مولانا آزاد کا تصورِ قومیت اور حبِ وطن :- جاگیردار عذرا شیرین

جاگیر دار عذرا شیرین

مولانا آزاد کا تصورِ قومیت اور حبِ وطن

جاگیردار عذرا شیرین
جز وقتی لکچرر و ریسرچ اسکالر
ایم۔یو ۔کالج ٗ اودگیرضلع لاتور( مہاراشٹرا)
Mob:7721952754

انگریزی محاورہ ہے کہ آدمی اپنے انداز سے پہچانا جاتا ہے ۔Style is the man ) (یہ انداز آدمی کی پوری شخصیت کا ہو تا ہے، جس سے اس کی ذہانت وافکار ،فہم و بصیرت ،اشغال و اعمال اورگفتارو کردار نمایاں ہوتے ہیں۔ان کے مقاصد وسیع اور عزائم بلند ہوتے ہیں ۔

زندگی میں کوئی اٹکاؤ ،کوئی لگاؤ اور کوئی بندھن ہو اس کی تکمیل کے لئے وہ ہمہ تن مشغول رہتے ہیں، کچھ طبیعتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے لئے صرف مشغولیت کافی نہیں ہوسکتی ،وہ زندگی کا اضطراب بھی چاہتی ہیں ۔ان کا مقصدانفرادیت سے شروع ہوتا ہے اور اجتماعیت پر ختم ہوتا ہے۔’’چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو ‘‘کے مصداق وہ قافلوں کے میرِ کارواں کہلاتے ہیں ۔جن کا بولا اور لکھا ہوا ہر لفظ ان کی مخصوص شخصیت کا اشاریہ ہوتا ہے ۔فارسی کی مثل مشہور ہے کہ ’’کوزے سے وہی کچھ ٹپکتا ہے جو اس کے اندر ہوتا ہے ‘‘۔ کوزے میں دریا کی سی جولانی سمیٹنے والی انہی نادرِ روزگار ،تاریخ ساز ہستیوں میں محی الدین احمد مولانا ابو الکلام آزاد کا شمار ہوتا ہے۔
مولانا آزاد ہندوستان کی جنگِ آزادی کے نہایت قابلِ احترام رہنما اور اجتماعیت و یگانگت کے علم بردارمجاہد تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں جو کچھ کہا اور کیا وہ ہمارے لئے آج بھی مشعلِ راہ ہے اور کل بھی ہوگا۔ان کی تحریروں اور تقریروں میں جو سچائی تھی اس کی ہمیں ٗ آج بھی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی آزادی کی لڑائی کے وقت تھی۔مولانا کی زندگی کے دو بڑے مشن تھے ۔ملک کو غلامی سے آزاد کروانا اور قومی اتحاد کو مضبوط کرنا ۔ چناں چہ ان مقاصد کی تکمیل کے لئے انہوں نے جیلوں میں برسوں قیدِ تنہائی کاٹی اوراپنی زندگی کا ہر ساتواں دن جیل میں گزارا ،اس کے باوجود حصول آزادی اور حب الوطنی کی تڑپ ان میں کبھی کم نہ ہوئی ۔مولانا ٗآزادی کی لڑائی جیتنے کے لئے قومی اتحاد کو ناگزیر سمجھتے تھے۔ اسی لیے وہ رنگ ،نسل ، قومیت ٗ ملکی و مذہبی تعصب سے پاک قومی یکجہتی کے خواہاں رہے۔اوائلِ عمری ہی سے قوم و ملت کے لئے سر بکف ہو کر میدانِ کارزار میں آئے اور بنگال کی انقلابی تحریکوں سے وابستہ ہوئے ۔عراق ،ترک اور مصر کے اسفار کئے ،جس کی وجہ سے ان کا سیاسی شعور مزید پختہ ہوا ۔