مجھے ہے حکم اذاں لاالہٰ الااللہ :- محمد ہاشم قادری مصباحی

محمد ہاشم قادری صدیقی

مجھے ہے حکم اذاں لاالہٰ الااللہ

محمد ہاشم قادری مصباحی
جمشیدپور الھند

قرآن مجید و احادیث طیبہ میں اذان کاذکر موجود ہے اور تاریخ میں بھی کئی عبرت ناک ودلچسپ واقعات ہیں، امام زہری فر ماتے ہیں کی قر آن مجیدکی یہ آیت مبار کہ آذان کی اہمیت وفضیلت بیان کر تی ہے وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْ لاً مِمَّنْ دَعَآ اِلَی ا للّٰہِ وَعَمِلَ صَا لِحًاوَّ قَالَ اِ نَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔تر جمہ:اس سے اچھی بات کس کی جو اللہ کی مخلوق کو نیکی کیطرف بلائے اور نیک کام کرے اور یہ کہے کہ میں مسلمانوں میں ہوں۔(کنزالایمان)

اس آیت میں اول حضور پر نور ﷺ مراد ہیںآپ کے صدقے صحابۂ کرام ، اولیاء کرام، علماء کرام ،جو تبلیغ کریں اور موذن وتکبیر کہنے والے اور ہر وہ مومن جو اللہ کی مخلوق کو نیکی کیطرف بلائے۔معلوم ہوا رب ا لعزت کو اس کی بولی بڑی پیا ری معلوم ہو تی ہے جو دعوت خیر دے،اللہ تعا لیٰ کا وہ محبوب بند ہ ہے۔چنانچہ مؤذن کو اس فہرست میں اولFIRSTبتا یا گیا ہے جو آذان دیتے ہیں بھلائی (عبادت )کی طرف بلاتے ہیں اورخود بھی اللہ کی عبادت کر تے ہیں۔ مسلم شریف میں ہے قیامت کے دن موذن سب سے زیادہ لمبی گردنوں والے ہوں گے۔سنن میں ہے امام ضا من ہے اور موذن امانت دار ہے اللہ تعالیٰ اماموں کو راہ راست دکھائے اور موذنوں کو بخشے،حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں آذان دینے والوں کا حصہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک جہاد کرنے والوں کے حصے کے برا بر ہے۔آذان واقا مت کے درمیان ان کی وہ حالت ہے جیسے کوئی جہاد میں راہِ اللہ میں اپنے خون میں لوٹ پوٹ رہا ہو۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرما تے ہیں اگر میں مو ذن ہوں تو پھر مجھے حج وعمرہ اورجہاد کی اتنی زیادہ پر واہ نہیں رہتی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کی رسول کریم ﷺ نے تین بار موذن کی بخشش کی دعا مانگی اس پر میں نے کہا حضور ﷺ آپ نے اپنی دعا میں ہمیں یاد نہ فر مایا حالانکہ ہم آذان کہنے پر تلو اریں تان لیتے ہیں آپ ﷺ نے فر مایا ہاں! لیکن اے عمر ایسا زمانہ بھی آنے والا ہے کہ موذن غریب مسکین لو گوں تک رہ جا ئے گا،سنوں عمر جن لو گوں کا گوشت پوشت جہنم پر حرام ہے ان میں موذ ن ہیں۔ آذان کے مخا لف کا عبرت نا ک انجام۔۔۔ تفسیر نور العر فان میں ہے امام سُدی رحمۃاللہ علیہ فر ماتے ہیں: کہ مدینہ منو رہ میں ایک عیسا ئی رہتا تھا جب موذن کہتااَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللّٰہِ تویہ کہا کر تا تھا ’’جل جا ئے جھو ٹا‘‘ معاذ اللہ ، اللہ کی شان اس کا خادم ایک رات آگ بجھا نا بھول گیا گھر والے سب سو گئے آگ میں شعلہ اٹھا اور وہ نصرانی(عیسائی)اور پورے گھر والے جل گئے، آذان سے دشمنی رکھنے والے آج بھی مو جود ہیں طرح طرح کی بکواس کر تے رہتے ہیں اللہ کے عذاب سے وہ بچ نہیں سکتے ، اوپر مذکورہ آیت سے آذان کاثبوت ہے اور حدیث ملا حظہ فر مائیں۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں اس آیت میں موذن کی تعریف ہے اس کا حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃِ کہنا اللہ کی طرف بلا ناہے،حضرت عکر مہ اورابن عمر رضی اللہ عنہمافر ماتے ہیں یہ آیت کریمہ موذن کے بارے میں اتری۔،اورآیتیں بھی قرآن مجیدمیںآذان ومؤذن کی فضیلت پر شاہد ہیں، سورہ مائدہ۵،آیت۵۸،سورہ جمہ۶۲،آیت۹،وغیرہ وغیرہ۔آذان کی ابتدا۔۔ابتدا ئے اسلام میں نماز کے لئے بلانے کا کو ئی خاص طریقہ متعین نہیں تھا۔جب مسلمان زیادہ ہو گئے تو مشورہ ہوا کہ ایسی چیز کے ذریعہ نماز کے وقت کا اعلان ہو جسے سب لوگ سمجھ لیں۔ کچھ لو گوں نے ذکر کیاکہ آ گ روشن کی جائے یا نر سنگا کے ذریعہ اعلان کریں۔امیرالمو منین حضرت عمر فاروق اعظم اور عبداللہ بن زید بن عبدرَبّہ رضی اللہ تعالیٰ عنھما کوآذان خواب میں تعلیم ہوئی حضور ﷺ نے فر مایا ’’یہ خواب سچ ہے حق ہے‘‘اور عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے فر مایا:’’جاؤ بلال کو تلقین کرو،وہ آذان کہیں کہ وہ تم سے زیا دہ بلند آواز ہیں۔‘‘(۱) اس حدیث کو ابو داؤد وتر مذی و ابن ما جہ ودار می نے روایت کیا ہے، رسو ل اللہ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم فر مایا:کہو آذان کے وقت کانوں میں انگلیاں کر لو، کہ اس سبب آواز بلند ہوگی‘‘(بخاری،حدیث ۶۰۶، اس حدیث کو ابن ماجہ نے عبدالر حمن بن سعد رضی اللہ عنھما سے روایت کیا ہے سنن ابو داؤد، کتا ب الصلاۃ با ب کیف الاذان،حدیث۴۹۹، ابن ما جہ حدیث۷۱۰ِصحیح مسلم،حدیث۳۸۷،بہارشریعت ج۳،ص۴۵۸)تاریخ کی اہمیتHISTORY:علامہ ڈاکٹر اقبال نے کہا ہے’’ جس طرح زندگی میں حافظہMEMORY کی زبر دست اہمیت ہے حافظہ(یاد داشت) اگر کم ہو جائے یا بالکل ختم ہو جا ئے تو اس کی زندگی اس کے لیے بے معنٰی ہوجائے گی۔اسی طرح ایک قوم یا ملت کی زند گی میں تاریخ کی زبردست اہمیت ہے، کیوں کہ اگر اس کی تاریخ گم ہو جائے گی یا گمنا می میں چلی جائے گی،دفن ہو جائے گی تو اس قوم کی زندگی بھی بے معنیٰ ہو کر رہ جائے گی،تاریخ کے اوراق میں بہت سے واقعات درج ہیں ایک عبرت ناک اور دلچسپ جوش ایما نی سے لبر یز واقعہ مطالعہ فر مائیں مسلما نوں نے آذا ن اللہ کی آ وازکو کس