آہ! غلام مرتضےٰ قمر- – – – – ریاض احمد قادری

riaz-q
پروفیسر ریاض احمد قادری

ماپے تینوں گھٹ رون گے بوہتا رون گے دلاں دے جانی
آہ! غلام مرتضےٰ قمر

ریاض احمد قادری
فیصل آباد

آہ! غلام مرتضےٰ قمر بھی ۲۸ ستمبر ۲۰۱۵کواللہ کو پیارے ہو گئے۔ ان کی وفات کی خبر بہت دکھ رنج اور الم سے سنی گئی۔پوررے ملک کے ادبی حلقوں میں صفِ ماتم بچھ گئی۔یہ صدمہ اہلِ دل کے لئے ناقابلِ برداشت تھا۔جس جس نے خبر سنی وہ فوراََ لاٹھیانوالہ پہنچ گیا۔نمازِ جنازہ میں ایک بہت بڑی تعداد میں ادیبوں اور شاعروں نے شرکت کی۔پورا گاؤں بھی ان کے جنازہ میں شریک تھا۔

نہ وہ کسی بڑے ادبی مرکز کا مقیم تھا۔ نہ اس کے پاس بے پناہ وسائل تھے۔ نہ اس کی صحت ہی قابلِ رشک تھی۔وہ فیصل آباد کے مضافاتی قصبہ کھرڑیانوالہ کی بھی مضافات لاٹھیانوالہ کا مقیم تھا۔تعلق انتہائی غریب گھرانے سے تھا۔ اور بیماری اتنی شدیدکہ شاید بستر پربھی کسی کو کم ہی چین آئے۔ مگر اس کی بے چین روح اور بے قرار دل اسے بیٹھنے نہیں دیتا تھا۔ اس نے بیساکھیوں کے سہارے پنجاب بھر میں ہو نے والے مشاعروں میں شرکت کی۔ہر جگہ ہر شہر ہر مقام پر اسے جہاں بھی بلایا گیا وہ ضرور پہنچا۔ اور شعر و ادب کی خدمت کا بیڑا اٹھائے رکھا۔اپنے شہر کھڑڑیانوالہ کو اس نے پنجاب کا مرکز بنا دیا اور اتنی زیادہ تقریبات منعقد کیں کہ لوگوں کے لےئے کھرڑیانوالہ ہی لاہور بن گیا۔اس نے پنجاب کے ہر شہر سے پنجابی شاعروں کو ان مشاعروں کی زینت بنایا اور ان کی جی جان سے خدمت کی۔
اپنا پنجابی اشاعتی ادارہ بنایا اور’’ نوائے دل‘‘ اور ’’پنج آبی‘‘ کے نام سے دو رسائل شائع کئے۔ادیبوں شاعروں کی کتابیں شائع کیں۔اور لاہور کے اشاعتی اداروں کو بھی معیار میں پیچھے چھوڑ دیا۔
غلام مرتضیٰ قمر نے اپنی محنت ، اخلاص، حسنِ نیت اور جذبے سے اپنا مقام بنایا۔وہ جس سے ملا اسی کے دل میں گھر کر گیا۔وہ جتنا بڑا شاعر تھا اس سے کہیں بڑاوہ انسان تھا۔فروغِ پنجابی ادب میں اس کاکردار مثالی تھا۔اس نے زبان کی خدمت کی خاطر وہ کام کر دکھایا جو بڑے بڑے سرکاری حکومتی ادارے بھی نہیں کر سکتے۔یہ سب کام اس نے بغیر کسی امداد، بغیر کسی گرانٹ اور بغیر کسی فنڈ کے سر انجام دئیے۔وہ اپنی ذات میں اک انجمن تھا۔ وہ مضطرب ،پارا صورت، سیماب صفت انسان ہر وقت کچھ نہ کچھ کر نے کے لئے بے چین رہتا تھا۔کسی بھی پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے ایک ایک شاعرکو چار چار بار فون کرنا،آنے کی بار بار تلقین کرنا۔اور پھر بار بار پوچھنا کہ آپ کہاں پہنچ گئے ہیں۔ یہ صرف اور صرف مرتضیٰ قمر ہی کا کام تھا۔ان مخدوش حالات میں ان جیسا ادبی ’’کاما‘‘ میں نے نہیں دیکھا وہ ایک بے لوث ادبی کارکن تھا۔کتنی ہی ادبی تنظیمیں تھیں جو مرتضٰے قمر کے دم قدم سے چلتی تھیں۔اس نے ان مشاعروں ان تنظیموں کو اپنا خونِ جگر دیا تھا۔اس ادبی چراغ میں ان کا لہو جلتا تھا۔وہ جلتا رہا جلتا رہا سلگتا رہا اور بالآخر بجھ گیا۔ لیکن اس کی جلائی ہو ئی شمع ہمیشہ جلتی رہے گی۔ اس کی پھیلائی ہو ئی روشنی ہمیشہ پھیلتی رہے گی۔
وہ علامہ پیر سید تنویر بخاری کا شاگرد اور مرید تھا۔اس نے پیر تنویر کی تنویر ہی ہر جا پھیلائی۔ امین راہی اور پیر عارف بخاری اس کے پیر بھائی تھے۔امین راہی نے اپنی اور مرتضی قمر کی زندگی ہی میں تاجپوشی کی تھی۔شاید اسے پتہ تھا کہ پہلے وہ اس جہانِ فانی کو چھوڑ جائے گا اور اس کے بعد فوراََ ہی غلام مرتضیٰ قمر راہی ملکِ عدم ہو جائے گا۔
