نوجوانوں میں قائدانہ صلاحیتوں کا فقدان :- فاروق طاہر

فاروق طاہر

نوجوانوں میں قائدانہ صلاحیتوں کا فقدان
اسباب و تجاویز

فاروق طاہر
حیدرآباد۔
,9700122826

کسی بھی معاشرے کی کامیابی و کامرانی میں نوجوان نسل کا اہم کردار ہوتا ہے۔ کوئی بھی سیاسی ، مذہبی، لسانی ،قومی و دیگر تحریکیں نوجوان نسل کی حمایت سے ہی کامیاب و مقبول ہوتی ہیں۔ اسلام کی ترویج و تبلیغ میں بھی نوجوانوں کی خدمات سے سرموئے انحراف نہیں کیا جاسکتا ۔

نبی اکرم ﷺ کی تعلیم و تربیت کا نتیجہ تھا کہ نوجوانان اسلام نے اپنے وقت کی عظیم طاقتوں کو سرنگوں کیا ۔یہ نبوی تعلیم و تربیت کی برکت کا نتیجہ ہی تھا کہ ایک غیرمنظم ٹولی ایک منظم اور باشعور جماعت کی شکل اختیار کرگئی اور زمانے میں خیر کوقائم کرنے اور شرکے سد باب کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی۔حضرت اسامہ بن زید،حضرت خالد بن ولید ، حضرت عمروابن العاص، حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ،صلاح الدین ایوبی، محمد الفاتح اور محمد بن قاسم نے اپنے زور بازو سے باطل قوتوں کو مسمار کرڈالا۔ان نوجوانوں میں جذبہ حریت ،اعتماد ،استقلال ،بلند نگاہی،درست قوت فیصلہ ،شعور و بالیدگی جیسے قائدانہ اوصاف صرف اور صرف نبوی تعلیم وتربیت کا ہی نتیجہ تھے۔ دنیا میں جتنے بھی انقلابات بپاہوئے ہیں ان کی کامیابی ا ور کامرانی میں نوجوانوں کا اہم کردار رہا ہے۔ تحریک خلافت ا ور جد وجہد آزادی میں بھی نوجوان کسی سے پیچھے نہیں تھے۔ نوجوانوں کی قوت کے دھار وں کو صحیح سمت ، شعورا ور قائدانہ کردار تعلیم و تربیت ہی سے حاصل ہوتا ہے۔
تعلیم صرف غوغائے علم کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا واضح راستہ ہے جس پر گامزن ہو کر آدمی کامیابی اور خوشحالی کو گلے لگاتا ہے۔تعلیم کسی بھی ملک و قوم کے لئے موت و حیات کا مسئلہ ہوتی ہے۔دیگر شعبوں کی طرح تعلیم کے بھی مختلف معیار ہوتے ہیں جن سے گزر کر نئی نسل یا تو ایک متوازن،سماج سے ہم آہنگ فکری سانچے میں ڈھلتی ہے یا پھر ایک غیر متوازن اور سماج سے غیر آہنگ غیر پسندیدہ شخصیت کا وجود ظہور میںآتا ہے۔ بہ الفاظ دیگر تعلیم کے معیار پرہی انسانی زندگی کے دیگر معیار استوار ہوتے ہیں۔ ہمارا تعلیمی معیار ہماری زندگی ،حالات اور رویوں کے معیار کاغماز ہوتا ہے۔ تعلیم اور قیادت جہاں معاشرے کو فکر ی آزادی عطا کر تی ہے وہیں یہ آدمی کو ذہنی غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کا کام بھی انجام دیتی ہے۔جو تعلیم اور قیادت آدمی کو ترقی ،تمدن اور تہذیب کی راہوں پر گامزن نہ کرسکیں وہ ملک و قوم کی سربلندی کا باعث نہیں ہوسکتی۔آج قیادت کا بحران صرف سیاسی میدان تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ بحران زندگی کے ہر شعبے میں دکھائی دیتاہے۔ زندگی کے مختلف شعبہ جاتمیں اچھے ماہرین پیداکرنے میں ہماری ناکامی کی وجہ بھی نئی نسل کی قائدانہ صلاحیتوں کی شناخت ،اعتراف و فروغ میں ہمارا معاندانہ رویہ ہے۔ سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے مطابق لیڈر شپ اور لرننگ ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم کا درجہ رکھتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ ایکٹیو ازم پر وہ زور دے کر کہتا ہے کہ تعلیمی اداروں کو نوجوانوں میں قائدانہ صلاحیتوں کے فروغکے لئیاستعمال کیاجائے۔ماضی قریب میں امریکہ میں طلبہ ایکٹیو ازم کے نتیجے میں بارک حسین اوبامہ ا سٹوڈنٹ لیڈر کی حیثیت سے سیاسی سفر کرتے ہوئے قصر ابیض (White House)کا پہلا سیاہ فام مکین (امریکی صدر)بن گیا۔ہمارے ملک کے سیاسی میدان میں جو مقبول عام نام ہیں،اُن کی بنیاد یں بھی دور طالب علمی میں قائدانہ صلاحیتیوں کے فروغ کے باعث ہی استوار ہو ئی ہیں۔ ملک کی معروف جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اور دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں کے بیشتر طلبہ اسٹوڈنٹ لیڈر شب کے ذریعیہی اصل سیاسی میدان میں داخل ہوئے ہیں۔آج کے سماجی ،سیاسی ،معاشرتی اور تعلیمی مسائل کے پیش نظرطلبہ میں قائدانہ صلاحیتوں کی آبیاری بے حد اہم ہے ۔ طلبہ میں قائدانہ صلاحیتوں کے فروغ میں معاون مشاغل اور سرگرمیوں کو شامل نصاب کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
تعلیمی نظام جن اقدار کو رواج دیتا ہے طلبہ اپنی زندگی میں انہی اقدار کو اختیار کرتے ہیں۔ طلبہ میں قائدانہ صلاحیتوں کے فروغ اور ان کی شخصیت کیتعمیر کے لئے اسکولی سطح پر نہایت سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔اسکول کی زندگی طلبہ کی ذہنی ،فکری رویوں کی تعمیر ،ترقی ، تبدیلی اور ارتقاء کا نقطہ آغاز ہوتی ہے۔ اساتذہ طلبہ کی زندگی کے اس اہم دور کو ضائع نہ کریں۔ بچوں کی قائدانہ صلاحیتوں کی نشو ونما کے ذریعے معاشرے کو امن و شانتی کا گہوارہ بنائیں۔ طلبہ کی زندگی استاد کی تعلیم و تربیت کی زیر اثر پروان چڑھتی ہے۔ طلبہ اپنی زندگی کے ہرشعبے میں استاد کی رہنمائی و رہبرئی کے محتاج رہتے ہیں۔ سکندر اعظم سے پوچھا گیا کہ وہ کیوں والدین سے زیادہ اپنے استاد کی تکریم و عزت کرتا ہے۔ملاحظہ فرمائیے سکندر اعظم کا وہ جواب جوآج تاریخ کا ایک روشن مکالمہ ہے۔ ’’ والدین اولاد کوآسمان سے زمین پر لاتے ہیں جبکہ استاد اپنے شاگرد کو زمین کی پستیوں سے آسمان کی بلندیوں پر فائز کرتا ہے۔‘‘ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی قائدانہ صلاحیتوں کے فروغ کے لئے لیڈرشب کوالیٹی پروگرامس کا انعقاد ناگزیر ہے ۔ طلبہ میں قیادت کے مطلوبہ کردار کے حصول کے لئے محکمہ تعلیمات اپنا گرانقدر کردار پیش کرے ۔ اساتذہ مسائل کا شکوہ اور وسائل کی قلت کا رونا چھوڑ کر دستیاب سہولتوں اور تعلیمی نصاب کو بہتر طریقے سے بروئے کار لاتے ہوئے جامع منصوبہ بندی ،مناسب تعلیمی سرگرمیوں کی انجام دہی ، مسلسل رہنمائی اور رہبری کے ذریعہ طلبہ میں قائدانہ صلاحیتوں کی نشوونما میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور تجربات کو صرف کریں۔ کسی بھی ملک کی ترقی اورکامرانی میں قائدانہ صلاحیتیں آکسیجن کا کردار ادا کرتی ہیں۔دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی ترقی و کامرانی میں تعلیم اورلیڈرشپ (قیادت) کا کلیدی کردار رہا ہے۔ملک و قوم کی پائیدار ترقی و استحکام کے لئے طلبہ میں لیڈرشپ کوالیٹی(قیادت کے ہنر) کو فروغ دینا اشد ضروری ہے۔نئی نسل میں قیادت کے اوصاف پیدا کیئے بغیر ملک کو استحکام اور دیرپا خوش حالی فراہم کرنا بے حد دشوارہے ۔طلبہ میں علم و دانش اور قائدانہ صلاحیتوں کے فرو غ کے ذریعے ملک و قوم کے زوال کو کمال میں بدلا جاسکتا ہے۔چین کی ایک مشہور کہاوت ہے جو تعمیرو ترقی کے اسی جذبے کی عکاس ہے۔ ’’ اگر ایک سال کی منصوبہ بندی کرنی ہو تو مکئی اگاؤ، اگر دس سال کی منصوبہ بندی کرناچاہتے ہو تو درخت اگاؤ اور اگرصدیوں کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہو تو اپنے عوام کی تربیت کرو انھیں بہترین تعلیم دو‘‘۔ملک کی ترقی کی رفتار بہت سست ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ملک کی سیاست اور دیگر اعلیٰ عہدوں پر عمر رسید ہ اصحاب کا غلبہ ہے اور یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ بڑی عمر کے لوگ تبدیل نہیں ہو سکتے۔ جب تک ذہن و سوچ کا اندازہ نہیں بدلتا، حالات نہیں بدل سکتے۔ حالات کا فکری تبدیلی کے بغیربدلنا ناممکن ہے۔ اسی لئے تبدیلی کے لئے ہمیں عمر رسیدہ افراد کی طرف دیکھنے کے بجائے نئی نسل پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ سیاست اور اعلیٰ عہدوں پرعمر رسیدہ اصحاب کے غلبے کی وجہ بھی درحقیقت نئی نسل میں قائدانہ صلاحیتوں کا فقدان ہے ۔نئی نسل میں قائدانہ صلاحیتوں کے فقدان کے سبب ہی تشدد اور عدم برداشت کا رجحان فروغ پذیر ہے۔تشدد، منفی رویوں اور عدم برداشت جیسے غیر پسندیدہ رجحانات پر طلبہ میں قائدانہ صلاحیتوں کے فروغ کے ذریعے قابو پایا جاسکتا ہے۔
