خلیل الرحمن اعظمی ادب کے آئینے میں : – چوہدری امتیازاحمد

خلیل الرحمن اعظمی ادب کے آئینے میں

چوہدری امتیازاحمد
ریسرچ اسکالرشعبہ اردو الٰہ آباد یونیورسٹی
موبائل : 09797549196

اردو شعر وادب میں خلیل الرحمن اعظمی کا نام بھی سر فہرست ہے ،خلیل الرحمن اعظمی ایک جدید غزل گو شاعر ہیں جو ابتداء میں ترقی پسند تحریک سے تعلق رکھتے تھے لیکن بعد میں جدیدیت سے جڑ گئے ۔ خلیل الرحمن اعظمی مشرقی یوپی کے ایک ممتاز علمی و دینی گھرانے کے چشم وچراغ تھے۔ان کی پرورش وپرداخت گہرے مذہبی ماحول میں ہوئی تھی۔

خلیل الرحمن اعظمی کے والد مولانا محمد شفیع اپنے دورے ایک جید عالم تھے علوم اسلامی پر دسترس حاصل ہونے کے لئے ساتھ انہیں عربی وفارسی پر بھی کامل عبور حاصل تھا ۔ انہیں مسلمانوں کی مذہبی اصلاح وترقی کا بیحد خیال تھا۔ وہ ان کے اندر دینی بیداری کی فضا پیدا کرنے چاہتے تھے چنانچہ اس مقصد کے حصول کے لئے بیسویں صدی کے اوائل میں انہوں نے سرائے میر( ضلع اعظم گڑھ یوپی) میں (مدرستہ الاصلاح) کے نام سے ایک دینی درس گاہ کی بنیاد ڈالی ۔ جوآگے چل کر علوم قرآنی، درس احادیث اور عربی وفارسی کی تدریس کاایک عظیم الاشان مرکز بن گیا ۔اس درس گاہ کو علامہ شبلی جیسے اہل علم وادب کی سرپرستی حاصل تھی کیونکہ بقول خلیل الرحمن اعظمی یہ مدرسہ ان کے والد علامہ شبلی کی ہی ایماء پر قائم کیاتھا بہر حال یہ مدرسہ ابھی قائم ہے اوراس درس گاہ کے فار غ التحصیل طلبہ آج بھی اپنے نام کے ساتھ اصلاحی لکھنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ خلیل الرحمن اعظمی کا شجرۂ نسب تیرہ پشتوں کے بعد سالار خان سے جاملتاہے جوافغانستان پٹھانوں کے قبیلہ یوسف زئی سے تعلق رکھتے تھے ۔
مولانا محمد شفیع نے 1903ء میں ایک انجمن کی بنیادی ڈالی جب انجمن کادائرہ وسیع ہوا تو دین کے ساتھ اخلاق واصلاح کو بھی شامل کیا ۔1906ء میں انجمن کا نام اصلاح المسلمین رکھا 1909 میں مدرسۃ الاصلاح کی بنیاد پڑی۔1945میں مولانا محمد شفیع کا انتقال ہوا۔
مولانا محمد شفیع کی پہلی شادی مرزا عطا اللہ بیگ کی بیٹی مریم بیگ سے ہوئی ان سے دو اولادیں تھیں جب محمودہ خان مریم بیگ کا انتقال ہوگیا تو ان کی دوسری شادی مرزا اسلم بیگ کی بیٹی رابعہ بیگم سے ہوئی ۔ جن کے بطن سے چار بیٹے ، تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ اس طرح دونوں بیویوں سے پانچ بیٹے اور چار لڑکیاں پیداہوئیں کل نو اولاد یں ہوئیں۔ ان کے بیٹوں میں سب سے بڑے فیض الرحمن صاحب 1901ء میں پیدا ہوئے ۔ دوسرے بیٹے عزیز الرحمن 1910ء میں پیداہوئے تیسرے بیٹے حافظ حبیب الرحمن 1913ء میں پیدا ہوئے چوتھے صاحبزادے عبدالرحمن پرواز اصلاحی ایک اچھے شاعر اور نثر نگار بھی تھے ۔ پانچویں اور سب سے چھوٹے خلیل الرحمن تھے مگر سب سے زیادہ ذہین اور باصلاحیت تھے بقول عبدالرحمن پرواز اصلاحی ’’ میرا چھوٹا بھائی خلیل الرحمن خاندان کا لعل ، شب چراغ اورہم لوگوں کے لئے باعث فخر ونازتھا۔‘‘
خلیل الرحمن اعظمی9؍ اگست1927 کو ضلع اعظم گڑھ ، سیدھا سلطان پور میں پیداہوئے ۔ خلیل الرحمن اعظمی نے جب ہوش سنبھالا توانہیں اپنے گھر اورباہر چاروں طرف مذہبی ماحول ملا ۔ ان کی ابتدائی تعلیم بھی مذہبی نہج پر ہوئی۔ چنانچہ انہوں نے اپنے نام کے ساتھ مولانا لکھنا شروع کردیا۔ اور چونکہ ’’سیدھا‘‘ کا عربی ترجمہ ’’مستقیم ‘‘ہے لہٰذا اس میں یائے نسبتی لگا کر وہ اپنے نا م کے ساتھ مستقیمی بھی لکھنے لگے چنانچہ اپنی ادبی زندگی کے آغاز میں وہ مولانا خلیل الرحمن مستقیمی کے نام سے جانے جاتے تھے ۔ خلیل صاحب کے ایک اہم سبق اورعزیز دوست علی حماد عباس لکھتے ہیں۔
’’میں خلیل کواس وقت سے جانتا ہوں جب خلیل الرحمن اعظمی نہ تھے بلکہ خلیل الرحمن مستقیمی تھے اوراسی نام سے بچوں کے پرچوں مثلاً ’’پیام تعلیم‘‘( دلی) ،’’پھول‘‘(لاہور) اورغنچہ(بجنور) میں چھوٹے چھوٹے لیکن دلچسپ مضامین لکھا کرتے تھے ۔‘‘خیر بعد میں خلیل صاحب نے اپنے نام سے مستقیمی کا لفظ حذف کردیا اوراعظم گڑھ کی مناسبت سے اعظمی لکھنے لگے ۔ لیکن مولانا ان کے نام سے جڑا رہا ۔ یہاں تک کہ جب وہ علی گڑھ آئے تو یہ لفظ بھی ان کے نام کے ساتھ لگا ہوا علی گڑھ پہنچا چنانچہ ان کے قریبی دوست اورساتھی بہت دنوں تک مولانا ہی کہاکرتے تھے ۔ خلیل الرحمن اعظمی کی تعلیم کی ابتداء گھر سے ہوئی ۔ سب سے پہلے قرآن کی تعلیم حافظ حسام الدین سے حاصل کی ۔ خلیل الرحمن اعظمی نے بہت کم مدت میں قرآن ناظرہ پورا کرلیاتھا۔
قرآن ناظرہ ختم ہوا تو اردو پڑھانے کی فکر سے والد مرحوم نے سوچا کہ کسی پرائمری اسکول میں داخل کردیں۔ بڑے بھائی عزیزالرحمن کی رائے سے انہیں پڑوسی گاؤں’’بینا پارہ‘‘ کے پرائمری اسکول میں داخل کردیا گیا ۔اس اسکول میں انہوں نے درجہ چہارم تک کی تعلیم حاصل کی ۔ چہارم کی تعلیم کے بعد ان کے اساتذہ کے مشورے پر انہیں قریبی اسکولسیرائے میر میں داخل کرایاگیا یہاں سے انہوں نے درجہ ہفتم کی تعلیم حاصل کی ۔اب ان کا داخلہ درجہ آٹھ میں ہوناچاہئے تھا مگر ایسا نہ ہوسکا کیونکہ مرسہ کے طالب علموں کے بارے میں یہ سمجھاجاتا تھاکہ ان کی بنیادی تعلیم کمزور ہوتی ہے ۔اسی خیال سے ان کاداخلہ درجہ ہفتم میں دوبارہ کردیا گیا ، درجہ ہفتم کی تعلیم شبلی کالج میں دوبارہ پورے سال حاصل کی۔
