رفیق جعفر

مہاآتما کا لِسانی سپنا اور اِکیسویں صدی

رفیق جعفر (پونہ)
mob: 07517854804

اپنی دھرتی سونا چاندی ہیرے موتی والی ہے
ایسی دھرتی چھوڑ کے یارو دور وطن سے جائے کون
گنگا‘جمنا‘ کاشی‘ متھرا‘تاج محل سب اپنے ہیں
دور گگن کا پنچھی بن کر توڑ کے تارے لائے کون (رفیق جعفر)

اپنے دو اشعار کے ساتھ میں گاندھی جی کو یاد کرتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ کیسے اس مہاآتما کے کچھ گن ہم ہندوستانیوں کی آتماؤں میں رچ بس گئے ہیں جو وقت بہ وقت ضمیر کی آواز بن کر اُس سمئے اُبھرتے ہیں جب حالات کے اندھیرے سے ہمیں خوف ہونے لگتا ہے ۔ایسے میں ہم رات کو رات‘ دن کو بھی رات سمجھنے لگتے ہیں۔ ہمارا جیون اجیرن ہوجاتا ہے ۔کچھ سمجھائی نہیں دیتا۔ رات کاٹے سے نہیں کٹتی تو مہاآتما کی آواز اُبھرتی ہے۔یہی وہ آواز ہے جو کبھی فرنگیوں کے ہوش اُڑا دیا کرتی تھی۔ ہم اگر ماضی کے اُن حالات کا تصور کریں تو یہ کہہ سکتے ہیں ؂
چاروں اُور ہے دھوپ کی گرمی جنتا میں طوفان مچا ہے
طوفانوں کی زد میں آیا پاگل رہبر دکھ رہا ہے (رفیق جعفر )
فرنگی رہبروں کو پاگل بنادینے والے مہاتما گاندھی اپنی مثال آپ تھے۔ ان کا نام اور کام آج بھی روشن ہے۔ یہ روشنی مارگ درشن بن کر ہم ہندوستانیوں کے پاس ہے‘ ہمارے ساتھ ہے‘سچائی کی متلاشی نظریں ہی اسے دیکھ سکتی ہیں۔ حساس دل ہی اسے محسوس کرسکتا ہے۔ فکری جدوجہد کی اشد ضرورت ہے۔ ہندوستانی جیون جینے کا بس یہی ایک گُرہے۔
ملے گا وہی جو مُقدّر میں ہوگا
مگر اس کو پانے کی کوشش تو کیجئے (رفیق جعفر)
ہندوستان ایک کثیر المذاہب ملک ہے۔ تہذیبی رنگ مختلف ہیں ‘عقائد اور طرزِ زندگی کے طورطریق الگ ہیں سب کا اپنا اتیت ہے اتہاس ہے۔ یہ سب کا اپنا اپنا تہذیبی سرمایہ ہے‘ مانو یہ ملک ایک خوبصورت گلدستہ ہے جس میں طرح طرح کے خوش نُما‘ خوش رنگ خوشبودار پھول ہیں ان سب کی بھیتی بھنی خوشبوئیں سارے ملک کو مہکاتی ہیں اور آنند بخشتی ہیں۔ اس گلدستے کو سجانے سنوار نے کا کام جدوجہد آزادی کے رہنماؤں نے کیا جن میں ہندو‘ مسلم‘ سیکھ‘ عیسائی سبھی کا ساتھ ہے سبھی کا ہاتھ ہے۔ اس فضا بندی میں مہاتما گاندھی کا رول اہم ترین بلکہ مرکزی رہا ہے۔ ایک طرف انھوں نے عوام میں یکتا پیدا کرنے کا کام کیا تو دوسری طرف وطن عزیز کے جانثار‘ جانباز‘ہوش مند باصلاحیت لیڈروں کی بھی رہبری کی۔ آزادی کی جدوجہد کے لیے انھوں نے عدم تشدد کا طریقہ اپنایا اور سب کو ساتھ لیکرملک کو فرنگیوں کے چنگل سے آزاد کروایا۔ ملک کے خاص مشترکہ کلچر کے مزاج کے تحت مہاتما گاندھی نے زندگی کے ہر شعبے میں اتحاد اور ترقی کی کوششیں کیں ان سے کندھے سے کندھا ملاکر چلنے والوں میں پنڈت جواہر لعل نہرو‘ مولانا ابوالکلام آزاد اور سردار پٹیل کے علاوہ درجنوں اہم لیڈروں کے نام آتے ہیں۔ جن کے کارناموں کا ذکر اتہاس کے پنوں پر رقم ہے۔ یہ ساری باتیں جگ ظاہر ہیں۔ اس کی تفصیل میں گئے بغیر یہاں اردو ہندی بھا شاؤں کے اکسویں صدی میں اثرات پربات کرنا چاہوں گا۔ اس میں بھی زیادہ تفصیل میں گئے بغیر کرنا میں مناسب سمجھتا ہوں۔
