اسلام اورتعمیرانسانیت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ امدادالحق بختیارقاسمی

islam  انسانیت
اسلام اورتعمیرانسانیت

امدادالحق بختیارقاسمی
مرکز علم وادب، فریدی منزل، پروہی، مدھوبنی، بہار

09032528208

مسلمان ایک محنتی اور جفاکش انسان کا نام ہے ، جو صرف اپنی اصلاح اور خیر خواہی پر اکتفا نہیں کرتا؛ بلکہ دوسروں کی بھلائی اور اللہ تعالی راستے کی طرف ان کو دعوت دینے کے لیے محنت ومشقت سے کام لیتا ہے ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے : زمانہ کی قسم تمام انسان خسارہ میں ہیں ؛ مگر وہ لوگ جو مومن ہیں، نیک کام کرنے والے ہیں ،حق اور دین کی بات اور صبر و اطاعت کی دعوت دینے والے ہیں ۔(العصر:۱۔۳)

سورہ عصر اختصار کے ساتھ دنیا اور آخرت کی ناکامی سے نجات کے لیے اس بات کو شرط قرار دیتی ہے کہ انسان کے لیے ایمان اور اعمال صالحات کے ساتھ ساتھ حق اور صبر کی دعو ت بھی لازمی ہے ؛چناں چہ سورت میں موجود لفظ ’’تواصوا‘‘ کے معنی ہیں کہ ایک مسلمان دوسرے کو حق کی تلقین کرے اور اس کی دعوت دے اور دوسرے کی بھی اسی طرح کی دعوت کو قبول کرے ؛ چناں چہ اس آیت کے مطابق ہر مسلمان ایک ہی وقت میں خیر کاداعی بھی ہے اور مدعو بھی ؛کیوں کہ اس کا یقین ہے کہ اس کا پیغام تمام عالم ، ہرزمانہ اور پوری زندگی کے لیے ہے ؛لہذا وہ اس کو پھیلانے اور اس کی رحمت کو تمام عالم میں عام کرنے کی بھر پور کوشش کرتا ہے ۔
اسلام کے رسول رحمت للعالمین
اللہ پاک کا ارشاد گرامی ہے : ہم نے آپ کو تمام عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔(سورۃ الانبیاء:۱۰۷)قرآن کی اس تعلیم کے مطابق محمد ﷺ پوری دنیا کے لیے رحمت بناکر بھیجے گئے ؛جیساکہ حضورﷺ خود اپنے بارے میں فرماتے ہیں : میں رحمت اور ہدایت کا ذریعہ ہوں۔(صحیح الجامع البانی) آنحضرتﷺ کی طرح آپ کی امت اور تمام متبعین بھی دنیا کے لیے رحمت ہیں ؛کیوں کہ رسول اللہ ﷺ کی طرح یہ بھی ایک اللہ کی دعوت دیتے ہیں اور اسے ہی خالق ومالک مانتے ہیں ، اللہ تعالی رسول ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں : آپ کہہ دیں کہ یہ میرا راستہ ہے ، میں اور میری اتباع کرنے والے پوری بصیرت کے ساتھ اللہ کی دعوت دیتے ہیں ۔(سورہ یوسف: ۱۰۸)لہذا نبیﷺ کا ہر متبع بصیرت تامہ کے ساتھ اللہ کی دعوت دیتا ہے ،نیز صحابی رسول ربعی بن عامر ایران کے قائد رستم سے کہتے ہیں : بالیقین اللہ تعالی نے ہمیں بھیجا ہے ؛ تاکہ ہم لوگوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی عبادت کی طرف لائیں اور دنیا کی تنگی سے اس کی فراخی کی طرف اور باطل ادیان ومذاہب کے ظلم سے اسلام کے عدل وانصاف کی جانب لائیں ۔
مسلمان پہلے اپنے خاص دائرے سے اپنی دعوت کا آغاز کرتا ہے ،جیسے اہل وعیال اور قریبی رشتہ دار ، چناں چہ اللہ تعالی فرماتے ہیں :اے مومنوں اپنے آپ کو اور اہل وعیال کو ایسی جہنم سے بچاؤ ، جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔(سورۃ التحریم:۶)نیز فرمان باری عزوجل ہے:اپنے اہل خانہ کو نماز کی تاکید کرو اور خود بھی اس پر کاربند رہو، ہم آپ سے روزی کا مطالبہ نہیں کرتے ،یہ تو ہم خود آپ کو عطا کریں گے اور بہترین انجام تقوی کی بنیاد پر ہوگا۔ (سورہ طہ: ۱۳۲)
معاشرے کے تئیں ایک مسلمان کی ذمہ داری
