بیسویں صدی عیسوی کے اہم ادبی رجحانات : – عبدالحفیظ خان

بیسویں صدی عیسوی کے اہم ادبی رجحانات

عبدالحفیظ خان
ریسرچ اسکالر شعبہ اردو، دلی یونیورسٹی
09555248828

ہمارے لیے اس عہد یااس صدی کی ادبی رجحانات کا جائزہ لینے سے قبل اس عہد کی سیاسی،سماجی اور تہذیبی پس منظر کا جائزہ لینا ناگزیر بن جاتا ہے جن میں یہ مخصوص رجحان پروان چڑھ رہا تھا۔ساتھ ہی ہمیں اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ یہ رجحانات اچانک معرض وجود میں نہیں آتے بلکہ ان کے بننے اور پروان چڑھنے میں ایک طویل عرصہ درکار ہے لہٰذا جب ہم ہندوستانی تاریخ کو ذرا پیچھے جا کر دیکھتے ہیں توہمیں ایک اہم سنگ میل نظر آتا ہے اور وہ ہے ۱۸۵۷ء ۔

یوں تو اس سے قبل بھی انگریزی اقتدار کے خلاف وقتاً فوقتاً چھوٹی موٹی بغاوتیں سر اٹھاتی رہتی تھیں ۔البتہ اس کا باقاعدہ آغاز ۱۰؍مئی ۱۸۵۷ء کو میرٹھ میں ہوئی سپاہیوں کی ایک بغاوت سے ہوا تھا۔ اس دفعہ پورے ملک میں انگریزوں کے خلاف بغاوت کی لہر سی دوڑ گئی۔اس کے بعد مسلسل بغاوتیں ہوتی رہتیں اور انگریزوں کی جانب سے انھیں بے دردی سے کچلا جاتا رہا مثلاً ۱۸۷۰ء کی وہابی تحریک، ۱۸۷۲ء میں پنجاب میں گرورام سنگھ کی ’’کوکا تحریک‘‘ ، یا ۱۸۸۶ء کی ’’رمیا بغاوت‘‘ یا اس کے علاوہ ۱۸۹۰ء میں چھوٹا ناگپور علاقے میں برسا منڈا کی قیادت میں سر اٹھانے والی بغاوت ۔اور اس کے علاوہ متعدد بغاوتیں سر اٹھاتی رہیں اور ان کے سر قلم ہوتے رہے۔بہرحال انگریزی حکومت کے خلاف ہندوستانی عوام کی بے اطمنانی میں روزافزوں اضافہ ہوتا گیا اور انیسویں صدی نصف آخر سے بیسویں صدی نصف اول کا پورازمانہ جہاں ہندوستان کے لیے جدوجہد آزادی سے عبارت تھا وہیں پورے عالم کے لیے بڑے خلفشار اور اور بے چینی کا زمانہ رہا۔
۱۸۵۷ء کی ناکام جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے ہندوستانیوں اور بالخصوص مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کر دی۔اس کے اسباب و علل پر تفصیل میں جانے کے بجائے ان حالات میں تشکیل پانے والے رجحانات ،فکری رویوں اور ان کے اثر سے رونماہونے ادبی تبدیلیوں کی جانب توجہ مبذول کرانا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ان حالات میں علی گڑھ تحریک کے زیر اثر سرسید ، ان کے رفقاء اوردیگرادیبوں نے پہلی بار اردو میں حقیقت نگاری ،عقلیت پسندی اور مقصدیت پر زور دیا۔دوسری طرف کرنل ہالرائڈ کے ایما پر محمد حسین آزاد کے زیر قیادت ’’انجمن پنجاب‘‘ (۱۸۷۴ء)کے ذریعہ اردو شاعری میں نئے تجربات شروع ہوگئے تھے ۔نظم نگاری کا سلسلہ شروع ہواغزل کی سابقہ روایت سے انحراف کرتے ہوئے شعراء نے موضوعاتی نظمیں تحریر کیں، اب مشاعروں کی جگہ مناظموں کا سلسلہ شروع ہوا۔حالی کی ’حب وطن‘، اور ’برکھارت‘ انھیں مناظموں میں پیش کی گئی۔ان کے علاوہ آزاد، حالی،شبلی، اور اسمٰعیل میرٹھی وغیرہ نے ان مناظموں میں شرکت کی۔لیکن علی گڑھ تحریک کے زیر اثر بڑے پیمانے پر پابندی کی جانے لگی، شعر کی ماہیت کے ساتھ ساتھ اس کے تاثیر کی بات کی گئی،شاعری کو سماج کے تابع قرار دیا گیا،سماج اور اخلاق پر اچھی یا بری شاعری کے اثرات پرقیل وقال شروع ہوئی۔الغرض پوری شاعری میں اصلاح کی ضرورت پر زور دیا گیالفظ ومعنی، وزن نیز قافیہ کے بحث کی گئی۔بالخصوص نثری ادب کے فروغ پر زور دیا گیا۔ جبکہ ان سے قبل ہمارے ادیب شاعری پر زیادہ زور صرف کرتے آئے تھے۔وہ بھی ایسی شاعری جو عشق وعاشقی، ہجرووصال، گیسوورخساراور کنگھی وچوٹی کے موضوعات تک محدود تھی اب اس کے برخلاف نثر کو زیادہ اہم اور قوم کی اصلاح کے لیے زیادہ کارگر سمجھا گیا۔اور شاعری میں بھی ’سادگی‘ ،’اصلیت‘ اور ’جوش‘ کو لازمی قرار دیا گیا۔غزل اور قصائد کے برخلاف مثنوی اور مسلسل نظم پر زیادہ زور دیا گیا۔ اس ضمن میں حالیؔ کا یہ شعر کافی مشہور ہوا ؂
یہ شعرو قصائد کے ناپاک دفتر
عفونت میں سنڈاس سے بھی ہیں بدتر