غلام مرتضےٰ قمر مرحوم و مغفورنے اپنا پنجابی مجموعہ کلام’’نویکلتا‘‘پنجابی ادب کی جھولی میں ڈالا۔اس مجموعہ کی پذیرائی فیصل آباد آرٹس کونسل کے ساتھ ساتھ کھرڑیانوالہ اور کئی دوسرے شہروں میں بھی ہو ئی اور ہر جگہ غلام مرتضےٰ قمر مرحوم و مغفور کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔اور اس کے فن اور شخصیت کو سراہا گیا۔اس کا پنجابی بولنے کا انداز بڑا دل موہ لینے والا تھا۔’’خیر ہووے جی ‘‘ اس کا تکیہ کلام تھا۔ فون کے جواب میں، بات چیت کے جواب میں یہی کلمہ ’’ خیر ہووے جی‘‘اس کے منہ سے بے ساختہ نکلتا تھا۔وہ ایک انتہائی معصوم، شریف النفس اور مٹا ہوا انسان تھا۔وہ استادوں کے سامنے جھک جاتا تھا اور ان کے گھٹنوں کو چھوتا۔ اسے خود پتہ نہیں تھا کہ وہ کتنا بڑا انسان ہے۔وہ جتنا جھکتا اتنا ہی آسمانوں کی بلندیوں کو چھوتا چلا جاتا تھا۔
غلام مرتضےٰ قمر مرحوم و مغفور نے کبھی بڑائی، غرور و تکبر کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔نہ ہی وہ کبھی ادبی گروپ بندی یا گروہ بازی کا شکار ہوا۔وہ اپنی دھن میں مگن اپنے کام کرتا چلا جا تا تھا۔لوگ خود بھی پھر اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔وہ جس پروگرام میں بھی آجاتا اسے چار چاند لگا دیتا تھا۔آرٹس کونسل ہو یا پنجابی ادبی سیوک،کالمسٹ ایسوسی ایشن ہو یا پنجابی ادبی ستھ،ہر جگہ غلام مرتضےٰ قمر مرحوم و مغفورشب میں چودھویں کے قمر کی صورت موجود ہوتا تھا۔اس نے اپنی شبانہ روز محنتوں، ریاضتوں اورمشقتوں سے پورے پنجاب میں اپنا مقام بنایا۔ وہ شدید بیماری اور معذوری کے باوجود جب اسے بسترِ استراحت پر ہو نا چاہئے تھا طویل سفر طے کر کے ہر ادبی تقریب کو سجاتا رہا اور ساری ساری رات جاگتا بھی رہا ۔ اصل میں وہ خود جاگ کر سارے پنجاب کو جگا رہا تھا اور اس میں وہ کامیاب بھی رہا وہ اکیلا تن تنہا وہ کام کر گیا جو بڑے بڑے ادارے نہ کر سکے جو کام حکومتی گرانٹ خور ادارے نہ کر سکے۔اس نے پنجابی کے نام نہاد پروفیسروں سے بھی زیادہ کا م کیا جو صرف مہینے کے بعد تنخواہ وسول کر نے کے لئے کالج آتے ہیں اور پنجابی کے لئے کچھ نہیں کرتے۔نام نہاد پی ایچ ڈی ڈاکٹرز پنجابی کو وہ کچھ نہ دے سکیں گے جو ایک عام کارکن ، ورکر اور سیوک غلام مرتضیٰ قمر دے گیا ہے۔ہر شہر کا نامور شاعر اسے اپنے دل کا جانی سمجھتا تھا۔وہ خود بھی ان سب کا جا نی تھا۔سب شاعر اس کے دل جانی تھے۔
شاعرقوم کی امانت ہو تا ہے اس کا وقت اس کی ذات اس کی شخصیت اس کا پراویسی سب قوم کی امانت ہو تا ہے اس کے دکھ اس کے سکھ سب شاعروں کے لئے ہو تے ہیں۔ شاعر اس کی فیملی ، شاعر اس کا خاندان اور شاعر ہی اس کی برادری ہو تے ہیں۔اس کے اپنے عزیز اس کے اپنے رشتہ دار اس کے اپنے اہلِ خانہ اس سے اجنبی رہتے ہیں۔اس حوالے سے غلام مرتضےٰ قمر مرحوم و مغفور کا قبیلہ بہت بڑا تھا جو پورے پنجاب اور اس سے بھی باہر پھیلا ہوا تھا۔اس حوالے سے وہ بہت امیر آدمی تھا۔ حضرت علیؑ نے فرمایا غریب وہ نہیں جس کے پاس مال دولت نہیں بلکہ غریب وہ ہے جس کا کو ئی دوست نہیں۔ اسی طرح امیر وہ نہیں جس کے پاس مال دولت ہے امیر وہ ہے جس کے دوست زیادہ ہیں۔غلام مرتضےٰ قمر مرحوم و مغفور بہت امیر آدمی تھا۔ اس کی وفات کا غم اس کے گھر والوں نے کم منایا ہو گا لیکن ادیبوں شاعروں نے بہت زیادہ منایا ہے
تبھی تو یہ کہتے ہیں
ماپے تینوں گھٹ رون گے بوہتا رون گے دلاں دے جانی
آہ! غلام مرتضےٰ قمر مرحوم و مغفور تجھے ہم کبھی نہیں بھول پائیں گے تجھے ہم ہمیشہ یاد رکھیں گے۔تو ہماری یادوں کے آنگن میں سدا جگمگاتا مسکراتا رہے گا ۔ تو زندہ ہے تو جاوید ہے تیرا کام تجھے زندہ و پائندہ رکھے گا۔اہلِ ادب تجھے اپنی محبتوں کا خراج پیش کرتے رہیں گے۔
جانے والے تجھے روئے گا زمانہ برسوں