پھر مسلمان اپنی دعوت کو اپنے آس پاس معاشرے تک پھیلاتا ہے ،بھلائی کی دعوت دیتا ہے ، برائی سے روکتا ہے ، اچھی باتوں کی تلقین کرتا ہے اور برے کاموں سے منع کرتا ہے ، لہذا کسی مسلمان کے لیے زیب نہیں کہ وہ ایک ڈھیلے ڈھالے اور لاپرواہ انسان کی طرح رہے اور برائی کو عام ہوتا ہوا اور اچھائی کو دم توڑتا ہوادیکھتا رہے؛ بلکہ اس کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ آگے بڑھے اور اگر طاقت ہو تو بزور بازو برائی کا خاتمہ کرے ،یا زبان سے اس پر نکیر کرے ،یا کم ازکم دل میں تکلیف محسوس کرے اور یہ ایمان کا سب سے کمزوردرجہ ہے ۔
اہم بات یہ ہے کہ طویل خاموشی سے منکر اور برائی کہیں شریعت کا حصہ نہ بن جائے ؛کیوں کہ یہ معاشرے پر اللہ کی لعنت کا ذریعہ ہوگااور اس کی ناراضگی اور عذاب کا سبب ، مسلمان کو چاہیے کہ برائی کے مقابلہ میں کمزور نہ پڑیں؛ چاہے امر منکر کا ارتکاب کرنے والے ارباب اقتدار اور بڑی شان وشوکت والے افراد کیوں نہ ہوں ، حکمت کے ساتھ اوراچھے انداز میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہیں ، کیوں کہ حق اور یقین انہیں کے ساتھ ہے جبکہ یہ یقینی بات ہے کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے، کوئی اسے کم بھی نہیں کرسکتا ،نیز موت وقت سے پہلے نہیں آسکتی ، اس کی گھڑی اللہ کے یہاں طے ہے ، یہی عقیدے امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکی دعوت کی داخلی طاقت اور قوت ہیں ؛بلکہ یہی عقیدہ اسے آمادہ کرتا ہے کہ وہ زبان سے، جان سے اور مال سے جہاد کرے ؛ تاکہ اللہ کا پیغام تمام انسانوں تک پہنچائے،جیساکہ حدیث شریف میں ہے: اپنے مال ،ہاتھ اور زبان سے مشرکین سے جہاد کرو۔ (سنن نسائی) اور قرآن کریم کی نظر میں دعوت وتبلیغ جہاد اکبر میں سے ہے،جیساکہ اللہ تعالی نے اپنے رسول ﷺ سے فرمایاہے:کافروں کا کہنا نا مانیں اور قرآن کے ذریعہ ان سے بڑا جہاد کریں۔ (سورۃ الفرقان:۵۲)
مسلمان عقل اور علم والا انسان
جب مسلمان ایمان وعقیدہ سے متصف ہے ،تو وہ عقل اورعلم سے بھی متصف ہوگا ؛کیوں کہ اسلام میں ایمان اورعقل کے درمیان کوئی تعارض نہیں اور نہ ہی دین اور علم کے درمیان کوئی تضاد ہے،اسلام کا یہ امتیاز ہے کہ وہ مسلمانوں کو دیگر ادیان کی طرح یہ نہیں کہتا کہ اندھے اور بہرے کی طرح اعتقاد رکھو ، اللہ پاک کا ارشاد ہے : بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہو ،اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے ،جس کے برے اعمال اس کے لیے مزین کردیے گئے ہوں۔(سورۃ محمد:۱۴)
اسلام ایک مسلمان کو تعلیم دیتا ہے کہ اپنے عقیدہ کی بنیاد یقینیات پر رکھے ،نہ کے ظن اور تخمینات پر اور بالکل واضح دلائل پر اعتماد کرے نہ کہ تقلید محض کرے،قرآن تمام اہل ادیان ومذاہب کو چیلنج کرتا ہے : آپ کہہ دیں : کوئی واضح دلیل لاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔(سورۃ البقرہ:۱۱۱)اور قرآن مشرکین کی مذمت کرتا ہے :مشرکین محض ظنیات اور غیر یقینی باتوں پر چلتے ہیں ،جبکہ ظنیات حق کے مقابلے میں کچھ بھی نفع بخش نہیں ۔ (سورۃ النجم : ۲۸) جس طرح قرآن نے مقام یقین میں ظن کی اتباع کی مذمت کی ہے اسی طرح خواہشات نفس کی پیروی سے بھی روکا ہے، اللہ تعالی فرماتے ہیں : وہ محض ظن اور خواہشات نفس کے پیچھے چلتے ہیں، جبکہ ان کے رب کی جانب سے ہدایت آچکی ہے۔ (سورۃ النجم:۲۳)
ناقابل قبول تقلید کی قسمیں
آباؤاجداد کی تقلید کے تعلق سے مکی سورتوں میں کئی آیتیں ہیں،مثلا :جب بھی ہم نے کسی بستی میں کسی رسول کو بھیجا ،تو وہاں کے اہل ثروت لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے آباؤاجداد کو ایک طریقہ پر پایاہے اور ہم انہیں کی اتباع کریں گے ۔(سورہ زخرف:۲۳)اسی طرح قرآن کریم مدنی سورتوں میں بڑے لوگوں اور سرداروں کی تقلید کی مذمت میں آخرت کا انجام ، وہاں کے بعض مشاہدات ،عذاب میں گرفتار لوگوں کا آپس میں ایک دوسرے کو لعن طعن کرنے کو بیان کرتا ہے،اللہ فرماتے ہیں :پہلے لوگوں کی جماعت بعد کے لوگوں کی جماعت سے کہے گی : ہمارے مقابلے میں تمہیں کوئی ترجیح نہیں ؛لہذا تم بھی اپنے اعمال کے بدلے عذاب چکھو۔(سورۃ الاعراف:۳۹)
