شادی کا فنڈا :- اکرم سہیل

اکرم سہیل

شادی کا فنڈا
ایک کنوارے کے قلم سے

از: اکرم سہیل
دبئی

شادی جیسے مقدس رشتے کو فنڈا جیسے ہلکے لفظ سے تعبیر کرنے میں ہم کو تو کچھ شرم محسوس نہیں ہوتی البتہ شرم انکو ضرور آنی چاہئے جنہوں نے اسے ایک بڑاہی پیچیدہ فنڈا بنا رکها ہے بے جا رسم و رواج، جہیز کی مانگ ، جوڑے گهوڑے کی رقم، بےتحاشہ اصراف و فضول خرچی وغیرہ نکاح کی راہ میں ایسی رکاوٹیں ہے جس پر پریشانی و مصیبت کا خوبصورت سا تالا لگا ہوا ہے.

اب ان بے جارسم و رواج وغیرہ کو ہم حرام تو نہیں البتہ چلر(Cheap) بولنے میں رتی برابر بهی عار محسوس نہیں کرتے کیونکہ جو حرکتیں ایک حرام کام کو کرنے کی راہ ہموار کرے اور حلال کو مشکل بنائے اس پر بلا خوف و تردید تنقید کرنا ہمارا کام ہے مگر جب بهی اس موضوع پر بات کی جاتی ہے یاتو ثانوی باتیں زیرِ بحث آجاتی ہے یا پهر سرسری انداز میں بس اتنا کہا جاتا ہے کہ نکاح کو آسان بناؤ تاکہ زنا مشکل ہوجائے یقیناً! اس جملہ میں بڑی گہرائی ہے لیکن یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کتنے لوگ ہے جو اس بات کی حقیقت سے واقف ہونگے لہذا زیرِ نظر تحریر اسی مقصد کے پیشِ نظر ہے کہ قارئین کو اس مختصر سے جملے کی حقیقت سے روشناس کرایا جائے-

