مثنوی ماقبل اقبال : – محمد یعقوب راتھر


مثنوی ماقبل اقبال

محمد یعقوب راتھر – ریسرچ اسکالر
اقبال انسٹی ٹیوٹ آف کلچر اینڈ فلاسفی’ کشمیر یونیورسٹی
ای میل:

۱۸۵۷ء ؁ سے پہلے ہمارا ادبی سرمایہ زیادہ تر تصوف، تعشق اور خمریات تک ہی محدود تھا۔ مگر اس کے بعد اِس میں فلسفیانہ اورمفکرانہ خیالات کا اظہار ہونے لگا اور روایت سے بغاوت کا نظریہ ابھرنے لگا۔ نئے موضوعات نے جنم لیا۔ نئے موضوعات نئی زبان، نئی ہئیت ،نیا اسلوب اور نئے آہنگ کا مطالبہ کرنے لگے۔ ہر ایک پیمانہ بدلنے لگا۔ ۱۸۵۷ء ؁ کے انقلاب میں سیاسی طور پر شکست کھانے کے بعد قوم و ملت نفسیاتی طور پر الجھن کی شکار ہو گئی۔ مغربی اور مشرقی اقدار کے ٹکراؤ سے سیاسی، سماجی اور معاشی توازن بگڑنے لگا۔
سارے مُسلّمات، روایات، نظریات اور تصورات میں بکھراؤ پیدا ہوا۔ اِس ہمہ گیر تغیر و تبدل نے ہندوستانیوں میں خود احتسابی اور سماجی اصلاح و ترقی کے رحجان کو فروغ دینا شروع کیا۔ ملکی معاملات میں حصہ لینے کا احساس پیدا ہو گیا۔ ایک نئے معاشرے کی بنیاد پڑی اور ایک نئی تہذیب کے خدو خال ابھرنے لگے۔ نئے علوم و فنون کی تعلیم عام ہو گئی ۔ اس تبدیلی نے جہاں زندگی کے ہر گوشے کو متاثر کیا، وہاں اردو ادب کے سیکڑوں برسوں کے جمود میں حرکت پیدا کر دی۔ اردوشاعری ہئیت ، اسلوب، موضوع اور مواد کے لحاظ سے یکسر بدل گئی اور جدید روایات، طرزِ تعقل، نئے خیالات و موضوعات کی رنگا رنگی سے اردو شاعری کا دامن وسیع تر ہو گیا۔ اردو شاعری اب محض تفننِ طبع کا ذریعہ نہیں رہ گئی بلکہ اس کے ذریعے سیاسی، سماجی، اصلاحی، معاشی اور ملکی مسائل کی عکاسی بھی ہونے لگی۔جس سے جدید نظم کے نقوش ابھرنے لگے۔
۱۸۵۷ء ؁ کے بعد عمل اور رد عمل کا نہ تھمنے والا طوفان شروع ہوا۔ اور اربابِ وطن فکر و نظر ، قول و فعل، عمل و اجتہاد کے اعتبار سے مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئے ۔ ایک گروہ مغربی تہذیب کی کورانہ تقلید میں اپنا سب کچھ کھو بیٹھا۔ دوسرا گروہ عملی زندگی سے کنارہ کش ہو کر گمنامی کے خلوت خانے میں جا چھپا۔ تیسرا گروہ مشرقی روایات کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھاتھا اور کسی بھی تبدیلی سے ڈرتا اور چونکتا تھا۔ چوتھا گروہ مشرق و مغرب کے درمیان مفاہمت پر آمادہ تھااور ان دونوں کی روایات سے ’’خُذمَا صَفَا و دَعْ مَاکدر‘‘کا داعی بن کر سامنے آیا۔ اس گروہ کے میرِ کاروان سرسید احمد خان تھے ۔انہوں نے اردو شعرا و ادبا کو ایک نیا طرزِ فکر اور نیا طرزِ حیات عطا کیا۔ ان کے زیرِ اثر اردو میں ایک نئے انداز کی شاعری کا آغاز ہوا۔ محمد حُسین آزادؔ اور الطاف حُسین حالیؔ نے نیچرل شاعری کی بنیاد رکھی۔ جس کے ذریعے جدید نظم نگاری کی داغ بیل پڑ گئی ۔
جدید اردو شاعری کے آغاز اور نشو و نما کے سلسلے میں انجمن پنجاب لاہور کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے ۔ جس کا قیام ۱۸۶۵ء ؁ میں عمل میں آیا۔ انجمن کا پورا اور اصلی نام انجمن اشاعت مطالب مفیدہ پنجاب(Society for the diffusion of useful knowlede in Panjab)تھا۔انجمن پنجاب کے سرپرست اور محرک کرنل بالرائڈ تھے۔ محمد حسین آزاد انجمن کے روح رواں تھے ۔ انہوں نے انجمن کے پلیٹ فارم ( جس کی تنظیم و ترتیب ڈاکٹر جی ڈبلیو لائٹز نے کی تھی ) پر اہلِ علم کو جدید ادب کی اہمیت و افادیت سے روشناس کرانے کی کامیاب تحریک چلائی۔ انجمن نے سماجی ، اخلاقی ، علمی اور ادبی موضوعات پر تبادلہ خیال کے لیے جلسو ں کا اہتمام کیا۔اس میں متعدد اہل علم نے کئی مضامین پڑھے۔ جن میں محمد حسین آزاد بھی تھے۔ ان جلسوں میں آزادؔ کے مضامین کو خوب سراہا گیا اور انجمن کے خرچہ پر انھیں مستقل طور پر لیکچر ار مقرر کیا گیا۔ انہوں نے انجمن میں ایک نئی روح پھونکی اور اپنے ۳۶ مضامین پیش کیے جن میں زبان اردو کی تاریخ اور نشو و نما، اصلیتِ زبان، شمس ولی اللہ ، شاہ حاتم، شاہ ہدایت جیسے مضامین شامل ہیں ، خاص کر اگست ۱۸۶۷ء ؁ میں پڑھا گیا مقالہ ’’خیالات درباب نظم اور کلام موزوں ‘‘ قابل ذکر ہے ۔جو بعد میں نظمِ آزاد کے مقدمے کے طور پر شائع ہوا۔ اس مقدمے کو نظم نگاری کے سلسلے میں ایک منشور کی حیثیت حاصل ہو گئی ۔ انجمن کے جلسوں میں پڑھے گئے مقالوں پر بحث و نظرکی عام اجازت تھی ۔اس سے شرکائے جلسہ کو بحث میں حصہ لینے اور علمی نکات بیان کرنے کا براہ راست موقعہ مل جاتا تھا۔اس طریقہ کار نے اردو میں صحت مند تنقید کو برداشت کرنے کی نئی روایت نے جنم لیا۔
انجمن پنجاب کے ادبی منظر نامے پر آزادؔ بتدریج نمایاں ہونے لگے اور کرنل ہالرائڈ اور دیگر اہل قلم انتظامی امور کے پسِ منظر میں اوجھل ہونے لگے۔ آزادؔ نے ۱۸۷۴ء ؁ میں کرنل ہالرائڈ کے ایما پر قدیم طرز کے مشاعروں کے برخلاف جدیدطرز کے نظمیہ مشاعرے کی بنیاد رکھی جس میں مصرعہ طرح کے بجائے کسی ایک عنوان پر نظم پڑھی جاتی تھی۔ یہ مشاعرہ سکھشا سبھا ہال میں قائم کیا گیا۔ جس میں آزادؔ ، حالیؔ ، انور حسین ہماؔ ، ولی ؔ دہلوی، منشی الٰہی بخش رفیقؔ وغیرہ نے شرکت کی۔ اس مشاعرے کی رُوداد آزادؔ کے ایک شاگرد غلام حیدر نثار یوں بیان کرتے ہیں :
’’۸؍ مئی ۱۸۷۴ء ؁ کو نظم اردو کے عالم میں ایک انقلاب ہوا کہ زبان کی تاریخ میں ایک عمدہ یاد گار سمجھا جائے گا،نظم مذکور کی آ گ ایک چقماق سے نکلی تھی جس کا ایک پرزہ شعرائے آتش بیان کی طبع روشن تھی۔ دوسرا پرزہ امرئے زندہ دل کی گرم طبعیت ۔ ایک کی شوخی نے غزل اور قصیدے کو ولادت دی اور دوسرے کی قدر دانی نے اسے پال کر پرورش کیا۔ مخلوق مذکور اسی حالت میں بڑھیا ہو کر اپنی حد سے گذر گئی ۔ مختصر یہ کہ وہی معمولی مضمون تھے جو پہلے استادوں نے نکالے تھے ۔ موجودہ شاعر چبائے ہوئے نوالوں کی طرح انھیں چبا لیتے تھے ۔ الفاظ ادل بدل کرتے تھے اور پڑھ پڑھ کر آپس میں خوش ہوتے تھے ۔ صاحبِ ڈائریکٹر بہادر نے سال مذکورہ میں میرے استاد پروفیسر آزاد کو ایما فرمایا۔ انھوں نے اس مطلب پر مناسب وقت ایک لکچر لکھا اور شام کی آمد اور رات کی کیفیت ایک مثنوی میں دکھائی۔ حضور ممدوح کی تجویز سے ایک تاریخ مقرر ہوئی۔ جلسہ ہوا۔ اہل علم اہلِ ذوق جمع ہوئے۔ نثر و نظم پڑھی گئی اور سب نے صلاح کر کے ایک مشاعرہ قائم کیا کہ شعراہر قسم کے مضامین پر طبع آزمائی کیاکریں ۔ گیارہ مہینے تک مشاعرہ قائم رہا۔ اس وقت نظم مذکورہ کی شروع پر کچھ لوگوں نے مخالفت کی مگر چودہ برس کے عرصے میں اتنا اثر ہوا کہ اب ہندوستان کے مشہور شہروں میں ویسی نظموں کی آوازیں آتی ہیں۔ ‘‘۱؂
آزادؔ شاعری کے عام مواد سے مطمئن نہیں تھے ۔ وہ اردو شاعری کی تطہیر اور اصلاح چاہتے تھے ۔ اس کا احساس انھیں بہت پہلے ہی سے تھا۔ چنانچہ اگست ۱۸۶۷ء ؁ کے مضمون ’’خیالات درباب نظم اور کلام موزوں ‘‘ میں اس کا اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’ شعر سے وہ کلام مراد ہے جو جوش خروش خیالات سنجیدہ سے پیدا ہوا ہے اور اسی قوتِ قدسیہ الٰہی سے ایک سلسلہ خاص ہے ۔ خیالات پاک جوں جوں بلند ہوتے جاتے ہیں مرتبۂ شاعری کو پہنچتے جاتے ہیں ۔ ۔۔ابتدا میں شعر گوئی حکما اور علمائے متبحرکے کمالات میں شمار ہوتی تھی اور اُن تصانیف میں اور حال کی تصانیف میں فرق بھی زمین و آسمان کا ہے ۔ البتہ فصاحت اور بلاغت اب زیادہ ہے مگر خیالات خراب ہو گئے ۔ سبب اس کا سلاطین و حکام کی قباحت ہے انہوں نے جن جن چیزوں کی قدر دانی کی لوگ اس میں ترقی کرتے گئے ورنہ اسی نظم شعر میں شعرائے اہل کمال نے بڑی بڑی کتابیں لکھی ہیں ۔ جن کی بنا فقط پندو اُندرز پر ہے اور ان سے ہدایت ظاہر و باطن کی حاصل ہوتی ہے ۔ چنانچہ بعض کلام سعدی و مولوی روم و حکیم سنائی و ناصر خسرو اسی قبیل سے ہیں ۔ امید ہے کہ جہاں اور محاسن و قبائح کی ترویج و اصلاح پر نظرہوگی ۔ فن شعر کی اس قباحت پر بھی نظر رہے گو آج نہیں مگر امید قوی ہے کہ انشاء اللہ کبھی نہ کبھی اس کا ثمرۂ نیک حاصل ہو۔‘‘ ۲؂
محولہ بالا اقتباس سے واضح ہو جاتا ہے کہ آزادؔ شاعری کے عام مواد پر عدم اطمینان کا اظہار ۱۸۷۴ء ؁ کے مشاعرے سے بہت پہلے کر چکے تھے ۔ انہوں نے شعر کی تعریف، ماہت اور مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے نئے طرز کی شاعری کا اشارہ کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ نئی شاعری کے حوالے سے مشاعرے منعقد کیے جائیں تاکہ قدیم شاعری کے اِسقام کو دور کیاجائے اور اس بارے میں وہ اپنے دوست و احباب سے تبادلہ خیال کرتے رہتے تھے ۔ چنانچہ حالیؔ کو بھی اس بات کا علم تھا کہ آزادؔ کے ذہن میں ایک عرصے سے جدید طرز کی شاعری کو فروغ دینے کا خیال کار فرما تھا۔ وہ ( آزادؔ ) ایسے موقعے کی تلاش میں تھے جوان کے برسوں کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کر سکے ۔ اور ان کا یہ خواب انجمن کے مشاعروں نے پورا کیا۔ حالیؔ اس حوالے سے لکھتے ہیں :
’’ لاہور میں کرنل ہالرائڈ ڈاکٹر آف پبک انسٹرکشن پنجاب کی ایما سے مولوی محمد حسین نے اپنے پرانے ارادے کو پورا کیا یعنی ۱۸۷۴ء ؁ میں ایک مشاعرے کی بنیاد ڈالی جو ہندوستان میں اپنی نوعیت کے لحاظ سے باکل نیا تھا۔‘‘۳؂
آزادؔ نے مشاعر کے ذریعے شاعری میں جدت پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ اس مشاعرے میں انہوں نے ایک مقالہ بھی پڑھا جس میں شاعری کی قباحتوں اور نیچرل شاعری کی خوبیوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ مقالے کے بعض حصے ملاحظہ ہوں :
’’ اے گلشنِ فصاحت کے باغبانو! فصاحت اسے نہیں کہتے کہ مبالغے اور بلند پروازیوں کے بازوؤں سے اُڑے۔ قافیوں کے پروں سے فرفرکرتے گئے ۔ لفاظی اور شوکت الفاظ کے زور سے آسمان پر چڑھتے گئے اور استعاروں کی تہ میں ڈوب کر غائب ہو گئے ۔ فصاحت کے معنی یہ ہیں کہ خوشی یا غم کسی شے پر رغبت یا اس سے نفرت ، کسی شے سے خوف یا خطر یا کسی پر قہر یا غضب۔ غرض جو خیال ہمارے دل میں ہو اس کے بیان سے وہی اثر، وہی جذبہ، وہی جوش سننے والوں کے دلوں پر چھا جائے جو اصل کے مشاہدے سے ہوتا۔ بیشک مبالغے کا زور ، تشبیہہ اور استعارے کا نمک، زبان میں لطف اور ایک طرح کی تاثیر زیادہ کرتا ہے ۔ لیکن نمک اتنا ہی چاہئے کہ جتنا نمک نہ کہ تمام کھانا نمک۔ تشبیہہ اور استعارے ہمارے مطلب میں ایسے ہونے چاہئیں جیسے کسی معرکہ یا دربار یا باغ کی تصویر پر آئینہ کہ اُس کی کیفیت کو زیادہ روشن کرے نہ اتنے آئینے کہ تصویر کا اصلی حال ہی نہ دکھائی دے ۔ تب اس موقع پر ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ ہمیں چاہئے کہ اپنی ضرورت کے بموجب استعارہ اور تشبیہہ اور اضافتوں کے اختصار فارسی سے لیں ۔ سادگی اوراظہار اصلیت کو بھاشا سے سیکھیں ۔ لیکن پھر بھی قناعت جائز نہیں کیونکہ اب رنگ زمانہ کا کچھ اور ہے ۔ ذرا آنکھیں کھولیں گے تو دیکھیں گے کہ فصاحت و بلاغت کا عجائب خانہ کھلا ہے جس میں یورپ کی زبانیں اپنی اپنی تصانیف کے گلدستے، ہار، طرّے ہاتھوں میں لئے حاضر ہیں ۔ لیکن اب بھی منتظر ہے کہ کوئی صاحب ہمت ہو جو میرا ہاتھ پکڑ کرآے بڑھائے ۔