۱۹۹۳ء میں حالیؔ نے اردو کی پہلی باقاعدہ تنقید ’’مقدمہ شعر وشاعری‘‘ لکھی۔شبلی نے ’’شعرالعجم‘‘ (بالخصوص چوتھی جلد) اور ’’موازنہ انیس ودبیر‘‘ لکھ کر اردو تنقید میں اضافہ کیا۔حالیؔ ، شبلیؔ اور سرسید کے تقریباً نصف صدی کے بعد ترقی پسند تحریک کے بنیاد گذار سجاد ظہیرایک بار پھر نظم نگاری پر زور دیتے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ تحریک سے وابسطہ کچھ شعراء نے اچھی غزلیں بھی تخلیق کیں لیکن بحیثیت مجموعی نظم ایک غالب صنف سخن کی حیثیت سے ادبی منظرنامے کا حصہ بنتی رہی۔سجاد ظہیر اپنی کتاب ’ذکرحافظ‘ (۱۹۵۴ء)میں بھی اردو ادب کے دو نقاد وں ظ۔انصاری اور ممتاز حسین کے حوالے سے اس پر سیر حاصل بحث کی ہے اور یہ نتیجہ نکالا ہے کہ موجودہ دور میں غزل کے مقابلے میں نظم زیادہ کارآمدصنف سخن کا درجہ رکھتی ہے۔لہٰذا اسے فروغ دینا ترقی پسند ادیبوں کی ذمہ داری ہے۔ساتھ ہی وہ اس بات کی بھی وضاحت کرتے ہیں کہ اس کے معنی یہ بالکل نہیں ہیں کہ ہم گذشتہ چھ سو برسوں کی فارسی اور اردو غزل کی بہترین روایت کو جاگیردارانہ عہد کی انحطاط، افراتفری اور انتشار کی عکاس مان کر اسے رد کر دیں۔فاضل مصنف اپنی اس کتاب میں ماضی کے اس ادبی سرمائے کو ان گذشتہ ادوار کے مخصوص اقدار اور تہذیبی وفنی حالات کے تناظر میں دیکھنے پر زور دیتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ آج کا عہد اپنے تمام تر تہذیبی اور فنی تقاضوں کے سبب نظم نگاری کے لیے زیادہ موزوں ہے۔اس ضمن میں یہ اقتباس ملاحظہ ہو:1
’’اچھی غزل کے منفرد اشعار دل میں بڑی جلدی جاگزیں ہوجاتے ہیں، وہ بجلی کی طرح چمک کر دل ودماغ میں حرارت پیدا کردیتے ہیں۔اشاروں اور کنایوں سے خیال کا رخ ایک درخشاں نکتے پر مرکوز کردیتے ہیں اور اس لحاظ سے ان کی خوبی اور افادیت مسلم ہے۔ لیکن ایک اچھی نظم دل ودماغ کی زمین پر اپنی تخیلی رفتارمیں پیش نظر حقیقت کو مختلف اور متنوع پہلوؤں سے آشکار کرتی ہے، وہ بہت ساری تشبیہوں، استعاروں، صوتی علامتوں اور فکری جدتوں کے مسالے سے ایک پوری تخیلی عمارت بناتی ہے جواعمال وواقعات کے بیان، اپنے رنگارنگ حسن اور حقیقی خیال آرائی کے سبب سے زندگی اور اس کے لطیف ترین تقاضوں کی زیادہ مکمل ترجمانی اور عکاسی کرتی ہے۔‘‘
مندرجہ بالا سطور میں ۱۸۵۷ء کے حالات اوران کے نتیجہ میں ہونے والی ادبی تبدیلوں اور بعد کے ادب پران کے اثرات کا سرسری جائزہ بیسویں صدی کے مجموعی ادبی رجحانات کو سمجھنے اور ان کا اندازہ لگانے میں کسی قدر ہمارے لیے معاون ضرور ہیں۔جب ہم بیسویں صدی کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ زمانہ بھی انیسویں صدی عیسوی نصف آخر سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہے بلکہ اس سے کہیں زیادہ پورے عالم بالخصوص ہندوستان میں کرب، بے چینی اور انتشار ملتا ہے۔ملک کی آزادی کی جدوجہد تو جاری ہی تھی مزیدبرآں پہلے عالمی جنگ(۱۹۱۴ء تا ۱۹۱۸ء)کے آثار نمودارہونے لگے تھے۔ ۱۹۱۴ء میں جب برطانیہ نے جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کیا تو انگریزوں نے ہندوستانی فوج کو اس میں اندھادھند جھونکنا شروع کردیاجس سے ہندوستانی عوام بالکل بوکھلا گئی۔علاوہ ازیں ۱۹۱۷ء میں روس میں جس طرح سے انقلاب آیا اور اشتراکی نظام نے جس تیزی سے اپنا اثرورسوخ قائم کرنا شروع کیا اس سے بھی ہندوستانیوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ۔ادھرانگریزوں نے مارچ ۱۹۱۹ء میں رولٹ ایکٹ پاس کیاجس کے تحت حکومت کسی کو بھی بنا مقدمہ چلائے جیل میں قید کرسکتی تھی اس سے لوگوں میں زبردست بے چینی پیدا ہو گئی تھی۔اس کے خلاف ملک گیراحتجاج بھی ہوا اور۶ ؍اپریل ۱۹۱۹ء کوقومی اہانت کے دن کے طور پر منایا گیا۔اس کے خلاف ملک بھر سے احتجاجی جلوس نکالے گئے۔اس کے فوراً بعدیعنی ۱۳؍اپریل۱۹۱۹ء کو ایک برطانوی افسر کے حکم پر ’جلیاں والاباغ‘ کاوہ بھیانک اور دلدوزقتل عام ہوا جس میں دس منٹ کے اندر تقریباًایک ہزار افراد کو گولیوں سے چھلنی کردیا گیااوردو ہزار سے زائدلوگ زخمی ہوئے۔اس کے بعد خلافت تحریک وجود میں آتی ہے جسے کانگریس کی بھی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ اس تحریک کی قیادت محمدعلی اور شوکت علی کر رہ تھے جو’علی برادران‘کے نام سے جانے جاتے تھے۔جلد ہی خلافت کمیٹی میں گاندھی جی بھی شامل ہو گئے اور ’عدم تعاون‘ کا نعرہ بلند کیا۔رفتہ رفتہ یہ ملک گیر تحریک کی صورت اختیار کر گئی۔گاندھی جی نے ’عدم تشدد‘ کا فلسفہ پیش کیا لیکن ۱۹۲۲ء کو اترپردیش میں چوراچوری کے مقام پر ۴؍فروری کو گاؤں والوں نے ایک پولس اسٹیشن کونذر آتش کردیاجس میں کچھ پولس والوں کی جانیں گےءں۔اس واقعہ سے خفا ہو کر گاندھی جی نے تحریک واپس لے لی۔۱۰؍مارچ ۱۹۲۳ء کو انھیں گرفتار کرلیاگیا۔