نکاح بمقابلہ زنا:
قرآن و سنت میں زنا کو جس درجہ میں دهتکارا گیا ہے وہ قابلِ غور ہے سورہ الفرقان میں اللہ تعالٰی نے اہلِ ایمان سے جن تین بڑے گناہوں کے عوض روز قیامت دوہرے عذاب دینے کی بات کہی ہے اسمیں سے ایک زنا کا ارتکاب ہے اور اللہ تعالٰی نے زنا کے مرتکبین کو سورہ النور کے ابتدائی حصے میں جس اضطراب انگیز انداز میں مخاطب کیا ہے وہ میں یہاں نقل کئے دیتا ہوں.
الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۖ وَلَا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
زانیہ عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو اگر تم اللہ تعالیٰ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو اور ان کو سزا دیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود رہے-
ﺍﻟﺰَّﺍﻧِﻲ ﻻَ ﻳَﻨْﻜِﺢُ ﺇِﻻَّ ﺯَﺍﻧِﻴَﺔً ﺃَﻭْ ﻣُﺸْﺮِﻛَﺔً ﻭَﺍﻟﺰَّﺍﻧِﻴَﺔُ ﻻَ ﻳَﻨْﻜِﺤُﻬَﺎ ﺇِﻻَّ ﺯَﺍﻥٍ ﺃَﻭْ ﻣُﺸْﺮِﻙٌ ۚ ﻭَﺣُﺮِّﻡَ ﺫَٰﻟِﻚَ ﻋَﻠَﻰ ﺍﻟْﻤُﺆْﻣِﻨِﻴﻦَ
زانی نکاح نہ کرے مگر زانیہ کے ساتھ یا مشرکہ کے ساتھ اور زانیہ کے ساتھ نکاح نہ کرے مگر زانی یا مشرک اور یہ حرام کر دیا گیا ہے اہل ایمان پر((سورہ النور :2-3)
یوں تو سود ، شراب اور زنا کا شمار گناہِ کبیرہ میں ہوتا ہے مگر سود اور شراب کے حوالے سے خاص بات یہ هیکہ دورِ نبوی میں انهیں ایک خاص عرصے (Period ) تک قبول کیا گیا تها لیکن زنا جیسی بے حیائی کو ایک درجہ میں بهی برداشت نہیں کیا بلکہ اسکو انجام دینا تو کوسوں دور اسکے قریب بهی پهٹکنے سے خبردار کردیا سورۃبنی اسرائیل میں ارشاد ہوتا ہے
ﻭَﻻَ ﺗَﻘْﺮَﺑُﻮﺍ ﺍﻟﺰِّﻧَﺎ ۖ ﺇِﻧَّﻪُ ﻛَﺎﻥَ ﻓَﺎﺣِﺸَﺔً ﻭَﺳَﺎءَ ﺳَﺒِﻴﻼً(17:32)
خبردار ! زنا کے قریب بهی نہ جانا یہ وہ بےحیائی ہے اور بہت بری راہ
اتناہی نہیں بلکہ اسلام تو اس معاملہ میں اتنا حساس واقع ہوا هیکہ وہ مومن مردوں اور عورتوں کو اس بات کا حکم دیتا ہے کہ وہ اپنی نظروں میں حیا پیدا کرے(سورہ النور :30) علاوہ ازیں سورہ النور کا ایک بڑا حصّہ اسی موضوع پر بحث کرتا ہے اسی طریقے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقعہ پر ارشاد فرمایا: ” تمہارے لئےاپنے سر میں لوہے کی سلاخیں گهس جائے وہ اس بات سے بہترهیکہ تم ایک ایسی عورت کو ہاتھ لگاؤ جو تمہارے لئے حرام ہو ” پهر ایک اور موقع پر جب قبیلہ اسلم کے ایک آدمی نے آکر یہ اقرارِ جرم کیا کہ میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے تب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جیسی رحیم و شفیق ہستی نے اسکی صورت کو ایک نظر بهی دیکهنےکیلئے گورا نہیں فرمایا وہی دوسری طرف غامدیہ قبیلہ کی عورت کا معاملہ بهی یکساں ہے جس نے زنا کا ارتکاب کیا تها.
اب غور طلب بات یہ هیکہ اللہ اور اسکے رسول نے زنا کے خلاف اعلان جنگ کیوں کررکها ہے. وہ اسلئے کہ زنا وہ خبیث عمل ہے جس کا چہرہ روشن لیکن اندرون چنگیز سے تاریک تر ہے یعنی جس طرح سودی نظام بظاہر خوشنما اور بہت نفع بخش سودا مگر معاشرے کے معاشی ستونوں کوکهوکهلا کر ڈالتا ہے ٹھیک اسی طریقے سے زنا معاشرے کی تہذیبی و اخلاقی قدروں کو ملیا میٹ کردیتی ہے اس سے ایک طرف محبت جیسی عظیم نعمت کا خاتمہ ہوجاتاہے تو دوسری طرف خاندانی نظام تہس نہس ہوکر بکهر جاتا ہے بالآخر معاشرے کی جڑیں اتنی کهوکهلی ہوجاتی ہے کہ قوم کی اجتماعی موت واقع ہوتی ہے کیونکہ یہ بات تو طئے ہے کہ جس تہذیب و تمدن کا آشیانہ شاخِ نازک پہ بنے گا وہ ہمیشہ سے ناپائیدار ہی ہوگا اسکے برعکس اسلامی تہذیب ایک باحیا مضبوط اخلاقی قدروں پر کهڑی ہے وہ عورت اور مرد کے درمیان اس صنفی کشش کو تسلیم کرتی ہے مگر اسے بے قید و آزاد چھوڑنے کے بجائے ایک منظم انداز میں نکاح کی صورت میں تسلیم کرتی ہے وہ زنا کا ہر لحاظ سے خاتمہ چاہتی ہے اور نکاح کو ہر لحاظ سے فروغ دیتی ہے اس حوالے سے قرآن مجید اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث جس طریقے سے نکاح کےلئے ابهارتی ہے وہ آپکی خدمت میں پیش کرتا ہوں
ﻭَﺃَﻧْﻜِﺤُﻮﺍ ﺍﻷَْﻳَﺎﻣَﻰٰ ﻣِﻨْﻜُﻢْ ﻭَﺍﻟﺼَّﺎﻟِﺤِﻴﻦَ ﻣِﻦْ ﻋِﺒَﺎﺩِﻛُﻢْ ﻭَﺇِﻣَﺎﺋِﻜُﻢْ ۚ ﺇِﻥْ ﻳَﻜُﻮﻧُﻮﺍ ﻓُﻘَﺮَﺍءَ ﻳُﻐْﻨِﻬِﻢُ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻣِﻦْ ﻓَﻀْﻠِﻪِ ۗ ﻭَﺍﻟﻠَّﻪُ ﻭَﺍﺳِﻊٌ ﻋَﻠِﻴﻢٌ
تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں، اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں، ان کے نکاح کر دو اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے اُن کو غنی کر دے گا، اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے (سورہ النور: 32)
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین شخص ہیں کہ ان کی مدد اللہ کے ذمہ ہے پہلا وہ نکاح کرنے والا جو طالب عفت ہو دوسرا وہ مکاتب جو مال ادا کرکے آزاد ہونا چاہتا ہو اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا (احمد و نسائی و الترمذی و ابن ماجہ والحاکم )
دوسری حدیث ہے : "جب کوئی بندہ نکاح کرلیتا ہے تو اس کا آدها دین مکمل ہوگیا اور باقی دین کے لئے وہ خدا سے ڈرے (بیہقی)
ایک اور جگہ فرمایا : ” ہم نے دو محبت کرنے والوں کےلئے نکاح جیسی (بہترین اور) کوئی چیز نہیں دیکهی (ابن ماجہ)
یہی وجہ هیکہ اسلام نکاح کو آسان کرنے اور زنا کو مشکل بنانے کا جو انتظام کیا ہے وہ بہت زبردست ہے یہاں پر عہد نبوی کی تین خوبصورت مثالیں پیش خدمت ہے
1. حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی جو عشرہ مبشرہ میں سے ہے لیکن انکا معاملہ اتنا سادہ ہے کہ نکاح کے بعد جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے تو ان کے اوپر زعفران کی خوشبو کا اثر ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچها ماجرا کیا ہے؟ تو فرمایا کہ میں نےایک انصاری عورت سہلہ بنت عاصم سے شادی کرلی ہے ارشاد ہوا : اس کو مہر میں کیا دیا فرمایا گٹهلی کے برابر سونا فرمایا کہ ولیمہ ضرور کرو اگرچہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو (صیحیح بخاری: 1969)
2. ایک خاتون اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس وقت آپ صحابہ کرام کی مجلس میں تهے اس نے عرض کیا: "اے اللہ کے رسول! مجھ سے نکاح کرلیجئے” آپ خاموش رہے تو ایک نوجوان نے اٹھ کر عرض کیا: "اے اللہ کے رسول! اس کا نکاح مجھ سے کرادیجئے” آپ نے فرمایا: تمہارے پاس اسے مہر میں دینے کےلیے کیا ہے؟ اس نے جواب دیا ‘کچھ نہیں’ آپ نے فرمایا: کچھ تو ہوگا جاؤ گهر سے تلاش کرکے لاؤ لوہے کی ایک انگوٹھی ملے تو وہی لے آؤ نوجوان گیا اور تهوڑی دیر بعد واپس آکر کہنے لگا میرے پاس کچھ نہیں اس کے باوجود آپ نے ان دونوں کا نکاح کا کرادیا اور فرمایا :” تمہیں کچھ قرآن یاد ہوگا وہ اپنی بیوی کو یاد کرادینا یہی اس کا مہر ہے”(بخاری و مسلم)
3. یہ حضرت ربیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتے تهے آپ کا شمار مدینہ کے بہت ہی غریب آدمیوں میں ہوتا ہے ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ اے ربیعہ تم نکاح کیوں نہیں کرلیتے انهوں نے کہامیرے پاس کوئی چیز نہیں یہ سوال و جواب کئی بار ہوا آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار کے فلاں قبیلہ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے مجهے بهیجا ہے اور کہا کہ تم فلاں عورت سے میرا نکاح کردو چناچہ انهوں نے جاکر کہا اور انکا نکاح کرادیا گیا.
گویا یہ عہد نبوی کی تین بڑی ہی شاندار مثالیں ہے جو میں نے موقع کی مناسبت سے پیش کی لیکن کسی کو پڑھ کر یہ غلط فہمی نہ ہو کہ یہ محض دو چند مثالیں ہے. نہیں ! بلکہ اس سے تو صاف اندازہ ہوتا ہے کہ یہ وہ نبوی معاشرہ ہے جہاں نکاح کرنا بالکل آسان سی بات تهی گویا اتنی آسان کہ اگر کسی کا رشتہ صبح طئے ہوجائے تو شام تک اپنا نکاح کرسکتا ہے اور اگر ہم مبالغہ نہ کریں تو یہ بات صد فیصد درست ہوگی کہ اسلامی نظام میں نکاح جتنا آسان ہے اس سے اور آسان کوئی چیز نہیں…مگر اب یہ ہماری سمجھ سے بالکل پرے ہے کہ اس مسلم سوسائٹی کی تعریف میں آخرکونسے قصیدے پڑهیں جہاں پیامات سنٹرس ( Marriage Bureau )ایک بڑا کاروبار بن جائے، جہاں مہر کی بهاری رقم، جہیز کی مانگ،گولڈ یا زیوارات کی لازمیت، سلسلہ وار رسومات کے بوجھ، پرلطف عقد طعام اور ولیموں، امیروں کے فقیری اسٹانڈز اور غریبوں کی غربت، دیمک لگے ڈگریوں، ذات برادری و مسلک وغیرہ کی وجہ سے سوسائٹی کے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی ایک بڑی اکثریت طویل عرصے یا زندگی بهرتک کنوارے ہی رہ جائے.

