خود کو پہچانیں :- عظمت علی

عظمت علی

خود کو پہچانیں

عظمت علی

ہر انسان کے اندر دو قسم کے کمالات پائے جاتے ہیں۔ ایک ذاتی جو کہ اللہ کی جانب سے عطا ہوتا ہے اور دوسرا کسبی جسے انسان اپنی کاوشوں سے حاصل کرتاہے ۔دنیا کے ہر فرد کی فطرت میں کسی نہ کسی خاص صفت کا پایا جانا لازمی ہوتا ہے ۔اب یہ اس شخص پر موقوف ہے کہ وہ اپنی ذات میں پوشیدہ جوہر کوتلاش کرے ۔

اندرونی کمالات کا تعین اتنا مشکل بھی نہیں کہ اسے معین ہی نہ کیا جاسکے ۔جب اسے اس بات کاعلم ہوجائے کہ اس کے اند ر ایک خاص صفت کا وجود ہے اور وہ اس کی طرف ذہنی وقلبی لگاؤ رکھتا ہے تو اسے اپنی زندگی کا اٹوٹ حصہ بنالینا چاہئے ۔
یہی وہ اصول ہیں جو ہر کسی کی حیات کوبامقصد اور کامیاب بنانے میں ایک اہم کردار کی حیثیت رکھتے ہیں۔مثال کے طور پرایک طالب علم کوسائنس میں کافی دلچسپی ہے جبکہ اس کے نصاب میں کئی کتابیں شامل ہیں ۔اب اگر اسے اپنی زندگی کو ہمالیائی کامیابی تک پہونچانا ہے تو اسے علم سائنس میں انتھک محنت کرنی چاہئے ۔بل گیٹس (Bill gates)کے بارے میں ملتاہے کہ وہ خود کہتاہے :
"I failed in some dubjects in exam ,but my friend passed in all.Now he is engineer in Microsoft and I am the owner of Microsoft.”
میں امتحان میں کچھ مضامین میں ناکام ہوجاتاتھا ۔لیکن میرے دوست سب میں کامیاب ہوجاتے ۔لیکن اس وقت وہ مائیکروسافٹ میں انجینیئر ہیں اورمیں اس کامالک!
اگر انسان اپنے ذہنی رجحان کی طرف توجہ کرے تو کامیابی اس کی قدم بوسی کرتی نظرآئے گی ۔لیکن اگر اس کے برعکس کیا تو گویا اپنے ہی پیروں پ رکلہاڑی مارے گااورطول حیات کوئی عظیم کارنامہ انجام نہیں دے سکے گا۔چونکہ ذہنی رجحان کا گلاکھونٹ کر متفرق موضوعات پر مہارت حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔اسی وجہ سے اسکول ،کالج اور یونیورسٹی میں استاذ کو اس کے امتیازی مضامین کی تعلیم کے لئے منتخب کیا جاتا ہے۔لہٰذا ،اگر اردو کا ادیب اردو اور ریاضی کا ماہر ریاضیات کادرس دے تو طالب علم کامیابی بآسانی کامیابی سے ہمکنار ہوجائیں گے۔لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس ہوجائے تو سوائے کف افسوس ملنے کے کوئی اورنتیجہ نہیں نکلے گا۔
استاد کونصاب پڑھانے سے زیادہ طالب علم کے ذہن کوپڑھناچاہئے تاکہ اس کے اندر موجود خامیوں کی طرف متوجہ کر سکے اور اس کی خوبیوں کو بروئے کار لاکر کامیابی سے جاملے۔
ایک طالب علم پڑھائی لکھائی میں بالکل کوراتھا۔ اساتذہ کا بھی یہی گمان تھا کہ اب وہ پڑھائی کے لائق نہیں۔اڑتے اڑتے یہ خبر مدیر کے کانوں جاپہونچی ۔ اس نے اس کے والد کو بلا بھیجا اور ساراماجرا بیان کیا — عین اسی وقت وہ طالب علم ایک صفحہ پر تصویر کشی کر رہاتھا ۔پرنسپل نے دیکھتے ہی اسے ایک اچھے مصور کے پاس لے جانے کو کہا …۔
…کچھ دن گزر جانے کے بعد لوگوں تک یہ بات پہونچی کہ پتھریلے کوئلے سے چمکتاہوا ہیرانکلا۔آج بہت سے تعلیم یافتہ حضرات اپنے اعلیٰ مقاصد تک نہیں پہونچ سکیں ہیں ۔ان کے اسباب ناکامی میں سے ایک سبب دوران تعلیم اندرونی استعداد کاادراک نہ کرپاناتھا ۔انہوں نے کتابوں کی لائبریری تو بنالی لیکن کسی موضوع میں قابل قدر مہارت حاصل نہ کرسکے۔
لہٰذا!ہر طالب علم کو ابتدائے طلبگی سے اپنا لائحہ عمل معین کرلینا چا ہئے اور تادم مرگ اسی میں کوشا ں رہنا چاہئے ۔المختصر!ہر انسان کی اندر ایک ممتاز صفت کا وجود ہونا ضروری امر ہے ۔جس کو مشخص کرنا اور بروئے کار لاکر با مقصد زندگی میں چار چاند لگا ئے ۔