ان تمام اسباب سے بیسویں صدی کے اوائل میں جدوجہدآزادی میں ایک زبردست اضافہ ہوا بالخصوص ۱۹۳۰ء میں کانگریس نے ’مکمل آزادی‘ کا نعرہ بلند کر دیاتھا۔ادھر عالمی سطح پر ۱۹۳۳ء میں ہٹلر کی سرکردگی میں فاشزم نے سر اٹھانا شروع کر دیا جس نے رفتہ رفتہ پورے یورپ کو سیاسی بحران میں مبتلا کر دیا۔ دوسری عالمی جنگ (۱؍ستمبر۱۹۳۹ء تا۲؍ستمبر ۱۹۴۵ء)بھی شروع ہو چکی تھی جس نے کم وبیش ایک کروڑ لوگوں کو لقمہ اجل بنایا۔ادھر مئی ۱۹۴۲ء میں جاپانیوں نے ملک کے مشرقی حصے (چٹ گاؤں) پر زبردست بمباری شروع کر کے جنگ کو ہندوستان پر تھوپنے کا کام کیا تھا۔اس میں متعدد ہندوستانیوں کا خون بھی بہا۔۱۹۴۳ء میں قحط بنگال کا دلدوز واقعہ رونما ہوا جس نے تقریباً تیس لاکھ ہندوستانیوں کو اپنا نوالہ بنا لیا۔جس کے نتیجہ میں سرمایہ داری،ساہوکاری اور بھوک نے جنم لیا۔
ان حالات میں تشکیل پانے والا رجحان اور اس کے اثر سے تخلیق پانے والا ادب کس قسم کا ہوگا ؟ اس کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔جب کہ نہ صرف ہندوستان بلکہ پورا عالمی ادب تبدیلی کے دور سے گذررہا تھا۔جب کہ جرمنی میں ہٹلر نے تہذیب وتمدن کے اعلی اقدار پر حملے شروع کر دیے تھے۔اپنے ملک کے متعدد شاعروں ، ادیبوں،سائنس دانوں اور دانشوروں کو قیدیا انھیں جلا وطن کرنا شروع کر دیا تھا۔ان واقعات نے تمام ادیبوں، دانشوروں،جمہوریت پسندوں اور ان تمام لوگوں کوجو خود مختاری کی قدر کرتے تھے ایک پلیٹ فارم پر لادیا۔اسی زمانے میں لندن میں موجود کچھ ہندوستانی طلبا عالمی پیمانے پر تبدیل ہوتے ہوئے منظرنامے کا قریب سے مشاہدہ بھی کر رہے تھے۔جن میں سجاد ظہیر، ملک راج آننداور ڈاکٹر جیوتی گھوش کے نام لیے جا سکتے ہیں۔
الغرض لندن میں زیر تعلیم یہ طلبا بیرون ملک کے حالات و واقعات سے متاثر ہو کر اپنی نشستوں میں اکثر انقلابی گفتگو کیا کرتے اور ادب میں بھی ان موضوعات کو پیش کرنے پر زور دیتے تھے۔ایک دن انھیں ادیبوں کے مشورے سے سجاد ظہیر کے گھر پر اس کی باقاعدہ میٹنگ بھی ہوئی۔اس طرح وہیں پر بحث ومباحثے کے ذریعہ ہندوستانی ادبیات کے لیے ایک منشور تیار کرلیا گیا۔
یہی زمانہ تھا جب مشہور فرانسیسی ادیب ہینری باربس،گورکی،رومیں رولاں،طامس مان اور آندرے مالرو وغیرہ کی مشترکہ کوششوں سے پیرس میں جولائی ۱۹۳۵ء میں ادیبوں کی ایک بین الاقوامی کانفرنس ’کانگریس برائے تحفظ کلچر‘ منعقد ہوئی جس میں دنیا کے مشہور ترین ادیبوں نے شرکت کی۔سجاد ظہیر اور ملک راج آنند بھی اس کانفرنس میں شریک ہوئے۔ اور مغرب کے متعدد ادیبوں سے ملاقات کی اور ان سے تبادلہ خیال کیا۔
باوجود اس کے کہ یہ لوگ پہلے ہی سے ہندوستان میں ترقی پسند ادیبوں کی ایک انجمن قایم کرنے کا ارادہ رکھتے تھے اب اس کانفرنس میں شرکت کے بعداس خواہش نے مزید شدت اختیار کر لی۔طویل بحث ومباحثے کے بعدبنگال کے ادیب ڈاکٹر جیوتی گھوش اور پرمود سین گپتا ،اردو کے ادیب محمد دین تاثیر، اور انگریزی کے ادیب ملک راج آنند کی مدد سے سجاد ظہیر نے مینی فیسٹو کو حتمی شکل دیااور اس مسودے کی کاپیاں ہندوستان روانہ کی گئیں۔بقول سجاد ظہیر:2
’’ ترقی پسندمصنفین کا پہلا حلقہ ۱۹۳۵ء میں چند ہندوستانی طلبا نے لندن میں قایم کیاتھا۔ انجمن کا مینی فیسٹو (منشور)کا مسودہ وہیں تیار ہوا، اس ایک صفحے کی دستاویز لکھنے اور اسے حتمی شکل دینے میں ڈاکٹر جیوتی گھوش ،ڈاکٹر ملک راج آنند،پرمود سین گپتا، ڈاکٹر محمد دین تاثیر اور سجاد ظہیر شریک تھے۔ہم نے لندن ہی میں اس مسودے کو سائکلواسٹائل کر کے ہندوستان اپنے دوستوں کے نام بھیج دیا تھا تاکہ وہ اسے یہاں کے ادیبوں کو دکھایں اور اس پر ان کی رائے لیں‘‘
ان حضرات کے ذریعہ لندن سے بھیجے گئے اس منشور کو یوں تو ہندوستان میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی البتہ پریم چند پہلے ادیب ہیں جنھوں نے اسے نہ صرف خوش آمدید کہا بلکہ اسے اپنے مشہور زمانہ رسالہ’ہنس‘ کے جنوری ۱۹۳۶ء کے شمارے میں اداریے کے ساتھ شایع بھی کیا۔
الغرض یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ترقی پسند تحریک مندرجہ بالا ادیبوں کے ذہن کی پیداوار ہے ہندوستان میں جس کا آغاز ۱۹۳۲ء میں ’انگارے ‘کی اشاعت سے ہوا۔لیکن در حقیقت یورپ میں فاشزم کے خلاف احتجاج کرنے والی قوتوں،کارل مارکس کے نظریہ اشتراکیت اور ہندوستان کی جد جہد آزادی نے اس تحریک کو زندہ وجاوید بنایا۔ یہ بات بھی اتنی ہی درست ہے کہ اسے تحریک کی شکل توان لوگوں نے دی البتہ یہ رجحان ہمارے یہاں اس سے پہلے ہی (سوزوطن ۱۹۰۸ء) موجود تھا۔جو خالصتاً ہندوستانی نظام سیاست ومعاشرت اور جدوجہد آزادی کا آئنہ دار ہے۔بہرحال سجاد ظہیر کے بھیجے ہوئے مینی فیسٹو پر ہندوستان کے مختلف زبانوں کے ادیبوں نے غور کرنا شروع کیا اورجلد ہی اس نے بے پناہ مقبولیت بھی حاصل کر لی۔اسی دوران سجاد ظہیر ہندوستان واپس آ گئے اور الہ آباد میں سکونت اختیار کر لی۔
