خطیب الاسلام حضرت مولانا محمدسالم صاحب قاسمیؒ کا کردار :- مفتی امانت علی قاسمیؔ

مفتی امانت علی قاسمی

علوم نانوتوی ؒ کی تشریح و تسہیل میں
خطیب الاسلام حضرت مولانا محمدسالم صاحب قاسمیؒ کا کردار
(۱۹۲۶ء۔۲۰۱۸ء)

مفتی امانت علی قاسمیؔ
استاذ حدیث دار العلوم حیدرآباد
E-mail:
07207326738 Mob:

مت ان کو سہل جانو ، پھر تا ہے فلک برسو ں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
خطیب الاسلام ، یاد گار اسلاف اور علماء دیوبند کے ترجمان حضرت مولانا سالم صاحب قاسمی ؒ علم وعمل کے تاجدار اورفکر و نظر کے در آبدار تھے، فکر ولی اللہی اور فکر قاسمی کے صحیح وارث و امین اورحضرت نانوتوی کے علوم اور ان کے فکر و فلسفہ کے شارح تھے ،

آپ طویل عرصے تک علم و ارشاد کی مسند کے شہ نشیں رہے ، آپ کی خدمات کا ایک سلسلہ ہے ،کارناموں کی طویل فہرست ہے ،آپ کی زندگی ہم سب کے لیے مشعل راہ اور قابل تقلید ہے، آپ کی فکر عالمگیراورشخصیت ہمہ گیر و ہمہ جہت تھی۔
دارالعلوم دیوبنداور دارالعلوم وقف آپ کی خدمات اور آپ کے کردار عزیمت کا گواہ ہے ، آپ اس آخری دور میں اپنے اساتذہ کے اعتبار سے بھی سب سے ممتاز تھے اور اپنے تلامذہ کے اعتبار سے سب پر فائق تھے ۔سادگی ،تواضع، بلند حوصلگی ،اخلاق و کردار ، سنجیدگی و وقار ،خندہ پیشانی و ملنساری اور تقوی و پرہیزگاری،خلوص و للہیت، ایثارو قربانی اورعلم و عمل ہر اعتبار سے اپنی مثال آپ تھے ۔آپ گفتار کی جگہ کردار کے غازی تھے، بولتے تو علم کے موتی بکھیرتے،چلتے تو حلم و وقار کا مظاہرہ ہوتا ،آپ کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا جیسے کسی خدا رسیدہ وخدا ترسیدہ انسان کے دیدار سے آنکھیں ٹھنڈک محسوس کر رہی ہیں ،آپ کو سن کر محسوس ہوتا کہ بحر ناپیداکنار سے شرف تلمذ حاصل ہورہا ہے ۔
نرم دمِ گفتگو ،گرم دمِ جستجو
رزم ہو یا بزم ہو،پاک دل و پاک باز
خطابت کی چاشنی ،سلاست کی دلآویزی ،استدلالات و تمہیدات اورفکر و فلسفہ کی پختگی نے آپ کو زندگی میں ہی خطیب الاسلام کے لقب سے متعارف کرا دیا تھا ،ہندوستان میں ساحر اللسان ،جادو جگانے والے او رقلب و جگر کو مسحور کرنے والے خطیبوں کی ایک بڑی تعداد گزری ہے، جن کی خطابت کی گرج نے پوری دنیا میں اپنی خطابت کا لوہا منوالیا لیکن ’’ خطیب الاسلام ‘‘جیسا پیارا لقب آپ کا نصیبہ بنا، آپ کی تقریروں کو سن کر اور پڑھ کر دل صاف گواہی دیتا ہے کہ آپ واقعی’’ خطیب الاسلام ‘‘تھے۔
آپ کے دم سے فصاحت کی بلاغت کی ہے آن
کوئی ثانی ہی نہیں ایسے سخنور ہیں آپ
حضرت نانوتوی ؒ کے علوم و افکار کی معنویت
حضرت نانوتویؒ کو خدائے وحدہ لاشریک لہ نے علم و معرفت اور حکمت و فلسفہ سے خصوصی طور پر نوازا تھا ۔ آپ کے علوم بلاشبہ الہامی ہیں، جن میں کتابوں سے زیادہ اکتساب نہیں کیا گیا ہے ۔ آپ کی تحریریں قلم برداشتہ ہیں جو کسی مطالعہ کی روشنی میں تحریر نہیں کی گئی ہیں۔ آپ کی تقریریں اورمناظرے عقلی ہیں ، جن کے مطالعہ سے صاف واضح ہوتا ہے کہ مبداء فیاض نے آپ کو علم و فہم الہام فرمادیا تھا ۔ حضرت خطیب الاسلامایک جگہ فرماتے ہیں :
حضرت الامام النانوتوی ؒ کے فکر و ذہن کو حق تعالی نے کمال علم و حلم کے ساتھ اپنے دعاوی پر مسکت دلائل قویہ قائم کرنے کی ایسی منفرد اور عظیم صلاحیت سے نوازا تھا کہ احباب و اغیار ہی نہیں بلکہ اعداء بھی ان کی استدلالی قوت پر بصد اعتراف سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہوتے تھے ۔(خطبات خطیب الاسلام ۳/۶۰)