قیادت کے تعمیری عناصر میں علم اور کردار کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ملک و قوم کی زمام کار نئی نسل کو سونپنے سے پہلے انھیں ایک خدا ترس اور نیک انسان بنانا ہوگا،مستقبل سازی اور مثبت تعمیری اوصاف سے متصف کرنا ہوگا،صلاحیتوں کو سمت اور رفتا ر دینی ہوگی،احترام انسانیت کے درس کے ساتھ عزت نفس کے جوہر سے انھیںآراستہ کرنا ہوگا،شخصی مفادات پر اجتماعی مفادات کو ترجیح دینے کی صلاحیت کو پروان چڑھانا ہوگا،ایثار و قربانی کے جذبے سے آراستہ کرناہوگا،صبر و تحمل کا مادہ پیدا کرنا ہوگا،تشکیک کی گلیاروں سے نکال کر اعتماد کے راہوں پر گامزن کرنا ہوگا،رواجی ذہن و فکر کے شکنجوں سے آزاد کرنا ہوگا،ارتقاء ،ترقی اور کامیابی کے حقیقی معنی سے انھیں آگاہ کرنا ہوگا، قوت فیصلہ اور قوت نافذہ کی صلاحیت ان میں پیداکرنی ہوگی۔معیاری تعلیم اور بہترین تربیت کے ذریعے ہی ان ناممکنہ امور کو ممکن بنایا جاسکتاہے ۔ تعمیرکے اس جذبے سے مامور انسان کو معمار قوم اور عرف عام میں استاد کہاجاتا ہے۔نصاب ایک بے جان شئے ہے اور اس میں استاد روح پھونکتا ہے۔جہاں انسان سازی کا کام انجام پاتاہے اسے اسکول ،مدرسہ یا تعلیمی ادارہ کہتے ہیں۔یاد رہے کہ تعلیم گاہیں فقط معلومات فراہم کرنے والی منڈیاں نہیں بلکہ نئی نسل کی ذہنی، جسمانی ا و روحانی تربیت کی محفوظ پناہ گاہیں ہوتی ہیں۔ حقیقی تعلیمی ادارے صرف پڑھائی نہیں طلبہ کی شخصیت و کردار کی تعمیر کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔تعلیمی اداروں کو جسمانی ،روحانی اور تربیت فراہم کرنے والے مراکز میں بدلنا اسی وقت ممکن ہے جب اساتذہ ذہنی ا و روحانی طور پر فعال ہوں۔پرائمری تعلیم سے قطع نظر ہماری تمام تر توجہ سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری ایجوکیشن پر مرکوز رہے جس کی وجہ سے بچوں کی غیر ہموار اور غیر متوازن شخصیت ابھر کر سامنے آرہی ہے۔یہ حقیقت ہم سبجان کر بھی انجان بنے ہیں کہ جب تک بنیاد پختہ نہ ہو کوئی بھی عمارت مضبوط اور پائیدار نہیں ہوسکتی۔پرائمری سطح پر مدارس میں ایسی سرگرمیاں شامل نصاب کی جائیں جن سے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں اور قائدانہ اوصاف کو جلا مل سکے۔
ہندوستانی طلبہ میں قیادت و سیاست کی مقبولیت کارجحان برطانوی نو آباد یاتی نظام کے خلاف آزادی کے شعور اور جدوجہد آزادی کی بدولت پروان چڑھا۔ تحریک آزادی میں طلبہ نے ہر اول دستے کا کام کیا۔ آزادی کے بعد طلبہ قیادت و سیاست نظریاتی بنیادوں پر دائیں اور بائیں بازو میں تقسیم ہو گئی۔طلبہ میں سیاسی شعور کی آبیا ری اور قومی شعور کو بیدار کرنے والی سیاست آج اپنے جارحانہ غیر تعمیری اور پرتشدد رویوں کی وجہ سے اپنی مقبولیت کھو بیٹھی ہے۔ تعلیمی اداروں کی غلط پالیسیوں، پر تشدد ماحول، آمریت پسندی، مذہبی،لسانی اور علاقائی بنیادوں نے طلبہ میں تخریبی مزاج کو پھلنے پھولنے کے خوب مواقع فراہم کئے جس کے سبب تعلیمی اداروں کے معیار کو کافی نقصان پہنچا ۔ تعصب اورنفرت کے اسی بطن سے عدم برداشت،صوبائی عصبیت اور انتہا پسندی نے جنم لیا۔ تعلیمی اداروں کے غیر صحت مند ماحول سے تعلیمی اداروں میں ادبی اور ثقافتی سرگرمیاں محدود ہو تی چلی گئیں اورنوجوانوں کی غیر نصابی صلاحیتوں نکھرنے کے بجائے ٹھٹر کر رہ گئیں۔ میڈل کلاس طبقے کے افراد کے لئے قومی سیاست میں داخلے کے مواقع سیاست میں اقرابا پروری،موقع پرستی اور نظریاتی بیگانگی کی وجہ سے محدودہوتے گئے جس کی وجہ سے قیادت کا بحران شدید سے شدید تر ہوتا گیا۔ آج ہماری نئی نسل میں قائدانہ صلاحیتوں کاجو بحران یافقدان دکھائی دیتا ہے اس کی وجہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے نئی نسل کی عدم تربیت اور تعلیمی اداروں کی جانب سے دوران تعلیم ان کے سیاسی شعورکی آبیار ی کا فقدان ہے۔
قائدانہ اوصاف کا علم طلبہ کو جب بہم نہ پہنچایا جائیتو سماجی تال میل کا فقدان،متشدد رویہ،سماج کے تیءں فکر مندی کا خاتمہ،مصنوعی وطن پرستی،فرائض کی ادائیگی میں غیر ذمہ دارانہ پن اور دیگر متصادم رویے ظہور پذیر ہونے لگتے ہیں۔مطالعہ،کھیل کود اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں کی انجام دہی سے طلبہ میں موثر طریقے سے قائدانہ اوصاف پیداکیئے جاسکتے ہیں۔ طلبہ میں تعلیم ،اعلیٰ اوصاف جیسے ایک اچھے شہری ہونے کا احساس،سماجی اقدار سے گہری واقفیت اور دوسروں کی رہبری جیسی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتی ہے۔کھیل کو د کی دنیا میں دوسروں کے لئے جو شخص ایک نمونہ یا ماڈل ہوتا ہے اسے قائد یا لیڈر کہاجاتا ہے۔ایک قائد کا یہ اہم وصف ہے کہ وہ دوسروں کے لئے ایک مثالی نمونہ ہو اور ان میں تحریک ،جوش و ولولہ پیدا کرے۔ایک قائد کی جامع تعریف اور عام فہم تعریف یہ ہے کہ ’’قائد ایک ایسے شخص کا نام ہے جسے نہ صرف راستے کا علم ہوتا ہے بلکہ وہ دوسروں کی رہنمائی کرتا ہے اور خود اسی راستے پر گامزن رہتا ہے۔۔‘‘(A leader is a person who knows the way,shows the way and goes the way)سماجی مفکرین و ماہرین تعلیم مدارس پر زور دیتے ہیں کہ وہ بچوں میں اوائل عمری سے ہی دیگر افراد کو متاثر کرنے والے قائدانہ اوصاف اور انسانی قوت کے سر چشموں کو اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لئے مناسب طور پر استعمال کرنے کا داعیہ پیدا کریں۔ قائدانہ صلاحیتوں کی شخصی اور سماجی اہمیت کے پیش نظر اساتذ ہ طلبہ میں مطلوب قائدانہ کردار کو پروان چڑھانے،ان کے شخصی اوصاف و کردار کو صحت مند و سماج کے لئے پسندیدہ بنانے میں ایک اعلیٰ فرض شناس رہبر و رہنما کا کردار انجام دیں۔اساتذہ کی جانب سے کیئے جانے والے یہ اقدام نہ صرف طلبہ میں قائدانہ اوصاف پیداکرنے کا سبب بنتے ہیں بلکہدیگر افراد کے لئے رہنمایانہ اصول کا کام کرتے ہیں نتیجتاً شخصی ترقی،مثالی تمدن اوربہترحکمرانی کی خصلتوں کو از خود فروغ حاصل ہوتا ہے۔