ترقی پسند مصنفین کا اولین دفتر الہ آباد میں احمد علی کے گھر پر قایم ہوا ۔اسی درمیان دسمبر۱۹۳۵ء میں ہندوستانی اکادمی الہ آبادکی جانب ایک کانفرنس کاانعقاد ہوا جس میں پریم چند،جوش اور مولوی عبدالحق نے شرکت کی موقع کو غنیمت جان کر سجاد ظہیر نے ان ادیبوں سے ملاقات کی اور اپنے منصوبے سے انھیں باخبر کیاجس سے ان تینوں ادیبوں نے نہ صرف اتفاق کیا بلکہ منشور پر اپنے دستخط بھی کر دیے۔اور رفتہ رفتہ ہندوستانی ادیبوں کے ایک بڑے گروہ کو اپنا ہم خیال بنا لیا۔ان میں حسرت موہانی، ڈاکٹرعابد حسین، نیازفتح پوری، قاضی عبدالغفار، فراق گورکھپوری، مجنوں گورکھپوری، علی عباس حسینی اور ساغر نظامی کے نام اہم ہیں۔اسی سال پریم چند کا انتقال ہو جاتا ہے۔البتہ بقول سردار جعفری:3
’’جوش ملیح آبادی، مجنوں گورکھپوری، قاضی عبدالغفاراورفراق گورکھپوری خاص طور سے تحریک میں بہت زیادہ دلچسپی لیتے رہے اور اپنی ادبی کاوشوں سے تحریک کو مقبول بنانے میں مدد دیتے رہے‘‘
اس طرح سے ہندوستان کے متعدد شہروں میں ترقی پسند خیالات رکھنے والے ادیبوں نے اپنے یہاں انجمنیں قایم کیں اور اس کی فروغ کے لیے عملی کوششیں کیں۔اس انجمن کی ملک گیر مقبولیت کے پیش نظر ادیبوں نے ایک کل ہند کانفرنس کے انعقاد کا منصوبہ بنایا جو ۹؍۱۰؍اور گیارہ اپریل ۱۹۳۶ء کو عملی صورت میں لکھنؤ میں منشی پریم چند کی صدارت میں انجام پایا۔اس کانفرنس میں پریم چند نے جو صدارتی خطبہ پیش کیا وہ اس تحریک کی جان ہے۔بالخصوص اس میں شامل ایک جملہ’ ہمیں حسن کا معیارتبدیل کرنا ہوگا‘ ترقی پسند ادیبوں میں بے حد مقبول ہوا اور بالآخر اسی جملے پر ترقی پسند تحرک کے جمالیاتی نظام کا تانا بانا تیار ہوا۔اس ضمن میں خطبے کاایک اقتباس ملاحظہ ہو:4
’’ہمیں حسن کا میعار تبدیل کرنا ہوگا ۔۔۔۔فاقہ وعریانی میں بھی حسن کا وجود ہو سکتا ہے۔اسے شاید وہ(اب تک کا ادب) تسلیم نہیں کرتا اس کے لیے حسن حسین عورت میں ہے ۔غریب،بے حسن عورت میں نہیں۔ جو بچے کو کھیت کی مینڈ پر سلائے پسینہ بہا رہی ہے۔ اس نے طے کر لیا ہے کہ رنگے ہونٹوں،رخساروں اور ابرؤں میں فی الواقعی حسن کا باس ہے ۔الجھے ہوئے بالوں ،پپڑیاں پڑے ہوئے ہونٹوں اور کمھلائے ہوئے رخساروں میں حسن کا گذر کہاں ؟لیکن یہ اس کی تنگ نظری کا قصور ہے ۔اگر اس کی نگاہ حسن میں وسعت آجائے تو وہ دیکھے گا کہ ان کے ہونٹوں اور رخساروں کی آڑ میں اگر نخوت اور خود آرائی اور بے حسی ہے توان مرجھائے ہونٹوں اور کمھلائے ہوئے رخساروں کی آڑ میں ایثاروعقیدت اور مشکل پسندی ہے ۔ہاں اس میں نفاست نہیں، نمو نہیں،لطافت نہیں۔ ہمارا آرٹ شبابیات کا شیدائی ہے اور نہیں جانتا شباب سینے پر ہاتھ رکھ کر شعر پڑھنے اور صنف نازک کی کج ادائیوں کے شکوے کرنے یا اس کی خودپسندیوں اور چونچلوں پر سر دھننے میں نہیں ہے ۔شباب نام ہے آئیڈیلزم کا،ہمت کا،مشکل پسندی کا،قربانی کا۔‘‘
منقولہ بالا اقتباس سے جہاں ادب کے جمالیاتی تقاضوں پر سیر حاصل روشنی ملتی ہے وہیں زبان و ادب کی خصوصیات اورصفات پر بھی روشنی ڈالی ہے ۔ اسی خطبے میں کہتے ہیں:5
’’میرا یہ منشا نہیں کہ جو کچھ سپرد قلم ہو جائے وہ سب کا سب ادب ہے۔ ادب اس تحریر کو کہتے ہیں جس میں حقیقت کااظہار ہو ۔جس کی زبان پختہ، شستہ اور لطیف ہو اور جس میں دل اور دماغ پراثر ڈالنے کی صفت ہو۔اور ادب میں یہ صفت کامل طور پر اسی حالت میں پیدا ہوتی ہے جب اس میں زندگی کی حقیقتیں اور تجربے بیان کیے گئے ہوں۔۔۔ ادب کی بہت سی تعریفیں کی گئی ہیں لیکن میرے خیال میں اس کی بہترین تعریف تنقید حیات ہے‘‘
اسی خطبے میں آگے فرماتے ہیں:6
’’ہماری کسوٹی پر وہ ادب کھرا اترے گا جس میں تفکر ہو، آزادی کا جذبہ ہو، حسن کا جوہر ہو،تعمیر کی روح ہو،زندگی کی حقیقتوں کی روشنی ہو،جو ہم میں حرکت اور ہنگامہ اور بے چینی پیدا کرے۔سلائے نہیں ۔کیوں کہ اب اور زیادہ سونا موت کی علامت ہوگی۔‘‘
ادب کے مقصد اور زندگی سے اس کے اسی رشتے کی وضاحت کرتے ہوئے ایک اور نقاد اختر حسین رائے پوری اپنے مضمون ’ادب اور زندگی‘۱۹۳۵ء میں رقمطراز ہیں:7
’’ادب کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ وہ ان جذبات کی ترجمانی کرے جو دنیا کو ترقی کی راہ دکھائیں۔ان جذبات پرنفریں کرے جو دنیا کو آگے نہیں بڑھنے دیتے اور پھر وہ انداز بیان اختیار کرے جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کی سمجھ میں آسکے کیوں کہ بہرحال زندگی کا مقصد یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کا زیادہ سے زیادہ بھلا ہو سکے۔‘‘
