داستان : جانِ عالم کا توتا – – – مرزا رجب علی بیگ سرور

rajjab ali

جانِ عالم کا توتا (داستانِ فسانہء عجائب)

مرزا رجب علی بیگ سرور

نوٹ: فورٹ ولیم کالج کی پہلی داستان باغ و بہار کے منظر عام پر آتے ہی اردو زبان و ادب میں ایک طوفان برپا ہوگیا۔ہر طرف سادہ اور سلیس زبان کے چرچے ہونے لگے پھر دیکھتے ہی دیکھتے اردو نثر پر باغ و بہاری اسلوب نے اپنا سکہ جمانا شروع کردیا ۔ ان دنوں دبستان لکھنو کے نمائندہ نثر نگارمرزا رجب علی بیگ سرورنے باغ وبہار کے اسلوب کی رد میں داستانِ فسانہء عجائب مقفیٰ و مسجع ومرصع عبارت میں تحریر کی۔ فسانہ نثر عجائب ان کی سب سے مشہور تصنیف ہے۔جوایک ادبی شاہکار اور قدیم طرز انشاءکا بہترین نمونہ ہے۔ اس کی عبارت مقفٰفی اور مسجع ، طرز بیان رنگین اور دلکش ہے۔ ادبی مرصع کاری ، فنی آرائش اور علمی گہرائی کو خوب جگہ دی گئی ہے۔۔ جان عالم کا توتا ‘ داستان فسانہء عجائب سے ماخوذ ہے۔
– – – – –

بلبلِ نوا سنج ‘ ہزار داستان ‘ طوطئ خامۂ زمزمہ ریزِ خوش بیان لکھتا ہے کہ بعدِ رسمِ شادی ‘ سیر و شکار کی اجازت ‘ سواری کا حکم‘ شاہ ذوی الاقتدار سے حاصل ہوا ۔ ایک روز گزر اس کا گزری میں ہوا ۔ انبوہِ کثیر جمِّ غفیر نظر آیا اور غلغلۂ تحسیں و آفریں از زمین تا چرخِ بریں بلند پایا ۔ شہزادہ اُدھر متوجہ ہوا۔ دیکھا ایک مردِ پیرِ نحیف ‘ ستّر اسّی برس کا سِن ‘ نہایت ضعیف ‘ پنجرا ہاتھ میں لیے کھڑا ہے ۔ اس میں ایک جانور ماندِ ساکنانِ جناں سبزپوش ‘ خانہ بدوش‘ بارمنقارِ گل نار ‘ لطیفے لطیف ‘ رنگین اور نکتے قابلِ تعریف ‘ پر تمکین بیان کرتا ہے ۔
شہزادے کے دیکھتے ہی توتا اپنے مالک سے بولا ،’’اے شخص ! کوکبِ بخت تیرا ‘ افلاسِ برجِ تیرہ سے نکلا ‘ نصیب چمکا ‘ طالع برسریاری و زمانہ آمادۂ مددگاری ہوا ۔ دیکھ ! ایسا شہزادہ حاتم شعار ‘ ابرِ گہر بار ‘ متوجّہ اس مشتِ پر ‘ ذرّۂ بے مقدار پر ہُوا ۔ بحدّے کہ جانور ہوں اور بلّی کا کھاجا نہیں ۔ مگر جویہ نظرِ عنایت کرے ‘ ابھی تیراہاتھ پر زر ہو ‘دامن گُہرے بھرے ۔
جانِ عالم نے یہ سخن ہوش رُبا ‘ کلمۂ حیرتِ افزا سُن ‘ توتے عقل کے اڑا ‘ پنجرا اس طائرِ ہمہ داں ‘ جانورِ سحر بیاں کا ہاتھ میں لے کے مالک سے قیمت پوچھی ۔ توتے نے کہا جو حضور کی مرضی ۔ جانِ عالم نے لاکھ روپے خلعت کے سوا عنایت کیے اور پنجرا ہاتھ میں لیے ‘ دولت سرا کو روانہ ہوا ۔ گھر میں جاماہ طلعت کو توتا دکھا‘یہ مصرع انشاء کا پڑھا ع
