حضرت سید شاہ جمیل الدین شرفی کی نعتیہ شاعری

محمد عظمت اللہ خان

پی۔ ایچ ۔ڈی ‘ ریسرچ اسکالر‘عثمانیہ یونیورسٹی
سیل نمبر:9705853523

حضرت سید شاہ جمیل الدین شرفی کی نعتیہ شاعری

حیدرآباد دکن کے ایک معزز مشائخ اور سادات گھرانے میں حضرت سید شاہ جمیل الدین شرفی کی ۱۹۴۹ء میں ولادت ہوئی جن کی شہرت خصوصیت کے ساتھ پیر طریقت اور استاذسخن کی حیثیت سے ہے سید شاہ جمیل الدین شرفی کا گھرانہ علمی و ادبی اور خالص اسلامی گھرانہ ہے۔ اور ان کا خانوادہ ’’ ایں خانہ ہمہ آفتاب است ‘‘ کے مصداق علمی ’ شعری ’ و ادبی ماحول کو اپنے جلو میں لئے ہوئے ہے ۔ اس بارے میں روشنی ڈالتے ہوئے خود سید شاہ جمیل الدین شرفی اپنے ابتدائی مجموعہ کلام کے آ غاز میں یوں لکھتے ہیں:
’’ہم شاعری کو اپنا فطری ورثہ سمجھتے ہیں ’ ا س معاملہ میں جہاں تک تحقیق اور قلمی محفوظات کا مواد ہے اپنے جداعلی سید شاہ شرف الدین شرفیؒ المتخلص بہ ’’منصور‘‘ جدّ امجد حضرت سید شاہ غوث محی الدین قادری شرفی رحمتہ اللہ المتخلص ’’غوث شرفی‘‘ اور پدر بزرگ وار حضرت سید شاہ سیف الدین شرفیؒ نے بھی شاعری کی نعت و منقبت و قصائد کے ضخیم سے ضخیم غیر مطبوعہ دیوان چھوڑے جن کا اکثر و بیشتر کلام آج بھی حیدرآباد کے مشاق اور مشہور نعت خواں اور قوال ہر محفل اور دینی مجلس میں پڑھتے ہیں‘ لہذااپنے اس ذوق شاعری کو جو اوپر سے ترکہ میں آیا ہے اپنے لئے ایک نعمت غیر مترقبہ سمجھتے ہیں۔( جوہر سیف ص ۸ ‘ ۱۹۹۵ء )

ظاہر ہے کہ جہاں جدامجد غوث شرفی اور والد بزرگوار سیف شرفی ہوں اور سبھی حضرات ضخیم دواوین کے مالک ہو ں خون کی تاثیر یقیناًرنگ لاتی ہے غرض یہ ساری شاعری کے جراثیم شاہ جمیل الدین شرفی میں حلول کرگئے تھے اسی لئے ان کے شعری وادبی کارناموں پر نظر کری جائے تو حیرت کے ساتھ ساتھ مسرت بھی ہوتی ہے۔
حضرت سید شاہ جمیل الدین شرفی نے غزلین بھی کہی ہیں مگر بنیادی طور پر نعت کے شاعر ہیں ابتداء انہون نے ’’ سہیل ابن ‘‘ کے نام سے لکھا اور اسی نام کو ۱۹۷۶ء تک استعمال کرتے رہے مذید اپنے ادبی ذوق کو جلا دینے کے لئے ایک ادبی ماہنامہ ’’ماوریٰ‘‘ کے نام سے اپنی ادادرت جاری کیا جو یقریبا ۵ برس تک شائع ہوتا رہا۔ پھر بعض نامساعد حالات کی بنا پر اسکی اشاعت موقف کردی گئی۔( جوہر سیف صفحہ ۱۴)
