کیا آپ نے جام جمشید ( جام جم۔ جام جہاں نما) دیکھا ہے؟ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹرعزیزاحمدعُرسی

ڈاکٹر-عزیزاحمدعرسی

کیا آپ نے جام جمشید ( جام جم۔ جام جہاں نما) دیکھا ہے۔

ڈاکٹرعزیزاحمدعُرسی
ورنگل ۔ تلنگانہ

میں گھر میں داخل ہوا تو دیکھا کہ دالان میں میرے بیٹے نعمان احمد اور میرے والد الحاج محمد ذکر اللہ صاحب کے درمیان بڑے ہی زور و شور سے لفظی جنگ ہورہی تھی۔ میرا بیٹاکہہ رہا تھا کہ ۔ دادا حضرت۔ آپ کے زمانے میں کیا ہوتا تھا میں یہ نہیں جانتا لیکن آپ نے جس جام جمشید کے بارے میں تشریح کی ہے وہ آج کے دور کے ’’اسمارٹ فون ‘‘پر پورا اترتا ہے ۔میرے والد کہہ رہے تھے کہ میاں نعمانؔ ۔ جام جم میں بادشاہ جمشیدؔ ساری دنیا کو دیکھ لیتا تھا۔وہ جب چاہتا تو ساری دنیا کے واقعات ایک فلم کی صورت میں اس کی آنکھوں کے سامنے سے گذرنے لگتے۔ ہمیں سماجی علم جناب غلام محی الدین صاحب پڑھاتے تھے اور جب وہ جام جم کے بیان پر آتے تو ان کی زبان میں اس قدر تاثیر پیدا ہوجاتی کہ لگتا، لفظوں نے جسم کی شکل اختیار کرلی ہے اور ہم حقیقت میں جام جمشید دیکھ رہے ہیں اور یہ دنیا لمحہ بہ لمحہ ایک خیال بن کر آنکھوں کے سامنے سے گذرنے لگتی۔

یہ سن کر میرے بیٹے نے کہا ۔ دادا حضرت میں اس بات کو نہیں مانتا یہ کسی ذہین فرد کی خیال آفرینی نظر آتی ہے۔ایسی کہانیوں کو ہم سائنس فکشن کہتے ہیں۔لیکن آج ۔ یہ جو میرے ہاتھ میں فون ہے نا۔ یہ۔ یہ حقیقت ہے ۔ جام جمشید ایک فسانہ تھا اور فسانوں سے حقیقت کی جانب سفر کو ہم آج کے دور میں’’سائنس ‘‘ کہتے ہیں۔ان دونوں کی گفتگو میں،میں بھی شریک ہوگیا اورنہایت احترام سے والد محترم سے پوچھا ۔ ’’ ابا جان۔۔ یہ’’ جام جمشید ‘‘آخر کیا بلا تھی ۔ ہم نے اس کا صرف نام سنا ہے لیکن اس کی حقیقت سے واقف نہیں۔ ‘‘ میرے والد نے اپنی نشست کو قدرے آرام دہ بنایا اور اپنے پوتے کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگے ’’ میاں۔۔ ‘‘ پہلے تم اپنا یہ بے کار کا آئینہ جیسا فون بند کرو جو ہر مرتبہ بے ہنگم آوازوں میں بجتا رہتا ہے۔ ۔صحیح بات تو یہ ہے کہ تمہارے اس فون کو فون کہنا فون کی توہین ہے بلکہ میری نظر میں تو یہ فون کے نام پر دھبہ ہے۔ارے میاں فون تو ’’ یہ ‘‘ ہے ’’یہ‘‘ ۔ انہوں نے اپنے نشست کے بازو رکھے لینڈ لائن فون کے ریسور اور کریڈل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ فون اس کو کہتے ہیں اس فون کی ذات میں وقار ہے فون اٹھاؤ تو ایسا لگتا ہے جیسے ہم کسی ریاست کے نواب ہیں جہاں تک عزت و حشمت کی بات ہے میں نے اسی فون میں دیکھی ہے۔گفتگو کی طوالت دیکھ کر میں نے والد محترم سے کہا کہ ’’ ابا جان۔۔ آپ ۔۔ شاید جام جمشید کے بارے میں بتا رہے تھے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ ہاں۔ میاں کیا پوچھتے ہو اس جام جمشید کا۔ والد محترم نے یہ بات کچھ اس طرح بتائی جیسے انہوں نے حقیقت میں جام جمشید دیکھا ہو۔ہماری زبان بند تھی کیوں کہ خود انہوں نے سکھایا تھا کہ بزرگوں کے سامنے زبان دراز نہیں کرنی چاہئے۔میرے والد محترم کہتے جارہے تھے۔کہ ۔۔۔ جام جمشید ایک پیالے کا نام ہے ۔ اس پیالے کو بادشاہ جم ؔ ؔ نے بنوایا تھا جس کے ذریعہ وہ ہفت آسمان کا حال معلوم کرلیتا چونکہ بادشاہ جم ؔ کا چہرہ مثل شعاع آفتاب رخشاں و تاباں تھا اسی لئے اس کو جمشید ؔ کہا جاتا تھا کیونکہ شعاع افتاب کی تابانی کو ’’شید ‘‘ کہا جاتا ہے۔کچھ مورخین جمشید کو ’’پیش دادیان ‘‘ کا بانی قرار دیتے ہیں اور بعض مورخین کے مطابق جمشیدوہ بادشاہ ہے جس نے’’ تخت جمشید ‘‘ Persepolisبنوایا تھا،یہ شہر آج بھی موجود ہے ،جمشید ایک نیک طبع بادشاہ تھا۔اسی بادشاہ نے تخت جمشید کے شاہی محلات کو تعمیر کروایا جو آج بھی قدیم فن تعمیر کا نایاب نمونہ ہے اور آج بھی بہتر حالت میں موجود ہیں ۔ اس شہر کو سکندر اعظم نے برباد کردیا ۔ اس نے داراؔ سوم Darius III کو شکست دے کر اس خوبصورت شہر کو آگ لگا دی تھی۔
جام جمشید یعنی اس پیالے کو جام جہاں نما جام گیتی نامہ جام جہاں آرا بھی کہتے ہیں انگریزی میں اس کو Cup of Djemscheed کہا جاتا ہے۔ اس پیالے کا ذکرپارسیوں کی مقدس کتاب ’’اویستا ‘‘Avesta)جو’’ زرتشت ‘‘ مذہب کی مقدس کتاب ہے) میں Kaei Husravah اور’’ ویداس‘‘ میں Sushravas نے کیا گیا ہے۔ سکندر نامہ کے مطابق یہ جام کیخسرو ؔ نے بنوایا تھا، یہ ایک بڑا جام تھا اور اس میں ہندسہ اور خطوط ایسے کندہ کئے تھے جس سے حوادثات روز گار اور عالم کے خیر و شر کا حال معلوم ہوجاتا تھاجس طرح اصطرلاب اور رقوم سے ستاروں کا حال معلوم ہوجاتا ہے۔ہر زبان کی لت میں جام جم کی صراحت کی گئی ہے ،زبان فارسی کی مشہور ڈکشنری (لغت )تیار کرنے والے علی اکبر دھخداؔ نے جام جم کے بارے میں اس طرح لکھا ہے،اس کے الفاظ میں ’’از ہفت فلک در او مشاہدہ و معائینہ کردی‘‘ ۔ یعنی اس جام کے ذریعہ بادشاہ ہفت فلک کا مشاہدہ و معائنہ کر لیا کرتا۔ اہل فارس کے نزدیک یہ پیش قیاسی کرنے والا ایک الہامی نوعیت کا پیالہ تھا جس میں ’’اکسیر حیات‘‘ بھرا رہتا، ہندومذہب میں یہی اکسیر حیات ’’امرت‘‘ کہلاتا ہے۔ حقیقت کیا ہے یہ کہنا مشکل ہے لیکن اس قوم نے اس ’’جام‘‘ سے متعلق کئی ایک کہانیوں کو مشہور کر رکھا تھا جو آج بھی مشہور ہیں، انہوں نے ناقابل یقین واقعات کو اس پیالے سے جوڑ دیا ، میرا احساس ہے کہ یہ تمام واقعات انسانی سمجھ سے بعید ہیں۔لیکن اہل فارس کا عرصہ دراز تک یہی عقیدہ رہا کہ یہ غیب کی باتیں بتانے والا’’ پیالہ‘‘ ہے جس میں حکمائے فارس نے ’’ہندسے اور خطوط‘‘ کے ذریعہ زمین و آسمان کے ہر علاقے میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کو دیکھنے یا جاننے کی صلاحیت بھر دی تھی۔