منقولہ بالا اقتباسات اس عہد کی فکری تبدیلیوں اور نئے ادبی تقاضوں اور رجحانات کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔جو ان حالات کی پیداوار ہیں جس سے اس عہد کی عوام دوچار تھی۔جن ذکر گذشہ صفحات میں ہوا ہے۔اس بدلتے ہوئے سماجی اور سیاسی منظرنامے کے ساتھ ہی ادبی تقاضے بھی بدلے، اس کی جمالیات بھی تبدیل ہوئی اور اس کی شعریات بھی تبدیلی کا شکار ہوئی۔زبان میں سادگی اور سلاست پر زور دیا گیا اور ایسے موضوعات کو ادب کا حصہ بنانے پرزور دیا گیا جو زندگی کی حقیقتوں کی نہ صرف ترجمان ہوں بلکہ ان مسائل کا مناسب حل بھی پیش کرتے ہوں جن سے عام انسان اپنی روز مرہ کی زندگی میں دوچار رہتا ہے۔ادب میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ وہ اشرافیہ طبقہ سے نیچے اتر کر غریب اور مزدور طبقے کی نمائندگی کرے۔ اس ضمن میں ملاحظہ ہو ترقی پسند مصنفین کے اعلان نامہ کا یہ اقتباس:8
’’ہندوستانی ادیبوں کا فرض ہے کہ وہ ہندوستانی زندگی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا بھر پور اظہارکریں۔اور ادب میں سائنسی عقلیت پسندی کو فروغ دیتے ہوئے ترقی پسند تحریکوں کی حمایت کریں۔ان کا فرض ہے کہ وہ اس قسم کے انداز تنقید کو رواج دیں جس سے خاندان، مذہب،جنس، جنگ اور سماج کے بارے میں رجعت پسندی اور ماضی پرستی کے خیالات کی روک تھام کی جا سکے۔ان کا فرض ہے کہ وہ ایسے ادبی رجحانات کو نشونما پانے سے روکیں جو فرقہ پرستی ،نسلی تعصب اور انسانی استحصال کی حمایت کرتے ہیں۔‘‘
علی سردار جعفری کا خیال ہے کہ ادیب اور مزدور عمل تخلیق میں یکساں اہمیت کے حامل ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم بھی ہیں لہٰذا ادیب اور مزدور کا اتحاد تخلیقی عمل کے لیے نہایت ضروری ہے۔ سردار اس اتحاد کو ’’تخلیقی اتحاد‘‘ کا نام دیتے ہیں۔وہ مزدوروں اور شاعر وادیب کے اس باہمی تعلق پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:9
’’وہ (مزدور)سماج کی دولت اور زندگی کی قدروں کے خالق ہیں ۔ہم آرٹ اور ادب کے خالق ہیں۔ہمارے اور ان کے سوا کوئی تخلیق نہیں کر سکتا۔۔۔اگر ہمارا اور ان کا اتحاد نہیں ہواتو ان کی تخلیق نامکمل رہ جائے گی اور ہماری تخلیق بھونڈی اور جھوٹی ہوگی۔اس لیے ادیبوں اور مزدوروں کا اتحاد تخلیقی اتحاد ہے۔‘‘
ترقی پسند تحریک جس کا بنیادی مقصدنہ صرف ادب کو زندگی کا آئنہ داربنانا تھا بلکہ ادب کے ذریعہ زندگی کو بہتر بنانابھی تھا،مزدور اور عوام کو اس کا جائز حق دلانے کی جد جہدبھی کرنا تھا ۔اس کے موضوع کے تعلق سے سردار جعفری کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو۔10
’’موضوع کو سماجی اہمیت ہونی چاہیے۔یعنی ایسا موضوع جو انسانوں کی زندگی، ماحول، ٹکراؤ، تضاد،جدوجہد، کشمکش، جنبش اور حرکت کا ترجمان ہو۔ جس کے ذریعہ سے سماج اور تاریخ کے عوامل اور روابط نمایاں ہو سکیں یعنی موضوع حقیقی اور سچا ہونا چاہیے‘‘
جب بھی ادب کے موضوع پر بات ہوگی تو دوسرا سوال خود ہی پیدا ہوگا کہ اس کی ہیئت کیا اور کیسی ہو؟ ہیئت اور موضوع میں باہمی تعلق کیا ہے؟موضوع اور ہیئت کی یہ بحث نئی نہیں ہے۔ لفظ و معنی کی بحث اردو کو فارسی اور اس سے قبل عربی سے وراثت میں ملی ہے۔قابل ذکر یہ ہے کہ اس بحث میں سردار موضوع کو شرف اولیت دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں سردار جعفری ہی کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو:11
’’موضوع پہلے بدلتا ہے ہیئت بعد میں بدلتی ہے۔اس اعتبار سے موضوع کو ہیئت پر اولیت حاصل ہے۔کیوں کہ ہیئت موضوع کے اظہار کی شکل ہوتی ہے۔موضوع کیوں بدلتا ہے؟ اس لیے کہ زمانہ،سماج اورانسان بدلتا ہے۔اور اس دائرے کے باہر موضوع کا تصور ممکن نہیں ہے۔یہی تبدیلی ہیئت کی تبدیلی میں کار فرمانظرآتی ہے۔اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہیئت کا مسئلہ بھی خالص فنی اور جمالیاتی نہیں بلکہ سماجی ہے‘‘
ترقی پسند تحریک کی پہلی کانفرنس سے ۱۹۴۷ء تک کی تقریباً ایک دہائی کا عرصہ اس تحریک کے عروج کا زمانہ کہا جا سکتا ہے۔اس دوران تمام نظریاتی اختلافات کے باوجود تحریک میں ایک اتحاد اور یک جہتی پائی جاتی ہے۔لیکن تقسیم کے بعد ایک بار پھر حالات تبدیل ہونے لگے ۔تقسیم کے سبب لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے، یہی نہیں فرقہ وارانہ فسادات بھی بھڑک اٹھے جس میں لاکھوں معصوموں کو اپنی جانیں گنوانی پڑی، عصمتیں نیلام ہوئیں۔ان حالات نے ہر ذی شعور انسان کو بری طرح متاثر کیا۔ان بدلتے ہوئے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے عمر رضا لکھتے ہیں:12