اس کے بعد خلیل الرحمن اعظمی نے شبلی کالج سے ہی دسویں جماعت کا امتحان 1945میں پاس کیا۔خلیل الرحمن کو شعروشاعری کا شوق بچپن سے ہی تھا ، خلیل اپنے چچا کے ساتھ اکثر باغ میں جاتے تھے ۔ایک بارخلیل الرحمن نے اپنے بڑے بھائی عبدالرحمن پرواز کے ساتھ ایک پھلواری لگانے کا پروگرام بنایا ۔اپنے ہاتھ س اس کی گوڑائی سینچائی کرکے پھلواری تیارکی۔ عبدالرحمن پرواز اصلاحی لکھتے ہیں۔
’’یاد پڑتاہے کہ خلیل الرحمن اعظمی نے سب سے پہلے اسی پھلواری پر ایک نظم لکھی تھی۔ اسے والد صاحب کو بھی سنایا اور چچا کو بھی ‘‘
خلیل الرحمن نے 1947ء میں انٹر میڈیٹ کاامتحان پاس کیا ۔ اس کے بعد1949 میں بی اے کا امتحان امتیازی نمبرات کے ساتھ پاس گیا۔ 1949ء میں سیاسی موضوعات پر ایک نظم پڑھنے کے جرم میں قید ومشقت کی برداشت دیکھنی پڑی۔1951ء میں خلیل الرحمن نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہی شعبہ اردو میں بطور لیکچرار ان کو ملازمت مل گئی اور تاحیات اس سے جڑے رہے ۔
نومبر 1957ء میں ان کی شادی سہیل عظیم آبادی کے توسط سے حکیم محفوظ الدین کی بیٹی بیگم راشدہ خلیل کے ساتھ ہوئے ۔ شادی کے وقت خلیل الرحمن اعظمی کی عمر تیس سال اور بیگم راشدہ کی عمرصرف سولہ سال تھی۔ خلیل الرحمن اعظمی کے تین بیٹے تھے اورایک بیٹی تھی جو سب سے چھوٹی ہے۔بڑے بیٹے کامران کی پیدائش 2فروری1959ء میں ہوئی۔ دوسرے بیٹے کانام سلمان ہے جن کی ولادت مئی 1962ء ہے ۔تیسرے بیٹے کا نام عدنان خلیل ہے ۔ 1963میں پیدا ہوئے ۔ یہ بی اے کرنے کے بعد شادی کرکے اپنے گھر والوں سے الگ رہتے ہیں ۔ چوتھی اولاد ہماؔ بیٹی کی تاریخ پیدائش18؍اگست1973ء ہے۔ خلیل الرحمن اعظیم کی وفات 1978ء کو علی گڑھ میں ہوئی۔خلیل الرحمن اعظمی کی تصانیف کی تعداد گیارہ ہے مجموعہ کلام تین ہیں۔ ایک طویل نظم جو کتابی شکل میں ہے ۔ دو شعری انتخاب ،دو تحقیقی کارنامے اور تین تحقیقی مضامین ہیں۔
۱۔ آئینہ خانہ میں : یہ نظم 1950ء میں علی گڑھ سے کتابی شکل میں شائع ہوئی۔ خلیل الرحمن کے قول کے مطابق اس نظم کا آغاز 5مئی1950 میں کیا اور21جون 1950ء کو ختم کیا ۔