غلط باتوں ،عادتوں اور معاملات میں لوگوں کی تقلید کی حدیث شریف نے برائی بیان کی ہے :کوئی ہر ایک کی ہاں میں ہاں ملانے والے نہ بنے،کہ اس طرح کہے کہ میں لوگوں کے ساتھ ہوں ، اگر وہ میرے ساتھ اچھا برتاؤ کریں گے ،تو میں بھی ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کروں گا ، اور اگر وہ برا کریں گے ،تو میں بھی برا کروں گا ؛بلکہ اپنے آپ کواس بات کا عادی بناؤ کہ لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرو ؛اگر وہ تمہارے ساتھ اچھا سلوک کریں اور اگر وہ برا سلوک کریں ،تو تم ظلم نہ کرو۔(سنن الترمذی)
تدبروتفکر اور غور وفکر
دوسری جانب قرآن کریم انتہائی بلیغ انداز میں اللہ تعالی کی قدرت کی نشانیوں میں ،قرآن کی آیتوں میں غوروفکر پر ابھارتا ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے : آپ کہہ دیں کہ غورکرو کہ آسمانوں اور زمینوں میں کیا ہے۔(سورہ یونس: ۱۰۱)
عقل کی اہمیت
مسلمانوں کے نزدیک عقل وحی الہی کے خلاف نہیں ہے؛بلکہ اس کی صداقت کی دلیل ہے ؛اسی لیے اہل علم محققین عقل کو نقل کی بنیاد ٹھہراتے ہیں ؛ کیوں کہ اگر عقل نہ ہو تو ہم اللہ کے وجود کو نہیں جان سکتے اور نہ ہی اس پر دلائل قائم کر سکتے ہیں اور نہ دہریوں اور ملحدین کے شبہات کے جواب دے سکتے ہیں نیز اگر عقل نہ ہوتی، تو وحی کے امکان او راس کے وقوع اور انبیاء ورسل اور آخری نبی ﷺکی تصدیق پر کوئی واضح دلیل قائم نہ ہوسکتی ، ہاں عقل کی کچھ حدود ہیں ، جن سے تجاوز کرنا مناسب نہیں، ورنہ گمراہی کی وادیوں میں بھٹکتے پھریں گے۔
حصول علم کا فریضہ
مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ ہر علم نافع کو حاصل کرے ؛کیوں کہ علم کا حصول ہر مسلمان مرد وعورت پر فرض ہے اور اللہ تعالی نے انسان کو علم کے اسباب بھی عطا کیے ہیں ؛لہذا یہ جائز نہ ہوگا کہ ان اسبا ب کو بیکار کیا جائے ، اللہ سبحانہ وتعالی فرماتے ہیں : اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤوں کے پیٹ سے باہر نکالا، جبکہ تم کچھ نہیں جانتے تھے اور تمہارے کان،آنکھ اور دل بنائے ؛تاکہ تم شکر گزار بنو۔ (سورۃ النحل)اور قرآن کفار کی مذمت کرتا ہے اور انہیں جہنم کا ایندھن قرار دیتا ہے ؛ اس لیے کہ وہ ان اسباب علم کو ناکارہ کرتے ہیں ۔
علم کی بنیاد پر ہی مسلمانوں نے عظیم اسلامی تہذیب وتمدن قائم کی ،جو علم اور ایمان دونوں کو جامع تھی ،جس کے آثار علوم ومعارف کی شکل میں لوگوں کی زندگی میں ایک لمبے زمانے تک چھائے رہے۔
مسلمان انسان: تعمیر وترقی
مسلمان اپنے دیر کا راہب نہیں ہے ؛بلکہ وہ عمل اور پیداوار والا انسان ہے ،زندگی کواتنا ہی دیتا ہے ،جتنا اس سے لیتا ہے اور زندگی کی تعمیر کو انسانی تخلیق اور خلافت ارضی کا ایک مقصد سمجھتاہے ،اللہ فرماتے ہیں:اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور اب وہ تم سے دنیا میں تعمیر چاہتا ہے ۔(سورہ ہود:۶۱) اللہ نے زمین کو انسان کا بستر اور بچھونا بنایا ؛ تاکہ جب تک مرضی خداوندی ہو انسان اس دینامیں رہ سکے اور مسلمان سے اس کے آخری سانس تک عمل ، کوشش، محنت اور زندگی کی تعمیر کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