بازار ہم گئے تھے ایک چوٹ مول لائے
توتے نے شہزادے کو سخنانِ دل چسپ ‘ قصصِ عجیب ‘ حکایاتِ غریب ‘ شعرِ خوب ‘ خمسہائے مرغوب سُنا ‘ اپنے دامِ محبت میں اسیر کیا ۔ یہ نوبت پہنچی کہ سوتے جاگتے ‘ دربار کے سِوا جدا نہ ہوتا ۔ جب دربار جاتا پنجرا بہ تاکیدِ حفاظت ماہ طلعت کو سونپ جاتا اور دربار سے دیوانہ وار بہ شوقِ گفتار ‘ بے قرار ‘ جلد پھر آتا ۔
ایک دن شہزادہ دربار گیا ۔ توتا محل میں رہا ۔ اس روز ماہ طلعت نے غسل کیا اور لباسِ مکلف سے جسم آراستہ ‘ زیورِ پرتکلف سے پیراستہ ہو ‘ جواہرنگارِ کرسی پر بیٹھی ۔ ہوا جو لگی ‘ آئینہ میں صورت دیکھ خود محوِ تماشاہوئی۔ بحر عجب ونخوت میں آشنا ہوئی ۔ خواصوں سے ‘ حلبیسوں سے ‘ جوجو دم ساز ‘ محرم رازتھیں ‘ اپنے حسن و صورت کی داد چاہی ۔ ہرایک نے موافقِ عسل و شعور تعریف کی ۔ کسی نے کہا ’’ہلالِ عید ہو ‘‘کوئی بولی ’’خدا جانتا ہے دید ہونہ شنید ہو ‘‘۔
جب وہ کہہ چکیں ماہ طلعت نے کہا ’’توتا بہت عقل مند ‘ ذی شعور سیاحِ نزدیک و دور ہے‘ اس سے پوچھنا ضرور ہے ‘ مخا ہوئی کہ ’’ اے مرغِ خوش خو ‘ و طائر زمرّد لباس ‘ سُرخ رو‘ بذلہ سنج ‘ بے رنج ! سچ کہنا ‘ اس سج دھج کی صورت کبھی تیرے وہم و خیال کی نظر سے گذری ہے ؟‘‘
اس وقت توتا رنجیدہ دل ‘ کبیدہ خاطر بیٹھا تھا ‘ چپ ہورہا ۔ شہزادی نے پھر پوچھا۔ توتے نے بے اعتنائی سے کہا ، ’’ایسا ہی ہو‘‘ ___ یہ رنڈی معشوق مزاج‘ طرّہ یہ کہ شہزادے کی جورو‘ شوہر مالکِ تخت و تاج ‘ برہم ہوکے بولی ، ’’ میاں مٹھو ! جینے سے خفا ہو جو ہمارے روبرو چبا چبا کے گفتگو کرتے ہو؟‘‘
پھر تو شعلۂ غضب کا نونِ سینۂ شہزادی میں مشتعل ہوا ۔ کہا ،’’کیوں جانورِ بدتمیز ناچیز ‘ تیری موت آئی ہے ؟ کیا بے ہودہ ٹیں ٹیں مچائی ہے ، واہی تباہی بک رہا ہے ‘ ہمارا مرتبہ نہیں سمجھتا ؟‘‘
توتے کے منھ سے نکلا ’’کیوں اتنا خفا ہوتی ہو؟ اپنامنھ ملا حظہ کرو ! صاحب تم بڑی خوب صورت ہو ۔‘‘ یہاں تو یہ حیص بیص تھی کہ جانِ عالم تشریف فرما ہوا ۔ عجب صحبت دیکھی کہ شہزادی بہ چشمِ پرآبگ و بادل کباب ‘ غیظ میں آ ‘ تھرّتھرّا ‘توتے سے بحث کررہی ہے۔ شہزادے نے فرمایا ،’’خیر باشد ؟‘‘