۲۔ کاغذی پیرہن: یہ خلیل الرحمن اعظمی کا پہلا مجموعہ کلا ہے جو 1955ء میں آزاد کتاب گھر دہلی سے شائع ہوا ۔ اس مجموعہ کا بیشتر حصہ آپ بیتی کی حیثیت رکھتا ہے جومیر کی یاد دلاتا ہے اس مجموعہ کی اشاعت کے وقت خلیل الرحمن کی عمر چھبیس ستائس برس کی تھی، اس مجموعہ میں شامل نظموں کے عنوان کچھ اس طرح ہیں۔
’’نقش اول‘‘میں 1947ء سے1952تک کئی نظمیں ہیں ، مرا گھر ،میرا ویرانہ ، یاد ، تذکرہ دہلی مرحوم کا، شام اودھ، لہو کی تصویریں، شام وداغ ،برہ کی ریکھا ، جن راتوں میں نیند نہ آئے ، جاگتے سائے لمحہ جاوداں، آخری رات، آپ بیتی، کہانیاں۔
اس کے بعد نئی فصل کا حصہ ہے ۔ اس باب میں کاغذی پیرہن، بن لکھی کہانی، میرے اداس دل نہ رو۔ نیا جنم ، یہ ہنگامہ وصل ،دوری ،گیتا نجلی ،نذرانے ، کنج محبت ، بہار کی واپسی ، اپنی یاد سورج مکھی کا پھول، میرے خوابوں کی سرزمین ، سفر نامہ، آدمیوں کے میلے میں، اپنی تصویر سے متھلا دیس۔
تیسرے حصے میں غزلیں شامل ہیں جو بوئے آوارہ کے نام سے ہے چوتھا حصہ پتہ پتہ بوٹا بوٹا کے نام سے ہے جس میں متفرق اشعار پانچ رباعی اورایک بھجن ہے۔
۳۔ نیا عہد نامہ: یہ خلیل الرحمن اعظمی کادوسرا شعری مجموعہ کلا م ہے۔ جو 1965ء میں شائع ہوا اس میں کل 32غزلیں اور24 نظمیں اور ہجویات شامل ہیں۔ اس مجموعے میں شامل نظموں کے نام کچھ یوں ہیں۔
’بن باس، پیمان وفا، خلوت چراغ، فاصلہ ، بھیرویں ،آنچل کی چھاؤں، سایہ دیوار ، اپنے بچے کے نام ۔ دوسری ملاقات ، پل بھر کا سوانگ، شام رفتگان ، سوداگر ، تسلسل، نیا عہد نامہ ، سلسلے سوالوں کے ، خوابوں سے ڈر لگتا ہے۔ قیدی ، دن کے خواب ، میں اورمیں ، بدلتے موسم ، تنہائی سے آگے ، ذاتیات ۔
ہجویات کے عنوان کچھ اس طرح ہیں۔
تذکرہ شعراء اردو ۔ نقدنامہ ، شہرآشوب ، تاجنس
۴۔ زندگی اے زندگی :یہ مجموعہ کلام خلیل صاحب کے انتقال کے بعد 1983شائع کیا گیا اس مجموعہ کے ابتداء میں چند نعت پاک ہیں۔اس کے علاوہ چالیس غزلیں ، پندرہ نظمیں، چھ کتبے اورکچھ متفرق اشعارشامل ہیں۔ اس مجموعہ میں شامل نظموں کے نام یہ ہیں۔ ان کہی، نیا آدمی ، پچھلے جنم کی کتھائیں۔ حروف والفاظ کے ذخیرے ، میں گوتم نہیں ہوں ، بھائی ، نیندپیاری نیند ،اجوؔ پی چو، کمو صاحب ، ہما، واں ، لوری، اصحاب فیل۔ تانڈو ناچ۔
۵۔ مقدمہ کلام آتش: ان کے تحقیقی کارناموں میں سب سے پہلا تحقیقی مقالہ ہے۔ اورتمام تصانیف میں سب سے پہلی تصنیف ہے۔ یہ کارنامہ اس وقت کا ہے جب خلیل صاحب بی ۔ اے کررہے تھے اور یہ مقالہ1948-49ء ’’نگار‘‘میں قسط وار شائع ہوا۔اورکتابی شکل میں 1959ء میں شائع ہوا۔