حضرت خطیب الاسلامؒ کو علوم نانوتوی ؒ کے ساتھ مناسبت
حضرت خطیب الاسلام کو بہت سے علوم و فنو ن میں درک اور مہارت تامہ کے ساتھ حضرت نانوتویؒ کے علوم و افکار کے ساتھ خاص دلچسپی تھی ۔ آپ نے حضرت نانوتویؒ کے متعلق حضرت حکیم الاسلامؒ اور دوسرے بزرگوں سے سن کر اور ان کی تحریروں کو پڑھ کر علوم نانوتویؒ میں بھی مہارت و ملکہ حاصل کر لیا تھا ، یہی وجہ ہے کہ آ پ کے خطبات اور تحر یروں میں حضرت نانوتویؒ کے علوم افکار پر باضابطہ تقریریں اور تحریریں موجود ہیں ۔حضرت نانوتوی کی کتابیں موجود ہیں جن سے استفادہ کیا جاسکتاہے لیکن حضرت خطیب الاسلام اس پر اپنی طرف سے تمہید قائم کرتے ہیں اور سیاق و سباق میں کچھ اس طرح جملوں کا اضافہ کرتے ہیں کہ فکر نانوتوی کے سارے پہلو اجاگر ہوجاتے ہیں بلکہ کہنا چاہیے کہ حضرت نانوتوی کی تحریر کو پڑھ کر آپ ان کے مزاج اور طبعی مذاق تک پہنچ گئے تھے ، جس کی وجہ سے ان کے علوم و افکار کی تسہیل و تشریح آپ کے لیے آسان ہوگئی تھی ۔ ایک جگہ حضرت خطیب الاسلامؒ تحریر فرماتے ہیں :
’’ در حقیقت جہاں تک حضرت والا کے مذاق طبعی کے اندازہ کرنے کا موقع مجھے دستیاب ہوا ہے میں خیال کر تا ہوں کہ ایسے مسائل جن سے’’ تفرق کلمہ‘‘ اور افتراق و انشقاق ہو حضرت والا ان سے طبعا نفور تھے ۔‘‘(خطبات خطیب الاسلام ،افادات: حضرت مولاناسالم صاحب ؒ ،مرتب :محمد یامین القاسمی ،ادارہ دارالاشاعت حیدرآباد ،۵۸/۴)
حضرت خطیب الاسلام ؒ کو اللہ تعالی نے علم و حکمت کے گوہر بے بہا سے سرفراز فرمایا تھا ۔ آپ یگانہ روزگار تھے ، علم وفکر کے کوہ ہمالہ پر فائز تھے ۔ اللہ تعالی نے آپ کو دینی و ملی خدمات کا خوب موقع فراہم کیا ۔ آپ نے اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ تشنہ کام امت کی سیرابی کا فریضہ انجام دیا ۔ آپ کی جملہ خدمات میں ایک اہم خدمت اور کارناموں میں ایک عظیم کارنامہ حضرت نانوتوی کے علوم اور ان کے فکر وفلسفہ کی تشریح و تسہیل ہے ۔ حضرت ناتوی کی کتابیں آج بھی حل طلب ہیں اور بعض کتب کی دقت کا یہ عالم ہے کہ خود ان کے تلامذہ ا ن کتابوں کو سبقا سبقا پڑھا کر تے تھے ۔ حضرت خطیب الاسلام نے اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ یہ عظیم الشان کارنامہ انجام دیا ۔
حضرت خطیب الاسلام کی زندگی ہمہ گیر وہمہ جہت ہے جن میں فکر کی بلندی ، شعور کی تابانی ، کردار کی روانی ،الفاظ و تعببرات کی ارزانی اور خدمات کی جولانی سب کچھ ہے آپ کی شخصیت مختلف الجہات ہے ،آپ درس گاہ میں شیخ الحدیث ہیں ،مدرسہ میں مہتم ہیں تنظیموں میں امیراور ملی پلیٹ فارم پرقائد ہیں رات میں شب زندہ دار اور دن میں قافلہ و علم و عمل کے سالارہیں حضر میں کاتب الاسلام ہیں توسفر میں خطیب الاسلام ۔ آپ کے کارناموں کی طویل کی فہرست ہے جس میں ایک اہم کارنامہ حجۃ الاسلام ؒ کے علوم و افکار کی تشریح و تسہیل ہے ، آپ کے خطبات اور تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے حضرت نانوتوی ؒ کو بہت گہرائی و گیرائی سے پڑھا ہے اور بہت سی خوبی و اوصاف اور علم و فکر کے بہت سے سوتے حکمت و فلسفہ کے مختلف گوشے آپ کے اندر وراثتا بھی منتقل ہوگئے تھے۔