خیال کیا جاتا ہے کہ جس طرح’’ عمل حاضرات ‘‘ میں’’ بلور‘‘ کو استعمال کیا جاتا ہے اسی طرح اس پیالے کا بھی بلور جیسی کوئی شئے استعمال کی جاتی تھی۔ حکیم ابولقاسم فردوسیؔ طوسی کی پچاس ہزار اشعار پر مشتمل مشہور تاریخی کتاب’’ شاہنامہ ‘‘کے انگریزی مترجم Helen Zimmernنے جام جم کا ترجمہ اسی خصوصیت کی بنا پر "Crystal globe” کیا ہے ۔ فارسی کی ادبی کتابیں نظم ہو یا نثر اس پیالے کے ذکر سے بھری پڑی ہیں ۔اہل فارس کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ جس بادشاہ کے پاس یہ پیالہ رہے گا دنیا میں اس کی حکومت قائم ہوگی اور وہ فتح پر فتح حاصل کرتا جائے گا۔ ویسے بعض روایات کے مطابق’’ بادشاہ جمشید‘‘ اس پیالے میں شراب پیا کرتا تھا۔اگر یہ پیالہ حقیقت ہے تو یہ کہنا مشکل ہے کہ بادشاہ جمشید کو یہ پیالہ کیسے ملا تھا۔ کچھ مورخین کا احساس ہے کہ’’ تخت جمشید ‘‘کی تعمیر کے دوران اس کو یہ پیالہ ہاتھ لگا تھا۔
شاہنامہ کے مطابق ایک مرتبہ بادشاہ کیخسرو ؔ نے اس پیالے کا استعمال کیا تھا۔ بیزن ؔ کو بادشاہ کیخسرو نے ملک توران کا سفیر بنا کر بھیجا تھا۔بیزن ؔ ملک توران کے بادشاہ افراسیاب ؔ کی بیٹی منیزہؔ کی محبت میں گرفتار ہوگیا، جس کو افراسیاب پسند نہیں کرتا تھا اسی لئے اس نے بیزنؔ کو اٹھوا کر قلعے کی فصیل سے باہرپھینکوادیا ۔ جب یہ اطلاع ایران پہنچی تو ہر ایرانی یہی خیال کرنے لگا کہ بیزنؔ اب زندہ نہیں ہے ۔ اس موقعہ پر کیخسروؔ نے جام جم کا استعمال کیا اور یہ جانا کہ بیزن ؔ زندہ ہے اور وہ واقعی زندہ تھا۔ بیزنؔ کو رہا کروانے کے لئے شاہنامہ کے افسانوی کردار رستمؔ کو بھیجا گیا ۔رستمؔ اپنے مشہور گھوڑے ’’رخش‘‘ پر سوار ’’توران‘‘ پہنچا اور افراسیاب کو شکست دی اور بیزنؔ کو قید سے رہائی دلائی۔ اس ایک موقعہ پر ہمیں جام جم کی کارکردگی نظر آتی ہے۔اردو شاعری میں کئی شعرا نے ’’جام جم ‘‘ پر اشعار لکھے ہیں ،

انٹر نیٹ: (Internet)
میرے والد محترم کی پُر مغز تقریر ختم ہوئی اور ہم نشست گاہ سے اٹھ گئے لیکن میں بڑی دیر تک سوچنے لگا۔میرے والد محترم نے جام جم کی تفصیل بتادی ہے لیکن میں میرے بیٹے کی بات کو بھی باآسانی فراموش نہیں کرسکتا تھا۔سچ بات تو یہ ہے کہ اگر جام جم حقیقت بھی تھا تو اس میں آج کے اسمارٹ فون کی 2فیصد خصوصیات بھی اس میں نہیں تھیں۔آج کا یہ فون ایک عجوبہ ہے جو سمجھ میں آکر بھی ہماری سمجھ سے باہر ہے۔اس فون کو عجوبہ بنانے والی شئے دراصل ’’انٹر نیٹ‘‘ (Internet)ہے ، انٹر نیٹ نے اس فون میں ایسی خصوصیات پیدا کردیں ہیں کہ حقیقت پر بھی یقین کرنے میں تردد ہونے لگتا ہے۔انٹر نیٹ آخر کیا ہے ۔۔ آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔۔۔