طرح جان کی قر بان دے کر بھی بلند کیا تا ریخی آذان اعلان تو حید اَللّٰہُ اَکْبَرُاَللّٰہُ اَکْبَرُ لَآاِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وہ منظر بہ منظر،قیا مت قیامت پیر محمدمحذومی لکھتے ہیں دنیا ئے اسلام کی تا ریخ کی وہ اذان جس کو ۲۲ شہا دتوں کا شرف حاصل ہوا 13جو لا ئی1931ء شہدائے آذان(کشمیر) کا پس منظر 29اپریل1931ء کے دن سے شروع ہوتا ہے جب جموں کے میونسپل باغ میں عید الاضحی کی نماز ادا کرنے کے لیے جمع مسلما نوں کو نماز ادا کر نے سے منع کردیا گیا۔امام مفتی محمداسحاق نقشبند ی عید کا خطبہ پڑھ رہے تھے کہ کھیم چند نامی ڈوگرا پو لیس کے ایک اہل کار نے انھیں خطبہ دینے اور مسلمانوں کو نماز ادا کرنے سے دیا۔ کشمیر بھر کے مسلمان اس بلا وجہ اور کھلی زیا دتی اور اپنی مذ ہبی آزادی پر سنگین حملے پر مشتعل ہو گئے 25جون1931ء کو شری نگر میں توحید کے متوالوں نے ڈوگرا راج اور اس کے ظلم وستم کے واقعات کے خلاف مظا ہرہ کیا اور بہت بڑا جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں عبد ا لقدیر نا می تو حید کا متوالا ایک نو جوان اپنی جگہ سے اٹھا اور بلندآ واز میں ایک ولولہ انگیز تقریر کی اور کہا کہ’’ اب ڈوگرا راج کا سورج غروب ہو نے کو ہے۔( کشمیرکے) توحید کے متوالے مسلمانوں کے لیے عمل کا وقت آچکا ہے اور اب وہ کسی صو رت میں بھی ڈوگرا راج کی اسلام اور مسلمان دشمنی کے واقعات کو بر داشت نہیں کریں گے‘‘ ڈوگرا راج کے اہلکا روں نے عبدا لقدیر نا می اس نوجوان کو اسی شام گرفتار کر لیا اور اس پر ڈوگرا راج کے خلاف بغا وت کا مقد مہ درج کر لیا گیا۔ عوام کے غم وغصہ کے خوف سے ڈوگرا راج نے جیل کے اندر ہی مقد مہ کی کار وائی کا فیصلہ کر لیا جبکہ مسلما نوں کا مطا لبہ تھا کہ عبد القد یر کا مقد مہ کھلی عدا لت میں چلا یا جا ئے تاکہ وہ بھی مقدمہ کی سماعت میں شریک ہو سکیں۔ 13 جو لائی1931ء کا دن آیا عبدالقد یر کے مقد مہ کی کار راوئی سری نگر کی مر کزی جیل کے اندر جاری تھی جبکہ جو لائی کی گر می کی پر واہ نہ کر تے ہوئے بھی جیل کے باہر لا کھوں مسلمان اس کار روائی کو دیکھنے کی غرض سے جمع تھے اور مطالبہ کر رہے کہ مقد مہ کی کارروائی عدالت میں میں کی جائے۔ اسی دوران ظہر کی نماز کاوقت ہو گیا شمع تو حید کے ان متوالوں نے نماز ظہر ادا کرنے کے لیے اپنی صفیں درست کر نا شروع کر دیں۔حاضرین میں ایک توحید کا متوالا مر کزی جامع مسجد سری نگرمیں آذان دینے کے لئے کھڑا ہوا،ابھی اللہ اکبر کی صدا فضا میں گونجی ہی تھی کہ اس کے ساتھ گولی چلنے کی آواز بھی سنا ئی دی۔