تقریر و تحریر میں آپ کا اسلوب بالکل منفرداور جداگانہ اور سب سے ممتاز ہے جس میں جملے ٹوٹتے نہیں بلکہ ایک جملے دوسرے جملے سے ملتے چلے جاتے ہیں البتہ حضرت الامام ؒ کے مکتوبات اور ان کے قول کی تشریح کے دوران آپ کا اسلوب مولانا گیلانی کے اسلوب سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حضرت خطیب الاسلام ؒ مولانا گیلانی ؒ کے طرز تحریر سے متأثر تھے اس کی ایک شہادت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ایک مجلس میں کسی نے سوال کیا کہ حضرت نانوتوی ؒ کی سب سے اچھی سوانح کون سی ہے اس پر حضرت خطیب الاسلام نے جواب دیا کہ سوانح قاسمی ہے اور فرمایا کہ مولانا گیلانی سے لکھوانے کی تجویز میں نے ہی والد صاحب کے سامنے رکھی تھی تو حضرت حکیم الاسلام نے اس کو پسند فرمایا اور فرمایا کہ تم ہی ان سے بات کرلو ۔
حضرت خطیب الاسلام ؒ نے حضرت نانوتوی کا طبعی و فکری ذوق پالیا تھا اسی لیے آپ نے حضرت الامام کی زندگی پر کئی تحریر یں لکھیں اور بہت سی تقریریں کی ہیں ان تحریروں اور تقریروں میں حضرت نانوتوی ؒ کے علوم و افکار کا عکس دکھائی دیتا ہے عقلی استدلال اور تمہید و اصول کی روشنی میں باتوں کو مدلل سمجھانے کا طریقہ در حقیقت حضرت نانوتوی ؒ کا ہی پر تو ہے ۔
آپ نے اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ حضرت نانوتوی ؒ کے علوم و افکار سے اور ان کے اصول و کلیات سے پوری زندگی لوگو ں کو متعارف کرایا ہے خاص طور پر جن فکر و فلسفہ کی تشریح ہمیں ان کی تحریرو تقریر کے ذریعہ ملی ہے ان میں چند کا اختصار کے ساتھ یہاں تذکرہ کیا جاتا ہے۔
(۱) حضرت نانوتوی کا عظیم کارنامہ ختم نبوت کی حیرت انگیز تشریح ہے جس میں اگر چہ آپ منفرد نہیں ہیں بلکہ آپ سے پہلے بعض بزرگو ں سے اس کی حقیقت ملتی ہے لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اپنے عہد میں آپ ہی ذریعہ یہ غیر معمولی تشریح لوگوں کے سامنے آئی حضرت خطیب الاسلام نے حضرت نانوتوی کے مسئلہ ختم نبوت کی دلنشیں تشریح و تفسیر اور ان کی عبارتوں کی توضیح کی ہے جس سے یہ مسئلہ دو دو چار کی طرح واضح ہو جاتا ہے ۔
(۲)حضرت نانوتوی ؒ کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ علم و عشق کے اجتماع میں انسانیت کے مسائل کا حل ہے اور بے علم عشق اور بے عشق علم کی کوکھ سے کبرو تکبر کے ساتھ بدعات و خرافات کا تولد ہوتاہے حضرت خطیب الاسلام نے اس کی دلچسپ توضیح کی ہے۔
(۳) عوام میں انتشارو خلفشار کی کی ایک بنیاد یہ بھی ہے کہ علماء وسعت قلبی و فراخ دلی سے کام نہیں لیتے اور ایک دوسرے کی تکفیر میں جلد بازی مچاتے ہیں اس وقت اگر چہ اس طرح کا ماحول نہیں ہے لیکن حضرت الامام کے عہد میں اس کی بہت کثرت تھی حضرت نانوتوی ؒ اس سے بہت رنجیدہ تھے اسی طرح فروعی مسائل جن میں اختلاف کی بنیاد نصوص میں اختلاف ہے اور ہر دو جانب دلائل ہیں اس میں اختلاف کرکے آپس میں دوریاں پیدا کرنا اور اسلامی اخوت کی بنیادوں کو ختم کرنا اسلام کے اصول وحدت کے بالکل منافی ہے حضرت نانوتوی اس کے سخت مخالف تھے حضرت خطیب الاسلام نے مختلف جگہوں پر حضرت نانوتوی کے اس فکرکی وضاحت فرمائی ہے ۔