سادی سیدھی زبان میں کہا جائے تو انٹر نیٹ دراصل ایک کمپیوٹر سے دوسرے کمپیوٹر کے درمیان Routers (سالک)اور Serversکے ذریعہ پیدا کیا جانے والا تعلق ہے۔سالک یعنی Routers اور ’’سرور‘‘ دراصل جنکشنس جیسے ہوتے ہیں جو کمپیوٹرس کے بیچ یہ تعلق کو پیدا کرتے ہیںیہ تعلق TCP/IP یعنی Transmission Control Protocol / Internet Protocol کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے ۔جس کو Vinton Cerf and Robert Kahn نے بیان کیا۔یہاں اس بات کی وضاحت کردوں کہ یہ کمپیوٹرس ایک دوسرے سے قریب ہوں یہ ضروری نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کے کسی بھی مقام پر ہوسکتے ہیں۔ (اسمارٹ فون بھی ایک طرح کا کمپیوٹر ہے)۔جب دو کمپیوٹرس ایک دوسرے سے تعلق پیدا کر لیتے ہیں تو اطلاعات کی ترسیل اور وصولی ممکن ہوجاتی ہے خواہ وہ ٹکسٹ(Text) ہو یا آواز ہو یاویڈیوزVideos ہوں۔
’’ انٹر نیٹ ‘‘باہم مربوط کمپیوٹرس کا ایک عالمی جال ہے جو عوامی یا عالمی سطح پر ہر کسی کے لئے بھی قابل دسترس ہے انٹرنیٹ کو بعض اصطلاح سازوں کے نزدیک ارود میں ’’جالبین‘‘ کہا جاتا ہے ۔انٹرنیٹ نے کمپیوٹر اور ترسیلی نظام میں ایک انقلاب پیدا کیا ہے۔جب ٹیلفون، ٹیلگراف،ریڈیو اور کمپیوٹر ایجاد ہوا تو انسان نے خود اپنی ان ایجادات پر یقین نہیں کیا۔آج کے دور کی اس ایجاد یعنی’’ انٹر نیٹ‘‘ نے عقلوں کا ماؤف کردیا۔کبھی کبھی ہم ایسی حالت سے دوچار ہونے لگتے ہیں کہ ا نٹر نیٹ جو ایک
حقیقت ہے ہمیں اکثر اوقات فسانہ محسوس ہونے لگتا ہے۔آج کا انٹر نیٹ معلومات کی ترسیلی کا نہایت وسیع اور اہم ذریعہ ہے۔فی زمانہ انٹر نیٹ کے ذریعہ ایک دو ملین نہیں بلکہ کئی بلین کمپیوٹرس ایک دوسرے سے تعلق رکھے ہوئے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق دنیا کی آبادی کا 40فیصد سے زائد حصہ آج انٹر نیٹ سے جُڑا ہے اور توقع ہے کہ آنے والے کچھ برسوں میں ساری دنیا کے تمام افراد انٹر نیٹ کے ذریعہ ایک دوسرے سے جُڑ جائیں گے،اس جُڑنے کو ہم لفظ ’’نیٹ ورک‘‘ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔اس طرح ہم دوسرے الفاظ میں انٹر نیٹ(Internet) کو ’’نیٹ ورکس‘‘ یعنی( جالکاری) کا ’’نیٹ ورک ‘‘(Network) کہہ سکتے ہیں۔یہ دنیا کے ہر قسم کے نیٹ ورکس کو ایک دسرے سے جوڑتا ہے جیسے تعلیمی ، سرکاری، تجارتی وغیرہ وغیرہ۔جس کی وجہہ سے دنیا کا کوئی بھی کمپیوٹر دنیا کے کسی بھی دوسرے کمپیوٹر سے بشرط اجازت معلومات حاصل کر سکتا ہے بلکہ راست طور پر گفتگو بھی کرسکتا ہے۔آج کے دور میں انٹر نیٹ عوامی بہبودی اور سہولتوں کی فراہمی کا بہت بڑا ذریعہ ہے جو انسانی اعتماد کی منزل کو بہت اونچا اٹھاتا ہے اور خود اس دنیا میں برقرار رکھنے کی کوششوں کو ثمر آور بناتا ہے جس میں ہم الکٹرانک میل( ای۔