تحریکِ خلافت ،ترکِ موالات ،حزب اللہ اور ریشمی رومال جیسی تحریکوں میں ان کی شمولیت نے انگریزوں پر کاری ضرب لگائی اور کاروانِ حریت کے وہ نقیب کہلائے۔برطانوی استبداد نے حق کی آواز کو دبانے کے لئے مختلف ترکیبیں کیں ،لیکن ’الہلال‘ کی صدائے جرس نے فرزندانِ توحید کو دینِ محمدی کے ساز پر آزادی وطن کا نغمہ سنایا اور حق طلبی کی صدائیں تیز کردیں ۔اس کی اشاعت نے سوتوں کوجگایا اور جذبۂ حریت کا سبق عام کیا ۔الہلال صرف اخبار نہیں بلکہ مولانا کی علمی ،ادبی ،دینی اور سیاسی بصیرت کا آئینہ تھا ۔جس کے ذریعے ہندوستانیوں بالخصوص مسلمانوں کوغلامی کی زنجیر کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنا تھا۔
اس لیے انہوں نے اپنے اخباروں سے جذبہ حریت اور جدوجہد کا پیغام دیا ۔ ان کاہر لفظ جذبے کی تیز وتند آنچ میں ڈھلا ہوا شعلہ تھا ۔انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں اور ہندوؤں میں نہ صرف محبت کی جوت جگائی بلکہ عمل کے میدان میں اترنے کی مہمیز بھی لگائی۔ (1857 ) کی پہلی جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد مسلمان مضمحل اور بد دل ہوگئے تھے۔کیونکہ انہیں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا ۔انڈین نیشنل کانگریس کے پرچم تلے آزادی کی کوششیں تیز ہوتی جارہی تھیں لیکن زخموں اور صدموں سے نڈھال مسلمان کنارے کھڑے تھے ،مولانا نے یہ رنگ دیکھا تو ’الہلال ‘ کے وسیلے سے انہیں پکارا :
’’آہ!کاش مجھے وہ صورِ قیامت مل جاتا جس کو میں لے کر پہاڑوں کی بلند چوٹیوں پر چڑھ جاتا ، اس کی ایک صدائے رعد آرائے غفلت شکن سے سر گشتگانِ خوابِ ذلت و رسوائی کو بیدار کرتا اور چیخ چیخ کر پکارتا کہ اٹھو ،بہت سوچکے اور بیدار ہو کیونکہ اب تمہارا خدا تمہیں بیدار کرنا چاہتا ہے ۔ پھر تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ دنیا کو دیکھتے ہو پر اس کی نہیں سنتے جو تمہیں موت کی جگہ حیات،زوال کی جگہ عروج اور ذلت کی جگہ عزت بخشنا چاہتا ہے‘‘۔(1)
مسلمانانِ ہند نے یہ فلک شگاف چیخ سنی اوربیدار ہوگئے ۔یہ آواز کیا تھی ،ایک دھماکہ تھا ،ایک زلزلہ تھا جس نے دلوں کو ہلا دیا اور دماغوں کو جھنجوڑ دیا ۔سونے والے جاگ گئے اور آرام کرنے والے کمر باندھ کر راہِ عمل میں آگئے۔مولانا نے اہلِ ہند کو یہ احساس بار بار دلایا کہ اسلام کے نزدیک وطن و مقام اور رنگ و زبان کی تفریق کوئی چیز نہیں ۔رنگ اور زبان کی تفریق کو خالقِ کائنات تسلیم نہیں کرتا ۔انسان کے تمام دنیوی رشتے خود انسان کے بنائے ہوئے ہیں۔اصلی رشتہ صرف ایک ہے ۔