موذن کو گو لی مار دی گئی تھی،شمع توحید کے پہلے پر وانے(کشمیری) کو شہادت کا درجہ مل چکا تھا مگر شمع تو حید کے متوالے(کشمیری) اس آذان کا نا مکمل کیسے رہنے دیتے حاضرین میں سے شمع توحید کا دوسرا متوا لا آگے بڑ ھا تاکہ باقی آذان مکمل کرے تو اللہ اکبرکی دوسری صدا کے سا تھ ہی دوسری گولی نے اس مو ذن کو بھی خون میں لت پت کر دیا مگر توحید کے متوالے اس جوشیلے ہجوم میں سے کسی کو یہ قبول نہ تھا کہ انھوں نے جس نماز کی نیت کی ہے اس کی آذان پوری نہ ہو پائے۔ اسطرح یکے بعد دیگر آذان کے الفاظ اداہوتے رہے آواز توحید بلند ہو تی رہی اور شمع توحید کے متوا لے (کشمیری) جام شہادت نوش کرتے رہے، تا ریخ اسلام کی اس یاد گار اور انو کھی آذان کو مکمل کرنے کے لیے ۲۲ بائیس مسلما نوں نے اپنے خون کی قر بانی پیش کی اور اپنے عزم سے یہ ثابت کر دیا کہ اعلان توحید آذان کو کوئی بند نہیں کر سکتا یہ ایمان والوں کے لیے سر مائے حیات ہے۔ان شہد ائے کرام کی تد فین میں لا کھوں لاکھ کا مجمع تھا نماز جنازہ پڑ ھانے والے پیر محمد افضل محذری نقش بندی، مولانا محمدیوسف،مو لا نا عبدا لقد وس، ما سٹر عبداللہ ،خصو صی واعظین کرام حاجی اسداللہ،درال خواجہ احمد وغیرہ وغیرہ ہوامیں پھول اڑاتے نعت پڑ ھتے، نظم پڑ ھتے۔ آہ جاتی ہے فلک پر رحم لا نے کیلئے۔ باد لو ہٹ جاؤ دیدو راہ جانے کیلئے پڑھتے پڑ ھا تے جاکر تد فین فرما ئی یہ ایمان افروز داستان بہت لمبی ہے ( تفصیل سے پرھنے کے لیے 13 جولائی کشمیر عظمیٰ کا شما رہ پڑھیں)آذان اللہ کے بندوں کو فلاح(بھلا ئی،نیکی،نجات،سلامتی،)کی طرف بلانے کا پیغام ہے پو رے دن میں پانچ بارمیں مشکل سے10منٹ ہی لگتے ہیں افسوس آذان کی یہ آوازیں ان لو گوں پر بڑی گراں گزر تی ہیں،جواس ملک میں اسلام اور مسلمانوں سے ہمیشہ سے دشمنی رکھتے ہیں۔اسی لیے جب کب مسجدوں سے لاؤڈسپیکر اتار نے کی بات کر تے ہیں بیمار ذہن کے لوگ اپنی خوا ہش کو پو را کر نے کے لیے عدالتوں میں کیس درج کئے ہیںNATIONAL GREEN TRIBUNALمیں حال ہی میں ایک عر ضی داخل کی گئی ہے، این جی ٹی کے چیئرمین جسٹس سوتنتر کمار نے دہلی سرکار اوردہلی پالوشن کنٹرول کمیٹی کوحکم دیاہے کہ ضا بطوں کے خلاف ورزی کر نے والوں پر سخت کار روائی کی جائے اس عرضی کا نپٹارہ کر تے ہوئے ٹریبو نل نے مسجدوں کی جانچ کا حکم دیا ہے کہ وہاں سے تیز آواز تو نہیں آرہی ہے۔ غیر سر کاری تنظیم اکھنڈ بھارت مور چا نے کئی جگہ کیس دائر کئے ہیں ان کا مقصد مسلما نوں کو پریشان کر ناہے،مسلمان تو پریشان ہیں لیکن یا د رکھیں یہ اللہ اکبر کی صدا تا قیامت بند نہیں ہو گی یہ قدرتی نظا م صبح قیامت تک چلتا رہے گا ۔بہت پیاری بات ڈاکٹر علامہ اقبال نے کہی ہے۔
خو دی کاسرِنہاں لا الہ الا اللہ
خودی ہے تیغ،فساں لا الہ الااللہ