میل) (E-Mail) کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتے جس نے پوسٹل نظام کو بہت حد تک عملاً ختم کردیا۔انٹر نیٹ کے ذریعہ گفتگو آسان ہوگئی ہے) Internet Relay Chat (IRC کے کئی نیٹ ورکس کئی چیانلس کے ذریعہ گفتگو کی سہولت کو بہم پہنچارہے ہیں۔ہم Webکے ذریعہ انٹر نیٹ سے کروڑ ہا نہیں بلکہ ’’ارب ہا‘‘ معلوماتی صفحات کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ جس میں ہمیں Chrome، Firefox، اور Internet Explorer مدد گار ہیں۔ آج دنیا میں فی الحال انٹر نیٹ کے استعمال میں تعداد کے اعتبار سے چین سب سے آگے ہے اس کے بعد امریکہ کا نمبر آتا ہے۔
انٹر نیٹ کی شروعات کا اگر مختصراً جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے کہ 1962 میں J.C.R. Licklider نے اپنے نظریہ "Galactic Network” پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اگر تمام کمپیوٹرس کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا جائے تو ہم مواد اور اطلاعات کو تیز رفتاری اور آسانی سے ایک دوسرے تک پہنچا سکتے ہیں ۔ اس کے بعد 1966 میں Robertsاور 1968میں Roberts نے اس خیال کو تقویت پہنچانے میں مزید تحقیق کی۔Advanced Research Projects Agency (ARPA) نے1969میں یونیورسٹیوں میں تحقیقی کام کرنے والوں کے درمیان ایک دوسرے سے رابطہ پیدا کرنے کے لئے، تحقیقی مواد کی منتقلی کے لئے اور ایک دوسرے سے گفتگو کر نے کے لئے ایک ڈیزائن پیش کیا ،جو اس سلسلے کی ابتدائی کوشش قرار دی جاسکتی ہے۔اس کو ARPANET کہا جاتا تھا۔ 1972میں Kahn organized نے عوامی سطح پر International Computer Communication Conference (ICCC) تجربہ کیا۔جس کو عام عوام نے دیکھا ۔1972ہی میں Ray Tomlinson اور Roberts نے ای میل پر محنت کی اور اس میں کامیاب ہوئے۔

Smartphoneاسمارٹ فون:
اسمارٹ فون بھی ایک موبائیل فون ہے جس کو’’ ذہین فون‘‘ یا’’ ذکی محمول‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ہائی اسپیڈ موبائیل کا استعمال 2012کے بعد شروع ہوا۔ابتدائی زمانے یعنی بیسویں صدی کے اواخر تک اسمارٹ فون صرف ذاتی ضروریات کے لئے ہوا کرتے تھے۔لیکن آج ان کا استعمال کافی وسعت اختیار کرگیا ہے۔ہر اسمارٹ فون میں انٹر نیٹ کی مدد سے’’ ٹچ اسکرین ‘‘( لمسی تظاہرہ )کے ذریعہ کام کرتا ہے اس میں گوریلا یا اس جیسا کوئی گلاس یا اسکرین لگا رہتا ہے،اس فون میں کیمرہ، وائی فائی(Wi Fi) یعنی وائیر لیس کمپیوٹر نیٹ ورکنگ،NFC ، بلو ٹوتھ (Bluetooth) یعنی تار کے بغیر مختصر فاصلے کے لئے ڈاٹا کا تبادلہ ، Personal digital assistant (PDA) ، میڈیا پلیر، Global Positioning System (GPS) ایک navigation یعنی سمت کے معلوم کرنے کا نظام ہے ،اس کی بنیاد سٹیلائٹ پر ہوتی ہے،یہ دراصل امریکی فوج کا نظام تھا جس کو محکمہ دفاع والے استعمال کرتے تھے لیکن 1980میں امریکہ نے اس کی خدمات اپنے سٹیلائٹ کے ذریعہ ساری دنیا کو مفت فراہم کی۔آج ہم GPSکو دیکھ دیکھ کر حیران ہوتے ہیں کہ یہ deviceہر موڑ پر راستہ بتانے میں ہماری کیسے مدد کرتا ہے۔
