انجینیرس نے اس بات کی شدت کا اندازہ نہیں لگایا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا محکمہ موسمیات کی پیش گوئیوں کو اہمیت نہیں دی جانی چاہئے۔ہندوستان میں 1950 تا2015ء ماحول کا مطالعہ کرنے والے ماہرین نے کہا ہے کہ ملک کے کچھ علاقوں میں تین گنا زیادہ بارش ہوگی۔ اس مطالعے میں کہا گیا ہے کہ بحیرہ عرب پر چلنے والی گرم ہوائیں اپنے ساتھ زیادہ بارش کی ہوائیں لائیں گی جو مغربی گھاٹ اور اس سے متصلہ علاقوں میں بارش کا سبب بنیں گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دو سے تین ہفتے قبل موسم کی پیش گئی بہتر طور پر کی جاسکتی ہے اس کے مطابق حفاظتی اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم کے تعلق سے کچھ غیر یقینی صورتحال بھی ہوسکتی ہے پیشن گوئی میں جو علاقہ دکھایا جاتا ہے بارش اس سے کچھ ادھر یا ادھر بھی ہوجاتی ہے۔ جس کے سبب بھی احتیاطی تدابیر بروقت لینے میں دشواری ہوتی ہے کہ کس علاقے کے ڈیموں کے دروازوں کو کب کھولا جائے۔ہندوستان منطقہ حارہ کا ملک ہے۔ اور ہر سال یہاں کی بڑھتی گرمی بھی بارش کی شدت کا باعث بن رہی ہے۔عالمی بنک گروپ کے ایک حالیہ مطالعے میں کہا گیا ہے کہ حالیہ کچھ سال سے جنوبی ایشیا کے ممالک میں اوسط درجہ حرارت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے سبب بھی ہندوستان میں بے ہنگم بارش کی مثالیں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔اور آنے والی کچھ دہائیوں میں اس کے مزید نقصانات ہمیں دیکھنے کو ملیں گے۔ اہم شہر کولکتہ‘ممبئی‘ڈھاکہ اورکراچی جہاں پانچ کروڑ سے زیادہ آبادی ہے یہ علاقے سیلاب کی زد میں رہیں گے۔ہندوستان کے مرکزی اور ساحلی علاقوں میں موسم برسات میں سیلابی صورتحال اب معمول بن گئی ہے۔

اتر پردیش اور بہار میں بھی سیلاب کی صورتحال رہی ہے۔سیلاب کی اہم وجوہات میں کم وقت میں زیادہ بارش ہونا۔ بارش کے پانی کی نکاسی کے راستوں میں رکاوٹ ‘ غیر منصوبہ بند باندھوں کی تعمیر اور سیلاب پر قابو پانے کے میکانزم کی ناکامی ہے۔کیرالا میں بارش کا سلسلہ تو تھما ہے لیکن ابھی موسم برسات کا بڑا حصہ باقی ہے اور عوام اس سے خدشات کا شکارہیں۔جب سیلاب کا پانی کم ہوگا تم حکام کو سبق سیکھنے کی بہت سی باتیں ملیں گی۔اس کے لیے ہمیں تیار رہنا ہوگا ۔ اور اگلی بار اگر ایسی بڑی تباہی پھر سامنے آئے تو ہمیں یہ کہنے کا موقع نہیں دینا چاہئے کہ ہم پہلے سے تیار نہیں تھے۔کیرالا کا سیلاب مرکز اور ریاستی حکومتوں کو باخبر کرنے لیے ہے کہ اب وقت آچکا ہے کہ ہم اپنا احتساب کریں۔ اور یہ جان لیں کہ فطرت کے قانون کے خلاف جا کر ہم بہت دن تک سکھ چین سے رہ نہیں سکتے۔ مناسب منصوبہ بندی اور اس پر عمل آوری ضروری ہے۔ ہر سال زمین پر بڑھتی گرمی پر قابو پانے کے لیے ماحول کی تپش کو کم کرنا لازمی ہے جس کے لیے زیادہ سے زیادہ شجر کاری ہو۔ محکمہ بلدیات اور حکومتیں عوام کو لازمی کردیں کوہ وہ شجر کاری کریں اور اپنے حصے کے پیڑ کی نگہداشت کو اس طرح لازمی کرلیں جیسے وہ اپنی اولاد کی پرورش کرتی ہیں۔ جب گرمی کم ہوگی تو سمندر کا پانی کم بھاپ بنے گا اور بارش بھی اس قدر تیز نہیں ہوگی۔ شجر کاری کے ضمن میں ایک بات یہ بھی ہے کہ حکومت اور عوام مل کر جنگلاتی علاقوں میں بھی شجر کاری کریں کیوں کہ جنگلات میں شجر کاری نہ ہونے سے زمین کھسکنے کے واقعات ہورہے ہیں اور فطرت کا قانون ہے کہ پیڑ پودے بارش کے وقت زمین کے کٹاؤ کو روکتے ہیں۔ بارش کے پانی کے بہاؤ کے راستے میں جو کچھ رکاوٹیں ہیں انہیں دور کیا جائے۔ غیر قانونی قبضہ جات برخواست کئے جائیں۔ ماحول کے اعتبار سے حساس علاقوں پر نظر رکھی جائے۔ ڈیم میں پانی کی سطح پر نظر رکھی جائے اور مرحلہ وار پانی چھوڑا جائے۔ کان کنی کو حساس علاقوں میں نہ کیا جائے اور ماحولیاتی مطالعے کے ماہرین کی سفارشات پر عمل کیا جائے۔ ماحول اور قدرت کے اصولوں سے متعلق مطابقت ہی انسانوں کی بقاء کی ضامن ہے اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے لائسنس کی اجرائی یا قانون سازی سے قبل ماحول کے تقاضوں کو بھی پیش نظر رکھے اور ایسی کسی بات کی حوصلہ افزائی نہ کرے جس سے آفات سماوی کو تقویت ملے۔
——–

ڈاکٹر اسلم فاروقی