’’فسادات اور سیاسی بد نظمیوں کے سبب بہت سے شاعر و ادیب اپنی تحریروں سے یا تو فرقہ پرستی کی حمایت کرنے لگے تھے یا اس سے لذت اندوزی کا سامان فراہم کرنے لگے تھے۔پاکستان میں سعادت حسن منٹو اور حسن عسکری وغیرہ نے منفی رجحانات کو ہوا دی۔جذبات کی رو میں بہہ کر بہت سے شاعر وادیب بہت سی بے تکی چیزیں لکھنے لگے تھے۔البتہ بہت سے شاعر اور ادیب قدرے معتدل چیزیں بھی تحریر کررہے تھے‘‘
تقسیم ہند کے بعد متعدد مسائل نے جنم لیا۔جن میں ایک بڑا مسئلہ وہ فسادات تھے جو۱۹۴۶ء سے ۱۹۴۸ء تک جاری رہے۔جس نے ۱۹۴۷ء کے وسط میں اتنی بھیانک شکل اختیار کر لی کہ پنجاب اور بنگال کی تقسیم کے ساتھ ہندوستان اور پاکستان میں خون کی ندیاں بہہ گئیں،عصمتیں نیلام ہوئیں۔ایسے میں کچھ لوگوں نے فسادات کا خیر مقدم کیا(ممتاز شیریں)، بعض نے اس کا فرقہ وارانہ تجزیہ کرنے کی کوشش کی(ایم۔اسلم) تو بعض نے ان حولناک واقعات سے جنسی لذت اندوزی کا سامان حاصل کیا(منٹو)۔اور بعض ادیبوں نے ان فسادات کے سیاسی اور سماجی اسباب دریافت کرنے کی کوشش کی(کرشن چندر’پشاور ایکسپریس‘، احمد عباس ’جنتا‘ اور عصمت چغتائی’جڑیں‘ قابل ذکر ہیں)۔دوسرا اہم مسئلہ ریاست اور حکومت سے وفاداری کا تھاجو ہندوستان سے زیادہ پاکستان میں اٹھایا گیا نیز ’اسلامی ادب‘ کانعرہ بلند کیا گیا (ہندوستان میں ابراہیم جلیس اور دیگر ادیب وشاعر اور پاکستان میں حسن عسکری، ڈاکٹر تاثیر، ممتاز شیریں اور صمد شاہین وغیرہ) ۔انھیں مسائل میں تیسرا اور کہیں زیادہ پیچیدہ اور نازک ترین مسئلہ زبان کا تھا۔چونکہ ترقی پسند تحریک کسی ایک زبان سے متعلق نہ تھی بلکہ ملک کی تقریباً سبھی زبانوں کی تحریک تھی لیکن تقسیم کے بعدجب ہندوستان نے ’ہندی‘اور پاکستان نے ’اردو‘ کو اپنا قومی زبان بنا لیاتو ہندوستان کے اردو ادیب ایک نئے اور قدرے زیادہ پریشان کن حالات سے دوچار ہوئے۔ادھر فرقہ وارانہ تعصب کے چلتے بہت سے ادیبوں نے ہندی اور اردو کے تنازعہ میں ایک بار پھر سے دلچسپی لینی شروع کر دی تھی۔جو ان حالات سے کہیں زیادہ شدید تھی جب سر سید نے اپنا مشہور زمانہ ’’دوقومی نظریہ‘‘ پیش کیا تھا۔یہ حالا ت ان ہندی، اردو ادیبوں کے لیے یقیناً بڑے ہی صبر آزما رہے ہوں گے جنھوں نے برسوں سے ایک ساتھ مل کر ملک کی تحرک آزادی میں حصہ لیا تھا۔عمر رضا لکھتے ہیں:13
’’آزادی کے بعد ملکی حالات میں کافی تبدیلی آچکی تھی خاص طور پر۱۹۴۸ء سے ۱۹۴۹ء کا زمانہ بے حدافراتفری کا تھاوہ ترقی پسند ادیب جن کا تعلق کمیونسٹ پارٹی سے تھابنگال اور تلنگانہ کی عوامی تحریکوں کاساتھ دے رہے تھے۔اور ہندوستانی حکومت کی سیاسی پالیسوں کے خلاف آواز بلند کررہے تھے۔جس کے نتیجے میں یہ گرفتار بھی کیے جا رہے تھے۔ترقی پسندوں پر انتہا پسندی،پروپیگنڈسٹ،فرقہ پرستی اور ملک سے غداری کرنے کے الزامات عاید کیے جا رہے تھے۔ان حالات میں ترقی پسندوں کے کئی گروہ بن گئے۔‘‘
اسی زمانے میں یعنی ۱۹۴۹ء میں بمبئی میں ترقی پسند مصنفین کی پانچویں کل ہند کانفرس کی تیاری چل رہی تھی۔ حکومت کمیونسٹ پارٹی کو غیرقانونی قرار دے کر کانفرنس پر پابندی عاید کر چکی تھی اور سردار جعفری گرفتار کر لیے گئے تھے۔ان نا مساعد حالات میں ۲۷؍۲۸؍اور۲۹؍مئی ۱۹۴۹ء کو بھیمڑی میں ترقی پسند ادیبوں کی پانچویں کانفرنس منعقد ہوئی۔یہ کانفرنس اس اعتبار سے بھی کافی اہم ہے کہ اس میں ۱۹۳۶ء کے اعلان نامے کو موجودہ حالات کے پیش نظر ناکافی سمجھ کر نیا اعلان نامہ منظور کیا گیا۔بھیمڑی کانفرنس میں منظور شدہ نئے اعلان نامے کی شدت پسندی کے باعث نئے ادیبوں میں اس سے انحراف کا رویہ اسی وقت سے نظر آنے لگا تھا گرچہ تحریک کی چھٹی کل ہند کانفرنس (مارچ ۱۹۵۳ء)میں ایک بار پھر بھیمڑی کانفرنس کے اعلان نامے پر نظر ثانی کی گئی اور کسی قدر معتدل راستہ نکالا گیا لیکن اس سے بھی تعطل کی شکار انجمن کو نئی زندگی نہ دی جا سکی۔ادب میں تیزی سے نئے رجحانات داخل ہو رہے تھے۔بالخصوص ۱۹۵۰ء کے آس پاس جب چند پاکستانی ادیبوں نے ’اسلامی ادب‘ اور ہندوستان کے کچھ ترقی پسند ادبی جراید نے ’ادبی جمود‘ کا نعرہ بلندکیا۔ یہ تمام ہماری ادبی تاریخ کے اہم نشان راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ۱۹۵۵ء کے بعد اس میں شدت آگئی اور ’ادبی جمود‘ کے نعرے کو رد کرتے ہوئے آزادی سے قبل کے ادبی تصورات کو از سرنوپرکھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ خوب بحثیں ہوئیں۔ اس اعتبار سے خلیل الرحمن اعظمی اور وحید اختر کے نام قابل ذکر ہیں۔اور ۱۹۶۰ء تک آتے آتے ایک نئے رجحان ’جدیدیت ‘ نے ادبی منظرنامے پر اپنا مقام بنا لیا۔ان حالات کا ترجمان عمر رضا کایہ اقتباس ہے:14