اسمارٹ فون اس شخص کی کوششوں کا نتیجہ ہے جس نے ٹیلیفون کو کمپیوٹر سے جوڑنے کا نظریہ پیش کیا اس نام Tesla تھا جس نے 1909میں یہ نظریہ پیش کیا اس کے بعد Theodore Paraskevakos نے 1971میں اس کو ترقی دی۔1993سے اس کی فروخت شروع ہوئی۔اس کے بعد IBM اور COMDEX نے اس کو ترقی دی۔لیکن 1994میں BellSouth نے Simon Personal Communicator کے ذریعہ جو فون بنایا اس کو ہم اسمارٹ فون کہہ سکتے ہیں۔حالانکہ اس دور میں اس اسمارٹ فون نہیں کہا جاتا تھا۔2000میں پہلا ٹچ اسکرین فون بنایا گیا۔2001میں 6035 Kyocera اور مائیکروسافٹ نے اس میں دلچسپی لی اور 2007میں ایپل (Apple)کا پہلا فون جاری کیا اور 2008میں گوگل کے توسط سے ’’اینڈروائیڈ‘‘ فونس متعارف ہوئے۔2010میں گوگل نے’’ نیکسیس ون ‘‘متعارف کیا ۔ اینڈروائیڈ، بلیک بیری اور iOS سے قبل Symbian کے ذریعے چلایا جاتا تھا۔
1999میں جاپانی فرم NTT DoCoMo نے i-mode پر چلنے والے اسمارٹ فونس جاری کئے۔اس کے بعد سے اس میں مسلسل ترقی ہوتی جارہی ہے ایک اندازے کے مطابق دنیا میں 2012تک ایک بلین اسمارٹ فونس کا چلن دیکھا گیا۔اسمارٹ فونس میں جب سے Communication software کا استعمال ہونے لگا تب سے یہ فون افسانوی درجے میں بھی جام جم سے کہیں اونچا ہوگیا ہے۔ان’’ نرم ارتباطی نظام یا طریقہ کار‘‘ یا دوسرے لفظوں میں Apps میں کئی ایک سوفٹ ویرس شامل ہیں جن میں چند ایک کو یہاں بیان کیا جاتا ہے ۔
Google Hangouts:۔
یہ بات چیت کرنے کا ایک پلیٹ فارم یا ذریعہ ہے جس کو گوگل نے ترقی دی۔اس میں فوری جواب دینے کی صلاحیت یعنی Instant messaging، ویڈیو کے ذریعہ ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے گفتگو کرنے اور SMSکرنے کی سہولت دستیاب ہے۔اس میں گروپ ویڈیو چاٹ کی سہولت بھی دستیاب ہے۔
Skype: ۔ یہ بھی اسمارٹ فون کا ایک اطلاقی سوفٹویر ہے جس کی مدد سے آواز اور تصویر کی مدد سے گفتگو کی جاسکتی ہے۔اس کو 2003میں Swede Niklas Zennstr246m اور اس ساتھیوں نے شروع کیا۔اس کو تمام آپریٹنگ سسٹمس میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک قدیمs Appہے۔جس کے آج 300ملین استعمال کنندے موجود ہیں۔
Viber:۔ یہ بھی کثرت سے استعمال ہونے والا Appہے جو مفت سروس فراہم کرتا ہے یہ فوٹوز،آواز وغیرہ بھجوانے کی سہولت رکھتا ہے۔
