خلافتِ الٰہیہ کے حدود و اختیارات :- مفتی کلیم رحمانی

مفتی کلیم رحمانی

خلافتِ الٰہیہ کے حدود و اختیارات

مفتی کلیم رحمانی
8329602318 Mob:

دینی لحاظ سے خلافتِ الٰہیہ کی حیثیت ایک خادم کی ہے، اس لئے بنیادی طور پر خلافتِ الٰہیہ کے حدود و اختیارات بھی وہی ہیں جو اسلام کے ہیں۔ لیکن چوں کہ حکومتِ الٰہیہ جنگی طاقت و قوت کی حامل بھی ہوتی ہے۔ اس بناء پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے واضح طور پر اس کے حدود و اختیارات متعین کردیے تا کہ خلافتِ الٰہیہ کے ارکان اختیارات کا غلط استعمال نہ کریں۔

کیوں کہ یہ فطری امر ہے کہ کوئی طاقت و قوت اگر اُصول و ضابطوں سے آزاد ہو تو اس سے ظلم ہی پھیلے گا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ طاقت و قوت کے استعمال کے صحیح اُصول و ضابطے صرف دین اسلام ہی کے پاس ہیں۔
خلافت الٰہیہ کے قیام کی سب سے پہلی حد یہ ہے کہ اس کی تمام تر کوششیں قرآن و حدیث کے دائرے میں ہوں ، مثلاً یہ کہ کسی پر ظلم نہ کیا جائے، اور صرف انہیں لوگوں سے جنگ کی جائے جو خلافتِ الٰہیہ کے قیام میں رکاوٹ بنتے ہیں، اور جنگ میں بھی عورتوں ، بوڑھوں اور بچوں کو قتل نہ کیا جائے۔ ساتھ ہی جو کافر و مشرک جزیہ دے کر حکومتِ الٰہیہ کے تحت زندگی گزارنے کے لئے راضی ہوجائیں تو انہیں بھی قتل نہ کیا جائے بلکہ ان کی جان و مال کی حفاظت کی جائے۔ اسی طرح حکومتِ الٰہیہ کے سربراہ یعنی امیر المومنین کا انتخاب علم و تقویٰ کی بنیاد پر صاحب الرائے افراد کے مشورے سے کیا جائے اور اس سلسلے میں کسی پر زور زبردستی نہ کی جائے۔خلافتِ الٰہیہ کی دوسری حد یہ ہے کہ وہ قانون بنانے اور اسے نافذ کرنے میں آزاد و خود مختار نہیں ہے بلکہ وہ قرآن و حدیث کی پابند ہے۔ مثلاً قرآن و حدیث میں جن چیزوں کو حرام کیا گیا ہے حکومتِ الٰہیہ پر لازم ہے کہ انہیں حرام سمجھے اور قانونی لحاظ سے انہیں ممنوعہ قرار دے۔ اسی طرح قرآن و حدیث میں جن چیزوں کو حلال کیا گیا ہے خلافتِ الٰہیہ پر لازم ہے کہ انہیں حلال سمجھے اور قانونی لحاظ سے انہیں حلال قرار دے۔لہٰذا خلافتِ الٰہیہ پر لازم ہے کہ وہ اپنے حدود و اقتدار میں سود، رشوت، جوّا، شراب، زِنا، چوری، ناچ، گانا اور موسیقی کو ممنوع قرار دے اور جوان میں سے کسی کا ارتکاب کرے اسے سزادے۔ اسی طرح خلافتِ الٰہیہ پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ اپنے حدود اقتدار میں اسلام کے حلال و جائز کردہ کسی فعل کو ممنوع نہ ٹھہرنے دے ،
جیسے تمام حلال جانوروں کا گوشت، تجارت، زراعت و ملازمت وغیرہ، نیز قرآن و حدیث میں ایمان والوں پر جن اعمال کو فرض کیا گیا ہے حکومتِ الٰہیہ پر لازم ہے کہ ان کی فرضیت تسلیم کرے اور ایمان والوں پر بزو رِ قوت انہیں نافذ کرے۔ جیسے دن و رات میں پنج وقتہ نمازیں ، ماہِ رمضان کے روزے، صاحبِ نِصاب افراد پر زکوٰۃ کی ادائیگی اور حج بیت اللہ کی استطاعت رکھنے والوں پر حج کی ادائیگی۔ البتہ دین کے جو اعمال مستحب و مسنون کا درجہ رکھتے ہیں حکومتِ الٰہیہ ان کی ترغیب تو دے سکتی ہے لیکن بہ زور قوت انہیں نافذ نہیں کرسکتی جیسے نوافل نمازیں اور نوافل صدقات وغیرہ۔ اسی طرح دین کے وہ اعمال جن کی ادئیگی میں شرعی لحاظ سے دو یا دو سے زیادہ طریقوں کاثبوت پایا جاتا ہے، حکومتِ الٰہیہ کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی ایک ہی طریقہ کو لازم کرے۔ جیسے نماز میں امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ کا پڑھنا یا نہ پڑھنا ، نماز میں سورہ فاتحہ کے اختتام پر آمین آواز سے کہنا یا آہستہ کہنا، نماز میں ہرتکبیر کے وقت دونوں ہاتھوں کا کانوں تک اُٹھانا یا نہ اُٹھانا، نماز میں ہاتھوں کو ناف کے نیچے باندھنا یا سینے پر باندھنا، ماہِ رمضان میں تراویح آٹھ رکعت پڑھنا یا بیس رکعت پڑھنا، حالتِ سفر میں ایک وقت میں دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنا یا ہر نماز کو اس کے وقت ہی میں پڑھنا۔ اس طرح کے احکام و مسائل میں حکومتِ الٰہیہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ توسّع اختیار کرے اور کسی ایک ہی طریقہ کو اختیار کرنے کے لئے جبر نہ کرے۔ اسی طرح قرآن و حدیث میں جن مسائل کی صراحت و وضاحت نہ ہو اس مسئلہ میں کوئی حکم صادر کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس مسئلہ میں قرآن و حدیث کی روشنی میں اجتہاد کرے، اگر اجتہاد میں دو پہلو نکلے تو حکومتِ الٰہیہ کے لئے جائزنہیں ہے کہ وہ کسی ایک ہی پہلو کو اختیار کرنے کے لئے جبر کرے، لیکن اجتہاد کے متعلق یہ بات واضح رہے کہ اجتہاد صرف انہیں مسائل میں کیا جائے جن کا صراحت کے ساتھ قرآن و حدیث میں ذکر نہ ہو۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ کوئی بھی اجتہاد قرآن و حدیث کی فکر و عمل سے نہ ٹکرائے، اگر کسی کا اجتہاد قرآن و حدیث کی فکر و عمل سے ٹکرائے تو وہ قابل قبول نہ ہوگا۔ معلوم ہوا کہ ہر ایک شخص کو اجتہاد کرنے کا حق نہیں ہے بلکہ اسی شخص کو اجتہاد کا حق حاصل ہے جس کی قرآن و حدیث پر گہری نظر ہو اور متقی و مخلص بھی ہو۔