توتا بولا ، ’’آج نِرا شر ہے ۔ خیر بخیر ‘ مگرحیاتِ مستعار اس وحشی کی اور آب و دانہ قفس میں پینا کھانا باقی تھا ۔ اگر آپ اور گھڑی بھر دیر لگاتے ‘ تشریف نہ لاتے تومیرا طائر روح گربۂ غضبِ شہ زادی سے مجروح ہو ‘ پرواز کرجاتا ۔ ہرگزجیتا نہ پاتے ۔ مگر پنجرا خالی دیکھ مزاج عالی پریشان ہوتا ‘ حسرت و افسوس فرماتے ۔ انشاؔ ع –
توتا ہمارا مرگیا کیا بولتا ہوتا
ماہ طلعت ان باتوں سے زیادہ مُکدّر ہوئی ۔ شہ زادے سے کہا ’’اگر میری بات کا توتا صاف جواب نہ دے گا تو اس نگوڑے کی گردن مروڑ اپنے تلوؤں سے اس کی آنکھیں کلوں گی ، جب دانہ پانی کھاؤں پیوں گی ۔‘‘
جانِ عالم نے کہا ’’ کچھ حال تو کہو ‘‘۔
توتے نے گزارش کی ’’حضور! یہ مقدمہ غلام سے سنیے ۔ آج شہ زادی صاحب اپنی دانست میں بہت نکھر بقاؔ ع – دیکھ آئینے کو کہتی تھی کہ اللہ ری میں ‘‘ ۔۔۔ پھر مجھ سے فرمایا ’’تونے ایسی صورت کبھی دیکھی تھی ؟ مجھ اجل رسیدہ کے منھ سے نکلا ’’خدا نہ کرے ‘‘ ۔ اس جرم قبیح پر شہزادی کے نزدیک کشتنی ‘ سوختنی و گردن زدنی ہوں ۔ ‘‘
جانِ عالم نے کہا ’’تم بھی کتنی عقل سے خالی ‘ا حمق سے بھری ہو‘ تم تو پری ہو‘ اورجانور کی بات پراتنا آزردہ ہونا ‘ گو‘ گویا ہے ‘ پھر طائر ہے ‘ نادانی اس کی ظاہر ہے ۔‘‘
میاں مٹّھو کو ان باتوں کی تاب نہ آئی ۔ آنکھ بدل کے روکھی صورت بنائی اور ٹیں سے بولا ’’خداوند نعمت! جھوٹ جھوٹ ہے ‘سچ سچ ہے ۔ ہم سر جس کاکوئی نہیں ‘ وہ ذات وحدۂ لاشریک لہٗ کی ہے ۔ اس کے سوا ایک سے ایک بہتر اور بدتر ہے ۔ میں نے جھوٹ اور سچ دونوں سے بچ کر ایک کلمہ کہا تھا ، اگر راستی پر ہوتا ‘ گردن کج کیے سیدھا گور میں سوتا ۔‘‘
جانِ عالم نے مجبور ہوکر کہا ، ’’جو ہو سو ہو ، مِٹّھو پیارے سچ کہہ دو ۔ ‘‘
توتے نے بہ منت عرض کی ’’ دروغِ مصلحت آمیز بہ از راستی فتنہ انگیز مجھ سے سچ نہ بلوائیے‘ میرا منھ نہ کھلوائیے ۔ نہیں انجامِ راستی حضور کے دشمنوں کو دشت نوردی بادیہ پیمائی ‘ غریب الوطنی ‘ کوچہ گردی نصیب ہوگی ۔ ‘‘
شہ زادے نے کہا ’’یہ جملہ تم نے اور نیا سنایا ۔ اب جو کہنا ہے ‘ کہا چاہیے ‘ باتیں بہت نہ بنائیے ۔‘‘