اے میرے اہل وطن! اس سے یہ نہ سمجھا کہ میں تمہاری نظم کو سامان آرائش سے مفلس کہتا ہوں نہیں ۔ اُس نے اپنے بزرگوں سے لمبے خلعت اور بھاری بھاری زیور میراث پائے مگر کیا کرے کہ خلعت پرانے ہو گئے اور زیوروں کو وقت نے بے رواج کر دیا۔ تمہارے بزرگ اور تم ہمیشہ سے نئے مضامین اور نئے انداز کے موجدرہے مگر نئے انداز کے خلعت و زیور جو آج کے مناسب حال ہیں وہ انگریزی صندوقوں میں بند ہیں کہ ہمارے پہلو میں دھرے ہیں اور ہمیں خبر نہیں ۔ ہاں صندوقوں کی کنجی ہمارے ہموطن انگریزی دانوں کے پاس ہے ۔۔۔ میں نثر کے میدان میں بھی سوار نہیں ، پیادہ ہوں اور نظم میں خاک افتادہ مگر سادہ لوحی دیکھو کہ ہر میدان میں دوڑنے کو آمادہ ہوں ۔ یہ فقط اس خیال سے ہے کہ میرے وطن کے لیے شاید کوئی کام کی بات نکل آئے ۔ میں نے آجکل چند نظمیں مثنوی کے طور پر مختلف مضامین میں لکھی ہیں جنہیں نظم کہتے ہوئے شرمندہ ہوتا ہوں ۔‘‘ ۴؂
آزادؔ کا لیکچر جدید شاعری کے باب میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ انہوں نے فصاحت و بلاغت کے قدیم معیاروں پر تنقیدی نگاہ کی ۔ روایتی شاعری کی کمزوریوں کو واضح کیا اور نئی شاعری کی اہمیت اور افادیت کو اُجاگر کیا۔ کرنل بالرائڈ نے آزاد کے مضمون اور مثنوی کی نقول ہندوستان کے دوسرے صوبوں کے تعلیمی اداروں کو ارسال کیے اور انہیں چھپوا کر مدارس میں تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی ۔
ا نجمن پنجاب کے مشاعرے جدید طرز کی شاعری میں غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔آغا محمد باقر کی تحقیق کے مطابق انجمن نے کل دس اور بقول ڈاکٹر منظر اعظمی نو مشاعرے کیے جن کے موضوعات علی الترتیب برسات، زمستان، امید، حبِ وطن، امن، انصاف، مروت، قناعت، تہذیب اور اخلاق تھے ۔ آزادؔ نے ان مشاعروں سے پہلے کے جلسے سمیت کل دس مثنویاں پڑھیں ۔ ان کی نظموں کا مجموعہ ’’ نظم آزادؔ ‘‘ جو پہلی بار ۱۸۹۹ء ؁ میں چھپا، جدید اردو شاعری کے ابتدائی نمونے کی حیثیت رکھتا ہے ۔ جن میں موضوعات و مضامین کی رنگارنگی اور شاعرانہ فنکاری دونوں پائی جاتی ہے ۔ اس طرح آزادؔ نے نظم و نثر کے ذریعہ جدید ادب کو فرو غ دینے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔
انجمن پنجاب کی ایک اور اہم شخصیت الطاف حسن حالیؔ ہیں ۔ انہوں نے جدید شاعری کی تحریک کو فروغ دینے اور نئی نسل کو جدید شاعری کی طرف راغب کرنے کی بڑی مساعی کی ۔ وہ پہلے شیفتہؔ ،غالبؔ اور مومنؔ کے زیر اثر قدیم طرز کی غزلیں لکھتے رہے اور بہ حیثیت غزل گو ان کا مقام بہت بلند ہے ۔ ان کی غزل گوئی کو دیکھ کر مرزا غالبؔ نے فرمایا تھا اگر چہ میں کسی کو فکر شعر کی اصلاح نہیں دیتا لیکن تمہاری نسبت میرا یہ خیال ہے کہ اگر تم شعر نہ کہو گے تو اپنی طبیعت پر ظلم کرو گے۔ شیفتہؔ کی صحبت نے ان کے ادبی مذاق کو ابھارا جس سے ان کے قدیم نظریۂ شعر میں تبدیلی واقع ہوئی ۔ شیفتہؔ کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی ادب سے شناسائی ہوئی اور یہاں شعر کے ایک نئے معیار سے آشنا ہو گئے ۔ وہ انجمن پنجاب سے وابستہ ہو گئے ۔ یہی سے انہیں اپنے انقلابی رحجانات کے اظہار کا موقعہ فراہم ہوا۔ انہوں نے انجمن کے مشاعروں میں برکھارت، نشاطِ امید، مناظرۂ رحم و انصاف اور حبِ وطن جیسی نظمیں پڑھیں ۔ انہیں اپنی شعری روایت عزیز تھی۔ وہ مغربی شاعری کے تتبع کے قائل نہیں تھے اس لیے انھوں نے نئے اثرات قبول کرنے اور انجمن کی تحریک میں شریک ہونے کے باوجود اپنی روایت سے آنکھیں نہیں چرائیں ۔ اس سے جدید شاعری کی تحریک اپنے توازن اوراعتدال پر قائم رہی اور وہ انتہا پسندی کی شکار ہونے سے بچ گئی انہوں نے اردو شاعری کو ایک نیا مزاج ، اسلوب، آہنگ اور ایک نیا تنقیدی شعور عطا کیا۔ ڈاکٹر انور سدید لکھتے ہیں :
