حضرت محمد ﷺ کے جوامع الکلم ( اقوال زریں ) :- ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی

حضرت محمد ﷺ کے جوامع الکلم ( اقوال زریں ) :- ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی

حضرت محمد ﷺ کے جوامع الکلم ( اقوال زریں ) :- ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی

حضرت محمد ﷺ کے جوامع الکلم (اقوال زریں)
انسانیت کے لئے مشعل راہ ہیں

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِےْن، وَالصَّلاۃُ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِےْمِ وَعَلیٰ آلِہِ وَاَصْحَابِہِ اَجْمَعِےْن۔
فصاحت وبلاغت کے پیکر اور بے مثال ادیب عرب حضرت محمدمصطفی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے جوامع الکلم (اقوال زریں) سے نوازا گیا ہے۔ (صحیح بخاری) جس کا حاصل یہ ہے کہ آپﷺچھوٹی سی عبارت میں بڑے وسیع معانی کو بیان کرنے کی قدرت رکھتے تھے۔

آپﷺ کی بے شمار خصوصیات میں سے ایک اہم ترین خصوصیت یہ بھی ہے کہ جس وقت آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی اور آپ سے پڑھنے کے لئے کہا گیاتو آپﷺ نے مَا اَنَا بِقَارِئ (میں پڑھ نہیں سکتا ہوں) کہہ کر معذرت چاہی، لیکن اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایسی خاص الخاص تربیت ہوئی کہ آپﷺ کے قول وعمل کو رہتی دنیا تک اسوہ بنادیا گیا۔آپﷺ کے اقوال زریں سے مستفید ہونے والے حضرات بڑے بڑے ادیب وفصیح وبلیغ بن کر دنیا میں چمکے۔ آپ کی زبان مبارک سے نکلے بعض جملے رہتی دنیا تک عربی زبان کے محاورے بن گئے۔ آپﷺ کے وعظ ونصیحت، خطبے، دعا اور رسائل سے عربی زبان کو الفاظ کے نئے ذخیرہ کے ساتھ ایک منفرد اسلوب بھی ملا۔
یہ ایک معجزہ ہی تو ہے کہ مَا اَنَا بِقَارِئ کہنے والا شخص کچھ ہی عرصہ بعد ایک موقع پر ارشاد فرماتا ہے: میں عرب میں سب سے زیادہ فصیح ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں قبیلہ قریش سے ہوں اور میری رضاعت قبیلہ بنی سعد میں ہوئی۔ (الفائق فی غریب الحدیث للزمخشری) یہ دونوں قبیلے اس وقت اپنی زبان وادب میں خصوصی مقام رکھتے تھے۔ اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضوراکرم ﷺ سے فرمایا:میں سرزمین عرب بہت گھوم چکا ہوں، بڑے بڑے فصحاء کے کلام کو سنا ہوں، لیکن آپ سے زیادہ فصیح کسی شخص کو نہیں پایا۔ آپ کو کس نے ادب سکھایا؟ حضوراکرمﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ مجھے میرے رب نے ادب سکھایا اور بہترین ادب سے نوازا۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے فصاحت وبلاغت کا ایسا معیار آپﷺ کو عطا کیا گیا جس کی نظیر قیامت تک ملنا ناممکن ہے اور آپ کے اقوال زریں انسانیت کے لئے مشعل راہ ہیں۔ آپﷺ کے خطبے خاص کر حجۃ الوداع کے موقعہ پر دیا گیا آپ ﷺکا آخری اہم خطبہ نہ صرف جوامع الکلم میں سے ہے بلکہ حقوق انسانی کا بنیادی منشور بھی ہے۔ اس خطبہ مبارکہ میں آپﷺ نے آج سے چودھ سو سال قبل مختصر وجامع الفاظ میں انسانیت کے لئے ایسے اصول پیش کئے جن پر عمل کرکے آج بھی پوری دنیا میں امن وامان قائم کیا جاسکتا ہے۔
جہاں حضور اکرمﷺ کے اقوال زریں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، وہیں شریعت اسلامیہ میں ان اقوال زریں کو یاد کرکے محفوظ کرنے کی بھی خاص فضیلت وارد ہوئی ہے چنانچہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص میری امت کے فائدہ کے واسطے دین کے کام کی چالیس احادیث یاد کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن عالموں اور شہیدوں کی جماعت میں اٹھائے گا اور فرمائے گا کہ جس دروازہ سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔ یہ حدیث متعدد صحابۂ کرام سے روایت ہے اور حدیث کی مختلف کتابوں میں موجود ہے۔ حدیث میں مذکورہ ثواب کے حصول کے لئے سینکڑوں علماء کرام نے اپنے اپنے طرز پر چالیس احادیث جمع کی ہیں۔ صحیح مسلم کی سب سے مشہور شرح لکھنے والے امام نووی ؒ کی چالیس احادیث پر مشتمل کتاب "الاربعین النووےۃ” پوری دنیا میں کافی مقبول ہوئی ہے۔ صحیح بخاری وصحیح مسلم میں وارد حضور اکرم ﷺ کے چالیس فرمان پیش خدمت ہیں جن میں علم ومعرفت کے خزانے سمودئے گئے ہیں اور یہ اعلیٰ اخلاق اور تہذیب وتمدن کے زریں اصول ہیں۔لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ان احادیث کو یاد کرکے ان پر عمل کریں اور دوسروں کو پہنچائیں تاکہ غیر مسلم حضرات بھی آپﷺ کی صحیح تعلیمات سے واقف ہوکر اسلام سے متعلق اپنے شک وشبہات دور کرسکیں۔