آخری بات:
عزیز قارئین ! ان تمام باتوں سے ہمارا مدعا ہرگز نہ ہی کسی کو نکاح کو آسان بنانے کیلئے زورزبردستی کرنا ہے اور نہ ہی ایسے لوگوں کو کافر و مرتد میں کهڑا کرنا مقصود ہے بلکہ ہمارا مد بحث ( Argument ) تو بس ایک ہی ہے وہ یہ کہ جب ایک شخص اپنی شادی پر 10 لاکھ یا دس کروڑ روپئے خرچ کرسکتا ہے تو دوسرا شخص اپنی شادی ایک لاکھ یا ایک ہزار میں کیوں نہیں کرسکتاہے کیوں یہ ظالم سماج اسکو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا اور اسے امیر اور غریب کی شادی میں تقسیم کرتا ہے اسکے برخلاف ہمارا ماننا تو یہ ہے کہ زنا اگر معاشرے میں ایک ہزار روپئے میں ہوسکتا ہے تو نکاح کو تو اس سے اور آسان یعنی نوسونناوے روپے میں ہونا چاہئے یا پهر کسی کو اپنے نکاح کی راہ میں صرف ولیمہ کے اخراجات ہی حائل بن رہے ہیں تو وہ اپنے ولیمہ کو منسوخ کرسکتا ہے لیکن جن لوگوں کو ہمارے اس رویے میں انتہا پسندی نظر آرہی ہے وہ اپنی اس بات کو گهر کے دیوان خانہ میں لکھ کر لگادے ہوسکتا ہے کہ کچھ سمجهدار نما بے وقوف لوگ اسے پڑھ کر آپ کی تعریف فرمادے اور پهر جن کے نزدیک سب سے بڑا روگ یہ هیکہ ایسا کرنے پر چار لوگ کیا کہہ گےتو ایسے معصوم لوگوں کے لئے ہمارا تو بهائی بس ایک ہی مشورہ ہے کہ ان چار آٹھ لوگوں کے سامنے دو ٹوک انداز میں کہہ دیجئے کہ "بهاڑ میں جاؤ "
بہرکیف عرض مدعا یہ ہے جس سوسائٹی میں بےحیائی اور زنا صرف ایک برائی ہی نہ رہ جائے بلکہ ایک باقاعدہ نظام System اختیار کرجائے وہاں نکاح کو آسان بنانے کی تدابیر یقیناً ایک حقیر سی لیکن بااثر کوشش رہے گی بالآخر یہ بات ہمیں اچهے سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ یہ ایک زبردست جنگ ہے نکاح verses زنا کے درمیان..! گویا اگر ہم نکاح کو آسان بنانے کا کلچر بنا پاتے ہیں تو جیت ہماری ہے ورنہ بے حیائی کے اس سیلاب میں ہم بهی ڈوبے گے اور ہماری آئندہ نسل بهی-

↓