کتاب:غوث خواہ مخواہ اوران کے چند ہمعصرشعراء ۔ ۔ ۔ مبصر:سیدعباس متقی

 غوث خوامخواہ

کتاب:غوث خواہ مخواہ اوران کے چند ہمعصر شعراء
مصنف:ڈاکٹر ضامن علی حسرتؔ

مبصر:ڈاکٹرسیدعباس متقی

 

شہرنظام آباد مدت مدید سے علم و ادب کا گہوارہ اور شعر وسخن کا مرکز رہا ہے۔یہاں سے بے شمار ادب نواز شخصیتوں نے اپنے جواہر کا لوہا منوایا ہے نظام آباد کی سر زمین نے نہ صرف یہ کہ دانش جو افراد کو جنم دیا ہے بلکہ یہاں فن کے قدر دانوں کی بھی کوئی کمی نہیں اور اس کے ثبوت کے طور پر ہمارے ہاتھوں میں اس وقت ڈاکٹر ضامن علیحسرت ؔ کی وہ مایہ ناز تصنیف ہے جس کے ورق ورق سے فن و کمال کی قدر دانی اور شعر و سخن کی پزیر ائی کی خوشبو بکھر رہی ہے۔ضامن علی حسرت ؔ جو خود ایک بزلہ سنج اور شگفتہ طبع ادیب و شاعر ہیں، نے اپنی تحقیقی کاوش کے لیے حضرت غوث خواہ مخواہ اور ان کے چند ہم عصر شعراء کا انتخاب کیا ہے جو ضامن علی حسرت ؔ کے مزاج و مذاق کی غماز ہے۔