حضرت سید شاہ جمیل الدین شرفی کے ذوقِ شعری کو نکھار میں انکے اساتذہ سید اسمعیل مہرؔ ‘ میرحسن علی صبرؔ آغائی ‘صابر زیرکی ’ علامہ راسخؔ الرضوی الرشیدی ‘ عبدالقادرخان خسروؔ کی حوصلہ افزائیوں ‘ محنتوں اور خصوصی توجہات کا اہم کرداررہا ہے اسی طرح انہوں نے ملک الشعراء اوجؔ یعقوبی سے بھی مشور ہ سخن کیا جو اپنے وقت کے عدیم المثال شاعروں کی صف میں شامل تھے ۔ غرض اسطرح کے جید اساتذہ کرام کی دامن گرفتگی کے نتیجہ میں ان کی شاعری میں سدھار و نکھار آیا۔
اس میں دو رائیں نہیں کہ حضرت سید شاہ جمیل الدین شرفی نعت گو شاعر ہیں مگر ان کی نعتوں میں الفاظ و تراکیب کا انداز روایت سے قطع نظر ندرت و جدت کی طرف مائل نظر آتاہے اور ان کی نعت گوئی کا ایک منفرد طرز ہے جس میں انہوں نے سیرتِ طیبہ ﷺ کے مختلف پہلوں کو بڑی خوبصورتی اور خوش اسلوبی سے شعری پیکر میں ڈھالاہے جس میں کوئی دوسرا شاید ہی ان کا شریک ہے جیسے:
کعبۂ ہستی کرے میرا طواف
قبلۂ حق بھی ہے مستانہ مرا
نقشِ پا کے مرے حجم کتنے
سجدہ سا ہے ہیں یہاں حرم کتنے
جمیل دیں کی آنکھوں سے کوئی دیکھے کوئی جانے
یہ دنیا میرے انواررخِ رنگیں کا ہالہ ہے
محولہ بالا اشعار میں’’ کعبۂ ہستی ‘‘ ’’ نقش پا کے حجم‘‘ ’’سجدہ سا‘‘ اور انوار رخ رنگین کا ہالہ جیسی تراکیب حضرت سید شاہ جمیل الدین شرفی کی ذہنی دورسی بیدار مغزی اور نعتیہ میدان میں جدت طرازی کی واضح مثالیں ہیں جو انھیں اپنے ہم عصروں میں دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں۔
حضرت سید شاہ جمیل الدین شرفی نے شاعری میں نعتیہ میدان میں اپنا ایک مخصوص اسلوب اختیار کیا تھا اور وہ نعتیہ شاعری میں اس قدر گم ہوگئے ۔ اور اسی لیلی معنی کے اسقدر دلدادہ ہوگئے کہ جوہر سیفؔ (۱۹۹۵) جوئے رحمت (۲۰۰۵) محوِنعت (۲۰۰۷) اور عرشِ فگن(۲۰۱۰) نامی اپنے مجموعہ ہائے کلام کی اشاعت فرمائی ۔
چنانچہ ان ان کا سب سے پہلا نعتیہ مجموعہ کلام جوہرِسیف ہے جو کل ۱۴۴ صفحات پر مشتمل ہے اور ۱۹۹۵ء میں (جبکہ وہ مدراس میں قیام پذیر تھے) اس کی اشاعت عمل میں لائی اس ۱۴۴ صفحات کو محیط مجموعہ کلام میں حمد ‘ نعت ‘ نظمیں اور منقبتیں شامل ہیں حمد کے اشعار یوں ہیں :
خبیر قدرِرمق لااِلہٰ الااللہ
ہزار چودہ طبق لااِلہٰ الااللہ
نشانِ وحدت حق لااِلہٰ الااللہ
ادق تر ین سبق لااِلہٰ الااللہ
جمیل خود بھی ترقی پسند ہے لیکن
سمجھ رہا ہے ادق لااِلہٰ الااللہ
جوہر سیف ؔ سے چندمنتخب نعتیہ اشعار یوں ہیں:
اس سے بڑھ کر سلطنت کا دبدبہ کچھ بھی نہیں
