مدارس کے فارغین کے لئے ایک علمی و عملی لائحہ عمل :- مفتی کلیم رحمانی

مفتی کلیم رحمانی

مدارس کے فارغین کے لئے
ایک علمی و عملی لائحہ عمل

مفتی کلیم رحمانی
پوسد (مہاراشٹر)
09850331536

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ اور مفتی محمد شفیع صاحب ؒ نے سورۂ توبہ کی آیت وَماَ کَانَ الْمُو مِنوُنَ لِیَنْفِرُوْں کَاَ فّۃََ فَلَوْلاَ نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْ قَۃِ مِّنھُمْ طآَ ءِفَۃ’‘ لِّیَتَفَقَّھوْا فیِ الدّینْ وَ لِیَُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْ ا اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَ رُوْنَْ (سورہ توبہ۱۲۲)کے تحت جو تفسیری کلمات تحریر کیے ہیں ان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دین کی تعلیم کا اصل مقصد قرآن وحدیث کی مکمل تعلیمات میں سمجھ بوجھ اور فہم و بصیرت پیدا کرنا ہے-

چاہے وہ اساتذہ کے ذریعہ ہو یا کتابوں کے ذریعہ ،ساتھ ہی یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اصل فقہ کا علم قرآن و حدیث کی بنیادی اور واضح تعلیمات میں فہم و بصیرت پیدا کرنے کا نام ہے ،نہ کہ نماز ،روزے ،زکوۃاور حج کے جزوی مسائل کو جاننے کا نام ،جیسا کہ موجودہ دور میں عبادات کے چند جزوی اور اختلافی مسائل کو جاننے کا نام فقہ رکھ دیا گیا ہے ۔تو یہ علمِ فقہ کے سلسلہ میں بہت بڑی غلط فہمی ہے جس میں آج بہت سے علماء اورعوام مبتلاہیں لہذا دین کی تعلیم و تبلیغ کے سلسلے میں اصل اہمیت قرآن و حدیث کی واضح اور بنیادی تعلیمات کو دی جائے نہ کے جزوی واجتہادی و اختلافی مسائل کو ۔لیکن افسوس ہے کہ آج دین کی تعلیم و تبلیغ میں زیادہ اہمیت جزوی اجتہادی و اختلافی مسائل کو دے دی گئی ہے۔جسکی وجہ سے دین کی بنیادی اورواضح تعلیمات نظروں سے اوجھل ہو گئی ہے ،اور علماء و عوام نے جزوی اجتہادی و اختلافی مسائل ہی کو کُل دین سمجھ لیا ہے ،اور یوں اپنوں اور غیروں کی نظر میں دین اسلام چند جزوی اور اختلافی مسائل کا گہوار ا بن کر رہ گیا ۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنا نصا بِ تعلیم اور نظامِ تعلیم سورہ توبہ کی آیت ۱۲۲میں بیان کئے ہوئے مقصدِ تعلیم، لِیَتَفَقَّھُوافِی الدِّین یعنی دین میں سمجھ بوجھ کو بنائیں ،ساتھ ہی اسی آیت کے دوسرے جز وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْا اِلَیْھِمْ ،یعنی واپس جانے کے بعد وہ اپنی قوم کو ڈرائے ،کو بھی اپنی نصابِ تعلیم میں رکھے ،کیونکہ دیکھا یہ جا رہا ہے کہ دینی مدارس کے فارغین کی ایک بڑی تعداد اپنی قوم کواللہ سے ڈرانے کے بجائے خود ہی اپنی قوم سے ڈرنے میں لگی ہوئی ہے ،یہاں تک کہ مساجد کی امامت کے مقام پر فائز ہوتے ہوئے بھی قوم کو اللہ سے ڈرانے کی بجائے قوم ہی سے درنے میں لگی ہوئی ہے ،لیکن حقیقت کے بر عکس یہ طرز عمل معاشرہ میں یو نہی پیدا نہیں ہوا،بلکہ اسکے دو بنیادی سبب ہے ،اوّل یہ کہ مدارس کے فراغین نے اپنے اندر تَفَقَّہُ فیِ الدِّینِ یعنی دین میں سمجھ بوجھ کی صلاحیت پیدا نہیں کی ،جو مدارس کے قیام اور مدارس میں داخلہ کا بنیادی مقصد ہے ،اور دوسرا یہ کہ اپنے اندر اللہ کا ڈر پیدا کرنے کے بجائے قوم کا ڈر پیدا کر لیا ،ظاہر ہے جو خود اللہ سے نہ ڈرے وہ اپنی قوم کو اللہ سے کیا ڈرا سکتا ہے ،اور قوم کیونکہ اس کا سُن کر اللہ سے ڈرے گی بلکہ اُلٹا قوم اس کو اپنے سے ہی ڈرائے گی،اور آج معاشرہ میں یہی دیکھنے کو مل رہا ہے ،اس لئے مدارس کے فارغین اگر چاہتے ہیں کہ قوم ان کے مقام کو پہچانے تو پہلے فارغین خود اپنا مقام پہچانے کیوں کہ جو اپنے مقام کو نہ پہچانے تو دوسرے کیوں کر اس کے مقام کو پہچانے گے ۔ اور مدارس کے فارغین کا مقام شرعی لحاظ سے متعین ہے وہ یہ کہ وہ قوم کہ روحانی و ایمانی معالج اور ڈاکٹر ہیں ،اور جس طرح جسمانی ڈاکٹر اور معالج کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ جسمانی مریض کا علاج کرے ۔اسی طرح علماء اور مدارس کے فارغین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کے ایمانی و اخلاقی مرض کا علاج کریں اور جس طرح اللہ تعالی نے جسمانی بیماریوں کی دوا پیدا کی ہے اسی طرح اللہ تعالی نے قرآن و سنت کی صورت میں تمام عقائدی اور اخلاقی بیماریوں کا علاج بھی بتلایا ہے ۔ مدارس کے فارغین اپنی اس حیثیت کو سمجھیں تو قوم کے مرض کے علاج سے پہلے ان پر ایک اہم ذمے داری عائد ہوتی ہے وہ یہ کہ دینی مدارس سے فراغت کے باوجود تَفَقَّہُ فیِ الدِّین یعنی دین میں سمجھ بوجھ کی جو کمی رہ گئی اس کمی کو قرآن و حدیث کے تحقیقی و تفصیلی مطالعہ سے دور کریں ۔چاہے قرآن و حدیث کو سمجھانے والی کتابوں کے ذریعے یا قرآن و حدیث کے محققین و معلّمین کی تقریروں اور تحریروں کے ذریعے اور معلمین اور مُحققین کے درمیان قرآن و حدیث کی جن باتوں میں ختلاف پایا جاتا ہے،اس اختلاف کو قرآن مجید کے سورہ نساء کی آیت اُنسٹھ (۵۹) میں بتائے ہوئے طریقے کے مطابق حل کیا جائے جس میں فرمایا گیاِ ،فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِی شَیْ ءِ فَرُدُّوہُ اِلیَ اللہِ و الرّسولِِ اِنْ کُنْتُمْ تُوْ مِنوُنَ باِ للہِ وَالْیَوُمِ الْاَخِرِ ذٰلِکَ خَیْر’‘ وَّ اَحسَنُ تَا وِ یْلاًo (سورہ نساء ۵۹)ترجمہ : پس اگر کسی چیز میں تمہارے درمیان تنازعہ ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول یعنی قرآن و حدیث کے طرف پھیردو ، اگر تم اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں تو یہی طریقہ تمہارے لئے انجام کے لحاظ سے بہتر ہے۔مذکورہ آیت میں اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی تنازعہ کے حل کے سلسلے میں صرف اور صرف قرآن و حدیث ہی کو قولِ فیصل قرار دیا گیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ قیامت تک کسی بھی تنازعہ میں اللہ اور اس کے رسول ؐ کے علاوہ کسی بھی شخص کا قول ،قولِ فیصل نہیں ہو سکتا اور جب تک امّت مسلمہ میں یہ فکر تھی تب تک امت مسلمہ تمام معاملات میں متحد تھی ،اور جب سے امت مسلمہ میں تنازعات میں اللہ اور اس کے رسول ؐ کے فرامین کو قولِ فیصل ماننے کی بجائے دوسرے انسانوں کے قول کو بھی قولِ فیصل کا درجہ دے دیا گیا ہے ،تب سے امت میں اختلاف و انتشار پیدا ہوا۔تنازعات میں اللہ اور اسکے رسول ؐ کے فرامین کو قولِ فیصل ماننے کے بعد صرف تعبیر اور تطبیق کے اختلاف کی گنجائش رہ جاتی ہے لیکن اس کو اجتہادی اختلاف کہتے ہیں ۔ اور اجتہادی اختلاف میں کسی بھی جانب شر نہیں ہوتا بلکہ دونوں ہی جانب خیر ہوتا ہے اور اس سے اُمت کے اتحاد پر کوئی اثر نہیں پڑتا ،کیونکہ اول یہ کہ دین کی بنیاد اور ہم باتوں میں اجتہادی اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے ،اور دوّم یہ کہ اجتہادی اختلاف اخلاص پر مبنی ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے صحابہ کرام میں بھی بعض امور میں اجتہادی اختلاف تھالیکن اس کے باوجود وہ دین کے غلبہ کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار تھے اور باطل کے لئے ان میں انگلی دھنسانے کی جگہ نہیں تھی۔دین میں سمجھ بوجھ پیدا کرنے کے بعد مدارس کے فارغین پر امت کی اصطلاح سے متعلق جو اولیّن ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ یہ کہ امت کے عمومی مرض کو جانیں ،کیونکہ مرض کو جانیں بغیر اس کا علاج کرنا نا ممکن ہے ،جس طرح جسمانی ڈاکٹر بھی اگر مریض کے مرض کو نہ جانے تو وہ مرض کا علاج نہیں کر سکتا ،اسی طرح اگر روحانی و ایمانی معالج جس کو دینی اصطلاح میں عالم،حافظ،امام،مقرر، معلّم اور مربّی کہتے ہیں ،وہ دینی وایمانی مریض کا علاج نہیں کر سکتا ۔ اس لحاظ سے امت کے دینی مرض کو اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ابھی امت نے دین اسلام کو صرف عبادات کے طور پر قبول کیا ہوا ہے ،جس میں دن اور رات میں پانچ نمازیں ہیں ،ماہِ رمضان کے روزے ہیں ، صاحبِ نصاب مسلمان پر سال میں ایک مرتبہ زکوۃ ہے ،اسی طرح حج کی استطاعت ہونے پر زندگی میں ایک مرتبہ حج کرنا فرض ہے ۔جبکہ دین اسلام مکمل طریقہ زندگی کا نام ہے اور دین اسلام کو مکمل طریقہ زندگی کی حیثیت سے ہی قبول کرنا ضروری ہے ،اگر کو ئی شخص دین اسلام کو صرف عبادات ہی کی حیثیت سے قبول کرے تو اس کا قبول کرنا ہی صحیح نہیں ہے ،جب تک دین اسلام کو مکمل طریقہ زندگی کی حیثیت سے قبول نہ کرے تب تک اس کا دین اسلام میں داخلہ ہی معتبر نہیں ہوتا،چنانچہ اللہ تعالیٰ نے تمام ایمان کو خطاب کرکے فرمایا، یٰاَ یُّھاَ الَّزِیْنَ آمَنُوْا ادْخُلُوا فِی السِّلْمِ کآفَّۃً۔ (سورۂ بقرہ آیت ۲۰۸) ترجمہ: اے لوگوں جو ایمان لائے ہو اسلام میں پورے طور پر داخل ہو جاؤ ،مطلب یہ کہ دین اسلام کو مکمل نظام زندگی کے طور پر قبول کرو۔اور زندگی کے ہر شعبہ میں اسلام ہی کا حکم مانو۔یہ بات کہ فی الحال مسلمانوں نے دین اسلام کو صرف عبادات کی حیثیت سے قبول کیا نہ کہ مکمل نظام زندگی کی حیثیت سے۔یہ مسلمانوں کی مجموعی صورتِ حال کا اظہار ہے۔ورنہ جہاں تک خاص مسلمانوں کی صورت حال کی بات ہے تو الحمد للہِ آج بھی بے شمار مسلمان ایسے ہیں جو نہ صرف یہ کہ اسلام کو مکمل نظام زندگی کی حیثیت سے قبول کئے ہوئے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس کی دعوت دینے میں لگے ہوئے ہیں ،اور جب بھی انہیں معاملاتِ زندگی سے متعلق کوئی کام کرنا ہوتا ہے ،چاہے وہ نکاح ہو ،طلاق ہو،وراثت کی تقسیم کی تقسیم ہو،زراعت ہو،تجارت ہو ،سیاست ہو ،وہ سب سے پہلے اس سلسلہ میں قرآن و حدیث کی رہنمائی معلوم کرتے ہیں ،پھر اُسے اختیار کرتے ہیں اور جس طریقہ سے انہیں قرآن و حدیث کی رہنمائی روک دیتی ہے اُس سے رُک جاتے ہیں لیکن موجودہ مسلمانوں میں ان کی تعداد آٹے میں نمک برابر ہے۔اب جب کہ موجودہ مسلمانوں کا سب سے بڑا دینی نقص اور دینی مرض دین اسلام کو صرف عبادات کے طور پر قبول کرنا ٹھہرا تو علماء کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں سے اس بات کا تقاضہ کریں کہ وہ دین اسلام کو ایک مکمل نظام زندگی کی حیثیت سے قبول کرے۔