بخاری ومسلم میں وارد حضور اکرمﷺ کے چالیس فرمان: ۱) تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ ۲) کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی کو بے گناہ قتل کرنا اور جھوٹی شہادت دینا ہے۔ ۳) سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔ صحابۂ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ! وہ سات بڑے گناہ کونسے ہیں (جو انسانوں کو ہلاک کرنے والے ہیں)؟ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: شرک کرنا، جادو کرنا، کسی شخص کو ناحق قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کے مال کو ہڑپنا، میدان (جنگ) سے بھاگنا، پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔ ۴) منافق کی تین علامتیں ہیں: جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی کرنا، امانت میں خیانت کرنا۔ ۵) تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو قرآن کریم سیکھے اور سکھائے ۔ ۶) اللہ کے نزدیک سب عملوں میں وہ عمل زیادہ محبوب ہے جو دائمی ہو، اگرچہ تھوڑا ہو۔ ۷) میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔ ۸) پاک رہنا آدھا ایمان ہے۔ ۹) اللہ کے نزدیک سب سے محبوب جگہ مسجدیں ہیں۔ ۱۰) جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجا، اللہ تعالیٰ اس پر ۱۰ مرتبہ رحمتیں نازل فرمائے گا۔ ۱۱) مؤمن ایک بل سے دوبارہ ڈسا نہیں جاتا ہے۔ ۱۲) پہلوان شخص وہ نہیں جو لوگوں کوپچھاڑدے، بلکہ پہلوان وہ شخص ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔ ۱۳) مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں: سلام کا جواب دینا۔ مریض کی عیادت کرنا۔ جنازہ کے ساتھ جانا۔ اس کی دعوت قبول کرنا۔ چھینک کا جواب ےَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہہ کر دینا۔ ۱۴) اللہ اس شخص پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔ ۱۵) ظلم قیامت کے روز اندھیروں کی صورت میں ہوگا۔ ۱۶) چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔ ۱۷) دنیا میں ایسے رہوجیسے کوئی مسافر یا راہ گزر رہتا ہے۔ ۱۸) رشتہ توڑنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ ۱۹) اگر کوئی شخص (روزہ رکھ کر بھی) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔ ۲۰) انسان کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جو بات سنے (بغیر تحقیق کے) لوگوں سے بیان کرنا شروع کردے۔ ۲۱) وہ شخص جنت میں نہ جائے گا جس کا پڑوسی اس کی ایذاؤں سے محفوظ نہ ہو۔ ۲۲) تم میں سے وہ شخص میرے نزدیک زیادہ محبوب ہے جو اچھے اخلاق والا ہو۔ ۲۳) صدقہ دینے سے مال میں کمی نہیں آتی، اور جو بندہ درگزر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھاتا ہے اور جو بندہ اللہ کے لئے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند کرتا ہے۔ ۲۴) اگر کوئی شخص اپنے گھر والوں پر خرچہ کرتا ہے تو وہ بھی صدقہ ہے یعنی اس پر بھی اجر ملے گا۔ ۲۵) اے نوجوان کی جماعت! تم میں سے جو بھی نکاح کی استطاعت رکھتا ہو اسے نکاح کرلینا چاہئے کیونکہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے اور جو کوئی نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو اسے چاہئے کہ روزے رکھے کیونکہ یہ اس کے لئے نفسانی خواہشات میں کمی کا باعث ہوگا۔ ۲۶) عورت سے نکاح (عموماً) چار چیزوں کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ اس کے مال کی وجہ سے، اس کے خاندان کے شرف کی وجہ سے، اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے۔ تم دیندار عورت سے نکاح کرو، اگرچہ گرد آلود ہوں تمہارے ہاتھ، یعنی شادی کے لئے عورت میں دینداری کو ضرور دیکھنا چاہئے، خواہ تمہیں یہ بات اچھی نہ لگے۔ ۲۷) حلال واضح ہے، حرام واضح ہے۔ ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جن کو بہت سارے لوگ نہیں جانتے۔ جس شخص نے شبہ والی چیزوں سے اپنے آپ کو بچالیا اس نے اپنے دین اور عزت کی حفاظت کی۔ اور جو شخص مشتبہ چیزوں میں پڑے گا وہ حرام چیزوں میں پڑ جائے گا اس چرواہے کی طرح جو دوسرے کی چراگاہ کے قریب بکریاں چراتا ہے کیونکہ بہت ممکن ہے کہ اس کا جانور دوسرے کی چراگاہ سے کچھ چرلے۔ اچھی طرح سن لو کہ ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے، یاد رکھو کہ اللہ کی زمین میں اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور سن لو کہ جسم کے اندر ایک گوشت کا ٹکڑا ہے۔ جب وہ سنور جاتا ہے تو ساراجسم سنور جاتا ہے اور جب وہ بگڑ جاتا ہے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے، سن لو کہ یہ (گوشت کا ٹکڑا) دل ہے۔ ۲۸) اللہ کی قسم! مجھے تمہارے لئے غریبی کا خوف نہیں ہے بلکہ مجھے خوف ہے کہ پہلی قوموں کی طرح کہیں تمہارے لئے دنیا یعنی مال ودولت کھول دی جائے اور تم اس کے پیچھے پڑ جاؤ، پھر وہ مال ودولت پہلے لوگوں کی طرح تمہیں ہلاک کردے۔ ۲۹) اللہ تعالیٰ بندہ کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہے۔ ۳۰) جب امانتوں میں خیانت ہونے لگے تو بس قیامت کا انتظار کرو۔ ۳۱) حرام کھانے، پینے اور حرام پہننے والوں کی دعائیں کہاں سے قبول ہوں۔ ۳۲) مسکین اور بیوہ عورت کی مدد کرنے والا اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ ۳۳) تمہیں اپنے کمزوروں کے طفیل سے رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔ ۳۴) اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر رحم کرے جو فروخت کرتے وقت، خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت (قرض وغیرہ کا) فیاضی اور وسعت سے کام لیتا ہے۔ ۳۵) کھاؤ ،پےؤ ،پہنو اور صدقہ کرو، لیکن فضول خرچی اور تکبر کے بغیر (یعنی فضول خرچی اور تکبر کے بغیر خوب اچھا کھاؤ، پےؤ، پہنو اور صدقہ کرو)۔ ۳۶) رشک دو ہی آدمیوں پر ہوسکتا ہے، ایک وہ جسے اللہ نے مال دیا اور اسے مال کو راہ حق میں لٹانے کی پوری طرح توفیق ملی ہوئی ہے۔ اور دوسرا وہ جسے اللہ نے حکمت دی ہے اور وہ اس کے ذریعہ فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔ ۳۷) مؤمنین کی مثال ان کی دوستی اور اتحاد اور شفقت میں بدن کی طرح ہے۔ بدن میں سے جب کسی عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا بدن نیند نہ آنے اور بخار آنے میں شریک ہوتا ہے۔ ۳۸) آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، پیچھے پیٹھ برائی نہ کرو، بلکہ اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کے جائز نہیں کہ اپنے کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراض رہے۔ ۳۹) (سچا) مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان (کے ضرر) سے مسلمان محفوظ رہیں۔ مہاجر وہ ہے جو اُن کاموں کو چھوڑدے جن سے اللہ نے منع کیا ہے۔ ۴۰) اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں بھلائی فرض کی ہے، لہذا جب تم (کسی کو قصاصاً) قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو۔ اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو اور تم میں سے ہر ایک کو اپنی چھری تیز کرلینی چاہئے اور اپنے جانور کو آرام دینا چاہئے۔
خاتم النبیین وسید المرسلین وخیر البریہ حضور اکرمﷺ کے مذکورہ بالا ارشادات کی روشنی میں ہم ان شاء اللہ بڑے بڑے گناہ خاص کر شرک، والدین کی نافرمانی، قتل نفس، جھوٹ، چغل خوری، جادو، سود، ظلم وزیادتی، وعدہ خلافی، امانت میں خیانت، قطع رحمی، پڑوسیوں کو ایذارسانی، حرام اور مشتبہ چیزوں کا استعمال، فضول خرچی، تکبر، حسد اور بغض جیسی مہلک برائیوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں گے جو ہمارے معاشرہ میں ناسور بن گئی ہیں، اور اپنے نبی کی تعلیمات کے مطابق صرف اور صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے نیک اعمال کریں گے اور اپنے اخلاق کو بہتر سے بہتر بناکر استقامت کے ساتھ دنیاوی فانی زندگی میں ہی اخروی دائمی زندگی کی تیاری کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں فصاحت وبلاغت کے پیکر اور بے مثال ادیب عرب حضرت محمدمصطفیﷺ کے جوامع الکلم (اقوال زریں ) کو سمجھ کر پڑھنے والا، ان کے مطابق عمل کرنے والا اور ان قیمتی پیغامات کو دوسروں تک پہنچانے والا بنائے، آمین، ثم آمین۔
(www.najeebqasmi.com)

متعلقہ موضوعات

جہانِ اردو

Related Posts

Create Account



Log In Your Account



Facebook
↓