جائے مسند ہے فقط اک بوریا کچھ بھی نہیں
اس کی بستی میں کوئی رونق کوئی ہلچل کہاں
قلب پر جسکے نہیں ہیں نقش پا سرکار کے
کہاں یہ جاکے آتا ہے یہ کیا عجلت کامنظر ہے
ابھی زنجیر ہلتی ہے ابھی تو گرم بستر ہے
اویسی حب ‘تڑپ صدیق کی فاروق کا جذبہ
انھیں تینوں سے خاکہ عشق کا تکمیل پاتاہے
سید شاہ جمیل الدین شرفی کی نعتوں کا دوسرا مجموعہ ’’ جوئے رحمت‘‘ ہے جو کل ۱۷۵ صفحات پر مشتمل ہے۔ بار اول ۲۰۰۵ بار دوم ۲۰۱۰ء میں زاویہ قادریہ ٹرسٹ حیدرآباد کے زیر اہتمام شائع ہواہے ۔ اس مجموعہ کلام میں بھی حمد ‘ نعت اور مناقب شامل ہے اسی طرح اس مجموعہ میں ان کی غیرمنقوط نعت شریف بھی ہے۔ جس کا لکھنا عبادت کے ساتھ ساتھ قابلیت پر بھی دال ہے اس کے چنداشعار یوں ہیں:
کل رسولوں سے آگے محمدﷺرہے
کوئی مسلک ہو اسکی وہی حدرہے
ہم کو مہکارہی ہے درودوں کی لو
اور سرکار کی آمدآمدرہے
سید شاہ جمیل الدین شرفی کا ضخیم نعتیہ مجموعہ کلام ’’عرش فگن‘‘ان کے وصال کے بعد ۲۰۱۰ء میں زاویہ قادریہ ‘ حیدرآباد کے زیر اہتمام شائع ہوا۔ جو کل ۳۷۴ صفحات پر مشتمل ہے ‘ اس مجموعہ کلام سے خصوصاان کی شاعرانہ صلاحتیوں کی بھر پور غمازی ہوتی ہے۔ جو انھیں ایک کہنہ مشق ‘ خوش فکر اور پختہ گو شاعر کی حیثیت سے جاننے اور ماننے کے لئے کافی ہے‘ انھوں نے نعتیہ شاعری کو نیاموڑ دیاینے کی بساط بھر کوشش کی ہے اور انھیں اس میں حتی المقدور کامیابی حاصل ہوئی اسی طرح ان کی نعتیہ شاعری کے عشق و جنون نے انھیں مستقل محافلِ نعت سجانے اور شہر حیدرآباد کے دیگر شعراء سے نعتیں لکھوانے کے لئے نہ صرف مہمیز کیا بلکہ انھیں بھی ایک پختہ نعت گو شاعر بنادیا جس سے مجال انکار نہیں ۔
سید شاہ جمیل الدین شرفی نے اپنی تمام تر فکری توانائیوں کو نعتیہ شاعری کے لئے صرف کردیا اسی لئے نعتیہ شاعری کے باب میں ان کی کاوشیں کامیاب و قابل قدر نظر آتی ہیں۔ انھوں نے مشکل سے مشکل زمینوں میں بہترین اور معیاری نعتیں کہی ہیں اور سنگلاخ زمینوں کو بآسانی اپنے اشہپ قلم کے جوہر دکھاتے ہوئے عبور کیاہے۔
بنائے کائنات کن کی ابجد ہی محمد ﷺہیں
خدا کو جاننے کی آخری حد ہی محمدﷺہیں
خدا دانی خداداری اسی نسبت سے حاصل ہے
جمیل اپنے لئے وجہِ خوشامد ہی محمدﷺ ہیں
مرے آقا چلے عرش فلک تک
نہیں جھپکے کہیں اپنی پلک تک
یہ عالم عرش کا ہے نک سے چک تک
سلامی ہیں سبھی حدوملک تک
یہ کاف و نون کے جلوے جو سربراہ بنے
وجود ان کا وہیں مرکز نگاہ بنے