انسانیت کا۔ پس اس کے ماننے والوں کو بھی ایک ہونا چاہئے ۔مولانا نے مسلمانوں کو اس بات کی دعوت دی کہ وہ اپنے ہندو بھائیوں کے ساتھ ہو جائیں ،ان کا عقیدہ تھا کہ ہندوستان میں مسلمان اپنے بہترین فرائض انجام نہیں دے سکتے ،جب تک کہ وہ احکامِ اسلامیہ کے ماتحت ہندوؤں کے ساتھ اتحاد واتفاق نہ کر لیں ۔ان کا فرض ہونا چاہئے کہ اتفاق کا قدم بڑھائیں ،اور بائیس کروڑ ہندوؤں کے ساتھ ایک ہوجائیں ۔اسی دوران تحریکِ خلافت کی پہلی کامیابی کا شور بلند ہوا تو مولانا نے کہا :
’’میں اس منظرِ رفاقت کو ایک منٹ کے لئے فراموش نہیں کرسکتا کہ جوں ہی مسئلہ خلافت ہندوستان میں چھیڑا گیا ،ہندوستان کے تمام گوشوں سے ہمارے ہندو بھائیوں نے کامل صداقت کے ساتھ تحریکِ خلافت کا استقبال کیا اور اپنی تمام تر ہمدردیاں اس کے لئے وقف کردیں ۔‘‘ (2)
تحریکِ خلافت کی شہرت جب بامِِ عروج تک پہنچنے لگی تو مولانا آزاد اس کا سہرا ہندوستان کی سبھی قوموں کے سر باندھتے ہیں۔ خلافت تحریک کی کامیابیوں کی ان گھڑیوں میں ہندوستان کا ہر باشندہ ،ہر مسلمان ،ہندو ،پارسی اور عیسائی غرض کہ
ہندوستان کا ہر بسنے والا ،جس نے گنگا ،جمنا کی صاف روانی دیکھی ہے اور ہندوستان کے اس تاروں بھرے آسمان کو سر پر اٹھائے ہے ،ہر ایک کا فرض بنتا ہے کہ آنے والی کامیابی کو حاصل کرے ۔مولانا اکثر کہا کرتے تھے کہ
’’ احکامِ شرع کی رو سے مسلمانوں کے لئے اگر کوئی فریق ہوسکتا ہے جو نہ صرف ایشیا کہ ،،مشرق کو بلکہ اس تمام کرہ ارضی کی سچائی کو چیا لنج دے رہا ہے ،اس کو مٹا رہا ہے ،جس کے غرور سے اللہ کی عالم گیر صداقت کو خطرہ ہے ،وہ برٹش گورنمنٹ کے سوا کوئی دوسری طاقت نہیں ہے ۔اس لئے مسلمانوں کا فرض ہے کہ احکامِ شرع کو سامنے رکھ کر جو انہوں نے اہلِ مدینہ اور بت پرست لوگوں سے مصالحت کرتے ہوئے عملاََ پیش کیا ہے اور عملاََوحکماََ جو تعلیم قرآن نے دی ہے ،ہندوستان کے مسلمانوں کا فرضِ شرعی ہے کہ ہندوستان کے ہندوؤں کے ساتھ کامل سچائی کے ساتھ پیمانِ محبت باندھ لیں اور ان کے ساتھ مل کر ایک نیشن ہوجائیں۔‘‘(3)
مندرجہ بالا اقتباس میں مولانا نے ہندو مسلم اتحاد کے لئے ’’امتِ واحدہ ‘‘کی اصطلاح استعمال کی اور اس پر ’’ میثاقِ مدینہ ‘‘ کی دلیل پیش کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و صلعم کے اسوۂ حسنی کو نمونہ بتایا۔مزید کہا کہ ہندوؤں کے لئے آزادی کی جدوجہد کرنا داخلِ حب الوطنی ہے ،جب کہ مسلمانوں کے لئے یہ ایک دینی فریضہ اور داخلِ فی جہادِ فی سبیل اللہ ہے ۔قومی اتحاد کو فروغ دینے کے لئے مذہب کے نام پر انسانوں کے درمیان سے بغض و تعصب مٹانے کی غرض سے مولانا نے’’ترجمان القرآن ‘‘ کی پہلی جلد میں سورہ فاتحہ کی تفسیر میں ’’وحدتِ دین ‘‘ کا نظریہ پیش کیا ہے ۔اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ تمام عالم کے انسانوں کے لئے دین ایک ہے کیونکہ خالقِ کائنات اللہ ایک ہے۔