WhatsApp : ۔یہ انیڈروائیڈ اور دوسرے اسمارٹ فونس کا Appہے جو ابتدا میں فری ہے اس کے ذریعہ 2G یا 4Gیا وائی فائی کے کام کرتا ہے اس میں آواز اور تصاویر کی منتقلی اور گفتگو ممکن ہے۔ یہ اسمارٹ فون کی دنیا کا عام فہم اور انقلابی App ہے۔یہ گروپ میں ہونے والی گفتگو کو بھی صاف انداز میں منتقل کرتا ہے۔
: Facebook Messenger یہ بھی فری Appہے جو صرف Facebookکے لئے ہی نہیں بلکہ ہراطلاقی نظام کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
Tango: یہ گوگل پر اینڈروایئڈ کا Apps ہے، یہ اونچے درجے کے Appsہیں جو آواز اور تصویرکوصاف انداز میں پہچاتا ہے یہ بھی 3یا 4G یا وائی فائی پر کام کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ بزنس کے اوقات میں زیادہ مناسب نہیں۔
Line: یہ بھی آواز کو صاف اور تصویر کو واضح انداز میں پہچانے والا Appہے۔
Imo: یہ بھی فری آڈیو اور ویڈیو اطلاقی سافٹ ویر ہے ۔جو 3یا4G اور وائی فائی کے ذریعہ مستعمل ہے۔اس میں آواز اور فوٹو کی کوالیٹی بہترین ہوتی ہے۔
OOvoo: یہ بھی ٹکسٹ، آواز اور تصویر کو بھجوانے اور وصول کرنے کا فری Appہے۔اس کو فیس بُک کے ذریعہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔
Camfrog: یہ انڈروائیڈ پر ویڈیو کے لئے بہترین Appہے۔جس میں گروپ چاٹ کے لئے زیادہ سہولتیں مہیا ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق دنیا میں 450,000 apps کا چلن ہے ،ان میں کچھ اہم Andmade Share Free، Foursquare،Glancee، Google+، Path Free Instagram، Linkedin ہیں ۔ان کے علاوہ کچھ دلچسپی کا سامان مہیا کرنے والے کھیل کود کی دنیا میں لے جانے والے ، آواز کی دنیا سے روشناس کروانے والے ، پڑھنے پڑھانے سے تعلق رکھنے والے خبروں سے واقف کروانے والے ، شاپنگ کروانے والے اور دنیا کے مختلف راستوں(Maps)میں لے جانے والے بھی Appsموجود ہیں۔
اس کے بعد میں سوچنے لگا کہ میرے بیٹے نعمانؔ (یعنی آج کے دور) کی بات زیادہ صحیح ہے کیونکہ قدیم دور میں افسانوں میں بھی ایسی سائنسی ترقی کے متعلق سوچنے کی جرات وہ افراد پیدا نہ کرسکے جن کی ذہانت مسلمہ تھی لیکن ان کی سونچ کہیں آگے وہ تصور جام جم آج حقیقت بن کر ہر چھوٹے بڑے انسان کے ہاتھوں میں کھلونا بن کرکھیلتا نظر آتا ہے۔میں جام جم کو حقیقت نہیں مانتا لیکن ان افراد کی تعریف ضرور کرتا ہوں جنہوں نے آج کی ان حقیقتوں سے متعلق سونچا۔سچ بات یہ ہے کہ ہماری تمناؤں اور خواہشات کی وسعتوں کا کیا پوچھنا ساری دنیا اور اس کے سارے امکانات محض اس کے نقش پا ہیں اسی لئے جو چیزیں کل تک دائرہ امکانات سے باہر تھیں وہ آج ممکنات کی دنیا میں آچکی ہیں۔خواہش پرواز نے ہوائی جہازکو بنانے پر آمادہ کیا اور جام جم کے تصور نے ’’اسمارٹ فون بنا ڈالا۔ اسی لئے غالبؔ کہتے ہیں کہ۔۔
ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب
ہم نےدشت امکاں کو ایک نقش پا پایا