آزادی سے پہلے اُردو‘ زبان کا بول بالا تھا۔ اس سے انکار کی قطعاََ گنجائش نہیں‘ مثلاََ جدوجہد آزادی کے انقلابی نعرے اسی زبان میں‘ پرجوش تقریریں ہوئیں اسی زبان میں‘ انقلابی نظمیں لکھی گئیں اسی زبان میں۔ ہر زبان چونکہ ہندوستان کے خمیر سے بنی ہے اسی لیے اس میں پوری ہندوسانیت سموئی ہوئی ہے۔ شروع میں اس زبان کے کئی نام رہے ہیں آخر آخر میں ہندوی کہلائی پھر ہندی اور پھر جب اس نے سنسکرت اور مختلف ہندوستانی زبانوں کے ساتھ ساتھ ہند ایرانی کلچر کے لفظوں کو قبول کرکے اُردو کا روپ اختیار کیا تو درجنوں زبانوں کا عطراس میں در آیا۔ خوشبو ایسی پھیلی کہ ملک مُعّطر ہوگیا۔ اس کے شانہ بہ شانہ ہندی بھی ترقی کے مراحل تیزی سے طئے کرنے لگی۔ ان دونوں زبانوں کی جڑیں چونکہ ایک ہیں۔ نمو اور توانائی بھی ایک ہے۔ یہ اور بات کہ دونوں کے رسم الخط الگ ہیں۔ مہاتما گاندھی کو ان دونوں زبانوں سے پیار تھا۔ وہ انھیں اپنی دو آنکھیں مانتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان دو زبانوں کی جنگ جیت لی تو کیوں نہ ان دونوں زبانوں کے اشتراک کو ’’ہندوستانی زبان‘‘ کا نام دیا جائے۔ ان کی تجویز اچھی تھی ‘مسئلہ صرف رسم الخط کا تھا تو ان کاکہنا تھاکہ عوام اپنی مرضی اپنی سہولت سے جوچا ہے رسم الخط اختیار کریں لیکن لفظیات ایسے ہوں کہ ہر ہندوستانی سمجھ سکے کیونکہ ایسی بھاشا میں بھائی چارہ کی خوشبو بھی ہے اور لفظوں کے ذریعے مشترکہ تہذیب کی خوش رنگی بھی۔ مہاتما گاندھی کی تجویز کو مقبولیت توملی لیکن اُس وقت کے صدر جمہوریہ ہند کے ایک ووٹ سے ہندی سرکاری زبان تسلیم کرلی گئی‘ کسی کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہوا لیکن آزادی کے بعد حالات بدلے‘ خیالات بدلے‘ نیتیں بدلیں‘ رہبریاں بدلیں کچھ شدت پسندوں کی وجہ سے دونوں زبانوں میں پریورتن ہونے لگے دوریاں در آنے لگیں‘ لیکن ؂
مُدعی لاکھ بُرا چاہے تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔
آج اکیسویں صدی کے دوسرے دہے میں بھی یہ زبانیں اپنے بل پر زندہ ہیں۔ ان کے لسانی جلوے شباب پر ہیں‘ یوں کہنا زیادہ مناسب ہے کہ ان زبانوں کے الفاظ نے ہندوستانیوں کے دل جیت لیا ہے۔ در وتدریس‘شاعری کے اصناف‘ قصے‘ کہانیاں اور تنقیدیں اور تحقیق میں بھی ان زبانوں کا معیار اور وقار برقرار ہے۔ اُردو الفاظ کے اشتراک سے ہندی زبان مزید شفاف‘ سرل اور مدھر ہوتی جارہی ہے اور اردو ساہتیہ میں ہندی کی لفظیات جادوجگاکر اُردو ادب کو مالا مال کررہی ہیں۔ اب میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ اس از خود عمل میں مجھے مہاتما گاندھی کے سپنوں کی تعبیر نظر آتی ہے جو ان کی ہندوستانی مزاج‘ ہندوستانیوں کی نفسیات کی پہچان اور دانشوری کا نتیجہ ہے کہ موبائیل‘ ٹی وی‘ انٹرنیٹ‘ گوکل کے دور میں بھی اس کا دائیرہ محدود ہے کیونکہ یہ ادب‘ ساہتیہ کے حصار میں قید ہوکر رہ گئی ہیں۔ اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں کہ یہ زبانیں سرحدوں کو پارکرکے ساری دنیا میں پھیلی جارہی ہیں۔ اور ملکی سطح پر انھیں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو جزوی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ اسکولوں کالجوں او ریونی ورسٹیوں میں بھی پڑھائی جاتی ہیں ان میں تحقیقی کام بھی زور وشور کے ساتھ ہورہے ہیں۔ غیر ممالک کے جامعیات میں فارن لینگویجس کے طورپر اس کا تدریسی او رتحقیقی استعمال بھی ہورہا ہے۔ یہ کم اہم بات نہیں کہ کسی کو ان زبانوں میں سے ایک زبان بھی آجائے تو دوسری زبان سیکھنا آسان ہوجاتا ہے ۔صرف رسم الخط سیکھنے سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔تدریسی‘ ادب اور صحافت کے خیموں میں محسوس کئے جاسکتے ہیں۔ لیکن میری نظر میں اتنا ہی کافی نہیں کیونکہ زندگی کے دیگر اہم شعبوں میں ان زبانوں کے غلط استعمال کو دیکھ کر دل بیٹھ جاتا ہے فکر مندی وجود پر حاوی ہوجاتی ہے ؂
پہچان کرانے میں بڑی دیر لگے گی
ہم کیا ہیں بتانے میں بڑی دیر لگے گی
(رفیق جعفر )
غور طلب بات یہ ہے کہ اُردو + ہندی= ہندوستانی میں عوام کو رجھانے‘ مثاترکر نے کی بے پناہ صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ اس کی توانائی‘ دلکش اور اثر پذیری کو دیکھتے ہوئے اس کا تجارتی طورپر تقریباََ دو دہوں سے خوب استعمال ہورہا ہے۔ یہ استعمال استحصال ہی تو ہے! جس پر انکش لگانا کسی کے بھی بس میں نہیں۔ ان زبانوں کے الفاظ سے کروڑوں کا فائیدہ ہورہا ہے۔ خوب کا م چل رہا ہے۔ لوگ باگ پسند بھی کررہے ہیں تو یہ سلسلہ چل پڑا ہے‘چلتا رہے گا‘بات ایک حد تک تو اچھی ہے بہت بُری بھی نہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ کمرشیل طورپر کھچڑی کلچر جوکہ بیسویں صدی کے اواخر تک نہیں تھا اکسیو یں صدی کے آتے آتے اس کے بعد تقریباََ دیڑھ دہے میں ایسا تیزی سے پھیلا ہے کہ اب سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کو کون سی زبان کا نام دیں۔ فلموں کے سنسر سرٹیفکٹ میں زبان کے خانے میں ’’ہندی‘‘ لکھا ہوتا ہے ۔سیرئیل بھی بندی کے بکے جاتے ہیں۔ ٹی وی کے پروگرام پیش کرنے والے اینکرس انگریزی الفاظ کی آمیزش سے ہندی اور اُرو کے الفاظ کا سہارا لے کر کچھ کچھ عجیب لہجے میں روانی کے ساتھ بولتے ہیں جو ہماری ان زبانوں کے مزاج سے قطعاََ میل نہیں کھاتے بلکہ مضحکہ خیز لگتے ہیں اور ان ٹی وی سیرئیلس نے توحد ہی کردی ہے۔ نہ مکالموں کی ساخت اور نہ گرامر کا ٹھکانہ‘ الفاظ کچھ ایسے ادا کئے جاتے ہیں کہ نہ خواص کی زبان سے کبھی سُنانہ عوام کی زبان سے‘اکثر مکالمے کردار کے انوسار بھی تونہیں ہوتے!جیسے قبول کرلیا جائے ‘پڑھا لکھا بھی وہی بولی بولتا ہے ۔ جوغیر پڑھا لکھا بولتا ہے۔ اس میں دوش اداکاروں کا نہیں‘ اینکروں کا نہیں دوش تو ان پنکھکوں کا ہے جو فائین آٹ کے ان اہم ترین شعبوں کو تہس نہس کررہے ہیں۔ جن کا راست تعلق عوام سے ہے۔ گھر گھر سے ہے۔ بالکوں اور نوجوانوں سے ہے۔ جن سے تہذبیں‘ زبانیں پھلتی پھولتی‘ تروتازہ رہتیں اور تازہ دم ہوکر آگے بڑھتی ہیں۔ اس میں اگر بُرائی پیدا ہوجائے تو تہذیب سلامت نہیں رہ پاتی‘ زبان کا چہرہ مسخ ہوجاتا ہے۔ مجھے یہ کہنے کا حق ہے کہ آج یہی سب کچھ ہورہاہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے سماج پر کمرشیل کھچڑوں کلچر زبان کے ساتھ ساتھ حرکت وسکنات‘ عادات واطوار اور فیشن کے ساتھ چھا تا چلا جارہا ہے۔ اگر یہ جڑپکڑلے گا تو ہماری تہذیبی او رلسائی شناخت کہاں باقی رہ پائے گی؟ یہ سوال مجھ ایسے بھاشا پریسیوں اور مشترکہ شاندار پُروقار کلچرکے حامیوں کو اس لیے بھی بُرالگتا ہے کہ اس موجود کلچر کے نظارے بسوں‘ ٹرینوں‘ اسکولوں‘ کالجوں کے اندر اور باہرآئے دن ہمارا منہ چڑاتے ہیں۔ سیرئیلس کے کرداوں کی نقل کرتے ہوئے لڑکے اور لڑکیاں کرداروں کی کھچڑی زبان میں گفتگو کرتے نظر آتے ہیں’’تودل کہہ اُٹھتا ہے کہ کہاں گیا باپو کا لسائی سپنا ؟
آج ہیں اپنی بھیگی آنکھیں
کل نا جانے پھر کیا ہوگا
(رفیق جعفر )
لیکن مایوسی کفر ہے ہمیں مایوس ہونے کی قطعاََ ضرورت نہیں کیونکہ ادب اور تعلیمی میدانوں میں کچھ بلکہ بہت کچھ حدتک زبان کا تحفظ تو ہو رہا ہے او رپھرہم ہندوستانی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارے دیش کی بنیاد کا پتھر مستحکم ہے جو اپنی جگہ قائم ودائم ہے لسانی اور سماجی سطح پر اتحاد امن اور شانتی کے لحاظ سے اسکی جڑیں مضبوط ہیں’پائیدار ہیں‘جاندار اور پُر وقار ہیں۔ بھلے ہی اس پر قائم عمارت میں دراڑیں پڑرہی ہوں‘ دراڑوں کی مرمت بھی مستقبل میں ہونگی اور عمارت کی تعمیر نو بھی آج نہ سہی کل ضرور ہوگی‘بقول شاعر ؂
چین سے رہتا ہے بنیاد کا پتھر اعجازؔ
زلزلہ اونچی عمارت کو گِرا دیتا ہے!
( یہ مضمون ۲۳/ جنوری ۲۰۱۷ء کو’’ہندوستانی پرچار سبھا‘‘(ممبی) کے سمینار میں پڑھاگیا)
——–
Rafik Jafar
Ranjit Singh Colony ,Opp.Talau , Nalbangali ,Talegaon Dabhade
Taluka Maval , Pune (MS) 410506
———

متعلقہ موضوعات