اس نے کہا ’’میں نے ہرچند چاہا ‘ آپ رنجِ سفر مصائب شہر بہ شہر ‘ ایذائے غربت سے باز رہیں کہ سفر اورسَقر کی صورت ایک ہے ‘ اس سے بچنا نیک ہے ‘ مگر معلوم ہوا کہ حضور کے مقدر میں یہ امر لکھا ہے ‘ میرا قصور اس میں کیا ہے ۔‘‘
’’سنیے قبلۂ عالم ! یہاں سے برس دن کی راہ ‘ شمال میں ایک ملک ہے ‘ عجائب زرنگار ‘ ایسا خطہ ہے کہ مرقع خیالِ مافی و بہزاد میں کھنچا ہوگا ۔ اور پیرِ دہقانِ فلک نے مَزرعۂ عالم میں نہ دیکھا ہوگا۔ شہر خوب ‘ آبای مرغوب ۔ رنڈی ‘ مرد ‘ حسین ‘ طرح دار ‘مکان بلّور کے ‘ بلکہ نور کے ‘ جواہر نگار۔ عقلِ باریک بیں مشاہدے سے دنگ ہوا‘ خلقت اس کثرت سے بستی ہے کہ اس بستی میں وہم و فکرکو عرصہ تنگ ہو۔ خورشید ہر سحر اس کے دروازے سے ضیا پاتا ہے ‘ بدرِ کامل وہاں دودن نہیں رہتا ‘ غیرت سے کاہیدہ ہو ‘ ہلال نظر آتا ہے ۔ وہاں کی شہ زادی ہے انجمن آرا ۔ اس کا تو کیا کہنا ! کہاں میری زبان میں طاقت اور وہاں میں طلاقت جو شمہ مذکور شکل و شمائل اس زہر جبیں ‘ فخرش لعتبانِ لندن و چین کا سناؤں ۔‘‘ لیکن سات سَے خواص ‘ زرّیں کمر ‘ تاجِ دل بری برسر‘ ماہ رو ‘ عنبریں مو‘ سرگروہِ خوبانِ جہاں ‘ جانِ جاں ‘ آرامِ دلِ مشتاقاں اس کی خدمت میں شب و روز سرگرمِ خدمت گزاری بڑی تیاری سے رہتی ہیں ۔ اگر ان کی لونڈیوں کو شہزادی صاحب بچشم انصاف دیکھیں اور کچھ غیرت کو بھی کام فرمائیں ‘ یقین تو ہے چلّو بھر پانی میں محجوب ہوکر ڈوب جائیں ۔ ‘‘
ماہ طلعت یہ سُن کرسُن ہوئی ۔ سرجھکالیا ۔ جانِ عالم نے پنجرا اٹھایا ‘دیوان خانے میں لے جا مفصّل حال دریافت کرنے لگا ۔ ہردم ‘دمِ سرد دلِ پُردرد سے بھرنے لگا ۔
توتے کو شہزادے کی طرزِگفتگو ‘ رنگِ روٗ ‘ آنکھ کی تری ‘ ہونٹ کی خشکی ‘ دل کی دھڑک ‘ کلیجے کی پھڑک سے کہ یہ نشانِ عشق ‘ گمان خطب سب ہیں ۔ ثابت ہوا کہ شہ زادے کا دل پرزے پرزے اور دماغ عقل سے خالی ہوا ۔ خیالِ محالِ وصالِ انجمن آرا بھرا ۔ سخت نادم و خجل ہوکر دل سے کہا ، ’’کم بخت زبان نے سن‘ حسن کے بیان نے غضب کیا ۔ مَنْتَر کارگر ہوا ، پڑھا جن پر سرپر چڑھا ‘ حضرتِ عشق کا گزر ہوا ۔ ‘‘ چاہاکہ یہ لطائف الحِیَل اس عزم بے جا سے باز رکھے ۔ کہا ’’اے نادان ، دشمنِ جان ! یہ قصد لاحاصل ہے ۔ عمداً اس کوچے میں پاؤں نہ دھراپنے خون سے ہاتھ نہ بھر ‘ بیان اس کا محال ہے ‘ مگر مختصر یہ حال ہے ۔ عقل اس کام میں دور ہوجاتی ہے ۔ وحشت نزدیک آتی ہے ۔ لب خشک تر‘ چہرہ زرد ‘ دل خون ہوتا ہے ‘ بھوک پیاس مرجاتی ہے ‘ خواب میں نیند نہیں آتی ہے ‘ جانِ شیریں تلخ ہو ‘ کلیجے میں درد ‘ آخر کو جنون ہوتا ہے ۔ لختِ جگر کھاتا ہے ۔خون دل پیتا ہے ‘ مرمر کے جیتا ہے ۔ رقیبوں کے طعنوں سے سینہ فگار ہوتا ہے ‘ لڑکوں کے پتھروں سے سرگلنار ہوتا ہے ۔ دن کو ذلّت و خواری ‘ شب کو انتظار میں اختر شماری ‘ بے قراری سے قرار ‘ سب کی نظر میں ذلیل و خوار ‘ جنگل میں جی لگتا ہے ‘ بستی اُجاڑ معلوم ہوتی ہے ‘ دربہ درپھرنے میں دن تو کٹ جاتا ہے ‘ تنہائی کی رات پہاڑ معلو ہوتی ہے ۔ دل جلتا ہے ‘ دیدے سے دریا اُبلتا ہے ۔ شجرِ تمنّا بے برگ و بار رہتا ہے ۔ پھولتا ہے نہ پھلتا ہے ۔ جوانی کا گھُن پیری تک ادھیڑ بَن رہتی ہے ۔ گونگا بہرا بن جاتاہے ۔ طبیعت سُن رہتی ہے ۔ ابھی پہلی بسم اللہ ہے ۔ ٹھنڈی سانسیں بھرتے ہو ‘ لب پر آہ ہے ۔ دیکھا نہ بھالا ہے ‘ سینے کے پار عشق کا بھالا ہے ۔ آئینہ ہاتھ میں لے منھ تو دیکھ نقشہ کیا ہے‘ معشوقِ باوفا کَو گردِ سُرخ‘ لعلِ سپید سے نایاب ہوا ہے۔ کہاں ملتا ہے ‘ خاک میں ڈھونڈتے ڈھونڈتے خواہاں ملتا ہے ۔ یہ جو زمانے میں مشہور بامہرووفا ہیں ‘ بانیِ صدجو روجفا ہیں۔ عشق کم بخت بے پیر ہے ‘ اور نوجوان یہی ٹیڑھی کھیر ہے۔ سُنا نہیں ‘ کون کن نے جانِ شیریں کس تلخی سے کھوئی ؟ یوسف کی چاہ میں زلیخا نے کیسے کنویں جھانکے ‘ کیا کیا روئی ؟ مجنوں کو اس دشت میں جنوں ہوا لیلا کا بگڑا ؟ پرویز کا اس کوچے میں خون ہوا ۔ شیریں نے کیا گیا ۔؟
ذلّت اس کام میں عزّت ہے ، درد کا نام یہاں راحت ہے ۔ دل اس کشمکش میں ٹوٹ جاتا ہے ، رستم کا اس معرکے میں جی جھوٹ جاتا ہے ۔ اس قدر پارسا روئیں تن ہو موم کی طرح پگھل کر بہہ جائے ‘ حسرت ہی حسرت رہ جائے۔ لوگوں نے ہزاروں رنج و صدمے اس کام میں اٹھائے ‘ جب بعدِ خرابیِ بسیار یہی ناتجربہ کار کہلائے ۔ لیکن یہ وہ بُرا کام ہے ناکام جس کا آغاز ‘ بدنامی انجام ہے ۔ چاہ کنویں جھکواتی ہے ‘ وہ یہ بیماری ہے جو جان کے ساتھ جاتی ہے۔اور یہ قصہ جو میں نے کہا ‘ فقط بات کی پچ کاجھگڑا تھا ‘ ورنہ کہاں ملکِ زرنگار کجا شہ زادیِ عالی تابر ۔‘‘