یہ طئے ہے نامہِ اعمال جب سیاہ بنے
تمہارا فیضِ تلطف ہی خیر خواہی ہے
یہیں پہ ہوں گے مراقب نفوسِ پاکیزہ
جمیل دل کے علاقے میں خانقاہ بنے
کہیں آقا نے سوچا ہی نہیں رستہ بدل آئے
پیامِ حق وہ پہونچاتے رہے کانٹوں پر چل کے
جمیل اک دن ارادہ کر مدینہ جاکے بس جا
جمیل الدین شرفی قادری کے ساتھ چل کے
سید شاہ جمیل الدین شرفی کی نعتوں کی سراہنا کرتے ہوئے پروفیسر لطف الرحمن نے ان کے نعتیہ مجموعہ کلام ’’عرش فگن‘‘ پر رائے دیتے ہوئے یوں لکھا: ایک خوبصورت مجموعہ حمد و نعت ’’عرش فگن‘‘ میرے سامنے ہے جو سید شاہ جمیل الدین شرفی کے الہامی جذب وکیف کے اظہار پر مشتمل ہے ‘ اسکے قبل بھی حضرت موصوف کے کئی نعتیہ مجموعہ ہائے کلام اشاعت پذیرہو چکے ہیں ‘ حضرت کی اس نوع کی شاعری محض روحانی صداقتوں ‘ وجدانی کیفیتوں اور داخلی خود وارفتگیوں کا ہی پر اثر اور جمالیاتی اظہار نہیں بلکہ ایک باوقار سنجیدہ ‘ تعمیری نصب العین کی حیثیت بھی رکھتی ہیں ‘ یہ عظیم الشان جمالیاتی منصب ہر کس و ناکس کا مقدرنہیں یہ ایک ودیعتِ الہی ہے۔ ایک عطیہِ خاص ہے جس نے ان کی شاعری کو داخلی عرفان اور بصیرتِ ذات کا آئینہ خانہ بنادیا ہے‘‘ ( عرشِ فگن ص۱۲)
پروفیسر نسیم الدین فریس نے ان کی نعتیہ شاعری پر رائے دیتے ہوئے آخر رائے یوں لکھا ہے:
’’مولانا سید شاہ جمیل الدین شرفی کی نعتیہ شاعری اپنی گوناگوں خوبیوں اور امتیازات کی بدولت نہ صرف ایک خاص کشش اور اپیل رکھتی ہے بلکہ نعت کی بنیادی قدروں یعنی روحانی انبساط اور جمالیاتی کیفیت کی بھی حامل ہے‘‘( عرشِ فگن ص۳۱)
سید شاہ جمیل الدین شرفی کے کلام میں سہل ممتنع انداز کی نعتیں بھی ملتی ہیں جن میں سے ایک جادوئی کشش اور مقناطیسی کیفیت ہوتی ہے اور جسکا لکھنا بے شک شاعرانہ کمال‘ہے دو مختصر مصرعوں میں پوری بات بڑی جامعیت کے ساتھ کہنا نہایت قادرالکلامی کی بات ہوتی ہے ملاحظہ ہو:
جب بھی یا اللہ کہیں یا نبی
کام ہوجاتا ہے پورا یا بنی
جو کی روٹی نمک شوربانور ہے
میرے آقا کی ساری غذا نور ہے
جب حرا میں آپ کی جلوت ہوئی
اقراء و جبرئیل کی شہرت ہوئی
نقش پا کا ہے یہ ہنر آقا
عرش تک اسکا ہے گزر آقا
دل کی بے نقطی میں شامل ہے
آپ کے نام کا اثر آقا
مضامینِ نعتِ مبارک برتنے
میرے لفظ سارے ادب جانتے ہیں
سید شاہ جمیل الدین شرفی کے ادبی ذخیرہ کے مطالعہ سے بآسانی یہ نتیجہ نکالا جا سکتاہے کہ وہ ایک کہنہ مشق شاعر و ادیب تھے جن کے فن میں بطورِ خاص جدت و ندرت شامل تھی جس میں ان کے اسلوب کی انفرادیت کی ضمانت پائی جاتی ہے ۔