اس طرح مولانا کی صدائے حق نے ہندوستانی قوم کے خوابیدہ کواڑوں کوکھولنے کا م کیا اور انہیں بالآخر جہد کے میدان میں لا کھڑا کیا اور انہیں بتایاکہ یہ جدوجہد ایک ایسا سفر ہے ،جس کی بندھی ہوئے منزلیں ہیں،اور ٹہرائے ہوئے رسم و راہ ہیں ،جو ضرور ہے کہ ہر قوم کو پیش آئیں اور ہر کامیاب قافلہ ان میں سے گزرے ۔جس طرح اسکی کامیابیاں عظیم ہیں ،اسی طرح اس کی رکاوٹیں بھی بے شمار ہیں ؛ اور جس طرح اس کی فتح مندی اٹل ہے ،اسی طرح اس کی مشکلات بھی ناگزیر ہیں ۔اس میں دماغ کے لئے آزمائشیں ہیں اور جسم کے لئے بھی ۔اس کا سفر کبھی یکساں رفتار سے جاری نہیں رہ سکتا وہ کبھی رک رک کے چلتا ہے اور تھم تھم کے بڑھتا ہے اس کی کامیابیاں مسلسل نہیں ہیں ،مگر ضروری ہیں ۔اس کی فتح مندی قدم قدم پر نہیں ہے ۔مگر آخر میں اٹل اور یقینی ہے۔مولانا کے یہ انداز تخاطب شاید ہی کسی میں ہو کہ بے حد عجزو انکساری سے اہلِ ہند کومذکورہ ، خدا کا قانونِ حیات سمجھایا کہ ہماری تن آسانیوں کی خاطر یہ معطل نہیں ہوسکتا ،ہم چلے ہیں تو ہمارے لئے اس کی تمام منزلیں چشم براہ ہیں اور ناگزیر ہے کہ ہم ان سب میں سے گزریں اور اتحاد کے رشتے میں گرہ نہ پڑنے دیں۔
مولانا کے نظریات سے نہ صرف ہندو،مسلمان بلکہ دیگر اقوامِ ہند بھی ہم آہنگ ہونے لگے ۔اور کانگریس پارٹی میں فوج در فوج شامل ہوتے گئے ۔ہندو مسلم اتحاد مولانا کے نزدیک تعمیر ہندوستان کا بنیادی پتھر تھا ۔ مولانا نے اسکی غرض وغائیت اور اہمیت و افادیت کا بار ہا ذکر کیا ہے ۔انڈین نیشنل کانگریس کے ایک خصوصی اجلاس میں انہوں نے دو قوموں کے اتحاد کے پیشِ نظر اقوامِ ہند کو خبر دار کیا تھا کہ :
’’آج اگر ایک فرشتہ آسمان کی بدلیوں سے اتر آئے اور قطب مینار پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کر دے کہ سوراج چوبیس گھنٹوں کے اندر مل سکتا ہے ،بشرط یہ کہ ہندوستان ہندو مسلم اتحاد سے دستبردار ہوجائے تو میں سوراج سے دستبردار ہو جاؤں گا ،مگر اس سے دستبردار نہ ہوں گا ،کیوں کہ اگر سوراج کے ملنے میں تاخیر ہوئے تو یہ ہندوستان کا نقصان ہوگا ،لیکن اگر ہمارا اتحاد جاتا رہا تو یہ عالمِ انسانیت کا نقصان ہے .‘‘(4)