’’ حالیؔ نے اپنی نظموں میں صرف قدیم اور جدید رنگ کی ہنر مندانہ پیوند کاری ہی نہیں کی بلکہ موضوعات کی تبدیلی اور نئے خیالات سے اردو نظم کو جدیدیت کی ڈگر پر ڈال کر اسے نئی شاعری کا امتیازی نشان بھی بنا دیا۔ ‘‘ ۵؂
جدید شاعری کی ابتدا لاہور میں ہوئی مگر اس نے ارتقا کی منزلیں سرسید کی تحریک کے زیرِ اثر دِلی اورعلی گڑھ میں طے کیں ۔ حالیؔ قیام دِلی کے زمانے میں سرسید کی تحریک سے متاثر ہوئے اور وہ پوری طرح سرسید کی تحریک سے جُڑ گئے ۔ دوسری طرف سرسیدخود انجمن پنجاب سے مطمعن تھے ۔ آزاد کو ایک خط میں لکھتے ہیں :
’’ میری نہایت قدیم تمنا اس مجلس مشاعرے سے بر آئی ۔ میں مدت سے چاہتا تھا کہ نیچر کے حالات کے بیان پر متوجہ ہوں۔آپ کی مثنوی ’’خوابِ امن ‘‘ پہنچی، بہت دل خوش ہوا۔ درحقیقت شاعری اور سخن وری کی داد دی ہے ۔ اب بھی اس میں خیالی باتیں بہت ہیں ۔ اپنے کلام کو اور زیادہ نیچر کی طرف مائل کرو۔ جس قدر کلام نیچر کی طرف مائل ہو گا اتنا ہی مزا دے گا۔ اب لوگوں کے کانوں سے مت ڈرو ۔ ضرور ہے کہ انگریزی شاعروں کے خیال لے کر اردو زبان میں اداکیے جائیں ۔‘ ‘ ۶؂
سرسید شعر و ادب میں ترقی پسندانہ رحجانات کے حامی تھے وہ شاعری سے سماجی اور تہذیبی اصلاح کاکام لینا چاہتے تھے اور حالیؔ جو لاہو رمیں آزادؔ کے ساتھ جدید شاعری کی تعمیر میں دوش بدوش تھے، اب جدید شاعری کو پروان چڑھانے میں سرسید کا ہاتھ بٹانے لگے ۔ حالی نے ان کی فرمائش پر مسدس مدوجزر اسلام لکھا، جو ۱۸۷۹ء ؁ میں مکمل ہوا۔ سرسید اسے اپنے لیے توشۂ آخرت سمجھتے تھے۔ حالیؔ نے اس میں مسلمانوں کی کھوئی ہوئی عظمتِ رفتہ کو پرسوز انداز میں نظم کیا ہے اور اُنھیں اپنے آبا و اجداد کے کارنامے یاد دلا کر نیا حوصلہ اور جوش عطا کیا ہے ۔ سرسیدنے مسدس کی اشاعت کے بعد حالیؔ کو ایک خط میں یوں لکھا:
’’ جنابِ مخدوم و مکرمِ من ! عنایت نامہ مع پانچ جلد مسدس پہنچے جس وقت ہاتھوں میں آئی ، جب تک ختم نہ ہوئی ہاتھ سے نہ چھُوٹی اور جب ختم ہوئی تو افسوس ہوا کہ کیوں ختم ہوئی ۔ اگر اس مسدس کی بدولت فن شاعری کی تاریخ جدید قرار دی جائے تو بالکل بجا ہے ۔ کس صفائی اور کس خوبی اور روانی سے یہ نظم تحریر ہوئی ہے ، بیان سے باہرہے۔تعجب ہوتا ہے کہ ایسا واقعی مضمون جو مبالغہ ، جھوٹ، تشبیہاتِ دور از کار سے جو مایہ ناز شعراء و شاعری ہے ،بالکل مبرا ہے کیوں کہ ایسی خوبی و خوش بیانی اور موثر طریقہ پر ادا ہوتا ہے کیوں کہ ایسی خوبی و خوش بیانی اور موثر طریقہ پر ادا ہوتا ہے ۔متعدد بند اس میں ایسے ہیں جو بے چشمِ نم نہیں پڑھے جا سکتے ۔ حق ہے جو دل سے نکلتی ہے دل میں بیٹھتی ہے ۔‘‘ ۷؂
اردو شاعری کو جدید انقلابی تبدیلیوں سے روشناس کرانے میں آزادؔ اور حالیؔ دونوں پیش پیش رہے لیکن حالیؔ نے عملاً شاعری کے نئے نظریات کی عالمانہ توضیح و تشریح کی ۔ انہوں نے اپنا دیوان مرتب کرتے وقت ایک مقدمہ اپنی شاعری کے جواز میں لکھا جسے جدید اردو شاعری کا اعلان نامہ ( Manifesto) کی حیثیت حاصل ہے ۔ حالی ؔ نے مقدمہ میں دیگر ابحاث کے ساتھ ساتھ اپنا نظریۂ شعر بھی پیش کیا جس سے جدید شاعری کی تفہیم میں مدد ملتی ہے ۔ وہ شعر میں سادگی ، جوش، اور اصلیت، تخیل، مطا لعۂ کائنات اور تفحص الفاظ کو ضروری قرار دیتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے کلام میں ان چیزوں کو مدِنظر رکھ کر اردو شاعری کو جدید تقاضوں کے مطابق موضوعات کی تبدیلی اور نئے نئے خیالات سے ہمکنار کرنے کی کوشش کی ۔