’’ترقی پسند دور کی خطیبانہ شاعری کی جگہ اب خود کلامی نے لے لی تھی۔خارجی موضوعات کے بجائے داخلی تجربات کو شعر کی اساس بنایا جانے لگا۔رومانیت کا احیا ہوا۔اور کلاسیکی اصناف و اسالیب کی بازیافت ہونے لگی تھی۔نظم کے بجائے غزلوں کی طرف مراجعت ہوئی۔غلام ربانی تاباں، پرویزشاہدی،کیفی اعظمی اور مخدوم محی الدین وغیرہ نے عمدہ غزلیں پیش کیں۔اس طرح ترقی پسندی کے انتہائی عروج کے زمانے میں جن ادیبوں کی تخلیقات سیاسی اور سماجی ہوا کرتی تھیں اب وہ ایسی تخلیقات پیش کرنے لگے تھے جو اپنی سابقہ تخلیقات سے انحراف ہی نہیں بلکہ کافی حد تک انقطاع کا ثبوت دینے لگی تھیں۔چنانچہ نظریاتی اور فکری اعتبارسے آزادی کے بعد سے ۱۹۶۰ء تک کا زمانہ کافی اتھل پتھل کا زمانہ رہا ہے۔آزادی سے قبل جس طرح بلا تفریق مذہب وملت جدوجہدآزادی کے لیے یہاں کے تمام مکاتب فکر کے لوگوں نے جانفشانی اور لگن کے ساتھ انگریزوں سے لوہا لیا تھااور ملک کی آزادی کا خواب دیکھا تھاوہ ۱۵؍اگست ۱۹۴۷ء کو اگرچہ شرمندہ تعبیر ہوا لیکن اس کے ساتھ ہی ملک دو قومی نظریہ کی بنیاد پر منقسم بھی ہو گیا تھا۔جس کے نتیجہ میں فرقہ وارانہ فسادات نے ایک بھیانک شکل اختیار کر لی تھی اور وہی ہندو اور مسلمان جوکل تک آزادی کی جدوجہدمیں شانہ بشانہ چل رہے تھے۔اب ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے تھے۔‘‘
بیسویں صدی نصف اول میں سماج جس تیزی کے ساتھ کروٹ لے رہا تھا،سیاسی اور سماجی بحران کے شکار سماج کے اقدار جس طرح تبدیل ہو رہے تھے،نتیجۃً ادبی سطح پر جو موضوعاتی اور ہیئتی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں،ان حالات میں ایک طرف جہاں انقلابی رجحان پروان چڑھ رہا تھاوہیں دوسری طرف انحطاطی رویے نے بھی پر پرزے نکانے شروع کر دیے تھے۔جسے علی سردار جعفری نے بالترتیب ’انقلابی بحران‘ اور’ نراجی ہذیان‘ کا نام دیا ہے۔انقلابی رجحان یا ’انقلابی بحران‘ جو’ ترقی پسند تحریک‘ کے نام سے ادبی افق پر طلوع ہو چکا تھا۔وہیں مؤخر الذکر رجحان بھی ’حلقہ ارباب ذوق‘ کے نام سے اس کے پہلو بہ پہلو پروان چڑھ رہا تھا۔جس کا اولین نام ’بزم داستان گویاں‘ تھا اس کا اولین جلسہ جناب حفیظ صاحب ہوشیار پوری کی صدارت میں ۲۹؍اپریل ۱۹۳۹ء بروز شنبہ کو منعقد ہوا۔۳؍ستمبر ۱۹۳۹ء کو اس کا نام بدل کر ’’حلقہ ارباب ذوق‘‘ کر دیا گیا۔اس کے بارے میں علی سردار جعفری لکھتے ہیں:15
’’یہ ہیئت پرست،ابہام پرست اور جنس پرست ادیب تھے جن کے مشہور نمائندے میراجی، یوسف ظفر،ممتاز مفتی،مختار صدیقی وغیرہ تھے۔یہ ذہین اور ہوشیار لکھنے والے تھے جو یورپ کے انحطاطی ادب سے متاثر تھے،اور شعور کے بجائے تحت الشعوراور لاشعور پر اور معنویت اور مواد کوچھوڑ کر ہیئت اور اسلوب پر زور دیتے تھے۔۔۔ان کی بنیاد یہ تھی کہ ادب کا سماج سے کوئی تعلق نہیں۔ان کی رومانیت مجہول اورگندی تھی۔یہ خوابوں کو خارجی حقیقت سے الگ کر کے واہمے میں تبدیل کر دیتے تھے اور ان اندھے خوابوں سے ذاتی اور انفرادی تاثرات کو جو جنسی تجربوں تک محدود رہتے تھے،ایک داخلی دنیا بناتے تھے جس کے جغرافیے کا پتا لگانامعمولی انسان کا کام نہ تھا۔ان کا ’’انا‘‘ کسی قسم کی سماجی ذمہ داری کو برداشت نہیں کرتا تھاجس کا لازمی نتیجہ ابہام،قنوطیت اور فرار تھا۔‘‘
اس مخصوص رجحان کے تحت ادب تخلیق کرنے والے ادیبوں پر تبصرہ کرتے ہوئے آگے لکھتے ہیں:16
’’یہ ادیب اپنے عہد کے حساس بچے تھے جو جاگیرداری اور سامراجی سماج سے دوربھاگنا چاہتے تھے لیکن اسے تبدیل کرنے کی ذمہ داری نہیں لینا چاہتے تھے۔جاگیرداری اور سامراجی(سماج سے)بھاگ کر وہ عومی قدروں تک نہ آ سکے،اس لیے نراجیت کا شکار ہو گئے۔انھوں نے قدامت سے بچ کرجدت کی طرف قدم بڑھانے کی کوشش کی اور فرائڈ اور ٹی۔ایس۔ایلیٹ کی آغوش میں پہنچ گئے۔‘‘
ترقی پسند تحریک کی ادبی اور سماجی اہمیت، اس کی ذمہ داریوں،اس کے انتشار،خارجی عناصر پربے جا اصرار،ادب پر پڑنے والے اس کے مضر اثرات ،تحریک کے زوال اور اس کے اسباب نیزاس کے نتیجہ میں جنم لیتے ہوئے ادبی رجحانات پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر محمد حسن رقمطراز ہیں:17
’’یہ در اصل ادب کو ایک نئے اور زیادہ دشوار گذار راستے پر لے جانے کا کام تھا۔جوسماجی شعور ہی نہیں اس کا تہذیبی تجزیہ اور تاریخی عوامل کی روشنی میں اس کی چھان پھٹک کا مطالبہ کرتا تھا جواردو میں ابھی تک نہیں ہوا ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ اس دور کی نہایت قابل قدر کوششوں کے باوجوداس مہم میں مناسب پیش رفت نہیں ہو سکی۔ایک طرف تو شاعری کی آواز جھرجھرانے لگی اور صحافتی رنگ غالب آنے لگا اور شاعری اورافسانے سپاٹ لہجے سے بے رنگ ہونے لگے۔دوسری طرف ان کا رشتہ اپنے دور کے جذباتی اور ذہنی تقاضوں سے بھی ٹوٹنے لگا۔اور شعروادب محض رسمی ہو کر