یہ نغمہ فصلِ گل ولا لہ کا نہیں پابند
بہار ہوکہ خزاں،لا الہٰ الااللہ

یہ دوراپنے برا ہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، لا الہ الااللہ

کیا ہے تونے متاع غرور کا سودا
فریب سود وزیاں،لاا لہ الا للہ

یہ ما ل و دولت دنیا،یہ رشتہ وپیوند
بتاں وہم و گماں،لا ا لہ الا للہ

خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زنا ری
نہ ہے زماں نہ مکاں،لا الہ الااللہ

اگرچہ بت ہیں جما عت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں،لا ا لہ الا اللہ
اعلان توحید آذان ہمیشہ بلند ہو تے رہے گی،آذان پکار نے والے موذن وامام کی بہت فضیلتیں ہیں مسلما نوں کو چاہیے کی وہ اللہ کے گھر’’ مسجد‘‘ کا احترام کریں اور ’’ امام ‘‘ و ’’ موذن ‘‘ کا خیال کریں وہ بھی ہما رے معاشرے کا حصہ ہیں اور ہم پر ان کی خبر گیری رکھنا اسلامی واخلا قی فریضہ ہے امام مؤذن کی ذمہ داری سے لیکر بچے کی پیدا ئش کے بعدآذان اقا مت سے لے کر نکاح، گھر میں بیماری سے لے کر جنا زہ تک دفن سے لے کر ایصال ثواب تک ہر ہر قدم پر امام ومؤذن اپنی ذمہ داری نبھا تے ہیں ہما رادینی و اخلا قی فریضہ ہے کی ہم بھی ان کے سکھ دکھ میں قدم قدم پر ساتھ دیں ذرا نظریں اٹھا کر دیکھیں دنیا کے ہر شعبے میں لو گوں کی کیا تنخواہیں ہیں، یہاں تک مز دوروں کی مز دوری کتنی ہے ما ہانہ کتنی آ مد نی ہے لیکن افسو س صد افسوس آج امام وموذن مسجد کے خد مت گزاروں کی تنخو ا ہیں انتہا ئی کم ہیں،چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے( الا ما شا ء اللہ) ہر جگہ برا حال ہے۔ قوم یہ سمجھتی ہے امام و موذن کو قومِ موسیٰ کی طرح من وسلویٰ اتر تا ہے۔ جب کہ حقیقت اس کے بر عکس ہے، انگر یزوں نے جان بو جھ کر امام مسجد کی تنخواہ،خاکروب کے برا بر مقر ر کرکے اسلام سے بیزا ری کاثبوت دیا تھا،انگریز تو چلے گئے لیکن اب ہم مسلمان ہو کر بھی اپنے امام ومؤذن کو ان کا حقیقی مقام دینے کو تیار نہیں۔ مسلمانوں کو اماموں ، مؤذنوں کو سر کاری TEACHERS کے برابر تنخواہ دینا چاہیے اور ریٹائر ہونے یا معذور ہونے پر معقول پینشن دینا چاہیے تاکہ امام اور مؤذن جو مسلم معاشرے کا باوقار (عہدہ) حصہ ہے اسے بھی معا شرے میں عزت اور وقار سے زندہ رہنے کا حق ہے اسے حاصل ہو نا چا ہئے، مسجد کے ذمہ داران و اہل محلہ اس طرف سنجید گی سے سو چیں اور عمل کریں ور نہ اللہ کے یہاں پکڑ ہو گی تیار رہیں اللہ ہم سب کو عمل کر نے کی تو فیق دے آمین ثم آمین۔
——
الحاج حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی
hhmhashim786 @gmail.com
09386379632

↓