’’احوال واقعی‘‘کو چھوڑ کر اس مقالہ کو سات حصوں میں تقسیم کیا گیاہے ۔ تقسیم باب میں مصنف نے دقت نگاہ کا ثبوت دیاہے ۔ ابواب میں درج ذیل ہیں ۔
۱۔ تذکرہ ، ۲۔ چھان بین ، ۳۔ آتش کا فن اول ، دوم ، سوم ۔ ۴۔ عشقیہ شاعری ۔۵۔ خمریات ، ۶۔ تصوف ۔ ۷۔ مسائل حیات ۔
۶۔ نوائے ظفر: یہ خلیل الرحمن کا دوسرا تحقیقی مقالہ ہے اسے انتخاب کلام بہادر شاہ ظفر بھی کہاجاسکتا ہے ۔ مع مقدمہ1957ء میں پہلی بار علی گڑھ سے اور دوسری بار 1959میں دہلی سے شائع کیا گیا ۔
۷۔ ترقی پسند ادبی تحریک: اس مقالہ کو خلیل الرحمن نے ڈاکٹریٹ ڈگری حاصل کرنے کی غرض سے لکھ کر شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پیش کیاتھا۔ 1972ء میں انجمن ترقی اردو علی گڑھ سے شائع کرایا۔ پروفیسر رشید احمد صدیقی کو نگرانی میںیہ مقابلہ پایۂ تکمیل کو پہنچایا۔
۸۔ نئی نظم کاسفر: اس میں 1939کے بعد کی نظموں کاجامع انتخاب ہے یہ انتخاب جامعہ دہلی سے مع مقدمہ 1977ء میں شائع ہوا۔
۹۔فکروفن: یہ اعظمی کاپہلا تنقیدی مضامین کامجموعہ ہے 1956 میں کتاب گھر دہلی سے شائع ہوا ۔ اس میں غالب ،ظفر ،درد،حسرت ، داغ ، مومن ، جوش ، جمیل مظہری اورجذبی پر تنقیدی مضامین شامل ہیں۔
۱۰۔ زاویہ نگاہ:یہ خلیل الرحمن کے تنقیدی مضامین کادوسرا مجموعہ ہے ۔ جو1966ء میں آدرش پبلشرز’’گیا‘‘ سے شائع کیاگیا ۔ اس میں شامل کئے گئے مضامین کے عنوانات پر ہیں اردو کے تنقیدی مسائل ، جگر مراد آبادی ، اختر الایمان دونئے شعری مجموعے ۔ سرسید کے ادبی تصورات ، اردو شعر وادب میں علی گڑھ کاحصہ ۔اردو نظم کا رنگ وآہنگ ، فراق گورکھپوری ، ابوا لکلام کے مکاتیب ۔
۱۱۔ مضامین نو: تنقید ی مضامین کاتیسرا اور آخری مجموعہ ہے ۔ 1977ء میں شائع ہوا ۔ اسے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ۔اس میں چار حصے ہیں پہلے حصے میں مضامین ،دوسرے میں مسائل، تیسرے میں تبصرے اورچوتھے میں شخصیات ہیں ۔
المختصر خلیل الرحمن اعظمی دور جدید میں اردو کے مدیر نقاد تھے ۔ جنہوں نے اردوتنقید کے تعمیری مثبت اورمعتدل فکر میں اپنی ایک جگہ بنائی۔ جس کی تشکیل نو عصر حاضر میں آل احمد سرور ، اخترانصاری جیسے رفقائے عظیم نے کی تھی۔اور جس کی روایات کے سلسلے میں رشید احمد صدیقی اورعبدالحق سے آگے بڑھ کر حالی اورشبلی تک دراز ہے لیکن شاعری میں اس قبیل کے بچے کھچے افراد میں سے نظر آتے ہیں ۔ جس کے سربراہ فیض اور جذبی ہیں۔