حضرت خواہ مخواہ کا شمار ہندوستان کے ان نام ور اور بزلہ سنج شعرا میں ہوتا ہے جنھیں عوام نے سند قبولیت عطا کی ہے ،دور دور سے لوگ انھیں دعوت سخن دیتے ہیں اور ان کی سخن طراز یوں پرد اد وتحسین کی بوچھار بھی کرتے ہیں اور غوث خواہ مخواہ کی شاعری میں وہ تجربات ہوتے ہیں جن سے ہر کوئی گزرتا رہتا ہے۔غوث خواہ مخواہ کو اپنے تجربات کے اظہار میں کوئی دقت نہیں ہوتی وہ ایک کہنہ مشق شاعر ہیں اور انھیں تبلیغ فکر پر خاصہ ملکہ بھی حاصل ہے ۔ضامن علی حسرت ؔ نے طنز ومزاح کے آغاز سے متعلق ایک جملہ لکھا ہے جو ان کی عمیق نگاہی پر دال ہے ۔لکھتے ہیں:
’’حضرت انسان کی بے بسی پر سب سے پہلا قہقہہ تو غالباً اس کو ے کا رہا ہوگا جس نے قابیل کو ہا بیل کی لاوارث لاش کے سراہنے سر پکڑے بیٹھے دیکھا ہوگا ‘‘
کہنے کو تویہ ایک جملہ ہے لیکن اس جملے میں طنز ومزاح کی جو چاشنی مخفی ہے وہ اہل نظر سے مخفی نہیں رہ سکتی ۔کوے کے قہقہے پر ہم یہ سوچے بغیر نہیں رہ سکتے کہ ضامن علی حسرت ؔ نے مطالعے کی کن حدود کو چھوا ہے اور فکر کی کس بلندی تک رسائی حاصل کی ہے ایک اور جگہ ضامن علی حسرت ؔ لکھتے ہیں:
’’یقیناًمزاح ہمارے سامنے ایک ایسے جذبے کے طور پر سامنے آتا ہے جو انسان کو وقتی طور پر ہی سہی رنج و الم کی نگری سے دور لے جاتا ہے اور اسے کائنات کے خوش رنگ چوکٹھے میں سجنے کے قابل بنادیتا ہے۔‘‘
غوث خواہ مخواہ کی شاعری سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے حسرت ؔ نے خواہ مخواہی کی زبان میں کہا ہے:
’’شعرا س لیے کہتا ہوں کہ اپنا کام اپنی زبان اپنے کانوں سے سن کر مجھے خوشی حاصل ہوتی ہے جب اپنے کلام پر مجھے سامعین سے داد ملنے لگتی ہے تو مارے خوشی کے مجھے اپنی بنیان تنگ محسوس ہونے لگتی ہے ۔اسی شاعری نے مجھے دنیا کے مختلف ممالک اور بر آعظموں کی خاک چھنوائی ہے۔‘‘
غوث خواہ مخواہ کی نجی زندگی کے خوش گوار پہلوؤں کا اظہار کرتے ہوئے حسرت ؔ نے لکھا ہے کہ غوث خواہ مخواہ ایک مخلص مہمان نواز ،ملنسار ،خوش طبع ،ہمدرد،منکسر المزاج ،سادگی پسند اور زندہ دل شخصیت کے مالک ہیں ان کی گفتگو بڑی پر لطف اور شگفتہ ہوتی ہے۔وہ بات سے بات پیدا کرنے اور اس میں مزاح کی چاشنی گھولنے میں مہارت رکھتے ہیں خواہ مخواہ سے جو بھی ایک بار ملتا ہے وہ اسے اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں۔
اس تصنیف میں حسر تؔ نے غوث خواہ مخواہ کے علاوہ جن شعراء کرام کا ذکر کیا ہے ان میں حمایت اللہ،طالب خوند میری،اشر ف خوند میری،ڈاکٹر راہی قریشی ،ڈاکٹر مصطفی علی بیگ ،شمشیر کو ڑنگلی،چچا پالموری،بے دھڑک مدراسی ،سید علی بے خود،وحید پاشاہ قادری،سرداراثر،ہنٹر کریم نگری،نشتری کریم نگری،کرنل کریم نگری،سراج شولاپوری،پیام انصاری،نثار یوسفی ،کلیم میدکی،ڈاکٹر قمر قیسی ،تمیز پرواز،عادل لکھنوی،ساغر خیامی،پاپولر میرٹھی،بازغ بہاری،ڈاکٹر معین، اقبال شانہ ،شیخ احمد ضیاء،گلی نلگنڈوی ،ڈاکٹر ظفر کمال،پاگل عادل آبادی ،فرید انجم ،بگڑرائچوری،عظمت بھلاواں،سراج نرملی ،فنی ایوت محلی،بیلن نظام آبادی،رؤف رحیم ،فرید سحر،شاہد عدیلی،انپڑ پھنچوؤں ،انپڑ بھونگیری،شوہر اود گیری،سرپٹ حیدرآبادی،ظہیر قدسی،امام رائچوری، ڈھکن رائچوری،سلطان سالیبؔ ،اسماعیل ظریف،ابراہیم خلیل،بدرالدین بادل،گڑبڑ حیدرآبادی،مسافر نلگنڈوی،اقبال ہاشمی،اوسط نظام آبادی ،رضانقوی واہی ،ظریف لکھنوی ،ضمیر جعفری،برق آشیانوی ،مجید لاہوری،اعجاز حسین کھٹا،شاد عارفی،دلاور فگار،صغیر جالنوی،حسین پائلٹ،راجہ غضنفر علی کے اسما ئے گرامی ملتے ہیں۔ حسرت ؔ نے ان تمام شعراء کی دل کھول کر پزیرائی کی ہے اور اپنی تحقیقی کاوشوں کا ثبوت دیا ہے ۔اس کتاب میں پیش لفظ کے طور پر ضامن علی حسرت ؔ نے اپنے افکار قلم بلند کیے ہیں۔ڈاکٹر فضل اللہ مکرم پروفیسر محمد نسیم الدین فریسؔ اور غوث خواہ مخواہ کی تقاریظ شامل ہیں۔اس کتاب کی خوبی حسرت ؔ کی زبان ہے جو شستہ بھی ہے اور شگفتہ بھی ،کتاب کے لیے جو کاغذ استعمال کیا ہے وہ نہایت عمدہ ہے،طباعت روشن ہے لیکن خط قدر خفی ہوگیا ہے جس سے ضعفاء کو مطالعے میں دقت ہوسکتی ہے۔ضامن علی حسرت ؔ نے کتابیات کے عنوان سے 54 کتابوں کا حوالہ دیا ہے جس سے ان کی دقت نظری کا اظہار ہوتا ہے۔ضامن علی حسرت ؔ نے یہ تحقیقی کام ڈاکٹر فضل اللہ مکرم ریڈر شعبۂ اردو اورینٹل اردو کالج کی زیر نگرانی انجام دیا ہے اور اس ضخیم اور ادب نواز سرمایہ کی ترقیم پر تحقیق کار کے علاوہ نگران بھی مبارک بادی کے مستحق ہیں۔یہ کتاب 264 صفحات پر مشتمل ہے کیا ہی اچھا ہوتا اگر یہ کتاب Paper back کی بجائے مجلد ہوتی ۔اتنی ضخیم اور مغنی خیز کتاب کی قیمت 300/- روپے رکھی گئی ہے جو زیادہ نہیں ۔اس کتاب کو صاحبان ذوق حسامی بک ڈپو، نیشنل بک ڈپو،میڈلائین آپٹیکلس کے علاوہ خود ڈاکٹر ضامن علی حسرت ؔ مکان نمبر 9-16-60 احمد پورہ کالونی ،نظام آبادریاست تلنگانہ سے حاصل کرسکتے ہیں۔امید کہ یہ کتاب ادب نواز اور خوش طبع اردو داں حضرات کے ہاتھوں میں پہنچے گی اور کماحقہ اس کی پزیرائی کی جائے گی۔

zamin
مصنف
ڈاکٹر عباس متقی
مبصر