جدید شاعری نے اپنے لیے مثنوی کی ہئیت کو اختیار کیا۔ حالیؔ جدید مثنوی کے بانی ہیں ان کی مثنوی ’’جواں مردی کا کام ‘‘ اردو کی پہلی مثنوی ہے جو انگریزی حکایت سے ماخوذ ہے ۔ یہ مثنوی ۱۸۷۲ء ؁ میں لکھی گئی ہے البتہ جدید مثنوی نگاری کا باقاعدہ آغاز انجمن پنجاب کے مشاعرے ۱۸۷۴ء ؁ سے ہوا۔جس کے روحِ رواں محمد حسین آزاد تھے ۔ آزادؔ نے انجمن کے مشاعرے میں جو مثنویاں پڑھیں ان کی ترتیب میں محققین کو اختلاف ہے ۔ ڈاکٹرگیان چند کے مطابق ان کی ترتیب اس طرح سے ہے (۱) برکھارت(۲ ) زمستان (۳) امید ( ۴) حب الوطن (۵) امن ( ۶) انصاف (۷) مروت یا شرافت( ۸) صبر ( ۹) تہذیب ۔ڈاکٹر منظر اعظمی کے مطابق آزاد کی مثنویوں کی فہرست یوں ہے ۔(۱) شبِ قدر ( ۲) زمستان(۳) صبحِ امید(۴) حبِ وطن ( ۵) خوابِ امن ( ۶) دادِ انصاف ( ۷) وداع انصاف ( ۸ )گنج قناعت ( ۹) تہذیب ۔
آزادؔ نے اردو شاعری کو نئی روایتوں اور نئی اقدار سے روشناس کرایا۔ ان کی مثنویوں میں لفاظی، مبالغہ آرائی اورصنائع و بدائع کی کثرت نہیں ہے بلکہ سادہ اور عام فہم اسلوب پایا جاتا ہے ۔ ان مثنویوں میں فطرت نگاری، اخلاق کی درستگی اور قومی فلاح و بہبودکا درس ملتا ہے ۔ ان کالب و لہجہ خطابیہ ہے جس سے ان کی شاعری میں آورد کا عنصر زیادہ ہو گیا ہے ۔ وہ بطور شاعر کے غیر معمولی صلاحیت کے مالک نہیں ہیں البتہ جدید نظم نگاری کی تحریک ان کا وہ عظیم کارنامہ ہے جس نے اردو شاعری کو ایک نئی راہ عطا کی ۔ انہوں نے قدیم اصناف میں نئے تجربوں کو آزمایا اور مثنوی کے امکانات کا دائرہ وسیع کر دیا۔ انہوں نے مثنوی کو بندوں میں تقسیم کر کے ایک نئے طریقے کی بنیاد رکھی ۔
اردو شاعری کی اصلاح اور جدید شاعری کی تحریک کے حامیوں میں حالیؔ کا نام سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ انہوں نے انجمن پنجاب کے قیام سے دو سال پہلے ہی جدید مثنوی کی خشتِ اول رکھی تھی جب انہوں نے انگریزی سے ماخوذ ایک مثنوی جواں مردی کا کام پیش کی۔ انہوں نے انجمن پنجاب اور سرسید تحریک سے وابستہ ہو کر کئی مثنویاں لکھیں ۔ سرسید تحریک سے متاثر ہو کر تعصب و انصاف، کلمہ الحق ، مناجات بیوہ، جھوٹ اور ایکے کا مناظرہ، اور حقوق اولاد جیسی مثنویاں لکھیں ۔ اُن کی اِن مثنویوں میں سماجی شعور کی جو پختگی نظر آتی ہے وہ انجمن پنجاب کی مثنویوں میں نہیں ملتی ہے ۔ ذیل میں ان کی چند مثنویوں کا اجمالی جائزہ پیش کیا جاتا ہے ۔
حالی ؔ کی مثنوی ’’جواں مردی کا کام ‘‘ کو پہلی جدید مثنوی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔اس لیے اس کا مختصر جائزہ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے ۔ یہ ایک مختصر سی مثنوی ہے جو ستر اشعار پر مشتمل ہے۔ اس میں باپ اپنے تین بیٹوں سے کوئی نمایاں کارنامہ انجام دینے کو کہتا ہے تاکہ وہ اس کے عوض میں گراں مایہ جواہر حاصل کر سکیں ۔ بڑا بیٹا ایک انجانے شخص کی امانت واپس کرتا ہے ۔ منجلا بیٹا دریا کی تیز و تند لہروں سے ایک چھوٹے بچے کو نکال کر اس کی ماں کے گود میں ڈال دیتا ہے اور چھوٹا بیٹا منہ پر نقاب ڈال کر اپنے دشمن کی مدد کرتا ہے تاکہ وہ شرمندہ نہ ہوجائے ۔باپ یہ سن کر بہت خوش ہوا اور وہ گراں مایہ جواہر اسے عطا کیئے۔ اس مثنوی کا اخلاقی پہلو، سادہ انداز بیان نہ صرف حالی کے بلکہ اردو شاعری کے بھی ذہنی انقلاب کی نشاندہی کرتا ہے ۔ یوں تو یہ ایک چھوٹی سی حکایت ہے لیکن اس میں ایک بہت بڑی نصیحت پوشیدہ ہے۔ تحریک انجمن پنجاب سے قبل حالیؔ کا اس طرح کی مثنوی کہنا ان کی بصیرت اور صاحب نظر ہونے پر دلالت کرتاہے ۔