(۴)حضرت خطیب الاسلام نے حضرت نانوتوی ؒ پر ہوئے ایک سیمینار میں حضرت الامام مولانا محمدقاسم نانوتوی ؒ کی شخصیت کے امتیازی پہلو ،،کے عنوان پر ایک تفصیلی مقالہ تحریر فرمایاہے جس میں حضرت نانوتو ی کے علوم اور ان کے فکر و فلسفہ اور ان کی شخصیت کے امتیازی پہلو کو بہت ہی البیلے اور نرالے اندازمیں ذکرکیا ہے جس سے حضرت نانوتو ی کے علوم و معارف سے ان کی دلچسپی معلوم ہوتی ہے اور خطیب الاسلام کے قلم زرف نگار اور اسلوب و تعبیرات کی انفرادیت کا بھی پتہ چلتا ہے ۔
(۵)حضرت نانوتو ی نے انسانیت کی اصلاح و تربیت کے چار بنیادی اصول وضع فرمائے تھے جو نظام امن و تربیت کی اساس کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ اصول جن واضح اور یقین قطعی پر مبنی عقیدوں پر قائم ہیں ان کا کوئی صحیح العقل اور صحیح الفکر انسان انکار نہیں کرسکتا بظاہر یہ بات لوگوں میں متعارف تھی کہ حضرت کے چار مربیانہ اصول ہیں لیکن اس کی توضیح و تشریح میں کچھ اغلاق و اجمال تھا تھا اس لیے ا یک مجمع میں حضرت خطیب الاسلام سے ان مربیانہ اصول کی تشریح کی درخواست کی گئی تھی حضرت خطیب الاسلام نے اس کی وضاحت فرمائی ۔
(۶)حضرت نانوتوی ؒ عام طور پر بنیادی حقائق سے کلام کرتے ہیں اور زیادہ ترکلیات سے بحث کرتے ہیں ان کے یہا ں جزئیات بھی کلیات بن جاتی ہیں اور کلیات کے لیے تمثیلیات کا سہارا لیتے ہیں آپ کے کلام میں خاص طور پر دو چیزیں زیادہ ملحوظ رہتی ہیں اللہ تعالی کی ذات کو سامنے رکھتے ہیں اورمثالوں میں آفتاب کی تمثیل زیادہ استعمال کرتے ہیں جیسے کہ حضرت مجدد الف ثانی کے یہاں آئینے کی تمثیل زیادہ ملتی ہے چنانچہ ربط حادث بالقدیم کی وضاحت حضرت نانوتوی نے آفتاب کی تمثیل سے کی ہے حضرت خطیب الاسلام نے اس مسئلہ کی بڑی مدلل اور فلسفیانہ انداز میں وضاحت کی ہے اسی طرح فلسفہ وجود و عدم پر گفتگو کرتے ہوئے بندہ اور رب کے ربط کی دلچسپ وضاحت کی ہے۔
(۷)ملک کی آزدای اور دارالعلوم کے قیام سے پہلے ہندوستان میں تین مکتب فکر کی علیحد علیحدہ تعلیم ہورہی تھی قرآن و حدیث کی تعلیم کا مرکز دہلی تھا تو فقہ کی تعلیم کا منبع لکھنؤاو رمنطق و فلسفہ کا مدرسہ رام پور اور خیرآباد میں قائم تھا لیکن انگریز کے ناپاک عزائم کی وجہ سے یہ تینوں ادارے زوال کے راستے پر تھے لیکن حضرت نانوتوی کی عالمگیر فکر نے اس سرمایہ ملت کی حفاظت کے لیے دارالعلوم قائم کرنے کا منصوبہ بنایا جس میں تینوں مکتب فکر کی تعلیم کو جمع کرکے ان علوم کو نہ صرف ضائع ہونے سے بچا لیا بلکہ پور ی دنیا میں اس کی حفاظت و اشاعت کا بہترین نظم قائم ہوگیا حضرت خطیب الاسلام اپنی مختلف تقریروں او رتحریروں میں حضرت نانوتوی کے اس فکر ی کارنامے کی توضیح و تشریح کی ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ حضرت نانوتوی ؒ کا سب سے عظیم علمی و فکر ی کارنامہ دارالعلوم دیوبند اور اس کا قیام و استحکام ہے اور حضرت خطیب الاسلام نے پوری زندگی اس علمی و فکر ی کارنامے کی تشریح و تفسیر اور تعمیر و تزئین میں صرف کی میں سمجھتا ہوں کہ یہی حضرت خطیب الاسلام کا سب سے عظیم کارنامہ ہے اور اس کی حفاظت واشاعت اور اس کی تعمیر و ترقی کی جد جہد حضرت خطیب الاسلام کو سب سے عظیم خراج تحسین ہے اللہ تعالی آپ کی ان خدمات کو قبول فرمائے اور ہمیں ان کے نقش پا پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین۔