جانِ عالم نے کہا ’’استغفراللہ ! اگر وہ جھوٹ تھا تو یہ فقرہ کب سچ ہے ‘ یہ تونری کُھڑ پچ ہے ۔ ‘‘
اس تقریر میں یہ حال ہوا کہ دِل میں درد ‘ چہرہ زرد ہونے لگا ۔ لب پر آہِ سرد ‘ گرفتار رنج و تعجب ‘ عشق کے آثار سب ظاہر ہوئے ۔
توتا یہ حال دیکھ محبوب ہوا کہ ناحق رنڈی کی کج بخشی سے شہزادے کو مرگ کا مستعد کیا ۔ بیٹھے بٹھائے خون بے گناہ اپنی گردن پر لیا ۔ اب اس طرح کا سمجھانا ‘ مانع ہونا ______ اُبھارنا بھڑکاکا بلکہ نرا جلانا ہے ۔ گھبراکر تسکین و تشفی کرنے لگا اور زخمِ شمشیرِ عشق کو مرحم مژدۂ وصال سے بھرنے لگا ۔ کہا ’’آپ ہوش و حواس بجا رکھیے ۔ اگر مجھے ایسا سچّا جانا کہ میرا جھوٹ ‘ سچ مانا ‘ اس شرط سے آپ کو لے چلوں گا ‘ جو میرا کہا نہ مانوگے ‘ زَک اُٹھاؤگے ‘ دھوکا کھاؤگے ‘ پھر مجھ کو نہ پاؤگے ‘ پچھتاؤ گے ۔‘‘
جانِ عالم نے فرمایا، ’’ اے رہبرِ کامل رنج کے غم گسار ‘ راحت کے شامل! تیرے جادۂ اطاعت سے ہرگز قدم باہر نہ دھروں گا ‘ جو تو کہے گا وہی کروں گا‘ مگر جلد حالِ مفصّل اور بُعدِ منازَ و سمتِ شہرِ دوست سے نشانِ کامل دے ۔‘‘
توتے نے کہا ’’اضطراب کا کام خراب ہوتا ہے ‘ ناحق حجاب ہوتاہے ۔ اتنی جلدی موقوف کیجیے ‘ آج کی رات اس شہر میں کاٹ ‘ صبح ادھر کی راہ لیجیے ۔ اگر کشش صادق اور طالع بھی موافق ہے ‘ انشاء اللہ منزلِ مقصود کو پہنچیں گے ۔ عزمِ بالجزم درکار ہے ۔ درِ شہر پناہ پر خانۂ یار ہے ۔
آخرش تاخیر دعائے سجری ‘ اثرِ نالۂ نیم شبی سے ‘ ظلمتِ شب بہ نورِ روز منّور ہوئی ‘ وزیر زادے کو باوجودِ خود فراموشی یادفرمایا ۔ لڑکپن سے تازمانۂ عشقِ انجمن آرا ‘ اس سے بھی الفت رکھتا تھا ۔ جب وہ حاضر ہوا ، حکم کیا ، ’’دو گھوڑے صبا رفتار ‘ برق کردار ‘ جن کی جھپٹ نسیمِ تند رو کو کھندل ڈالے ‘ ان کے قدم سے کمیتِ صرصر کی ڈپٹ پاؤں نہ آگے نکالے ۔ جلد لا ۔‘‘ بمجرّدِ ارشاد‘ اصطبلِ خاص میں جاکر گھوڑے لایا ۔ کچھ اسبابِ ضروری وہ بھی بہ مجبوری لے کے وہ دونوں خسترتن ‘ بہ قولِ میر حسنؔ چل نکلے :
نہ سدھ بدھ کی لی اور نہ منگل کی لی
نکل شہر سے راہ جنگل کی لی

One thought on “داستان : جانِ عالم کا توتا – – – مرزا رجب علی بیگ سرور”

Comments are closed.