نمونہ نثر: ’’ حقیقت میں شاعری میں ہمارا رحجان خالصا زبان اور اسلوب میں نیا پن یا اپنا پن پیدا کرنے کی طرف زیادہ رہا ہے اسکے لئے ضروری تھا کہ عام روش سے کچھ نہ لیا جائے لہذا اس توارد سے بچنے کے لئے ہم نے طئے کیا تھا کہ کسی بھی نامور شاعر کے کلام کا مطالعہ نہ کرے تاکے شاعر ی کے لئے جو بھی مضمون ہو شعور دینے والے ہی کی جانب سے ہو اسکے باوجود کلام مرزا غالب‘ حالی ‘ حضرت علامہ اقبال ‘ داغ ‘ جگر ‘ صفی اورنگ آبادی ‘ تاج بھوپالی‘ خورشید احمد جامی ‘ اوج یعقوبی اور مظفر حنفی کو ضرور پڑھنا پڑا ‘ مجموعہ ھذا کے مطالعہ کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ کس سے کیا لیا ‘ ندرت اور جدت پیدا کرنے میں جس ادق لہجے کو اپنانے کی کوشش کی تھی اس میں دو باتوں کا فائدہ خود ہماری ذات کو ہوا‘ لہجے کی بھول بھلیوں اور ادق پن سے اہل قدامت اور جدیدیت پسندوں نے یکساں نظر سے دیکھا خاص کر بزرگوں کی نگاہِ تحسین نے حوصلوں کو طمانیت عطا کی‘ بزرگوار محترم جو اپنے ارادت مندوں کو درسِ معرفت دیا کرتے تھے ان میں کبھی کبھار ہمارے اشعار بھی اس درس میں شامل کرلیا کرتے تھے دورانِ طا لب علمی میں ہم نے اپنے بزرگوار محترم کے حلقہ بگوشوں سے سنا کے وہ ہمارے ان اشعار کا حوالہ دے رہے تھے جو انھیں درس میں یاد دلائے گئے تھے:
محمد ﷺاپنے ہی احساس کا حسین عالم
لطیف و نازک و بے سایہ و نبی صلعم
چھپا ہوا ہے اسی میں تقدسوں کا بھرم
تری نگاہ کا پھیلاہے حصارِ حرم
وہیں سے جو پو پھوٹتی ہے نور گواہ
جہاں جہاں بھی ہوئے نقش تیرے نقشِ قدم
حقیقتہ میری شاعری ورثتہ میرے قلم کو نصیب ہوئی اس میں نہ میرا کسب شامل ہے نہ میرا ذاتی کمال یعنی آقا رحمت عالمﷺکی عنایتِ بے نہایت جو عوام الناس میں پسند یدگی کا رحجان بیدار کرتی ہے۔
امید ہے
اس شاعری کامول فرشتے لگائیں گے
جس میں درودِ پاک کا بنتا ہو کچھ حساب
اور میں کہوں
محبت بھی تمہاری شرطِ اول ہے
بہر عنوان
مجاہد ہوکہ غازی ہو
نمازی ہو کہ زاہد ہو
یا اپنے میں گم صم
جو کوئی
فلسفی
شاعر
تمہارے عشق کا پر تو ہی سب کی کامیابی ہے
اسی اک فلسفے کے آئینہ میں دیکھتا ہوں جب
مجھے معلوم ہوتا ہے
مجھے محسوس ہوتا ہے
مجھے شاعر بنانے میں تم ہی تم ہو
تم ہو تم ہو
فداک امی و ابی و جسمی و اھلی و مالی (جوئے رحمت ‘ص۹۔۱۰)