آزادی کی صبح کے اجیالوں کو ڈھونڈنے والا کارواں جب تھک کر سستانے لگتا تو مولانا پھر ’البلاغ ‘ کے وسیلے سے نمودار ہوتے اور اسلام کی تاریخ کو دہراتے ہوئے مسلمانوں کوآزادی کی تحریک میں شامل ہونے اور ثابت قدم رہنے پر آمادہ کرتے ۔ ’’البلاغ‘‘ میں وہ لکھتے ہیں کہ :
’’ میں وہ صدا کہاں سے لاؤں جس کی آواز چالیس کروڑ دلوں کوخوابِ غفلت سے بیدار کردے ۔میں اپنے ہاتھوں سے وہ قوت کیسے پیدا کروں کہ ان کی سینہ کوبی کے شور سے سرگشتگانِ خواب ٗموت سے ہوشیار ہوجائیں ۔دشمن شہر کے دروازے توڑ رہے ہیں ۔اہلِ شہر رونے میں مصروف ہیں ۔ڈاکوؤں نے قفل توڑ دئے ہیں اور گھر والے سوئے ہیں ۔لیکن اے رونے کو ہمت اور مایوسی کو زندگی سمجھنے والو !یہ کیا ہے کہ تمہارے گھر میں آگ لگ چکی ہے ،ہوا تیز ہے اور شعلوں کی بھڑک سخت ہے ،مگر تم میں سے کوئی نہیں جس کے ہاتھ میں پانی ہو ۔‘‘(5)
مولانا ہندوستانیوں میں خود اعتمادی اور وسیع النظری پیدا کرنے کے درپے تھے ۔ وہ انہیں شک،تذبذب ،بے عملی اور انتظار کی درماندگیوں کی پرچھائیوں سے بھی دور رکھنا چاہتے تھے ۔وہ اکثرو بیشتر اہلِ ہند کو یہ کہتے تھے کہ یقین،جماؤ،عمل اور سرگرمی کا سورج کبھی نہیں ڈوبتا ۔وقت کا کوئی الجھاؤ ،حالات کے اتار چڑھاؤ ،معاملوں کی چبھن ،ہمارے قدموں کا رخ نہیں بدل سکتی ۔بس ہم ایک بار تہیہ کرلیں کہ ہمیں ،آگے والوں میں ہونا ہے ۔یہ ان کی حب الوطنی کا ہی اثر تھا کہ وہ یہ کہتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں کہ :
’’ہندوستان کے لئے قدرت کا یہ فیصلہ ہوچکا تھا کہ اس کی سر زمین انسان کی مختلف نسلوں ،مختلف
تہذیبوں اور مختلف مذہبوں کے قافلوں کی منزل بنے ۔مختلف قافلوں میں دو تہذیبوں کو ایک سنگم میں مل جانا پڑا ،ان دونوں کا میل تاریخ کا عظیم واقعہ ہے جس دن یہ قافلہ ظہور میں آیا ،اسی دن سے قدرت کے مخفی ہاتھوں نے ،پرانے ہندوستان کی جگہ ایک نئے ہندوستان کے ڈھالنے کا کام شروع کردیا ۔‘‘(6)
ہند کی ملی جلی تاریخ نے ہندوستانی زندگی کے تمام گوشوں کو اپنے تعمیری سامانوں سے بھر دیا تھا۔ زبانیں،شاعری،ادب ،معاشرت ،ذوق و شوق ،لباس ،رسم ورواج ،ہماری روزانہ کی زندگی کی بے شمار حقیقتیں ،کوئی گوشہ بھی ایسا نہیں تھا کہ جس پر مشترک زندگی کی چھاپ نہ پڑی ہو ،سب نے مل کر ایک نیا سانچہ تیار کیا تھا جس کی کاریگری پر اہلِ ہند نازاں تھے ۔یہ تمام مشترک سرمایہ متحدہ قوم کی دولت و شناخت کا پرتو بن چکا تھا۔لیکن تقسیمِ ہند کے عمل نے آن کی آن میں سب کچھ بکھیر دیا ۔اہل ہند پریشاں تھے کہ راہبرِ قوم مولانا آزاد نے پھر صدا دی:
’’اہلِ ہند اپنے دلوں کو مضبوط بناؤ،پھر ایک بار سوچو ،آخر تم کہاں جارہے ہو اور کیوں جارہے ہو ؟ مشکل گھڑیوں کا تم نے مقابلہ کیا ہے اب بھی کر سکتے ہو ۔یہ دیکھو ،مسجد کے بلند مینار تم سے اچک کر سوال کرتے ہیں کہ تم نے اپنی تاریخ کے صفحات کو کہاں گم کردیا ہے ؟ابھی کل کی بات ہے کہ جمنا کے کنارے تمھارے قافلوں نے وضو کیا تھا ۔اور آج تم ہو کہ تمہیں یہاں رہتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے ۔حالانکہ دہلی تمہارے خون سے سینچی ہوئی ہے ۔عزیزو !تبدیلیوں کے ساتھ چلو یہ نہ کہو کہ ہم اس تغیر کے لئے تیار نہ تھے بلکہ اب تیار ہوجاؤ ۔ستارے ٹوٹ گئے لیکن سورج تو چمک رہا ہے اس سے کرنیں مانگ لو اور ان اندھیری راہوں میں بچھادو،جہاں اجالے کی سخت ضرورت ہے ۔آج زلزلوں سے ڈرتے ہو ،کبھی تم خود ایک زلزلہ تھے۔آج اندھیرے سے کانپتے ہو ،کیا یاد نہیں کہ تمہارا وجود ایک اجالا تھا !یہ بادلوں نے میلا پانی برسایا ہے، تم نے بھیگ جانے کے خدشے سے اپنے پائنچے چڑھا لئے ہیں۔وہ تمہارے ہی اسلاف تھے جو سمندروں میں اتر گئے ،پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا ،بجلیاں آئیں تو مسکرا دئے ۔۔۔آندھیاں آئیں تو ان سے کہا کہ تمہارا راستہ یہ نہیں ہے ۔‘‘(7)
امام الہند مولانا آزاد نے اپنی تحریروں ٗ تقریروں ٗ خطبات ٗ اخبارات اور خطوط کے ذریعے اپنا پیغامِ جو حبِ وطنی اور قوم اتحاد پر مبنی تھا ٗ اسے اہلِ ہند کے قلب و ذہن کے گوشوں تک پہنچا دیا اور اپنا حق ادا کردیا۔مولانا کی زندگی ایثار،عزتِ نفس ، اجتماعیت ، بصیرت افروزی اور جہد مسلسل کی داستان ہے ۔ان کے اقوال و آثار ٗ آئینی ہم آہنگی ،قومی وقار اور پیشِ رفت کے وہ
اصول متعین کرتے ہیں جن پر گامزن رہنے میں ہی ہمارے ملک کی ترقی،کامیابی اور امتیازات کے امکانات پنہاں ہیں۔کتنا دلفریب تھا مولانا کی شخصیت میں قدیم و جدید کا امتزاج ،انہوں نے مشرقی تہذیب وادب کی صالح روایتوں کو محفوظ رکھا اور ساتھ ہی نئی تہذیب کی صحت مند قدروں سے روشنی اخذکی ۔ مولاناآزاد کے درجِ ذیل الفاظ تاریخی صداقت کو اپنے جلو میں لیے ہوئے محسوس ہوتے ہیں’’ کہ آؤ عہد کرو کہ یہ ملک ہمارا ہے ،ہم اس کے لئے ہیں اور اسکی تقدیر کے بنیادی فیصلے ہماری آواز کے بغیر ادھورے ہی رہیں گے۔‘‘(8)
——
حواشی
1۔ مولانا کے روشن افکار ،اردو دنیا ،نومبر 2016 ص18
2۔خطبہ مجلسِ خلافت ،خطباتِ آزاد ،ساہتیہ اکاڈمی ،2000ص46
3۔صوبائی خلافت کانفرنس ،خطباتِ آزاد ص15
4۔اجلاس انڈین نیشنل کانگریس ،خطباتِ آزاد ص205
5۔اردو دنیا ،نومبر 2016 ص18
6۔انڈین نیشنل کانگریس ،خطباتِ آزاد ص 298
7۔بین ایشیائی کانفرنس ،خطباتِ آزاد ص342
8۔ایضاََ ص343

جواب دیجئے