رہ گئے۔پھر اس دور کا ادب اپنے طور پر فیصلے کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھا۔اور دھیرے دھیرے محض خارجی عوامل کا محتاج ہو کر رہ گیا ۔ جس کا نتیجہ بے روح اور بیرنگ تکرارلفظی کی شکل میں برامد ہوا۔تخلیقی رویوں میں تازگی کم ہوتی گئی۔اور فنکاروں میں فکرواحساس کی صورت محدود ہونے لگی۔‘‘
ترقی پسند تحریک کے زوال کے ساتھ ہی وجود میں آنے والے نئے رجحان’ جدیدیت‘کے تعلق سے محمد حسن کا یہ اقتباس درست معلوم ہوتا ہے: 18
’’ جدیدیت نے نئے پیرایہ بیان ہی نہیں نئے پیرایہ خیال پر بھی زور دیا اور نت نئے موضوعات کی طرف توجہ کی گو ان کا زور خارجی عوامل کے بجائے داخلی واردات پر تھا لیکن اس کے باوجود اندازبیان کی تازگی اور شگفتگی ضرور فراہم ہوئی۔‘‘
شعراء میں خلیل الرحمن اعظمی،وحید اختر،شاذتمکنت،شہریار،مغنی تبسم عمیق حنفی اور ندا فاضلی وغیرہ۔ افسانہ نگاروں میں سریندر پرکاش، غضنفراور شموئیل احمد وغیرہ نقادوں میں شمش الرحمن فاروقی، گوپی چند نارنگ، شمیم حنفی، مہدی جعفر، عتیق اللہ اور محمود ہاشمی وغیرہ اہم نام ہیں۔
رفتہ رفتہ جدیدیت کے زیر اثر لکھی جانے والی تحریریں بھی ایک قسم کی شدت پسندی کاشکار ہو گئیں اور غیر ضروری ابہام نے جگہ لے لی۔جدت طرازی کے شوق نے نت نئے کرتب دکھائے اور ادب پہیلی بن کر رہ گیا ۔تازگی وشگفتگی کے ساتھ ساتھ انفرادیت اور تخلیقی ندرت معدوم ہوتی چلی گئی۔اس کے بعد ادبی دنیا کو ایک نئے ماحول اورقدرے وسیع فضا کی تلاش ہوئی ۔خالص ترقی پسند اور خالص جدیدیت، دونوں سے الگ، ایک نئے راستے کی تلاش ۔جس میں کہ دونوں کے صالح عناصر کو شامل کر کے ایک صحت مند ادب کی کھوج کی جا سکے۔ جسے بعد میں ’مابعدجدیدیت‘ یا Post Modernismکا اصطلاحی نام دیا گیا۔
مذکورہ بالا صفحات میں اس عہد کی سیاسی اور سماجی حالات اور ان کے نتیجے میں تشکیل پانے والے ادبی رجحانات کا جائزہ لینے کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ یہ عہد سماجی اور سیاسی اعتبار سے جس طرح اتار چڑھاؤ سے بھر پور ہے بالکل اسی طرح ادبی اور نظریاتی اعتبار سے بھی اس میں کئی رنگ ہیں۔ایک طرف ترقی پسند ادبی تحریک ہے جو ادب کو سماج کے تابع قرار دیتی ہے،خارجیت اور مادی حالات کو بنیاد مانتی ہے ۔جو عوامی زندگی اور اس کی کشمکش سے اپنے موضوعات اخذ کرتی ہے۔ زبان میں سادگی اور سلاست پر زور دیتی ہے ۔ہیئت کوموضوع کے تابع قرار دیتی ہے اور ادیب کو سماج کا ایک ذمہ دار فرد تسلیم کرتی ہے۔ وہیں دوسرا رجحان جو بالکل اس کے شانہ بشانہ چلتا ہے وہ اس کے بالکل بر عکس مواد اور معنویت کے بجائے اسلوب اور ہیئت پر زور دیتا ہے،داخلیت کا پرستار ہے اور ادب اور ادیب کے سماجی ذمہ داریوں کا منکر ہے۔جسے ’حلقہ ارباب ذوق‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس کے بعد ’جدیدیت‘ وجود میں آتی ہے جو پیرایہ بیان کے ساتھ ہی پیرایہ خیال کو بھی اہمیت دیتی ہے۔ لیکن رفتہ رفتہ اس میں بھی شدت آتی ہے اور ادب کی ادبیت معدوم ہوتی چلی جاتی ہے ۔جس کے نتیجہ میںیہ رجحان بھی ماند پڑتا ہے اور ادب کو ایک نئے زاویہ سے پرکھنے کا سراغ ملتا ہے ۔جس میں قدیم اور جدید،کلاسیکی و غیر کلاسیکی، ترقی پسند و غیر ترقی پسند تمام رجحانوں کے صالح اقدار کو اپنے اندر سمونے کی کوشش کی گئی۔ جسے ’مابعدجدیدیت‘کے نام سے جانا جاتا ہے۔
– – – – – – –
حواشی :
(1)۔ سجاد ظہیر،ذکر حافظ، ص:۱۱
(2)۔سجاد ظہیر، روشنائی: ص: ۲۷
(3)۔علی سردار جعفری، ترقی پسند ادب: ص: ۱۶۶
(4)۔پریم چند،مضامین پریم چند، عتیق احمد،ص: ۱۸۲۔۱۸۳
(5)۔پریم چند، مضامین پریم چند ،ص: ۱۷۴۔۱۷۵
(6)۔ ایضاً۔ص: ۱۸۹
(7)۔اختر حسین رائے پوری،پچاس سالہ سفر:ترقی پسند ادب۔مرتبہ قمر رئیس اور سید عاشور کاظمی۔ص:۱۵۷
(8)۔علی سردار جعفری،ترقی پسند ادب: ص: ۲۳
(9)۔ایضاً:ص: ۶۲
(10)۔ ایضاً،ص:۷۵
(11)۔علی سردار جعفری، ترقی پسند ادب،ص:۸۲
(12)۔عمر رضا، علی سردار جعفری،ص:۱۷۸
(13)۔عمر رضا ، علی سردار جعفری: ص: ۱۹۶
( 14)۔عمر رضا، علی سردار جعفری:ص: ۱۲۳۔۱۲۴
(15)۔ علی سردار جعفری،ترقی پسند ادب: ص ۱۷۴
(16)۔علی سردار جعفری،ترقی پسند ادب: ۱۷۵
(17)- محمد حسن،سردار جعفری اور ادب کی سماجی معنویت: ص:۱۹۱۔۱۹۲
(18)۔ محمد حسن، سردار جعفری اور ادب کی سماجی معنویت: ص:۱۹۲