یہ نظریہ بالکل درست ہے کہ ہر آدمی اچھا قائد یا لیڈر نہیں ہوتا،لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہر کوئی اچھا لیڈر بننے کی کوشش ضرور کرسکتا ہے۔سعی و کاوش کے باوجود بھی اگر اچھا لیڈر بننے میں وہ ناکام ہوجائے پھر بھی یہ امر یقینی ہے کہ وہ اپنی قائدانہ اقدار کے باعث کسی بہتر قائد کا پیرو ضرور بن جائے گا۔ نوجوانوں کی شخصیت کو ہر مقام اور ہر محفل میں موثر و متاثر کن بنانے کے لئے ان میں چند عملی قائدانہ خصوصیات کو راہ دینا ضرور ہوتا ہے۔طلبہ افتراق و نفرت سے اعراض کرتے ہوئے ،محبت و موددت کو فروغ دے کر،جہلا سے اپنا دامن بچاتے ہوئے،حق و سچ کا ساتھ دیتے ہوئے اپنی شخصیت کو دلکش اور اثر انگیز بنا سکتے ہیں۔ اساتذہ طلبہ کی ایسی فکر سازی و ذہن سازی کریں کہ راستے میں حائلدشواریوں سے وہ خوفزدہ ہونے کے بجائے بلند ہمتی سے کام لیں۔ فکر ی استقامت اور بلندحوصلہ قیادت کے اہم اوصاف گردانے جاتے ہیں۔ایک بہترین قائد کی پہچان اس کی ذہنی بالیدگی ،حوصلہ و ہمت ،بلند نگاہی اور اس کے جرات مند اقدامات سے ہوتی ہے۔ اساتذہ طلبہ کو ایسے عظیم رہنماوں و قائدین کی زندگیوں سے سبق فراہم کریں جن کی قائدانہ صلاحیتوں نے معاشرے کا رخ ہی بدل دیا، زندگی کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔ زمانے کی تغیرات و تبدیلیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے سماجی اقدار کی پاسداری کو ملحوظ رکھتے ہوئے مستقبل کی قیادت کی تیاری بلاشبہ تعلیمی نظام اور اساتذہ کے لئے ایک بہت بڑا چیالینج ہے۔بچوں کی ابتدائی عمر میں اساتذہ ان کی ذات و ذہن میں قیادت کے بیچ ڈال کر اس کی مناسب آبیاری و نگہداشت کے ذریعے معاشرے کی حقیقی تعمیر کاکام انجام دے سکتے ہیں۔ایک عظیم استاد معلومات کی منتقلی کے بجائے اپنے علم وفضل اور تجربے کے ذریعے شعور و آگہی سے متصف، علم و دانش کے ایک ایسے پیکر کو تراشتا ہے جو خدا ترس،ایماندار،سچا،انسان دوست،قانون کا پاسدار،جہدکار،ایثارو قربانی کا پیکر،کمزور اور محروموں کا ہمدرد،اساتذہ بزرگوں اور خواتین کا احترام کرنے والا شخص ہوتا ہے جس کے اندر گفت و شنید کے آداب ہوتے ہیں،نامساعد حالات میں بھی آگے بڑھنے کی لگن پائی جاتی ہے، جس کے اندر بحث و مباحثہ کا سلیقہ ہوتا ہے،وہ فیصلہ سازی کے فن سے واقف ہوتا ہے،مسائل پیدا کرنے کے بجائے وہ مسائل حل کرتا ہے،مخالفت کو خندہ پیشانی سے قبول کرتا ہے،مزاحمت کے آداب جانتا ہے،اولوالعزم ہوتا ہے،حوصلہ مندی،جرات،حق گوئی و بے باکی کی مثال ہوتا ہے ظلم کے خلاف پامردی سے کھڑا رہتاہے۔ایسے انسانوں کی تعمیر کے باعث ہی استاد کو قوم کا معمار کہاجاتا ہے۔اساتذہ اپنے پیشے کی عظمت کا پاس و لحاظ رکھیں تاکہ انھیں دنیا و آخرت میں سروخروئی حاصل ہو۔
(جاری ہے)