حالیؔ اردو شاعری کے مطلع پر آفتاب نصف النہار کی حیثیت سے طلوع ہوئے جس کی شعاعیں ہر سمت پھیلیں ۔ انہوں نے مواد کے لحاظ سے اردو شاعری کا دامن موتیوں سے بھر دیا ہے البتہ ہئیت کے تجروں سے گریز ہی کیا ہے۔ دراصل وہ اس تکنیک سے مطمعن تھے جو مختلف اصناف سخن کے لیے اردو میں رائج تھی۔ جدید مثنوی نگاروں میں ان کا نام سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ان کی مثنویاں افادی اور تعمیری نوعیت کی ہیں ۔ ان کے یہاں فکر و جذبہ کا حسین امتزاج ملتا ہے ۔ ان کی مثنویوں میں سادگی ، جوش اور اصلیت کے ساتھ ساتھ نیا آہنگ اور احساس پایا جاتا ہے ۔ آزادؔ اورحالیؔ کے اجتہادی کوششوں سے نظم جدید کے جس تصور کو فروغ حاصل ہوا۔ اس کو شبلیؔ ، اکبرؔ ، سرورؔ اور چکبست ؔ نے اپنی نظمیہ شاعری کے ذریعے وسعت عطا کی اور بیسویں صدی میں اقبا ل ؔ نے اس کو عروج بخشا۔ انہوں نے حالیؔ کی فکر کومحسوس کرتے ہوئے افادی، تعمیری اور مقصدی شاعری میں قدم رکھا ۔
اقبالؔ جدید شعرا میں منفرد مقام رکھتے ہیں ۔ انہوں نے جدید شاعر کو نیا رنگ و آہنگ عطا کیا۔ وہ مشرق و مغرب کے علوم و فنون سے اچھی طرح واقف تھے۔ وہ ادب برائے ادب کے نظرئیے سے بیزار تھے اور ادب کو زندگی کے مقاصد حاصل کرنے کا ایک ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کے یہاں فن روحانی اور اخلاقی تعمیر کا صرف ایک وسیلہ ہے ۔ انہوں نے اگر چہ ہئیتی اعتبار سے روایت سے انحراف کیا لیکن موضوعی اعتبار سے وہ اس سے اپنا دامن نہیں بچا سکے ۔ ان کی شاعری فنی اور فکری سطح پر حالیؔ سے متاثر معلوم ہوتی ہے ۔ وہ حالی ؔ کے اسلامی نظریۂ حیات پر اپنی عمارت قائم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ ڈاکٹر وزیر آغا لکھتے ہیں :
’’ حالی نے قوم کی زبوں حالی کے پیشِ نظر اسلاف کے کارناموں کو بڑی اہمیت دی تھی اور ماضی کے ساتھ اپنا تعلق قائم کر کے حال کوبہتر بنانے پر عوام کو اکسایا تھا۔ اقبال نے اسلاف کی بلند اخلاقی کی سطح کا یہ تصور حالیؔ سے اخذ کیااور آگے چل کر جب اُس نے اسلامی نظریۂ حیات کی ترویج میں حصّہ لیا تو اُس کے اِس میلان میں مسدس حالی کی گونج برابر سنائی دیتی ہے ۔۔۔ جہاں تک اقبال کا تعلق ہے اُس نے اَسلاف کی عظمت کو تصور حالیؔ سے اور مغربی تہذیب کی نفی کا تصوراکبرؔ سے مستعار لیا۔‘‘ ۸؂
تاریخی اور نظریاتی اعتبار سے اقبالؔ کی شاعری کا ایک حصہ حالیؔ کی واقعاتی اور فطری شاعری سے ضرور تعلق رکھتا ہے اور وہ حصہ بیانیہ شاعری کا حصہ ہے لیکن ان کی شاعری حالیؔ کے تصور شاعری سے بہت آگے کی چیز ہے یعنی چند مماثلتوں کے باوجود حالیؔ کی شاعری اور اقبالؔ کی جدت نظر میں امتیاز کے کئی پہلو ہیں ۔ اقبال نہ صرف رجائی تھے بلکہ ایک مثبت لائحہ عمل بھی تجویز کرتے ہیں ۔ چنانچہ جواب شکوہ میں خدا کی طرف سے یہ پیغام سناتے ہیں
عقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تری
مرے درویش! خلافت ہے جہانگیر تری
ماسوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری
تو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں ۹؂

اردو اور فارسی میں بیانیہ شاعری کی بہت بڑی روایت مثنوی کی صورت میں موجود ہے اور اقبال کے فن کی ایک بڑی اور اہم جہت ان کی مثنوی نگاری ہے ۔ ان کی مثنویوں یامثنوی نما نظموں کی تعداد ان کی دیگر اصناف کے مقابلے میں غالباًسب سے زیادہ ہے ۔ جگن ناتھ آزاد کے مطابق ان کی مثنویوں کی تعداد ۵۴ تک پہنچ جاتی ہیں ۔ ان کی نمایندہ مثنویوں میں اسرار خودی، رموز بے خودی ، جاوید نامہ ،گلشن رازِ جدید، بندگی نامہ ، مسافر اور پس چہ باید کرد اے اقوام شرق شامل ہیں جو فارسی میں ہیں ۔اُردو میں ان کی مثنوی یا مثنوی نما نظموں میں ساقی نامہ، ایک پہاڑ اور گلہری ، ایک گائے اور بکری ، بجے کی دُعا، ہمدردی، ماں کا خواب، پرندے کی فریاد، خفتگان خاک سے استفسار، شمع و پروانہ، صدائے درد،آفتاب، شمع، دردِ عشق، گُل پژ مردہ ، سید کی لوحِ تربت،ماہِ نو ، انسان اور بزم قدرت،رخصت اے بزمِ جہاں ، طفل شیر خوار، چاند، حقیقتِ حُسن، چاند اور تارے، ستارہ، گورستانِ شاہی، پنجاب کے دہقان سے وغیرہ کے نام لئے جاسکتے ہیں ۔
مثنوی کے لیے اگر چہ اوزان مقرر نہیں ہیں لیکن مروجہ اوزان ضرور ہیں اور مروجہ اوزان سے ہٹ کر کسی اوربحر میں کہی ہوئی مثنوی کو اہل نقد نے مستحسن خیال نہیں کیا ہے ۔ اقبال نے اپنی فارسی مثنویوں میں اس رواج کی پابندی ضرور کی ہے لیکن مختصر مثنویوں میں ،چاہے وہ فارسی میں ہیںیا پھراردو میں ، انہوں نے اس پابندی کو پیشِ نظر نہیں رکھا۔البتہ اردو کی چند مثنویاں ساقی نامہ ، پیر و مرشد، اور ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام ، تو مثنوی کی مروجہ بحروں میں ہیں لیکن باقی مثنویاں غیر مروجہ بحروں میں ہیں ۔ گمان غالب ہے کہ اسی سبب سے ان مثنویوں کو جو غیر مروجہ بحروں میں ہیں ، اعلیٰ پائے کی شاعری ہونے کے باوجود اہلِ نقد نے مثنویوں کے زمرے میں شامل نہیں کیا ہے ۔
اقبال نے مثنویوں میں غیر معمولی تصرفات اور جدتیں دکھائی ہیں ۔ وہ کبھی مثنوی کے آغاز یابیچ میں اپنے یا دوسروں کے اشعار لاتے ہیں ۔ کبھی چند اشعار کے بعد ٹیپ کا شعر لاکر انھیں بندوں میں تقسیم کر دیتے ہیں ۔ کبھی کبھار مثنوی میں اپنی یا دوسروں کی غزلیں نقل کرتے ہیں ۔ حالانکہ مثنوی اس طرح کے طریقِ کار سے بے نیاز ہوتی ہے لیکن یہ چیزیں اقبال کے شاعرانہ مزاج کا ایک پہلو کو نمایاں کرتا ہے ۔ اور وہ یہ کہ اقبال روایت کا احترام اور روایت سے بغاوت کا ایک حسین امتزاج کا نام ہے ۔ بہر حال یہ ان کی بے نظیر جدتیں ہیں جن کی وجہ سے یہ مثنویاں اور بھی دلچسپ بن گئی ہیں ۔ پروفیسر عبدالقادر سروری لکھتے ہیں :
’’اقبال کی فکر کا کوئی خاص انداز، کوئی خاص پہلو کسی خاص صنفِ شعر سے وابستہ نہیں ہے ۔ شکل کی حد تک انھوں نے مثنوی کا نہایت بے تکلف اور اجتہدانہ استعمال کیا ہے ۔‘‘ ۱۰؂
دراصل اقبال نے ہئیتوں کی پابندی کے باوجود ہئیت میں نِت نئے تجربے کیے ۔ و ہ پابندی میںآزادی حاصل کرتے ہیں اور یہ ان کے فنی شعور اور بصیرت کاثبوت ہے ۔
حوالہ جات
۱۔عبادت بریلوی، جدید شاعری ، ایجوکیشنل بُک ہاوس علی گڑھ، ۲۰۱۴ء ؁ ص ۱۲
۲۔محمد حسین آزاد، نظم آزاد، مفید عام پریس لاہور ،۱۸۹۹ء ؁ ، ص ۸
۳۔حالی ،دیباچہ مسدس ،
۴۔محمد حسین آزاد، نظم آزاد ( مضمون لیکچر) ،مفید عام پریس لاہور ۱۸۹۹ء ؁ ، ص ۳، ۴، ۹
۵۔ڈاکٹر انور سدید، اردو ادب کی تحریکیں ابتدا تا۱۹۷۵ء ؁ ، کتابی دنیا ،دہلی، ۲۰۰۸ء ؁ ص ۳۷۱
۶۔پروفیسر عقیل احمد صدیقی، جدید اردو نظم نظریہ و عمل ، ایجوکیشنل بک ہاوس علی گڑھ ، ۲۰۱۲ء ؁ ، ص ۲۰
۷۔ڈاکٹر نصرت اندرابی ، پیامی شاعری حالی اکبر اور اقبال، تابش پبلی کیشنز سرینگر ۱۹۹۱ء ؁ ، ص ۵۶۔
۸۔وزیر آغا،اردو شاعری کا مزاج،دارالاشاعت مصطفائی دہلی،۲۰۱۴ ؁ء، ص۳۲۳۔
۹۔محمد اقبال ،کلیاتِ اقبال(اردو) ص۱۷۰۔
۱۰۔پروفیسر عبد القادر سروری،اردو شاعری کاارتقا،ایجوکیشنل بُک ہاوس علی گڑھ، ۲۰۱۰ء ؁،۱۴۹۔

محمد یعقوب راتھر ریسرچ اسکالر
اقبال انسٹی ٹیوٹ آف کلچر اینڈ فلاسفی کشمیر یونیورسٹی
ای میل
9018881018, 9018458181